اسرائیل بیت المقدس کے معاملے پر ہم سے کسی بھی قسم کی توقعات نہ رکھے

یورپی یونین نے دوٹوک الفاظ میں اسرائیلی وزیراعظم کے اس بیان کی شدید مذمت کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یورپی ممالک بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلے کی حمایت کرے۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کی نگران فیڈیریکا موگیرینی نے کہا کہ ‘شہر کی مقدس حیثیت پر تبدیلی قبول نہیں کی جائے گی’۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کے بعد اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ‘ٹرمپ نے حقائق میز پر رکھے ہیں’۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ سے ملاقات میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا تھا کہ ‘وہ امید کرتے ہیں کہ تمام یورپی ممالک امریکی فیصلے کی توثیق کریں’۔ اسرائیلی وزیراعظم کے بیان پر 28 یورپی ممالک کے خارجہ امور کی نگران فیڈیریکا موگیرینی نے دوٹوک جواب دیا کہ ’اسرائیل ہم سے کسی بھی قسم کی توقعات نہ رکھے’۔ واضح رہے کہ یورپی یونین نے بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلے کو امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔

برسلز کے اجلاس میں اسرائیل کے وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ‘یورپی یونین میں شامل ممالک بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے اپنے اپنے سفارتخانے منتقل کریں گے اور امن، سیکیورٹی اور خوشحالی کے لیے کام کریں گے’۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کی نگران فیڈیریکا موگیرینی نے واضح کیا کہ ‘یورپی یونین فلسطین کو امداد فراہم کرتا ہے اور بیت المقدس کے معاملے پر عالمی رائے شماری کا احترام کرے گا’۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل اور فلسطین کے لیے درمیان دو طرفہ امن کے لیے ضروری ہے کہ بیت المقدس کو دونوں ممالک (اسرائیل اور فلسطین) کا دارالحکومت رہنے دیا جائے جو بنیادی طور پر عرب اسرائیل جنگ 1967 کے بعد کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ یورپی ممالک کی جانب سے امریکی فیصلے کی تائید نہ کرنے پر اسرائیلی وزیراعظم نے یورپی ممالک کو ‘منافق’ قرار دیا تھا۔ فرانس کے دورے پر روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ یورپ کا احترام کرتے ہیں لیکن اسرائیل سے متعلق یورپ کا دہرا معیار قبول کرنے پر تیار نہیں۔ پریس کانفرنس میں فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیل پر راکٹ حملوں کی مذمت کرتے ہیں لیکن ان کے بقول ساتھ ہی وہ صدر ٹرمپ کے یروشلم سے متعلق فیصلے کے بھی مخالف ہیں۔ فرانسیسی صدر نے امریکی فیصلے کو بین الاقوامی قوانین کے خلاف اور امن کو داؤ پر لگانے کا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خود اسرائیل اور اسرائیلیوں کے تحفظ کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

Advertisements

عامر لیاقت حسین پر تاحیات پابندی کے لیے درخواست دائر

اسلام آباد ہائی کورٹ نے تاحکم ثانی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کو کسی بھی چینل پر پروگرام کرنے اور تجزیہ دینے سے روک دیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں سابق وزیر اور معروف ٹی وی اینکر پر نفرت آمیز مواد پر مشتمل پروگرام اور معاشرے میں تفرقہ پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین پر تاحیات پابندی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی جبکہ درخواست گزار محمد عباس کی جانب سے بیرسٹر شعیب رزاق عدالت میں پیش ہوئے۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نام نہاد عالمِ دین ہیں اور ان کے پاس اسلامی تعلیمات کی کوئی مستند ڈگری موجود نہیں۔

بیرسٹر شعیب رزاق نے کہا کہ عالم آن لائن کے ذریعے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کئی برس سے معاشرے میں مذہبی اور معاشرتی منافرت پھیلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عامر لیاقت حسین اپنے پروگرام میں کفر اور غداری کے فتوے لگاتے ہیں اور ان کے فتوؤں سے کئی لوگوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔  انہوں نے الزام لگایا کہ عامر لیاقت حسین ذہنی طو ر پر بیمار ہیں اور اپنے پروگرام اور تجزیوں کے ذریعے وہ پیمرا کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ پیمرا اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا ہے جبکہ عامر لیاقت حسین کے لیے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر تاحیات پابندی لگائی جائے۔

انہوں نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو سوشل میڈیا پر عامر لیاقت حسین کے تمام اکاؤنٹس بند کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست گزار کے وکیل کا موقف سننے کے بعد تاحکم ثانی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کو کسی بھی چینل پر پروگرام کرنے اور تجزیہ دینے سے روکنے کا حکم دے دیا۔ عدالتِ عالیہ نے درخواست پر وفاقی حکومت، پیمرا، پی ٹی اے اور عامر لیاقت حسین سے جواب طلب کر لیا اور سماعت 10 جنوری 2018 تک کے لیے ملتوی کر دی۔ خیال رہے کہ ماضی میں بھی اینکر پرسن عامر لیاقت حسین اپنے ٹاک شوز کی وجہ سے پاکستانی میڈیا میں تنازعات کا شکار رہے۔

گزشتہ برس جون میں پیمرا کی جانب سے عامر لیاقت حسین کی میزبانی میں نشر ہونے والے جیو ٹیلی ویژن کے پروگرام ’انعام گھر‘ پر تین روز کے لیے عارضی پابندی عائد کر دی تھی۔ بعدِ ازاں عامر لیاقت حسین بول نیوز سے منسل ہو گئے تھے جہاں وہ ایک ٹاک شو ’ایسے نہیں چلے گا‘ کی میزبانی کے فرائض انجام دیتے رہے۔ اپنے اس پروگرام میں عامر لیاقت نے جیو ٹیلی ویژن، اس کی انتظامیہ اور مالکان پر الزامات عائد کیے جس کے بعد پیمرا نے اس پروگرام کو نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ پیمرا کے حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ عامر لیاقت حسین اور ان کے پروگرام پر یہ پابندی پیمرا (ترمیمی) ایکٹ 2007 کی دفعہ 27 کے تحت عائد کی گئی ہے تاہم اگر نیوز چینل اس فیصلے کا اطلاق نہیں کرتا تو چینل کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔

تاہم کچھ ماہ بعد عامر لیاقت ایک مرتبہ پھر مذکورہ پروگرام کی میزبانی کرتے دکھائی دیئے۔ گزشتہ ماہ عامر لیاقت حسین نے بول ٹی وی نیٹ ورک سے ایک سال سے بھی کم عرصہ وابستہ رہنے کے بعد اس سے علیحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔ عامر لیاقت حسین نے بول سے علیحدگی کا اعلان اپنی ایک ٹوئیٹ کے ذریعے کیا۔ انہوں نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ ’ان کا سفر ختم ہو گیا، لیکن یہ سفر دوستانہ طریقے سے ختم نہیں ہوا، میں اب بول کا حصہ نہیں ہوں، میرا معاوضہ ان پر واجب الادا ہے‘۔ بول ٹی وی نے عامر لیاقت حسین کے اس عمل کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ادارہ عامر لیاقت حسین کے اعلان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ عامر لیات نے بول ٹی وی سے استعفے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے ان تمام افراد سے معافی مانگی جن پر انہوں نے اپنے پروگرام ’ایسے نہیں چلے گا‘ میں تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

بشکریہ روزنامہ ڈان اردو

پاکستان بھارت سے آئی ٹی کی ملازمتیں اور کام چھین رہا ہے، بھارتی میگزین

بھارت سے شائع ہونے والے ایک مشہور جریدے نے اپنی حالیہ اشاعت میں کہا ہے کہ پاکستان بھارت سے آئی ٹی کی کم درجے کی ملازمتیں اور پروجیکٹ چھین رہا ہے۔ بھارتی میگزین آؤٹ لک نے ایک مضمون میں کہا ہے کہ حال ہی میں ایک امریکی فرم نے بھارتی علاقے نویڈا کی 125 ملازمتیں اسلام آباد منتقل کر دی ہیں۔ مضمون میں کہا گیا کہ گزشتہ 2 برس سے بھارتی ملازمتیں بنگلہ دیش، فلپائن اور ملائیشیا منتقل ہو رہی ہیں اور یہ ملک غیرملکی اداروں کو مزید کم تنخواہ پر کام کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں، اب اس فہرست میں پاکستان بھی شامل ہو گیا ہے جو اس معاملے میں اپنا حصہ وصول کر رہا ہے۔

پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر کی صنعت 3 ارب ڈالر کو چھو رہی ہے ۔ گزشتہ 4 برس اس کا حجم دوگنا ہوا ہے اور اگلے 2 سے 4 برس میں اس میں مزید 100 فیصد اضافہ ہو جائے گا تاہم پاکستان کی آئی ٹی مارکیٹ کا بھارت سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان کے مقابلے میں یہ 51 گنا بڑی ہے۔ بھارت میں آئی ٹی اور سافٹ ویئر مصنوعات کی فروخت 154 ارب ڈالر تک ہے جن میں سے 38 ارب ڈالر کی تجارت ملکی مصنوعات اور بقیہ 117 ارب ڈالر بیرونِ ملک برآمدات کی صورت میں شامل ہیں۔

پاکستان کی آئی ٹی صنعت کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ اس کے بڑھنے کی رفتار خود بھارت سے بھی ذیادہ ہے، پاکستان میں اس کا اضافہ سالانہ 20 فیصد ہے جب کہ بھارت میں 7 سے 8 فیصد تک ہے لیکن بھارت کے حجم کو دیکھتے ہوئے یہ اضافہ ہم سے کئی گنا ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش، فلپائن اور ملائیشیا کی حکومتیں آئی ٹی صنعت کو فروغ دینے کے لیے حکومتی ترغیبات، ٹیکنالوجی پارکس کا قیام، ٹیکس میں چھوٹ اور کم خرچ موبائل اور انٹرنیٹ سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔

پاکستان میں ہر سال آئی ٹی کے 10 ہزار گریجویٹس تیار ہو کر مارکیٹ کا حصہ بن رہے ہیں جب کہ پاکستانی مارکیٹ میں ڈیڑھ لاکھ مرکزی ٹیکنکل ماہرین اور ڈیڑھ سے دو لاکھ ہی فری لانسر ہیں جو آئی ٹی مارکیٹ میں اپنی بہتر ساکھ رکھتے ہیں۔ پاکستان میں آئی ٹی اور دیگر تکنیکی امور سے وابستہ فری لانسر نے بین الاقوامی طور پر اپنا نام بنایا ہے اگرچہ وہ تھوڑا ذیادہ معاوضہ لیتے ہیں لیکن معیاری کام وقت پر کر کے دیتے ہیں۔

یروشلم : یورپی یونین اسرائیل کا ساتھ نہیں دے گی

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے یورپی یونین سے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر کی پیروی کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرے لیکن یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کا یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے ساتھ برسلز میں ملاقات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے فیصلے سے مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہوا ہے، ’’حقیقت کو تسلیم کرنا امن کی بنیاد ہے۔‘‘

لیکن یورپ میں اسرائیل کے قریب ترین اتحادی ملک چیک جمہوریہ نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کا فیصلہ مشرق وسطیٰ میں امن کوششوں کے حوالے سے ایک برا فیصلہ ہے۔ دوسری جانب فرانس نے بھی زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یروشلم کی حیثیت کا فیصلہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین طے پانے والے حتمی معاہدے میں ہی ہو گا۔ اسرائیل میں اپنے ملک کا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں چیک جمہوریہ کے وزیر خارجہ لوبومیر زاورلیک کا کہنا تھا، ’’مجھے ڈر ہے کہ یہ (فیصلہ) ہماری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔‘‘

اسرائیلی وزیر اعظم اپنے یورپ کے دورے کے دوران یورپی رہنماؤں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش میں ہیں کیوں کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی مذمت نہ صرف مسلم دنیا بلکہ سرکردہ یورپی رہنما بھی کر رہے ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں سے ملاقات کے بعد بھی اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا تھا، ’’فلسطینیوں کو اب یہودی ریاست کو تسلیم کر لینا چاہیے اور اس حقیقت کو بھی کہ اس کا ایک دارالحکومت ہے، جسے یروشلم کہا جاتا ہے۔‘‘

اسرائیلی وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا، ’’اس کے باوجود کہ ابھی کوئی معاہدہ موجود نہیں، مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں یہی ہونے جا رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ تمام یا زیادہ تر یورپی ملک اپنے سفارت خانے یروشلم منتقل کرتے ہوئے اسے اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کر لیں گے تاکہ سلامتی، خوشحالی اور امن کے لیے مل کر کام کیا جا سکے۔‘‘ گزشتہ ہفتے چیک جمہوریہ کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ وہ تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کو تیار ہے لیکن بعد میں اس یورپی ملک کی طرف سے کہا گیا تھا کہ وہ صرف مغربی یروشلم پر ہی اسرائیلی حاکمیت کو تسلیم کرتا ہے۔

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ وہ 1967ء میں قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقوں کو اسرائیل کا حصہ نہیں سمجھتے۔ ان علاقوں میں مغربی کنارہ، مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیاں شامل ہیں۔ چیک جمہوریہ کے وزیر خارجہ کا اسرائیلی وزیر اعظم سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’مجھے یقین ہے کہ یکطرفہ فیصلوں سے کشیدگی کم کرنا ناممکن ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’ہم اسرائیلی ریاست کی بات کر رہے ہیں لیکن ہمیں اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی ریاست کی بھی بات کرنا چاہیے۔‘‘ قبل ازیں فرانس نے امریکا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن سے متعلق اپنے منصوبے کی وضاحت کرے کہ واشنگٹن آخر کیا چاہتا ہے؟

ٹرمپ کی ٹی وی دیکھنے کی عادات، نیو یارک ٹائمز پر ’’ٹویٹر حملہ‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خلاف ایک مضمون کی اشاعت پر موقر روزنامے نیویارک ٹائمز کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ اس اخبار کا قصور یہ ہے کہ اس نے صدر ٹرمپ کی ٹیلی ویژن دیکھنے کی عادات کے بارے میں ایک تفصیلی مضمون شائع کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے:’’ ایک اور جھوٹی کہانی ، لیکن اس مرتبہ نیویارک ٹائمز میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں یہ کہا گیا ہے کہ میں دن میں چار سے آٹھ گھنٹے ٹی وی دیکھتا رہتا ہوں۔ بالکل غلط ۔

نیز میں سی این این اور ایم ایس این بی سی نہیں دیکھتا۔ میں ان دونوں کو ’’جعلی نیوز‘‘ خیال کرتا ہوں۔ میں کبھی ڈان لیمن کو نہیں دیکھتا، وہی صاحب جنھیں میں نے ایک مرتبہ ٹیلی ویژن پر’’ گونگا شخص‘‘ قرار دیا تھا‘‘۔ نیویارک ٹائمز میں ہفتے کے روز شائع شدہ اس مضمون کے لکھاری نے صدر ٹرمپ کے روزمرہ معمولات کی تفصیل بیان کی ہے اور یہ کہا ہے کہ وہ دن میں چار گھنٹے تک        ٹی وی دیکھتے ہیں اور وہ زیادہ تر سی این این یا ایم ایس این بی سی دیکھتے ہیں۔

پاکستانی روپے کی قدر میں کمی : کس کو فائدہ ہے اور کسے نقصان ؟

ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپے کی گرتی ہوئی قدر سے پاکستان کی ٹیکسٹائل اور دیگر برآمدی صنعت سے وابستہ افراد میں خوشی کی لہردوڑ گئی ہے البتہ درآمد کنندگان میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کا براہِ راست اثر ان اشیاء کی قیمتوں پر ہوتا ہے جو بیرونِ ملک سے درآمد کی جاتی ہیں جیسے کہ کمپیوٹرز، گاڑیاں اور موبائل فونز وغیرہ اور ان تمام اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان پر بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے قرضوں کا حجم بھی بڑھ جاتا ہے۔ مثلا اگر ایک ڈالر 100 روپے کے برابر ہو اور ایک ارب ڈالر کا قرضہ ہو تو اس حساب سے 100 ارب روپے کا قرضہ ہو گا لیکن اگر ڈالر 110 کا ہو جائے تو قرضہ بھی اسی حساب سے بڑھ جائے گا۔

دوسری جانب روپے کی قدر میں کمی سے ملکی برآمدات کرنے والوں کو بظاہر فائدہ ہوتا ہے۔ چونکہ برآمد کرنے والے کو اپنی چیز کی زیادہ قیمت مل رہی ہوتی ہے اس لیے وہ اپنی پیداواری لاگت میں رہتے ہوئے اشیاء کی قیمت میں کمی کر سکتا ہے۔ اس طرح عالمی منڈی میں برآمدات بڑھ جاتی ہیں اوراس سے جاری کھاتے یا کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ ماہرِ معاشیات پروفیسرشاہد حسن صدیقی کہتے ہیں کہ ’جب سے موجودہ حکومت آئی ہے پاکستان کی برآمدات مستقل گر رہی ہیں اور درآمدات تیزی سے بڑھ رہی ہیں جس کی وجہ سے گزشتہ چار سال چار ماہ میں 107 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا ہے۔ ایسے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی رقوم کے ذریعے اسے کم کرنے کی کوشش کی گئی تاہم پھر بھی جاری کھاتے کاخسارہ تقریبا 22 ارب ڈالر ہو گیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں گزشتہ ایک سال سے جاری سیاسی افراتفری اورعدالتی کارروائی کی وجہ سے اب تک بیرونی سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے جس سے پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں پانچ ارب ڈالرسے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ پروفیسرشاہد حسن صدیقی کے بقول ’روپے کی قدر مزید کم ہونے کی گنجائش ہے تاہم اس عمل سے کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے میں کوئی خاطر خواہ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ اس کے ساتھ جو دوسرے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اس کے لیے مرکزی بینک اور حکومت دونوں تیار نہیں ہیں لہذا اس عمل سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا اور بجٹ کا خسارہ بھی بڑھ جائے گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ’روپے کی قدرمیں کمی بظاہر غیر مقبول فیصلہ ہے تاہم پاکستان کا بااثر طبقہ یعنی برآمد کنندگان اور ٹیکسٹائل لابی اس سے بہت خوش ہوں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ’حکومت نے پانچ سے دس فیصد کی ایڈجسٹمنٹ کےلیے آئی ایم ایف سے ملاقات کرنے کا عندیہ دیا ہے تاہم اگر ڈالر 111 روپے سے اوپر گیا تو حالات خراب ہو سکتے ہیں۔‘ ظفر پراچہ نے بتایا کہ کرنسی ڈیلرز کو روپے کی قدر میں کمی سے نقصان ہی ہوتا ہے کیونکہ اگر انھوں نے ڈالر بیچنا بند کیا تو افراتفری مچ سکتی ہے اور کبھی بھی اس کا فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ بیچنے والا بیچنا بند کر دیتا ہے اور خریدنے والا بھاگ بھاگ کر خریدتا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

بہن کے ہاتھوں بہن کے قتل میں اہم کردار اسمارٹ فون کا نکلا

ملیر سعود آباد میں بہن کے ہاتھوں بہن کے قتل میں اہم کردار اسمارٹ فون کا نکلا جس نے معاشرے میں کئی سوالات پیدا کر دیئے، والدین کی جانب سے اولاد کیلئے وقت نہ ہونا المیہ ہے ۔ ایس ایس پی کورنگی نعمان صدیقی نے اپنی پریس کانفرنس میں کئی سوال اُٹھا دیئے۔ نعمان صدیقی نے کہا کہ جب بچوں کو اسمارٹ فون کی ضرورت نہیں تو ان کے ہاتھوں میں یہ کیوں ہیں، اسمارٹ فون ہی اس بلیک میلنگ اور قتل کا سبب بنے، علینہ کے قتل میں والدین کی بیٹیوں سے بے خبری اور اسمارٹ فون کا اہم کردار نکلا، والدین کے پاس بچوں کیلئے وقت نہ ہونا المیہ ہے۔