پاکستان میں اسلامی بینکاری

عمومی تعریف کے مطابق اسلامی بینکاری ایک ایسا نظام ہے، جس میں بینک سود کا لین دین نہیں کرتے۔ اسلامی بینکاری کے حوالے سے لا تعداد مواد چھپ رہا ہے، جن میں اسلامی بینکاری کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں دانشوروں کے خیالات و افکار جگہ پاتے ہیں ۔ پاکستان سمیت دنیا کی بہت سی یونیورسٹیوں نے اپنے ماسٹرز ڈگری کے نصاب میں اسلامی بینکاری کو بطور مضمون شامل کر رکھا ہے اور ڈاکٹریٹ کے مقالوں پر پی ایچ ڈی کی ڈگریاں بھی دی ہیں۔

اسلامی بینکاری اور پاکستان
پاکستان میں 2002ء میں اسلامی بینکاری کے آغاز سے لے کر سال 2017ء کے اختتام تک اسلامی بینکاری کا عام روایتی بینکاری میں حصہ 11.9% جب کہ اثاثہ جات کی مالیت 12.7% تک پہنچ چکی ہے۔ سال 2017 کے اختتام تک پاکستان میں اسلامی بینکاری کے 21 ادارے کام کر رہے ہیں۔ ان میں 5 مکمل طور پر اسلامی بینک اور 16 روایتی کمرشل بینک اسلامی بینکاری کی خدمات فراہم کرنے میں مصروف عمل ہیں۔

اسلامی بینکاری کی خدمات فراہم کرنے والی بینک برانچز کی تعداد 2 ہزار 368 تک پہنچ گئی ہے جبکہ شعبہ کے صارفین اور بینک برانچز میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کی اسلامی بینکاری صنعت 2002 سے 2015 کے عرصے میں 50% سی جی اے آر کے تناسب سے وسعت پذیر ہوئی ہے۔ ستمبر 2017 تک پاکستان کے مجموعی بینکاری نظام میں اسلامی بینکوں کے اثاثہ جات بڑھ کر 11.9% ہو چکے ہیں۔ مالیت کے حساب سے یہ 2,083 ارب روپے کی صنعت بن چکی ہے۔ مجموعی ڈیپازٹس میں اسلامی بینکوں کا حصہ 13.7% فی صد ہے، جب کہ ان ڈیپازٹس کی مالیت 1,729 ارب روپے ہو گئی ہے۔ پاکستان کے مرکزی بینک کے منصوبے کے تحت 2018 کے اختتام تک، اسلامی بینکوں کے پاس بینکنگ سیکٹر کے 15% اثاثے ہوں گے ۔

اسلامی بینکاری کا فریم ورک
پاکستان میں اسلامی اور روایتی بینکوں کے نظام کو بینکنگ کمپنیز آرڈیننس ( بی سی او) 1962 کے تحت چلایا جاتا ہے۔ 2002 میں بی او سی میں ترمیم کی گئی تا کہ بینکاری کاروبار کو شریعت کے مطابق ڈھالا جا سکے ۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا ریگولیٹری فریم ورک اسلامی بینکوں سمیت تمام بینکوں پر لاگو ہے۔ اسٹیٹ بینک کی بینکوں کو واضح ہدایت ہے کہ مخصوص اسلامی بینکاری شاخوں میں فنڈ، سسٹم اور کنٹرول کو روایتی بینکاری سے مکمل طوپر علیحدہ رکھا جائے۔ اسلامی بینکاری کے لیے ضروری ہے کہ وہ چیئرٹی اکائونٹ ، پول مینجمنٹ پریکٹس اور شریعہ بورڈ کے ارکان کی اجرت ظاہر کریں۔

روایتی بینک جو اسلامی بینکوں کی پراڈکٹس پیش کرتے ہیں، ان کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ اسلامی بینکوں کے آپریشنزکو ظاہر کریں۔ اسٹیٹ بینک تمام بینکوں بشمول اسلامی بینکوں کا سہ ماہی بنیادوں پر سخت ٹیسٹ کرتا ہے۔ بینکوں کے مسائل حل کرنے کے لیے، ادارہ جاتی فریم ورک پر غور ہو رہا ہے۔ 1962 کا بینکنگ آرڈیننس اس کے لیے عموی اور قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے ، جو روایتی اور اسلامی بینکوں پر ایک ساتھ لاگو ہیں۔ ا سٹیٹ بینک نے سہولت کی خاطر اسلامی بینکاری ڈیپارٹمنٹ کی شکل میں ادارہ جاتی فریم ورک دے دیا ہے ۔

اسلامی اور روایتی کمرشل بینکاری میں فرق
اسلامی اور کمرشل بینکاری کے ظاہری طریقہ کار میں یکسانیت کی وجہ سے عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ یہ دونوں نظام ایک جیسے ہیں، صرف نام بدلنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ایسا نہیں ہے، ان دونوں نظاموں میں واضح فرق ہے۔ آپ نے کبھی یہ سوچا ہے اگر ایک مسلمان ایک مرغی کو اسلامی طریقے سے ذبح کرے اور ایک غیر مسلم اس کو ویسے ہی مار دے اور دونوں گوشت کو بھون لیا جائے یا ہانڈی میں پکائی جائے تو کیا شکل اور ذائقےسے یہ پتہ لگانا ممکن ہے کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام؟ ہرگز نہیں، بلکہ اس مخصوص طریقہ کار ، الفاظ اور اصولوں کی پاسداری کی وجہ سے اس کو حلال قرار دیا جائے گا اوراس کی عدم موجودگی میں اس کو حرام قرار دیا جائے گا۔

کمرشل بینکوں میں رائج منافع حاصل کرنے کا نظام سودی ہے۔ وہاں قرض کا لین دین سودی بنیادوں پر ہے، چنانچہ بینک اپنے صارفین کو سود کے عوض قرضہ دیتا ہے۔ اس کے برعکس، اسلامی بینکوں میں خرید و فروخت ، مضاربت، شراکت وغیرہ کی سرمایہ کاری کیلیے جائز صورتوں کو اپنایا جاتا ہے، اسی طرح ان بینکوں میں رقوم کی منتقلی پر فیس وصول کی جاتی ہے، اور اسی طرح غیر ملکی زرِ مبادلہ کے لین دین سے بھی منافع حاصل کرتے ہیں۔

اگر کوئی صارف اپنی رقم سے منافع کمانا چاہے اور اپنی رقوم سودی بچت بینک میں جمع کروا دے، تو بینک اس کے لیے منافع مقرر کر دیتا ہے، ساتھ میں رأس المال کے محفوظ رہنے کی ضمانت بھی دیتا ہے۔ یہ صورت حقیقت میں سودی قرض ہے، اس صورت میں صارف بینک کو قرضہ فراہم کرتا ہے اور بینک کو فائدہ اس طرح ہوتا ہے کہ بینک جمع شدہ رقوم کو دیگر صارفین کو منافع کے عوض بطور قرضہ فراہم کرتا ہے ، اس طرح سودی بینک قرضہ لیتا بھی ہے اور دیتا بھی ہے، لیکن لینے دینے میں جو شرح منافع میں فرق پایا جاتا ہے، اس سے بینک کو فائدہ ہوتا ہے۔

اسلامی بینک میں سرمایہ کاری کا ایک طریقہ کار یہ ہے کہ اسلامی بینک، صارف سے رقم کسی ایسے کام میں مضاربت کے لیے لیتا ہے جو شرعی طور پر جائز ہو۔ کسی رہائشی منصوبے یا کسی اور جائز کام کے لیے لے لیتا ہے، جس میں شرط یہ ہوتی ہے کہ بینک حاصل ہونے والے نفع میں سے معین فیصد صارف کو دے گا، جبکہ بینک کو بھی مضاربت میں محنت کے عوض معین فیصد میں نفع ملتا ہے۔ اس صورت میں کسی بھی منصوبے کی کامیابی کی صورت میں حاصل ہونے والے نفع سے بینک کو فائدہ ہوتا ہے۔ مضاربت میں نفع یا نقصان دونوں چیزوں کا احتمال اور خطرہ قائم رہتا ہے، جس کی وجہ سے منافع کو یقینی بنانے کیلیے کسی ایسے منصوبے پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے، جس میں نفع کے امکانات زیادہ روشن ہوں اور پھر اسے کامیاب بنانے کیلیے محنت بھی کی جاتی ہے۔

عالمی منظرنامہ اور پاکستان
دنیا کے 44 ملکوں میں اسلامک فائنانس کے قواعد و ضوابط موجود ہیں، جب کہ 12 ملکوں میں باقاعدہ مرکزی شریعہ بورڈ بھی قائم ہیں، جہاں 1,075 اسلامی اسکالرز اس صنعت کی سرپرستی اور مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ ملائیشیا، بحرین اور متحدہ عرب امارات، اسلامی مالیاتی نظام کے حوالے سے بالترتیب دنیا کے تین بڑے ممالک ہیں۔ پاکستان کا پانچواں نمبر ہے۔

 لیاقت علی جتوئی

بشکریہ روزنامہ جنگ

Advertisements

پاکستان ریلوے میں 60 ارب روپے کا خسارہ ؟

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میان ثاقب نثار نے ریلوے میں 60 ارب روپے کے خسارے پر ازخود نوٹس لے لیا۔ عدالت نے سیکرٹری ریلوے، ریلوے بورڈ کے ممبران کو آڈٹ رپورٹس سمیت طلب کر لیا۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے محکمہ ریلوے میں 60 ارب کے خسارے پر از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صرف جلسوں میں ریلوے کے منافع بخش ہونے کے دعوے کیے جاتے ہیں لیکن ریلوے کی اصل صورتحال مختلف ہے، کیو ں نہ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کو طلب کیا جائے۔

چیف جسٹس پاکستان نے بھارت کے سابق وزیر ریلوے کی تعریف اور ریمارکس دیے کہ بھارت کا وزیر ریلوے لالو پرشاد ان پڑھ آدمی تھا، لیکن ادارے کو منافع بخش بنایا، آج لالو پرشاد کی تھیوری کو ہاورڈ یونیورسٹی میں پڑھایا جا رہا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے یہ بادشاہت تھوڑی ہے، کہ جس کا جو جی چاہے کرتا پھرے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر متعلقہ افسران کو پیش ہو کر 60 ارب روپے کے نقصان کی وجوہات بتانے کی ہدایت کر دی۔

کوئی قومی وقار بھی ہوتا ہے

پاک چین دوستی، یہ لفظ بچپن سے سنا۔ چین کو ہم نے دیونہ وار چاہا، چین نے بھی ہم سے محبت کی۔ اس محبت کو ہم متوسط طبقے کی گھٹی ہوئی مجبور اور ستوانسی محبتوں کی طرح دل میں دبائے نہیں پھرے، بلکہ دونوں ملکوں نے اپنی وفاؤں کا بارہا اور برملا اظہار کیا۔ اسی محبت کی ایک نشانی، سی پیک کی صورت میں ابھی میوں میوں چلنا شروع ہوئی تھی کہ کچھ اجڈ اور عاقبت نااندیش پاکستانی اور چند احمق چینی اس پہ اپنے گندے جوتوں سمیت دھم سے کود گئے۔
شناسائی، دوستی، محبت، وفا، عشق اور پھر جنوں، شاید انسانی تعلقات میں مانوسیت کے جذبے کو ان مدارج میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ شاید اس لیے کہا کہ انسانی تعلقات کے بارے میں کوئی بھی بات حتمی طور پہ نہیں کہی جا سکتی۔ انسان اپنے جذبوں کے بارے میں بہت عجیب واقع ہوا ہے۔

انسان اس پہ ایشیائی انسان اور اس سے بھی بڑھ کے جنوبی ایشیائی اور پاکستانی انسان تو اپنے تعلقات اور جذبات اور وفاداریوں کے بارے میں بہت ہی عجیب واقع ہوا ہے۔ اس خطے کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، باہر سے آ نے والوں کے لیے دو طرح کے رویے نظر آتے ہیں۔ کچھ لوگ ان نو واردوں سے سخت خوف کھاتے ہیں اور اسی خوف کے تحت ان سے نفرت کرتے ہیں اور موقع آنے پہ ان کے درپئے ہونے کو بھی ہمہ وقت آمادہ رہتے ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ نئے آنے والوں کے لیے خیر سگالی کے جذبے سے اس قدر معمور ہوتے ہیں کہ اکثر یہ جذبہ ان کے ظرف کے پیمانوں اور ہوش و خرد کی حدوں سے باہر چھلک جاتا ہے۔ ہر دو صورتوں میں نقصان اس خطے کے باشندوں کا ہی ہوتا ہے۔ قاعدہ ہے کہ جو قوم، اپنے ملک اور علاقے سے نکل کر کسی دوسرے علاقے کا رخ کرتی ہے یقیناً اپنے رشتے کی پھوپھی سے ملنے تو نہیں آتی اور نہ ہی اس کے پیشِ نگاہ سیاحت کا جذبہ ہوتا ہے۔

ظاہر ہے، دوسرے خطوں میں موجود مادی فوائد ہی انھیں وہاں سے کھینچ کر لاتے ہیں۔ گھر بار کا سکھ چھوڑ کے آ نے والے، اپنے بن باس کی پوری قیمت وصول کرتے ہیں۔ برِصغیر نے بارہا یہ قیمت ادا کی۔ یہ دھرتی اتنی زرخیز ہے کہ جانے کتنی نسلوں کو خود میں جذب کر چکی ہے۔ اس لیے ہمیں کسی چینی اور ترکی سے تو بالکل بھی کسی قسم کا خوف نہیں۔ لیکن بہر حال، تعلقات کے قرینے ہوتے ہیں۔ پاکستانی پولیس اور چینی کارکنوں کے جھگڑے کی وجہ مبینہ طور پر چینی کمپنی کی طرف سے پولیس کیمپ کی بجلی پانی بند کرنا اور جواب میں پولیس والوں کا ان کی نقل وحرکت کو محدود کرنا، اس پہ چینیوں کا بھڑک کر لڑنا اور بعد ازاں پٹنا سمجھا جا رہا ہے۔

سبھی نے اس واقعے کی ویڈیو دیکھی اور بارہا دیکھی۔ سب سے تکلیف دہ اور غصہ دلانے والا لمحہ وہ ہے جب پولیس کی گاڑی پہ بنا پاکستانی پرچم چینی کارکن کے جوتے سے نیچا نظر آ رہا ہے۔ ٹھنڈے سے ٹھنڈے دل و دماغ کا انسان بھی اس منظر کو دیکھ کر جذباتی ہو سکتا ہے۔ میں تو یوں بھی پاکستانی جھنڈے اور ترانے کے سلسلے میں بےحد جذباتی مشہور ہوں۔ کہیں ترانہ بجا نہیں اور میرے آنسو بے قابو۔ جھنڈے کا یہ ہے کہ بنے بنائے جھنڈے کی بجائے ہمارے ہاں ہمیشہ گھر کا سلا ہوا پرچم لہرایا گیا۔ اس پرچم پہ چاند تارہ ٹانکنا اتنا آسان نہیں، وہ بھی ایسے کہ تارے کا کوئی کونا بے ڈھب نہ ہو، چاند کی گولائی کہیں بے ڈھنگی نہ ہو اور کہیں سے بھی کوئی پھونسڑا نہ نکلے۔ اس بات کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ مغرب کے بعد کبھی پرچم لہراتا نہ رہ جائے اور یومِ آ زادی گزرنے کے بعد اسے بے حد احترام سے ململ کی تہوں میں لپیٹ کے اگلے سال کے لئے سینت لیا جاتا ہے۔

یہ جھنڈا میرے مرحوم ساس سسر نے عین سرکاری پیمائش پہ تیار کیا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اس ملک کے لیے کی جانے والی جدو جہد میں حصہ لیا، 1945-46 کے انتخابات میں مسلم لیگ کو ووٹ ڈالے اور پھر انسانی تاریخ کی خوفناک ترین اور سب سے بڑی ہجرت کی۔ آج وہ لوگ دنیا میں نہیں اور شاید اچھا ہی ہے کہ ایسے وقت سے پہلے نہ رہے۔ دنیا داری کے، بین الاقوامی تعلقات کے، انسانی اور قومی مصلحتوں کے بہت سے تقاضے ہوتے ہیں، لیکن ہر بار جب اس ملک کی خود مختاری کا مذاق اڑاتے ہوئے، کوئی ڈرون حملہ ہوتا ہے، کسی بھرے شہر میں کسی کو مارنے والا دندناتا ہوا نکل جاتا ہے، کسی ملک کی پراکسی لڑنے کے لیے ایک پوری نسل کو جنگ کا ایندھن بنا دیا جاتا ہے، کسی ملک کے امرا شکار کے بہانے مستاتے پھرتے ہیں، کوئی ‘آپریشن نیپچون سپیئر’ ہوتا ہے، کسی حلیف ملک کے جنگی جہاز بمباری کرتے ہیں اور کسی دوست ملک کا شہری پاکستانی پرچم سے اوپر پاؤں لیے پھنپھناتا ہے تو ساری مصلحتیں، ساری دنیا داری، سب سفارتی عیاریاں اور قومی مفاد کے لیے اختیار کیا گیا تمام تحمل رفو چکر ہو جاتے ہیں اور اس کی جگہ ایک خالصتاً پاکستانی جذباتیت اڑ کے کھڑی ہو جاتی ہے اور چلا چلا کے کہتی ہے، ‘کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے، قومی مفاد ہی نہیں کوئی قومی وقار بھی ہوتا ہے۔‘

آمنہ مفتی
مصنفہ و کالم نگار

بشکریہ بی بی سی اردو

آرمی چیف کی نقیب اللہ محسود کے والد اور بچوں سے ملاقات

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نقیب اللہ محسود کے والد سے ملاقات کر کے ان کے بیٹے کی موت پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین میں نقیب اللہ محسود کے والد سے ملاقات اور مرحوم کے ایصالِ ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی۔ آرمی چیف نے یقین دہانی کرائی کہ فوج آپ کو انصاف دلانے کیلیے ہر ممکن تعاون کرے گی۔ اس موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے مرحوم نقیب اللہ محسود کے بچوں کو پیار بھی کیا۔

چین امریکا کے ساتھ ’تجارتی جنگ‘ میں ہر قیمت ادا کرنے کو تیار

چین کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ ممکنہ تجارتی جنگ میں ’ہر قیمت‘ ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں چینی مصنوعات کی درآمد پر مزید ایک سو بلین ڈالر مالیت کے ٹیکس عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتصادیات سے متعلق ملکی محکمے کو چینی مصنوعات پر درآمدی ٹیکس دوگنا کر کے مزید ایک سو بلین ڈالر تک لے جانے کو کہا ہے۔ قبل ازیں صدر ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر پچاس ارب ڈالر کی برآمدی محصولات عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ چین نے ٹرمپ کے ان اقدامات پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے چین میں درآمد کی جانے والی امریکی مصنوعات پر بھی ’جیسی کرنی ویسی بھرنی‘ کے اصول کے تحت اتنی ہی مالیت کے ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ علاوہ ازیں صدر ٹرمپ کی بے چینی میں مزید اضافہ کرنے کے لیے چین نے یہ معاملہ بین الاقوامی تجارتی ادارے ’ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن‘ میں بھی لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اب امریکی صدر نے درآمدی محصولات ایک سو ارب ڈالر تک لے جانے کا عندیہ دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا، ’’چین کی جانب سے ناجائز جوابی اقدامات کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں نے امریکی تجارتی نمائندہ تنظیم سے درخواست کی ہے کہ وہ چینی مصنوعات پر ایک سو بلین ڈالر مالیت کے اضافی ٹیکس نافذ کرنے کا جائزہ لیں۔‘‘ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ تجارت سے متعلق امریکی ماہرین کے جائزوں کے مطابق چین کو مسلسل امریکی ‘انٹیلکچوئل پراپرٹی‘ کے ناجائز حصول میں ملوث پایا گیا ہے۔

ان نئے ممکنہ امریکی اقدامات کے باعث امریکا اور چین کے مابین تجارتی جنگ میں شدت آتی دکھائی دے رہی ہے۔ چین نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ ممکنہ تجارتی جنگ کی صورت میں ’ہر قیمیت‘ ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ چین کی وزارت تجارت کی طرف سے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر امریکا بین الاقوامی کمیونٹی اور چین کے خلاف یک طرفہ اقدامات لے گا تو بیجنگ حکومت بھی ہر ممکن اقدام کرے گی۔ چینی وزارت کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’چین امریکا کے ساتھ تجارتی جنگ نہیں چاہتا، لیکن ہم پیچھے بھی نہیں ہٹیں گے‘۔

بشکریہ DW اردو

اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود امریکا، افغان فورسز کو باصلاحیت بنانے میں ناکام

امریکی حکام کی جانب سے کانگریس کو پیش کردہ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 16 سال کی سخت محنت اور 70 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود امریکا افغان فورسز کو ’ مکمل باصلاحیت‘ بنانے میں ناکام رہا۔ افغانستان کی بحالی پر مامور امریکا کے خصوصی انسپکٹر جنرل ( سیگار) نے اپنی پیش کردہ رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ افغانستان کی بری فورسز اب فضائی مدد چاہتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ طالبان عسکریت پسندوں کو شکست دینے کے لیے افغان ایئرفورس کے لیے یہ ضروری ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغانستان کے اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے اور ملک میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو دوبارہ بنانے سے روکنے کے لیے افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی فورسز ( اے این ڈی ایس ایف) کو مکمل باصلاحیت بنانا بھی امریکی قومی سلامتی کا مقصد تھا۔ کانگریس کے سامنے پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2002 کے بعد سے اے این ڈی ایس ایف پر امریکی حکومت کے 70 ارب ڈالر کی سیکیورٹی امداد خرچ کرنے، ان کی تربیت، مشاورت اور معاونت کرنے کے باوجود افغان فورسز اپنی ہی قوم کی حفاظت کرنے کے قابل نہیں ہو سکیں۔

اس حوالے سے امریکی محکمہ دفاع کے ایک اور سینئرعہدیدار میرن استرمیکی نے خبردار کیا کہ ’ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دشمن مضبوط ہے بلکہ افغان حکومت بہت کمزور ہے‘۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی اور افغان حکام میں افغانستان میں قومی فوج کی نوعیت اور دائرہ کار پر شروع سے ہی اختلاف تھا اور افغان ایک بڑی فوج چاہتے تھے جو پاکستان کا سامنا کر سکے، تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ افغانستان میں استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ پاکستان نہیں بلکہ گروپوں کی لڑائی ہے۔

بھارت میں نچلی ذات سمجھے جانے والے ہزاروں دلت کیوں سراپاء احتجاج ہیں ؟

بھارت میں نچلی ذات سمجھی جانے والی ’دلت‘ کمیونٹی کے دو سیاسی رہنماؤں کے گھر جلائے جانے کے بعد سیکنڑوں سکیورٹی اہلکاروں نے راجھستان کے ایک ضلع میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی سے موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق بھارت میں سیاحت کے لیے مشہور ریاست راجھستان میں دلت ذات سے تعلق رکھنے والے افراد اور ان کے مخالفین کے درمیان شدید تناؤ کی صورتحال ہے۔ دلتوں کے احتجاج سے ناراض لگ بھگ پانچ ہزار مشتعل افراد نے راجھستان کے ضلع کاراولی میں دلت ذات کے دو سیاست دانوں کے گھروں کو جلا دیا۔ اس وقت دونوں سیاست دان گھر پر موجود نہیں تھے۔

ضلع کے سینئر اہلکار ابھیمانیو کمار نے بتایا، ’’ہم نے کچھ افراد کو تشدد کے جرم میں گرفتار کیا ہے، کرفیو بھی نافذ ہے اور چھ سو سے سات سو سکیورٹی اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔‘‘ اس واقعے سے قبل بھارت کے مختلف شہروں اور اضلاع میں ہزاروں دلت سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جس میں ان کے حقوق سے متعلق قانون کی ایک شق میں تبدیلی کا حکم دیا گیا تھا۔ ان احتجاجی مظاہروں میں لگ بھگ نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ایک وقت تھا جب دلتوں کو ’اچھوت‘ کہا جاتا تھا۔ بھارت کی 1.25 ارب آبادی میں سے لگ بھگ 200 ملین افراد دلت ذات سے تعلق رکھتے ہیں جسے بھارتی معاشرے میں سب سے نچلی ذات تصور کیا جاتا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں حکم دیا تھا کہ دلتوں کو ہراساں یا ان کے ساتھ زیادتی کرنے کے جرم میں فوری گرفتاری کے قانون کو تبدیل کیا جائے گا۔ اب اس نئے حکم کے بعد دلت کمیونٹی کے کسی فرد کی جانب سے شکایت کیے جانے کے بعد سات روز تک تحقیقات کی جائیں گی جس کے بعد ہی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کی ضرورت اس لیے تھی تاکہ اس قانون کا غلط استعمال نہ کیا جائے۔ تاہم دلت رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اب ان کی کمیونٹی زیادہ کمزور ہو جائے گی۔

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے سب سے بڑے ملک بھارت میں اگلے برس پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہو گا اور اس سے قبل مختلف مذاہب اور ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ امتیازی سلوک ایک اہم سیاسی معاملہ بنا ہوا ہے۔ بھارت کی حکمران سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں پر ان مظاہروں کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا ہے۔ بی جے پی حکومت نے سپریم کورٹ میں اس عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کر دی ہے۔

بشکریہ DW اردو

لیکن ہمارا پاکستان تو خاموش ہے

گزشتہ روز سوشل میڈیا کے ذریعے مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی ایک دکھی ماں کا سسکیوں بھرا آڈیو پیغام سننے کو ملا۔ پیغام ریکارڈ کراتے وقت اس ماں کا رونا رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا لیکن اس کے اس پیغام میں ایک گلہ تھا تو ایک امید بھی تھی۔ یہ گلہ اور یہ امید دونوں پاکستان سے متعلق تھے اور یہ پیغام بھی پاکستان ہی کے لیے تھا۔ روتے روتے درد بھری آواز میں مقبوضہ کشمیر کی یہ ماں کہنے لگی کہ پاکستان میں بسنے والوں کو یہ کہہ دیجیے کہ پورا مقبوضہ کشمیر لہو لہان ہے، یہاں اس وقت بھی جہاں ایک طرف لوگ لاشیں گن رہے ہیں وہیں پاکستان کے ترانے بج رہے ہیں، مسجدوں کے لائوڈ اسپیکر سے پاکستان زندہ باد کے نعرہ لگائے جا رہے ہیں.

اس لیے کم از کم اُن (پاکستان اور پاکستانیوں) سے کہہ دیجیے کہ کچھ نہیں تو پاکستان میں یوم سیاہ کا اعلان ہی کر دیں، صرف ایک دن کا یوم سیاہ، اپنے کشمیری مسلمانوں کے لیے، مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر صرف ایک دن کا یوم سیاہ منا لیں، کب تک مریں گے لوگ یہاں، اس لیے آپ یہ پیغام پہنچا دیں جہاں جہاں تک پہنچا سکتے ہیں، اور انہیں (پاکستانیوں
کو) کہہ دیجیے کہ کشمیر کے لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں، آپ کو پتا ہے کہ یہاں (مقبوضہ کشمیر میں) کون سے ترانے گونج رہے ہیں، اس پرچم (پاکستانی پرچم) کے سائے تلے اب آنا ہے اور اپنے پاکستان کو بچانا ہے.

لیکن ہمارا پاکستان تو خاموش ہے۔ جس درد اور دکھ کے ساتھ اس کشمیری ماں نے پاکستان کے لیے یہ آڈیو پیغام بھیجا ہے اُسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے۔ دہائیاں گزر گئیں لیکن کشمیر پر بھارتی مظالم نہ رکنے کا نام لے رہے ہیں اور نہ ہی ان کشمیریوں کو بھارتی تسلط سے آزادی نصیب ہو رہی ہے۔ بلکہ ظلم ہے کہ روز بروز بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ کشمیریوں پر ان مظالم کے خلاف اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی نہ رکنے والی ریاستی دہشتگردی کے جواب میں پاکستان میں روایتی طور پر مذمتی بیان جاری کر دیے جاتے ہیں اور اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ چند روز قبل بیس کے قریب کشمیری نوجوانوں کی شہادت کے نتیجے میں پاکستان میں ماضی کی طرح ایک بار پھر مذمتی بیانوں کی روایت کو دہرایا جا رہا ہے۔

آئندہ جمعہ کے دن کو کشمیریوں کے ساتھ یوم یکجہتی کے طور پر منانے کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ یوم یکجہتی کیسے منایا جائے گا اس کی کوئی تفصیل ہمیں معلوم نہیں۔ کیا ہمارے ملک کے تمام سیاسی رہنما ایک پلیٹ فارم پر مل کر کشمیریوں کے حقوق کے لیے ملین مارچ کر سکتے ہیں؟ کیا پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت، وزارت خارجہ اور خارجہ امور کے ماہرین سر جوڑ کر بیٹھ کر پاکستان کے روایتی ردعمل سے بڑھ کر کشمیرکے مسئلہ کے حل کے لیے کوئی حکمت عملی بنا سکتے ہیں جس سے دہائیوں کی غم بھری اس کہانی کا خاتمہ ہو سکے؟ صرف یوم سیاہ یا یوم یکجہتی کشمیر منانے سے یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ پاکستان اگر تنہا اس مسئلہ پر بات کرے گا تو اس کی بات بھی سنی ان سنی کی جاتی رہے گی۔

اقوام متحدہ تو امریکا کی لونڈی ہے اور امریکا کو بھارت اپنے مفاد کے لیے انتہائی عزیز ہے اس لیے بھول جائیں کہ امریکا اور اقوام متحدہ کشمیر کے لیے کچھ کریں گے۔ پاکستان کو پاکستان کے طور پر نہیں بلکہ اسلامی امہ کا اہم رکن کے طور پر کشمیر سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے حکمت عملی طے کرنی ہو گی۔ اگر ایسا نہیں ہو گا تو پھر بھول جائیں کہ پاکستان کی کوئی سنے گا یا اقوام متحدہ کی کشمیر کے متعلق قراردادوں پر کبھی عمل ہو گا۔ ایک اسلامی ملک ہونے کی حیثیت سے کشمیر، فلسطین سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے دکھ اور درد کا مداوا کرنے کے لیے پاکستان کو مسلم امہ کے ضمیر کو جھنجوڑنا ہو گا۔ ایک طرف کشمیر میں بھارتی مظالم رکنے کا نام نہیں لیتے تو دوسری طرف اسرائیل بلا روک ٹوک بے شرمی اور ڈھٹائی سے فلسطینیوں کے قتل عام میں آگے سے آگے بڑھتا جا رہا ہے۔

مسلمانوں پر یہ ظلم صرف کشمیر یا فلسطین تک محدود نہیں بلکہ اسے ہر طرف پھیلایا جا رہا ہے۔ عراق، افغانستان میں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کرنے کے بعد بھی ابھی اسلام دشمنی کی آگ نہیں بجھ رہی۔ چند روز قبل ہی افغانستان کے علاقہ قندوز میں ایک مدرسے پر امریکی و نیٹو افواج کی طرف سے میزائل حملہ کر کے ایک سو سے زیادہ معصوم بچوں کو شہید کر دیا گیا جن کی تصویریں سوشل میڈیا میں دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اس ظلم کے خلاف تو روایتی مذمتی بیان بھی پڑھنے کو نہیں ملے۔ پاکستان کے ذمہ دار خود جانتے ہیں کہ یہاں کیسے دہشتگردی کو ہوا دی گئی، کیسے پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں.

کون کون پاکستان کو کمزور کرنے کا کھیل کھیل رہا ہے۔ یہی کھیل سعودی عرب کے خلاف کھیلے جا رہے ہیں، اسی طرح لیبیا، شام، عراق، یمن میں آگ و خون کے دریا بہائے گئے، برما میں روہنگیا مسلمانوں کو چن چن کر مارا جا رہا ہے، اُن کے گھروں کو آگ لگائی جا رہی ہے، خواتین کی بیحرمتی کی جا رہی ہے ، یورپ اور امریکا میں مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑایا جا رہا ہے اور یہ سبق پڑھایا جا رہا ہے کہ ہم مسلمان امہ کی بجائے وطنیت کی بنیاد پر اپنی اپنی قوم پرستی کو پوجتے رہیں ۔ مسلمانوں پر دنیا بھر میں ہونے والے مظالم کو روکنا ہے تو ہمیں مسلمان بن کر سوچنا ہو گا اور اس میں پاکستان کو پہل کرنی چاہیے۔

انصار عباسی

ایک فون آتا ہے اور چینل بند ہو جاتے ہیں

پاکستان میں جنگ گروپ کا ٹی وی چینل جیو نیوز حکومت کے اعلان کے باوجود مختلف شہروں میں کیبل پر بحال نہیں کیا جا سکا۔ یہ چینل ماضی میں بھی کئی بار بند کیا جا چکا ہے۔ جیو کی انتظامیہ اور کارکن ہر بار شديد احتجاج کرتے رہے ہیں لیکن ماضی کے برعکس چینل کی انتظامیہ خاموش ہے۔ گزشتہ روز الیکٹرونک میڈیا کی ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا نے کہا تھا کہ چینل بند کرنے والے کیبل آپریٹرز کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ دو کیبل آپریٹرز کو نوٹس بھی جاری کیے گئے تھے۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اور وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے اعلان کیا کہ حکومت چینل بحال کروا ئے گی۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ چینل بند کروانے والے ان سے زیادہ بااختیار ہیں۔

پاکستان میں صحافیوں کی ملک گیر تنظیم پی ایف یو جے کے سابق صدر مظہر عباس نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے کوئی غلط کام کیا ہے تو قانونی طریقے موجود ہیں جنہیں استعمال کر کے چینل پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ پیمرا کا ایک طریقہ کار ہے جس پر عمل ہونا چاہیے۔ کیبل آپریٹرز کے پاس یہ اختیار نہیں کہ کسی چینل کو بند کر دیں یا آخری نمبر وں پر پھینک دیں۔ نامعلوم وجوہ کی بنا پر چینل کی بندش آزادی صحافت کے لیے بہت بڑا سوال ہے۔ کیا ریاست کے اندر ریاست قائم ہے؟

کیبل آپریٹرز ایسوی ایشن کے عہدے دار تسلیم کرتے ہیں کہ جیونیوز کسی کے کہنے پر بند کیا گیا ہے۔ لیکن وہ بے بس ہیں اور یہ تک نہیں بتا سکتے کہ چینل کس کے کہنے پر آف ایئر کیا گیا ہے۔ صحافیوں کی تنظیم سیفما کے عہدے دار امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ جیو نیوز کی نشریات روکنے کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری تھا۔ چینل کی انتظامیہ معاملات ٹھیک کرنے کے لیے ملٹری اتھارٹیز سے مذاكرات کر رہی تھی لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ بات چیت ناکام ہو گئی ہے۔ ڈان نیوز کے سینیر صحافی مبشر زیدی کہتے ہیں کہ ایک فون کال آتی ہے اور چینل بند ہو جاتے ہیں۔ سب لوگ جانتے ہیں کہ چینل کس نے بند کرائے ہیں۔

’جیو بہت عرصے سے یک رخی کوریج کر رہا تھا لیکن دوسری جانب ایسے چینل بھی ہیں جو خادم حسین رضوی کے ساتھ دھرنا دینے والوں کو کھانا بھجوا رہے تھے۔ ایک چینل اور ہے، وہ بھی یک رخی کوریج کر رہا ہے لیکن چونکہ وہ ڈیپ اسٹیٹ کے مفاد میں ہے اس لیے اس کی نشریات جاری ہیں‘۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آزادی صحافت کو اسی طرح پابند کیا جاتا رہا تو جیونیوز کے بعد دوسرے چینلوں کی باری بھی آ سکتی ہے اور چند ماہ بعد ہونے والے عام انتخابات کی شفاف کوریج پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

بند فیس بک ایپ بھی کان رکھتی ہے، اپنے رازوں سے دور ہی رکھیں

بلاشبہ سوشل میڈیا نے دنیا کو گلوبل ویلیج کی صُورت دے دی ہے، کیوں کہ اِس نے ایک دوسرے سے ہزاروں میل دُور بسنے والوں کو آمنے سامنے بٹھا دیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے جہاں ہمیں بہت سی سماجی، تعلیمی اور معاشی سہولتیں فراہم کی ہیں‘ وہیں اُس کے کچھ نقصانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ فیس بُک ہی کو دیکھ لیجیے، اس نے ایک’’ عالمی برادری‘‘ تو تشکیل دی، جس کے ذریعے ہم بہت سے فوائد سمیٹ رہے ہیں، لیکن اس کے نقصانات بھی کچھ کم نہیں۔ سب سے خطرناک بات جو سامنے آئی کہ فیس بُک سے لوگوں کی پرائیویسی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔

آئی ٹی ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ’’ فیس بُک انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک ایسی کوئی سہولت فراہم نہیں کی گئی، جس سے لوگوں کی نجی زندگی مکمل طور پر محفوظ ہو۔ اگر ہم پرائیویسی سے متعلق فیچر بند کریں، تو فیس بُک اکائونٹ ہی بند ہو جاتا ہے۔‘‘ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ایک بار فیس بُک ایپلی کیشن ڈائون لوڈ کرنے کے بعد، فیس بُک انتظامیہ ہر نوعیت کی بات چیت ریکارڈ کر سکتی ہے اور یوں اسے اہم مُلکی رازوں تک رسائی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ فیس بُک کے اس آپشن کے ذریعے جرائم ،خاص طور پر دہشت گردی کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، مگر اس سب کچھ کے باوجود، حقیقت یہی ہے کہ فیس بُک نے انسان کی پرائیویسی کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
ماہرین کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ اگر آپ کا فیس بُک اکائونٹ لاگ اِن نہ ہو، تب بھی یہ ریکارڈنگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، کیوں کہ آپ کے موبائل فون میں فیس بُک کی ایپلی کیشن تو ڈائون لوڈ ہے اور اس ڈائون لوڈنگ کے لیے آپ نے جن قواعد و ضوابط کو قبول کیا تھا، اُن میں گفتگو ریکارڈ کرنے کی اجازت بھی شامل تھی۔ سو، فیس بُک انتظامیہ جب چاہے، آپ کی باتیں سُن سکتی ہے اور اُسے ایسا کرنے کی اجازت آپ نے خود دی ہے، لہٰذا آپ اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی بھی نہیں کر سکتے۔ بس یہی ہو سکتا ہے کہ جب تک گفتگو کی ریکارڈنگ کا کوئی توڑ سامنے نہ آئے، آپ فیس بُک کے استعمال میں احتیاط کریں اور اپنے’’ رازوں‘‘ کو اس سے دُور ہی رکھیں۔

حنا شہزادی