کیا نواز شریف سیاسی لڑائی جیت رہے ہیں ؟

قومی اسمبلی میں عددوں کا کھیل (نمبرز گیم) تو مسلم لیگ ن جیت گئی لیکن حکمران جماعت کے بعض حلقوں میں آج بھی یہ سوال زیر بحث ہے کہ نواز شریف نے جو بڑی سیاسی لڑائی چھیڑ رکھی ہے اس میں آخری فتح کس کی ہو گی؟ نواز شریف کو پارٹی سربراہی کے لیے نا اہل قرار دینے کا قانونی مسودہ پیپلز پارٹی نے جب قومی اسمبلی میں جمع کروایا تو مسلم لیگ کے بعض مخالفین جن میں عمران خان سمیت بعض سیاسی رہنما اور کچھ سیاسی تجزیہ کار بھی شامل تھے، یہ دعویٰ کرتے دکھائی دیے کہ مسلم لیگ ن کے درجنوں ارکان اسمبلی اجلاس میں آئیں گے ہی نہیں اور آ بھی گئے تو نواز شریف کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے۔

لیکن جب قومی اسمبلی کے اہلکاروں نے ارکان کا حاضری لگائی تو پتہ چلا مسلم لیگ ن کے 188 میں سے 165 ارکان اسمبلی ہال میں موجود تھے۔ ان میں سے 159 نے نواز شریف کے حق میں ووٹ بھی دے دیا۔ ان سات میں سے بعض ارکان اور وزرا اجلاس کی طوالت کی وجہ سے اپنی دیگر مصروفیات کی وجہ سے اجلاس سے چلے گئے اور ووٹ میں حصہ نہ لے سکے۔ ن لیگ کی ایک رکن کلثوم نواز نے ابھی رکنیت کا حلف نہیں لیا باقی بچ گئے بائیس۔ ان میں سے بھی مسلم لیگی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بیشتر لوگوں نے اپنی غیر موجودگی کی اطیمنان بخش وضاحت پیش کی جسے قبول کر لیا گیا۔

لیکن مسلم لیگی ذرائع کے مطابق نصف درجن مسلم لیگی ارکان نے یا تو رابطہ نہیں کیا یا عدم حاضری کی “مشکوک” توجیح دی۔ نمبر گیم میں اس کامیابی پر مسلم لیگ ن اور اس کے قائد تو نہال ہوئے جاتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف کو سیاست سے نکالنے یا “مائنس” کرنے کی سازش ناکام ہو گئیں۔ مریم نواز نے اسے جمہوریت کے لیے بڑا دن قرار دیا کیونکہ ان کے بقول دھمکیوں کے باوجود ان کے ارکان قومی اسمبلی نے اجلاس میں شرکت کی اور نواز شریف کو ووٹ دیا۔ ْ

حزب اختلاف بھی اس معرکے کے بعد کچھ زخم خوردہ ہے۔ شیخ رشید کہتے ہیں حکومت نے تجوریوں کے منہ کھولے اور ارکان اسمبلی اور اربوں کے ترقیاتی فنڈز دے کر ان کی اس اجلاس میں شرکت یقینی بنائی۔ نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے علیحدگی کے بعد ان کی سیاسی اٹھان پر نظر رکھنے والے لوگ اس عددی اکثریت میں بہت سے اور معنی بھی دیکھ رہے ہیں۔ مثلاً پیپلز پارٹی کے رہنما اور زیرک سیاستدان اعتزاز احسن نے کہا کہ نواز شریف کی اس عددی اکثریت نے شکست پیپلز پارٹی کے پیش کردہ کاغذ کو دی لیکن اصل میں بساط شہباز شریف اور چوہدری نثار کی الٹی ہے۔ تفصیل بتاتے اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ نواز شریف نے بتا دیا کہ انہوں نے مسلم لیگ ن کے وہ لوگ بھی اپنے ساتھ ملا لیے ہیں جو گزشتہ کئی ماہ سے چوہدری نثار اور شہباز شریف کا دم بھرتے تھے۔

اس عددی کامیابی اور اس کے ممکنہ دور رس اثرات کے باوجود مسلم لیگ ن کے بعض سینئر ارکان آج بھی تشویش کا شکار ہیں۔ نواز شریف کے قریب سمجھے جانے والے ایک مسلم لیگی رہنما کے مطابق نواز شریف نے رابطہ عوام مہم کا جو سلسلہ شروع کیا وہ اسے عام انتخابات تک لیجانا چاہتے ہیں تاکہ اس غصے کو ووٹ میں تبدیل کیا جا سکے۔ لیکن نواز شریف نے ان جلسوں میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلوں کو جس طرح سے تنقید کا نشانہ بنانا شروع کیا ہے اس کے پیش نظر مسلم لیگی رہنما بھی کچھ زیادہ پر یقین نہیں ہیں کہ نواز شریف اس مہم کو زیادہ طول دے پائیں گے۔

سپریم کورٹ کی طرف سے رجسٹرار کی مسترد کردہ درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کرنا اس خدشے کے حق میں آنے والی تازہ دلیل ہے۔ یہ درخواست رکن قومی اسمبلی، پاکستان پیپلز پارٹی، شیخ رشید احمد اور جمشید دستی کی طرف سے دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کی رکنیت کے لیے نا اہل شخص پارٹی سربراہ بھی نہیں ہو سکتا۔ یعنی جو لڑائی نواز شریف قومی اسمبلی کے ایوان میں عددی برتری کی وجہ سے اپنے تیئں جیت چکے ہیں، وہ دراصل ابھی ختم نہیں ہوئی۔ پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست!

آصف فاروقی
بی بی سی اردو، ڈاٹ کام، اسلام آباد

Advertisements

ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کے قاتل راتکو ملادچ کو عمر قید کی سزا

بوسنیائی سرب کمانڈر راتکو ملادچ کو نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ انہوں نے ان جرائم کا ارتکاب نوے کی دہائی میں بوسنیا کی جنگ کے دوران کیا تھا۔ ملادچ نے جنھیں بوسنیا کا قصائی کہا جاتا ہے 1995 میں ان فوجی دستوں کو کمانڈ کیا تھا جنھوں نے مشرقی بوسنیا کے شہر سربرینیتزا میں قتل عام کیا جس میں 7000 بوسنیائی مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا گیا۔ اس کے علاوہ سرائیوو شہر کے محاصرے کے دوران 10 ہزار سے زیادہ بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ اسے ہالوکاسٹ کے بعد یورپ کی سرزمین پر سب سے بڑا قتل عام کہا جاتا ہے۔

یہ قتلِ عام بوسنیا کی جنگ کے اختتام سے چند ماہ قبل کیا گیا جب 20 ہزار مسلمان مہاجرین سرب فوجوں سے بچنے کے لیے سربرینیتزا آئے۔ ہیگ میں اقوام متحدہ کے ٹرایبیونل نے راتکو ملادچ کو 11 میں سے 10 الزامات میں مجرم قرار دیا۔ چوہتر سالہ ملادچ کو جب سزا سنائی گئی تو وہ عدالت میں موجود نہیں تھے۔ انھیں ججوں پر چیخنے کی وجہ سے عدالت سے نکال دیا گیا تھا۔ عدالت نے ملادچ کے وکیل کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا کہ ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے مقدمے کی کارروائی کو ملتوی کر دیا جائے۔

1995 میں ہی جنگ ختم ہونے کے بعد ملادچ فرار ہو کر سربیا میں گمنامی کی زندگی گزارنے لگے۔ ان کے خاندان اور سکیورٹی فورسز کے کچھ لوگوں نے انھیں تحفظ فراہم کیا۔ ملادچ کو قتل عام اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کا سامنا تھا لیکن وہ 16 برس تک انصاف کے کٹہرے سے بچتے رہے۔ بلآخر 2011 میں انھیں شمالی سربیا کے ایک دیہی علاقے میں پکڑ لیا گیا۔ عدالت میں فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر مظالم کا شکار ہونے والے کئی افراد اور ہلاک ہونے والوں کے رشتے دار بھی موجود تھے۔

کیا نااہل شخص پاکستان کی سیاسی جماعت کا سربراہ بن سکتا ہے ؟

پاکستان کی قومی اسمبلی میں نااہل شخص کو پارٹی سربراہی سے روکنے کے لیے پیش کیا گیا الیکشن ایکٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی سے مسترد ہو گیا۔ ترمیم کے حق میں 98 جبکہ مخالفت میں 163 ارکان نے ووٹ دئیے۔ ن لیگ نے ایوان میں بھر پو طاقت کا مظاہرہ کیا تاہم سابق وزیر اعظم ظفر اللہ جمالی نے اپوزیشن کا ساتھ دیا۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے الیکشن ایکٹ 2017 کے آرٹیکل 203 میں ترمیم کا بل پیش کیا جس کے تحت نااہل شخص کسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا۔

پیپلزپارٹی نے بل پیش کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایک شخص جب تک پارٹی کا سربراہ نہیں ہو سکتا جب تک وہ خود ممبر اسمبلی بننے کا اہل نہ ہو، نا اہل شخص باہربیٹھ کر سربراہ کے طور پر پالیسی ڈکٹیٹ کرے تو مناسب نہیں۔ اگرچہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے ارکان پارلیمان کی تعداد حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ارکان کی تعداد سے کم تھی تاہم حکمراں جماعت کو اپنے ارکان کی غیر حاضری کا مسئلہ بھی درپیش تھا لیکن آج قرارداد مسترد ہونے کی صورت میں وہ حل ہو گیا۔ حزب اختلاف کی جماعتیں الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 203 میں ترمیم چاہتی ہیں جس کا مقصد حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور نااہل وزیراعظم نواز شریف کو جماعت کا سربراہ بننے سے روکنا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال پاناما لیکس کیس میں سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا تھا تاہم پاکستان مسلم لیگ ن الیکشن ایکٹ 2017 سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظور کروانے میں کامیاب رہی جس کے بعد وہ سابق وزیراعظم کا اپنی سیاسی جماعت کے سربراہ کا عہدہ برقرار رہا۔ اس سے قبل کوئی بھی نااہل شخص کسی بھی سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا تھا۔

سوچا تھا بیٹا ملک سے باہر جائے گا تو غربت ختم ہو گی

سیالکوٹ کے گاؤں جیٹھیکے پہنچی تو ایک مقامی شخص سے پوچھا کہ اسلم کا مکان کون سا ہے جن کا بیٹا بلوچستان کے واقعے میں محفوظ واپس لوٹا ہے؟
اس پر ادھیڑ عمر شخص نے جواب میں پوچھا کہ ’وہ کمہار کا گھر؟‘ اور پھر جواب کا انتظار کیے بغیر کہا: ’تھوڑا آگے جائیں، ایک کھمبے کے پاس دائیں کو مڑ جائیں اور کسی سے پوچھ لیں تو وہ بتا دے گا۔‘ کمہار چند دہائیاں پہلے تک قِسم قِسم کے برتن بنانے کے فن میں مہارت سے پہچانے جاتے تھے، مگر پھرمٹی کے برتنوں کی جگہ المونیم اور سٹیل نے لے لی تو کوزہ گری کا یہ فن بھی ماضی کا قصہ بن گیا۔

تنگ سی گلی میں داخل ہوں تو پہلے اسلم کمہار کا کرائے کا مکان ہے جہاں آج عید کی سی خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ اسی مکان سے کچھ فاصلے پر قیصر محمود کا کچی اینٹوں کا مکان بالکل الگ احساس دے رہا ہے۔ یہاں کی فضا سوگوار ہے۔ دونوں گھروں میں فاصلہ زیادہ نہیں لیکن خوشی اور غمی مختلف انتہاؤں پر دکھائی دے رہے ہیں۔ بلوچستان میں تربت کے قریب گذشتہ ہفتے پیش آنے والے وہ دو واقعات جن میں پنجاب کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 20 افراد ہلاک ہو گئے تھے، ان کے تانے بانے انھی غربت کے مارے علاقوں سے ملتے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں قیصر محمود کا 17 سالہ بیٹا ماجد گھمن شامل ہے، اور بچ جانے والوں میں اسلم کا 16 سالہ بیٹا حیدر علی ہے جو آج ہی گھر لوٹا ہے۔ ماجد گھمن اور حیدر علی سمیت اس گاؤں کے تین لڑکے اُس قافلے کا حصہ تھے جسے حکام کے مطابق مبینہ طور پر ‘بلوچ علیحدگی پسندوں نے نشانہ بنایا۔’ یہ تمام افراد روز گار کی تلاش میں کچھ ایجنٹوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر ترکی اور یونان جا رہے تھے اور انھیں پہلے مرحلے میں بلوچستان کے راستے ایران میں داخل ہونا تھا۔ اس مقصد کے لیے صوبے کے انتہائی غیر محفوظ علاقے کا انتخاب کیا گیا۔

حیدر علی معجزانہ طور پر بچ گئے۔ اوپر تلے کئی قمیضیں پہنے حیدر علی کی آواز بات کرتے ہوئے کپکپا رہی تھی۔ حیدر علی کے مطابق انھیں بیرون ملک پہنچانے کے وعدے کرنے والا ایجنٹ اس سفر کے دوران کہیں بھی ان کے ساتھ نہیں تھا۔ کوئٹہ پہنچنے پر بعض نقاب پوش افراد نے انھیں اپنے ساتھ لیا اور پنجگور آ گئے۔ پنجگورمیں انھیں کسی دوسرے نقاب پوش گروہ کے حوالے کیا گیا۔ یہاں 15 نوجوانوں پر مشتمل ایک اور قافلہ پہلے سے موجود تھا۔ ‘ہمارے چہروں پر کپڑا چڑھا دیا گیا، سامان اور موبائل فون لے لیا، مارتے پیٹتے ہم سب کو آپس میں مکس کر دیا گیا اور 15، 15 افراد کے دو قافلے تیار کر کے دو ڈالوں (ایسی بڑی گاڑی جس کی پچھلے حصے پر چھت نہ ہو) میں لاد دیا۔‘ یہ بتاتے ہوئے حیدر علی کی آنکھوں میں خوف مزید گہرا اور زبان لڑکھڑانے لگی۔

یہی وہ وقت تھا جب حیدر علی اپنے جگری دوست ماجد گھمن سے جدا ہوا۔ مگر یہ دونوں گاڑیاں ایک ساتھ ‘ایران کی سرحد پار کرنے’ تربت کی جانب روانہ ہوئے۔
حیدر علی کے مطابق ان کی آنکھیں اور چہرہ ڈھانپ دیا گیا تھا اور انھیں کچھ پتہ نہ تھا کہ وہ کس علاقے میں ہیں۔ ‘اچانک ڈالا رکا اور یہ سمجھ آئی کہ شاید کوئی خرابی ہو گئی ہے، ڈرائیور اور دوسرے لوگ اس سے اتر گئے۔’ حیدر علی کہتے ہیں کہ دوسری گاڑی ان سے کچھ فاصلے پر تھی۔ ‘ایک دم شدید فائرنگ کی آواز آئی، یہ بہت قریب سے آ رہی تھی، ہم نے گاڑی سے چھلانگ لگائی اور بھاگنے لگ گئے، وہ رات کا وقت تھا اور میں نہیں جانتا کہ میں کس طرف بھاگ رہا تھا، اور باقی سب کہاں گئے، زندہ بھی تھے یا نہیں۔’

حیدر علی کے مطابق وہ رات بھر انجانی سمت میں بھاگتے رہے اور بالآخر چائے کے ایک کھوکھے پر پہنچے جہاں ایک پٹھان نے اس وقت ان کی مدد کی۔ ‘پٹھان ہمیں بس اڈے پر لایا اور گاڑی پر بٹھایا، میرے ساتھ گوجرخان کا ایک لڑکا تھا، ہم وہاں سے کوئٹہ آئے اور گھر اطلاع دی کہ ہم واپس آ رہے ہیں۔’ تب حیدر علی نہیں جانتے تھے کہ ان کے ساتھ بیرون ملک جانے والے دیگر افراد زندہ ہیں یا نہیں۔
دوسری جانب ماجد گھمن کے گھر سوگ کا عالم ہے۔ ان کے والد قیصر محمود گھر کے باہر خالی پلاٹ میں سر پکڑے بیٹھے تھے۔ ‘سوچا تھا یہ بیٹا ملک سے باہر جائے گا تو غربت بالآخر ختم ہو گی۔’

قیصر محمود گاؤں ہی میں کسی کے کھیتوں پر کام کرتے ہیں۔ ان کا ایک اور بیٹا دبئی میں ہے ‘جس کے پیسوں سے کچا گھر کھڑا کیا ہے۔’ 13 نومبر کے بعد ماجد گھمن کے ساتھ ان کے اہل خانہ کا جب دو روز تک رابطہ نہ ہوا تو انھوں نے ایجنٹ کو فون کیا۔ ماجد کی والدہ بتاتی ہیں کہ ‘ایجنٹ نے ہمیں یہ بتایا کہ ہمارے بچے پولیس نے گوادر میں گرفتار کر لیے ہیں اور ان کی رہائی کے لیے مزید رقم چاہیے۔’ ان کے مطابق ایجنٹ نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے بچے ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ یہ رابطہ 15 نومبر کو ہوا جب ان افراد کی لاشیں تربت سے مل چکی تھیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایجنٹ غیر قانونی طور پر باہر لے جانے اور سنہرے مستقبل کا جھانسہ دے کر غریب گھروں کے ان بچوں کو موت کی وادی میں دھکیل دیتے ہیں۔ ‘یہ ایجنٹ شاید ان نوجوانوں کو کسی اور گروہ کو فروخت کرتے ہیں اور خرید و فروخت کا یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک یہ افراد یورپ پہنچ جائیں یا پھر سرحد پار کرنے کی کوشش میں گرفتار کر لیے جائیں۔’ ان کے خیال میں ایجنٹ دیگر گروہوں سے قیمت وصول کرنے کے ساتھ ساتھ غریب اہل خانہ سے بھی مختلف بہانوں سے رقم بٹورتے رہتے ہیں۔

خیال رہے کہ پنجاب سے بڑی تعداد میں نوجوان روزگار کے مواقع نہ ہونے اور انتہائی غربت کی وجہ سے ملک سے باہر جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یہاں غیرقانونی طور پر ملک سے باہر لے جانے والے ایجنٹ زیادہ تر لوگوں سے ‘ایڈوانس رقم لیتے ہیں جو ایک سے دو لاکھ کے درمیان ہوتی ہے۔’ تاہم بعض اوقات ایجنٹ وقتی طور پر نصف رقم لیتے ہیں اور باقی رقم یہ کہہ کر وصول کرتے ہیں کہ باہر جانے والے فرد گرفتار یا اغوا ہو گیا ہے، رہائی یا بازیابی کے لیے رقم درکار ہو گی۔’ مقامی انتظامیہ کے مطابق پنجاب کے صرف اِس ایک گاؤں کے 40 فیصد سے زائد نوجوان غیرقانونی طور پر دیگرممالک میں مقیم ہیں۔

زندہ واپس آنے والے حیدر علی کے مطابق وہ کل 30 لوگ تھے۔ جن میں سے 20 کی لاشیں سیکیورٹی فورسز کو دو مختلف علاقوں سے ملی ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق تربت کے اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر جمیل احمد بلوچ کا کہنا ہے کہ 15 افراد کو قتل کرنے کے بعد ‘پانچ لڑکوں کو ممکنہ طور پر اغوا کیا گیا تھا جنھیں دو دن بعد مار دیا گیا۔‘ یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ ان ٹرالوں میں لدے باقی آٹھ افراد کہاں ہیں۔

فرحت جاوید
بی بی سی اردو، اسلام آباد

امریکی دفتر خارجہ کے حکام کی وزیر خارجہ ٹلرسن کی خلاف ’بغاوت‘

امریکی دفتر خارجہ کے قریب ایک درجن حکام نے وزیر خارجہ ٹلرسن پر غیر ملکی فوجوں اور ملیشیا گروپوں کی طرف سے نابالغ فوجیوں کے استعمال سے متعلق ایک امریکی قانون کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف ’بغاوت‘ کر دی ہے۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی خصوصی رپورٹوں کے مطابق ان قریب ایک درجن امریکی حکومتی اہلکاروں نے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے امریکا ہی کے ایک وفاقی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ قانون اس امر کا احاطہ کرتا ہے کہ بیرونی ممالک میں کسی بھی ریاست کی فوج یا ملیشیا گروپ اپنی صفوں میں نابالغ بچوں کو فوجیوں یا جنگجوؤں کے طور پر بھرتی نہ کریں۔

روئٹرز کے مطابق یہ اقدام، جسے وزیر خارجہ ٹلرسن کے خلاف ’بغاوت‘ کا نام بھی دیا جا سکتا ہے، امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ایک ایسے اندرونی لیکن خفیہ دستاویز کی صورت میں سامنے آیا، جس کی ایک کاپی خود روئٹرز کے نامہ نگاروں نے بھی دیکھی۔ یہ میمو 28 جولائی کو لکھا گیا تھا۔ اس ’میمو‘ کے مطابق، جس کی موجودگی کا آج تک کسی کو علم نہیں تھا، امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن اس وقت امریکا ہی کے ایک وفاقی قانون Child Soldiers Prevention Act کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے، جب انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ عراق، میانمار اور افغانستان کو ان ممالک کی امریکی فہرست میں شامل نہ کیا جائے، جہاں جنگی مقاصد کے لیے نابالغ بچوں کو بھرتی کیا جاتا ہے۔

اس خفیہ میمو کے مطابق ٹلرسن نے یہ فیصلہ اس حقیقت کے باوجود کیا کہ خود انہی کی قیادت میں کام کرنے والا امریکی محکمہ خارجہ ملکی وزیر خارجہ کے اس اقدام سے قبل کھلم کھلا یہ اعتراف کر چکا تھا کہ ان تینوں ممالک میں نابالغ بچے فوجیوں کے طور پر بھرتی کیے جاتے ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے یہ فہرست ہر سال تیار کی جاتی ہے اور اس میں عراق، میانمار اور افغانستان کے نام شامل کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ یوں واشنگٹن حکومت کے لیے ان تینوں ریاستوں کو فوجی مدد فراہم کرنا آسان ہو گیا۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ عراق اور افغانستان تو امریکا کے دو بہت قریبی اتحادی ممالک بھی ہیں، جہاں ملکی حکومتیں عسکریت پسند مسلمانوں کے خلاف طویل عرصے سے جنگی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

اس کے برعکس میانمار ابھی امریکا کا عراق اور افغانستان جیسا اتحادی ملک تو نہیں لیکن وہ واشنگٹن کا مسلسل ابھر کر سامنے آنے والا ایک اہم اتحادی ملک ضرور بنتا جا رہا ہے۔ میانمار کے ساتھ امریکا کی اس قربت کی وجہ واشنگٹن حکومت کی یہ خواہش ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں خطے کی ایک بڑی طاقت چین کے اثر و رسوخ کا توڑ نکالا جائے۔ اس میمو کی روشنی میں یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ ریکس ٹلرسن نے بطور وزیر خارجہ اس حوالے سے عراق، افغانستان اور میانمار سے متعلق جو ’خلاف قانون‘ استثنائی فیصلہ کیا، وہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اپنے قانونی ماہرین، اسی محکمے کے انسانی حقوق کے دفتر، پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکی سفیروں، اور ایشیا کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں امریکی سفارت خانوں کے نگران دفتر خارجہ کے اپنے علاقائی شعبوں کے سربراہان کی متفقہ سفارشات کے بالکل برعکس کیا۔

روئٹرز نے یہ بھی لکھا ہے کہ اتنے زیادہ اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کی ٹلرسن پر اتنی غیر معمولی تنقید یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے پیشہ ور سفارت کاروں اور وزیر خارجہ ٹلرسن کے مابین کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ٹلرسن امریکی ملٹی نیشنل کمپنی ’ایکسون موبیل کارپوریشن‘ کے سابق سربراہ ہیں، جنہیں صدر ٹرمپ نے اپنی ’پہلے امریکا‘ کی پالیسی کے تحت غیر متوقع طور پر وزیر خارجہ بنا دیا تھا۔

بشکریہ DW اردو

کینسر کا علاج کیسے کیا جاتا ہے ؟

کینسر(سرطان) کا علاج کئی طریقوں سے کیا جاتا ہے۔ کینسر کا علاج مرض کی قسم اور شدت کو دیکھ کر تجویز کیا جاتا ہے۔ کینسر کے بعض مریضوں کے لیے صرف ایک طرح کا علاج ہی ممکن ہوتا ہے لیکن زیادہ تر کا علاج دو یا اس سے زائد طریقوں کے امتزاج سے کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سرجری اور کیموتھراپی دونوں کی جاتی ہیں۔ اگر کسی کو بدقسمتی سے کینسر کا مرض لاحق ہو جائے تو علاج سے قبل اسے اس بارے میں بہت کچھ جان لینا چاہیے اور اچھی طرح سیکھ لینا چاہیے۔ مرض کی صور ت میں مریض ابہام کا شکار ہو سکتا ہے۔ تاہم ڈاکٹر سے بات کرنے اور علاج کی اقسام کے بارے میں جاننے سے اس ابہام کو دور کیا جا سکتا ہے۔

کینسر کے علاج کے طریقے مندرجہ ذیل ہیں۔

جراحی

اس طریقے میں کینسر کو جراحی کے ذریعے جسم سے علیحدہ کر دیا جاتا ہے۔

تابکاری

تابکاری سے علاج جسے ریڈیو تھراپی بھی کہا جاتا ہے، میں کینسر کے خلیوں کو تلف کرنے یا کینسر کی گومڑی کو چھوٹا کرنے کے لیے تابکاری کی زیادہ مقدار کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا انتخاب کرنے سے قبل اس کے ذیلی اثرات کے بارے میں جان لینا چاہیے۔

کیموتھراپی

اس طریق علاج میں ایسی ادویات استعمال کی جاتی ہیں جو کینسر کے خلیوں کو مار دیتی ہیں۔ اس کے ذیلی اثرات بھی ہوتے ہیں، لہٰذا اس طریقے کو استعمال کرنے سے قبل ان کے بارے جان لینا چاہیے۔

ایمونو تھراپی

اس طریقے میں جسم کے اندرونی نظام دفاع کی مدد کی جاتی ہے تاکہ وہ کینسر کے خلاف لڑ سکے۔

ٹارگٹ تھراپی

اس میں کینسر کے خلیوں کے اندر ان تبدیلیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو کینسر کے خلیوں میں اضافے، ان کی تقسیم در تقسیم اور پھیلاؤ کا باعث ہوتی ہیں۔

ہارمون تھراپی

اس کے ذریعے سینے اور پوسٹیٹ کینسر کی نمو کو روکا جاتا ہے۔

سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ

یہ وہ عمل ہے جس میں خون بنانے والے سٹیم سیلز (خلیوں) کو بحال کیا جاتا ہے جو کیموتھراپی یا تابکاری سے تباہ ہو گئے ہوں۔

(مترجم: رضوان عطا)

فیض آباد پر ناکہ نہیں ہانکہ لگا ہوا ہے : وسعت اللہ خان

تمہارا مسئلہ معلوم ہے کیا ہے؟ یہ کہ تم انتہائی خود غرض ہو صرف مطلب کی بات سمجھتے ہو۔ تمھیں کوئی مطلب نہیں کہ بندہِ خاکی کیا چاہتا ہے۔ قانونی، اخلاقی، انسانی دلائل دینے میں کیوں وقت ضائع کر رہے ہو۔ ڈنڈے کے روبرو دلیل کمزوری کی دلیل ہے۔ کیا چشمے پر کھڑے بھیڑیے اور بھیڑ کے بچے کی پانی گدلا کرنے والی کہانی بھی بچپن میں نہیں سنی؟ یہ تو کوئی نابینا بھی جانتا ہے کہ جس مسئلے پر فیض آباد کا دھرنا جاری ہے وہ مسئلہ تو پارلیمان کب کا سلٹا چکی۔ تب سے سرکارِ عباسیہ تین ہزار قسمیں بھی کھا چکی کہ کوئی بھی پاکستانی حکومت باہوش و حواس احمدیوں کی آئینی حیثیت کے بارے میں کسی بھی قانون میں ترمیم تو کجا اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔

ختمِ نبوت پر ایمان کی حلفیہ وڈیوز جاری کرنے کا فائدہ؟ دھرنا ختم کرانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی کاپی لہرانے سے کیا حاصل؟ تم اتنی سی بات سمجھنے کو کیوں تیار نہیں کہ ہم اب تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتے۔ بوریا بستر گول کرو۔ یہ فیض آباد پر ناکہ نہیں ہانکہ لگا ہوا ہے۔ ہانکہ سمجھتے ہو؟ کبھی شیر کا شکار کیا ؟ سنا بھی نہیں کہ بادشاہ کیسے شکار کرتا ہے؟ ہانکہ ڈھول ڈھمکے اور نعروں سے مسلح لوگوں کی جانب سے آہستہ آہستہ گھیرا تنگ کر کے شکار کو مطلوبہ مقام تک پہنچانے کو کہتے ہیں۔ جہاں سے ہاتھی یا مچان پر بیٹھا بادشاہ ایک تیر یا گولی سے شکار کا بھیجہ آسانی سے اڑا سکے۔

ہانکہ شکار کو تھکانے اور اوسان خطا کرنے کو کہتے ہیں۔ شکار جتنا سخت جانہانکہ بھی اتنا ہی طویل۔ ہانکے کے ڈھول مسلسل نہیں وقفے وقفے سے بجائے جاتے ہیں تاکہ شکار پہلے بے یقینی اور پھر خوف میں مبتلا ہو۔ یوں اعصاب جواب دیتے چلے جائیں اور پھر شور کا دائرہ سکڑتا سکڑتا سر پر آ جائے اور شکار بے سدھ ہو جائے۔ پھر شکاری کی مرضی زندہ پکڑتا ہے یا مردہ۔ تمہارا کیا خیال ہے فیض آباد کا دھرنا ختم کرنا مشکل ہے؟ بالکل بھی نہیں۔ اگر ایک فون پر نواز شریف اپنا عدلیہ بحالی لانگ مارچ گوجرانوالہ میں روک سکتا ہے، اگر ایک میسج پر طاہر القادری اچانک اسلام آباد کے ڈی چوک سے بوریا بستر لپیٹ کر عمران خان کو ہکا بکا چھوڑ کر نکل سکتا ہے۔ اگر ایک کال پر عمران خان 126 دن سے جاری کامیاب دھرنا ختم کر سکتا ہے تو فیض آباد کا دھرنا کیا بیچتا ہے۔ مگر تم غلط نمبر سے ڈائل کر رہے ہو اور درست نمبر مسلسل انگیج ہے۔

ایک داغدار کرپٹ قیادت والی حکومت کو بہرطور جانا ہی چاہیے۔ اس پر پارلیمانی و غیر پارلیمانی سطح پر اتفاقِ رائے ہے۔ مگر کیسے پتہ چلا کہ مسلم لیگی حکومت داغ دار اور کرپٹ ہے؟ ظاہر ہے پاناما لیکس سے۔ ایک منٹ ! جب لیگی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے صرف دو ماہ بعد ہی چار حلقوں میں دھاندلی کا پتہ چلانے کے لیے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے مطالبے کے بہانے ہانکے کا پہلا ڈھول بجا اور ایک برس بعد اگست 2014 میں گو نواز گو کا ڈھول مسلسل پیٹنے سے ہانکے کا باضابطہ آغاز ہوا تب تو پاناما کہیں نہیں تھا۔ اے شریفو خدا کے لیے یہ مت کہنا کہ تم ہانکے کا مطلب نہیں سمجھتے۔ پہلا ہانکہ پی این اے سے بھٹو کو گھیرنے کے لیے کروایا گیا تو اس وقت تم اصغر خان کی تحریکِ اسلتقلال میں تھے۔ پھر تم سے آئی جے آئی کے ہانکہ بردار جمع کروائے گئے۔

پھر تم آپ اپنے استاد ہو گئے اور سجاد علی شاہ اور فاروق لغاری کا شکار کرنے کے بعد خود کو جم کاربٹ سمجھنے لگے اور اس دھوکے میں ایک ایسے شکار پر چھلانگ لگا دی جو جھکائی دے کر نکل گیا اور پلٹ کر تمہاری گردن دبوچ لی۔ تب کہیں جا کر تمہیں احساس ہونے لگا کہ ہانکہ کرنا اور اس کا حصہ بننا کتنا خطرناک ہے۔ مگر تب سے ہانکہ برداروں کی ایک نئی کھیپ تیار ہو چکی ہے۔
ویسے بھی ہانکے میں استعمال ہونے والوں کو اکثر کھانا اور شاباش ہی ملتی ہے۔ کبھی کسی نے سنا کہ شکار میں سے بھی حصہ ملا ؟ اب بھی جو شکار ہو گا اس کے بھی شکاری تین برابر کے حصے کرے گا۔ یہ میرا، دوسرا میرے ساتھیوں کا، تیسرا تم سب کا، ہمت ہے تو اٹھا لو۔

وسعت اللہ خان
تجزیہ کار

لیونارڈو ڈاونچی کی پانچ سو سال پرانی پینٹگ 45 ارب روپے سے زائد میں فروخت

دنیا کی سب سے نایاب تصویر’مونا لیزا‘ کے خالق لیونارڈو ڈاونچی کی ایک اور نایاب پینٹنگ کو ایک شخص نے 45 کروڑ امریکی ڈالرز میں خرید کر اسے دنیا کی سب سے مہنگی پینٹنگ کا درجہ دے دیا۔ نیو یارک کے آکشن ہاؤس میں فروخت ہونے والی لیونارڈو ڈاونچی کی کم سے کم 500 سال پرانی تصویر ’سلواتور مونڈی‘ کو نامعلوم شخص نے ٹیلی فون پر بولی کے آخری اوقات میں 45 کروڑ امریکی ڈالر (پاکستانی 45 ارب سے زائد) میں خرید لیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹس پریس (اے پی) کے مطابق 26 انچ اونچی نایاب پینٹنگ کی بولی 10 کروڑ ڈالر سے شروع ہوئی، جو 40 کروڑ ڈالر تک جا پہنچی۔ پینٹنگ کی بولی جب 30 کروڑ تک پہنچی تو آکشن ہاؤس میں تالیوں کی گونج سنائی دی، تاہم ’سلواتور مونڈی‘ کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔
نیلامی کے آخری 20 منٹ کے دوران پینٹنگ کی بولی 40 کروڑ ڈالر لگائی گئی، یوں آکشن ہاؤس کی فیس اور خریدار کی غیر موجودگی کی فیس سمیت ’سلواتور مونڈی‘ کی رقم ریکارڈ 45 کروڑ ڈالر تک جا پہنچی۔

یہ دنیا کی واحد پینٹنگ ہے جو اتنی بڑی رقم میں فروخت ہوئی، اس سے قبل ستمبر 2015 میں ڈچ امریکن مصور ولیم ڈی کوننگ کی ایک پینٹنگ 30 کروڑ ڈالر میں فروخت ہوئی تھی۔ مئی 2015 میں مصور پکاسو کی (ویمن آف الجزائر) بھی 17 کروڑ ڈالر سے زائد میں فروخت ہوئی تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ لیونارڈو ڈاونچی کی یہ نایاب تصویر ان 20 پینٹنگز میں سے ایک ہے جو انہوں نے سن 1500 اور 1505 کے درمیان بنائی تھیں۔

 

کیا سوشل میڈیا نوجوانوں کے درمیان خود کشی کی وجہ بن رہا ہے؟

امریکا میں سنجیدہ حلقے نوعمر (ٹین ایج) لڑکے اور لڑکیوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رحجان سے سخت پریشان ہیں اور ان کے خیال میں اس کی وجہ فیس بک اور سوشل میڈیا ہو سکتے ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ دو عشروں سے نوجوانوں میں خودکشی کا رحجان بتدریج کم ہو رہا تھا لیکن سال 2010 سے 2015 کے درمیان اس میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین اس کی وجہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں کوئی واضح جواب کسی کے پاس نہیں لیکن نفسیاتی و سماجی ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ پر تنقید یعنی ’سائبر بلیئنگ‘ (cyber bullying) اس کی وجہ ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر نوعمر بچوں کی ذہنی تباہی کے تمام لوازمات موجود ہیں۔

امریکہ میں کئی نوجوان لڑکے لڑکیوں کی خودکشی کے بعد جب سوشل میڈیا کے استعمال اور اس کے اثرات پر ایک سروے کیا گیا تو کولوراڈو کی ایک 17 سال لڑکی نے بتایا کہ وہ انسٹا گرام کی تصاویر اور پوسٹس دیکھ دیکھ کر اکتا جاتی ہے۔ اس مہم کے تحت نوعمر بچوں کو آف لائن وقت گزارنے کو بھی کہا گیا تھا۔ اس مہم میں نوجوانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کم ازکم ایک ماہ تک آف لائن رہیں اور انٹرنیٹ سے دور رہیں۔ ایک اور 17 لڑکی کلو ای شلنگ نے کہا کہ سوشل میڈیا سے جس برے انداز میں لوگ گزر رہے ہیں وہ ان کے بارے میں کچھ پوسٹ نہیں کرتے۔ امریکہ میں سی ڈی سی کے مطابق امریکہ میں 13 سے 18 سال کی بڑی آبادی انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ ایک سروے میں 13 سے 18 سال کے 5 لاکھ نوعمر لڑکے اور لڑکیوں کو شامل کیا گیا۔ ان سے دوستوں سے ملاقات اور سماجی تعلقات اور سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے ان کے موڈ کے بارے میں پوچھا گیا اور خودکشی کے خیالات کی چھان بین بھی کی گئی۔

پانچ لاکھ نوعمر بچوں کے سروے کے بعد اس مطالعے سے جو نکات سامنے آئے وہ کچھ اس طرح تھے کہ شرکا روزانہ اوسط پانچ گھنٹے اپنے اسمارٹ فون پر صرف کرتے ہیں اور یہ شرح 2009 میں 8 فیصد تھی جو 2015 میں بڑھ کر 19 فیصد تک جا پہنچی۔ اب جو بچے روزانہ ایک گھنٹہ صرف کرتے تھے ان کے مقابلے میں زیادہ یعنی پانچ گھنٹے اسمارٹ فون سے کھیلنے والوں میں خودکشی کے خیالات 70 فیصد زائد نوٹ کیے گئے۔ 2015 میں 36 فیصد شرکا نے کہا کہ وہ خود کو اداس اور بے بس محسوس کرتے ہیں جبکہ 2009 میں یہ شرح 32 فیصد تھی۔ لڑکیوں میں یہ شرح 2015 تک 45 فیصد تک نوٹ کی گئی۔ جو لوگ بار بار سوشل میڈیا پر جاتے تھے، وہ بقیہ لوگوں کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ڈپریشن کے شکار تھے۔ اس کی وجہ سوشل میڈیا پر وہ پوسٹس ہیں جنہیں دیکھ کر کوئی الجھن تو کوئی احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتا ہے۔

اس سروے کی سربراہ ڈاکٹر جین ٹوینگے سان ڈیاگو یونیورسٹی میں نفسیات کی پروفیسر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ والدین اپنے نوعمر بچوں پر نظر رکھیں اور ان کےلیے اسمارٹ فون استعمال کرنے کے وقت کی حد مقرر کریں۔ تاہم نوجوانوں کے ایک معالج ڈاکٹر وکٹر اسٹراسبرگر کہتے ہیں کہ اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ وکٹر کے مطابق کچھ لوگ سوشل میڈیا کو اس کا ذمہ دار نہیں سمجھتے اور مثال دیتے ہیں کہ جب امریکہ میں کامک بکس آئیں، جب ٹی وی کا راج شروع ہوا اور جب راک اینڈ رول کا رحجان بڑھا تو لوگوں نے کہا کہ اب دنیا خاتمے کے قریب ہے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ تاہم سوشل میڈیا دو طرفہ تنقید کا ایک اہم ذریعہ ہے اور یہاں لوگ خفیہ رہتے ہوئے بھی دوسروں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ہمیں اسی منفی قوت کو سمجھنا ہو گا۔

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس اردو

بلند ترین پاکستانی چوٹی جو اب تک سر نہیں ہو سکی

خوبصورت قول ہے: ’’زندگی بھی پہاڑ کے مانند ہے۔ اس پر چڑھنا کٹھن ہے، مگر جب انسان چوٹی پر پہنچ جائے، تو متحیر کر دینے والے نظارے اس کے منتظر ہوتے ہیں۔‘‘ بلند و بالا پہاڑ فطرت کا شاہکار ہیں۔ خوش قسمتی سے خطہِ پاکستان فطرت کی ان ہیبت ناک اور دیوہیکل نشانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ چناں چہ دنیا کے مشکل ترین مشغلوں میں سے ایک، کوہ پیمائی کے عاشق ارض پاک کی جانب کھینچے چلے آتے ہیں۔ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی، کے ٹو پاکستان میں واقع ہے۔ مگر کم ہی لوگوں کو علم ہے کہ دنیا کی بلند ترین ’’دوشیزہ چوٹی‘‘ بھی ارض پاکستان کی زینت ہے۔ کوہ پیمائی کی اصطلاح میں دوشیزہ چوٹی سے مراد وہ چوٹی ہے جو ابھی تک سر نہ ہوئی ہو۔ اس پاکستانی چوٹی کا نام ’’موشو چیش‘‘ (Muchu Chhish) ہے جو 7453 میٹر (24452 فٹ) بلند ہے۔ یہ دنیا کی ساٹھویں جبکہ وطن عزیز کی پچیسویں بلند ترین چوٹی ہے۔ یہ قراقرم سلسلہ ہائے کوہ کے ذیلی سلسلے، ’’سبتورا موز تاغ‘‘ کا حصہ ہے۔

سبتورا موز تاغ کے پہاڑ وادی ہنزہ کے مغرب میں واقع ہیں۔ یہ پہاڑ قراقرم کو ہندوکش اور پامیر کے سلسلہ ہائے کوہ سے جدا کرتے ہیں۔ سبتورا موز تاغ کے پہاڑ پہلو بہ پہلو دور تک چلے گئے ہیں۔ اس ذیلی پہاڑی سلسلے کی بلند ترین چوٹی ’’سبتورا سار‘‘ کہلاتی ہے۔ یہ 7795 میٹر بلند چوٹی پاکستان کی دسویں جبکہ دنیا کی پچیسویں بلند ترین چوٹی ہے۔ سبتورا موز تاغ میں اکثر برفانی تودے گرتے رہتے ہیں۔ مزید براں علاقے میں طوفانی ہوائیں چلنا بھی معمول ہے۔ ان پہاڑوں کا بیشتر ڈھلوانی حصّہ بھی چپٹا ہے۔ یہ عوامل سبتورا موز تاغ کی چوٹیاں سرکرنا انتہائی مشکل بنا دیتے ہیں۔

2014ء میں برطانیہ کے مشہور کوہ پیما، پیٹر تھامسن نے موشو چیش سر کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم نہایت سخت برف نے اسے چھ ہزار میٹر بلندی سے واپس ہونے پر مجبور کر دیا۔ یوں وہ دنیا کی بلند ترین کنواری چوٹی سر کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ سائنس و ٹیکنالوجی میں محیر العقول کارنامے سرانجام دینے کے بعد حضرت انسان کائنات کی وسیع پہنائیوں میں کمندیں ڈال رہا ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ آج بھی کرہ ارض پر موشو چیش جیسے مقامات موجود ہیں جو اس کی ہمت و جرات کو چنوتی دیتے اور جذبہ مہم جوئی ابھارتے ہیں۔

یاد رہے، اعداد و شمار کی رو سے بھوٹان میں واقع چوٹی ’’گنگھڑ پوینسم‘‘ (Gangkhar Puensum) دنیا کی بلند ترین دوشیزہ چوٹی ہے۔ اس کی اونچائی 7570 میٹر ہے۔ مگر حکومت بھوٹان نے دیومالا اور مقامی روایات کی وجہ سے اس پر چڑھنے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اسی لیے قانونی طور پر پاکستان کی موشو چیش ہی کرہ ارض پر بلند ترین دوشیزہ چوٹی سمجھی جاتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے وقتوں میں کون ہمت کا متوالا اس پاکستانی چوٹی پر انسانی دلیری و عزم کے جھنڈے گاڑتا ہے۔

سید عاصم محمود