نسلی امتیاز کی امریکی ’’فالٹ لائن‘‘ اور ہم پاکستانی؟

امریکی ریاست سائوتھ کیرولینا میں نسلی برتری یعنی ’’وہائٹ سپرمسٹ‘‘ کے حامی ایک 21سالہ گورے نوجوان نے اپنے والد سے سالگرہ کے تحفہ میں ملنے والی گن کا استعمال کرتے ہوئے ایک سیاہ فام امریکیوں کے تاریخی چرچ میں داخل ہو کر وہاں بائبل اسٹڈی میں مصروف پادری اور 8 سیاہ فام شرکاء کو قتل کردیا۔ اس المناک واقعہ نے نہ صرف امریکی معاشرے کی نسلی تاریخ اور نسلی تعلقات کے تلخ حقائق یعنی ’’فالٹ لائن‘‘ کو ایک بار پھر سامنے لا رکھا ہے بلکہ آج کے ترقی یافتہ جمہوری امریکہ کی انتخابی سیاست کے بڑے بڑے برج الٹائے جانے کا ماحول پیدا کردیا ہے۔
 اس ریاست میں ری پبلکن پارٹی کا زور ہے گوروں کی آبادی اس وقت 66 فی صد اور سیاہ فاموں کی 27 فی صد بتائی جاتی ہے ۔کالوں پر ظلم و زیادتی ، سول وار ، نسلی امتیاز کا ایک طویل ریکارڈ سائوتھ کیرولینا کی تاریخ اور تحریک کا حصہ ہے یہ ان ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں آج بھی امریکہ کے قومی پرچم اور ریاستی پرچم کے ساتھ ساتھ ’’کنفیڈریٹ فلیگ‘‘ بھی لہرایا جاتا ہے جسے سیاہ فام امریکی نسلی امتیاز یا سیاہ فاموں پر ظلم کی یادگار سمجھ کر اس پرچم کو ہٹانے کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ متعدد ری پبلکن پارٹی کے سیاستدان اور امیدوار اس پرچم کو تاریخی ورثہ قرار دے کر اسے لہرانے کے حمایتی رہے ہیں۔
امریکی سیاستدان چاہے وہ شہری حکومت کی کسی نشست کا امیدوار ہو یا امریکی صدارت ہو جس نے اس ’’کنفیڈریٹ فلیگ‘‘ کو نسلی امتیاز اور ناانصافی کی علامت قرار دیکر اسے ہٹانے کا مطالبہ کیا اسے سائوتھ کیرولینا اور اس پرچم کو استعمال کرنے والی امریکی ریاستوں میں سیاسی، انتخابی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ آج بھی بہت سے ری پبلکن پارٹی کے ممتاز سیاستدان قتل کے اس واقعہ اور ’’کنفیڈریٹ فلیگ‘‘ کے معاملے سے دوری رکھ رہے ہیں۔

موجودہ گورنر سائوتھ کیرولینانکی سیلی ایک بھارتی امیگرنٹ سکھ خاندان کی بیٹی ہے مگر ری پبلکن سیاست کے تقاضے ہیں کہ وہ نسلی امتیاز کی علامت جھنڈے کو ’’تاریخی ورثہ‘‘ قرار دے کر ’’کنفیڈریٹ فلیگ ‘‘ کو نسلی نفرت کی بنیاد پر سوچے سمجھے 9 سیاہ فام شہریوں کے قتل کے بعد بھی وہ اس متنازع پرچم کو لہرانے پر مصر ہیں کہ ریاستی اسمبلی اس کا فیصلہ کرے۔ اسی ریاست سے صدارتی امیدوار لنڈسی گراہم سینیٹر ہیں اور وہ بھی خاتون گورنر کی طرح شدید دبائو میں ہیں۔ ریاست لوزیانا کے گورنر بھارتی نژاد بوبی جندل بھی ری پبلکن ہیں وہ بھی یہی موقف اپنا کر سیاست میں اپنی ترقی اور بقا کیلئے کوشاں ہیں۔

ان تمام اصحاب سے تین سال قبل فلوریڈا میں ری پبلکن پارٹی کے کنونشن میں ملاقاتوں تبادلہ خیال اور انٹرویوز کا موقع بھی ملا۔ آج یہ سب اپنی سیاسی بقاء کی جنگ میں مصروف نظر آتے ہیں جبکہ ڈیموکریٹ امیدوار ہیلری کلنٹن اور صدر اوباما کے اس واقعہ کے بارے میں بیانات زمینی حقائق کی عکاسی کررہے ہیں کیونکہ سائوتھ کیرولینا اور دیگر ’’کنفیڈریٹ فلیگ‘‘ والی ریاستوں میں ان کے ووٹوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ اقلیتی ووٹرز اور سیاہ فام امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے واضح اکثریت میں حامی ہیں اور وہ زیادہ منظم ہوکر اس کے امیدوار کو ہی ووٹ ڈالیں گے۔
 ہر رنگ و نسل کے انسانوں کیلئے یکساں احترام و حقوق کی تبلیغ و حمایت کے باوجود امریکہ کی داخلی سیاست اور معاشرے کی ایک تلخ حقیقت کالے اور گوری نسل کے مابین تعلقات ہیں جن کو نوجوان گورے ڈیلان روف کی بندوق سے 9 سیاہ فام انسانوں کے قتل کے واقعہ نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے امریکی معاشرے کی ’’فالٹ لائن‘‘ کے طور پر واضح کردیا ہے۔
جب مفرور قاتل کو گرفتار کرکے واپس سائوتھ کیرولینا کے ایک گورے مجسٹریٹ کی عدالت کے سامنے لایا گیا تو معمول کی کارروائی کے اختیارات رکھنے والے مجسٹریٹ نے واضح طور پر اپنی جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاہ فام مقتولین کے نام لینے اور ان کے لواحقین کے غم کو نظرانداز کرکے یہ کہا کہ ان 9 مقتولین کے علاوہ اس نوجوان (قاتل) کے لواحقین بھی مظلوم ہیں جو اس صورتحال سے دوچار ہیں۔ اب تو انٹرنیٹ کے ریکارڈ نے قاتل کی نسل پرستی اور ’’وہائٹ سپرمیسی‘‘ کی تحریک سے والہانہ وابستگی اور ویب سائٹ کا وجود بھی ثابت کردیا۔
مگر جج نے ماضی میں بھی اعلیٰ عدالت کی جانب سے ایسے ہی ریمارکس پر سرزنش کے ریکارڈ کے باوجود اپنے یہ ریمارکس واپس نہیں لئے چونکہ نسلی امتیاز اور منافرت کے خلاف اس ریاست میں کوئی قانون ہی نہیں لہٰذا قاتل پر9 انسانوں کے قتل کے الزامات ہیں جسے بعض لیڈر اور قاتل کے حامی مذہبی عبادت گاہ میں طیش میں آئے ہوئے نوجوان کا فعل قرار دے کر معاف کردینے کے عیسائی اخلاقی اصول کی تلقین کررہے ہیں بلکہ گوری نسل کے ایک ممتاز رہنما چارلس کاٹن کا تو موقف یہ ہے کہ 9افراد کے قتل کا ذمہ دار وہ سیاہ فام پادری خود ہے جس نے نہ تو خود اور نہ ہی اپنے سیاہ فام پیروکاروں کو اسلحہ رکھنے کیلئے کہا لہٰذا وہ ایک مسلح گورے نوجوان کے ہاتھوں قتل ہوگئے۔ ان صاحب کا تعلق گن کنٹرول کے خلاف متحرک تنظیم نیشنل رائفل ایسوسی ایشن سے ہے اور یہ نسل امتیاز کے حامی بھی ہیں۔ امریکی ایف بی آئی کے سابق اہلکار جو ناتھن گیلیام کے مطابق امریکہ میں 780 نسل پرست گروپ سرگرم ہیں۔
ہمارے ہاں اور مسلم دنیا میں بھی مذہبی و نسلی منافرت و امتیاز کی ایسی ہی ’’فالٹ لائنیں‘‘ تعمیر کرنے کا کام جاری ہے اور ہم مستقبل اور حقائق سے بے نیاز ہوکر ایسی ’’فالٹ لائنوں‘‘ کی تعمیر و استحکام میں لگے ہوئے ہیں۔ نوجوان گورے قاتلکی امریکی جھنڈے کو آگ لگانے ، کنفیڈریٹ فلیگ کو بلند کرنے رہوڈیشیا اور جنوبی افریقہ کے نسلی امتیاز والے پرچموں والی جیکٹ پہنے متعدد تصاویر سامنے آگئی ہیں مگر سائوتھ کیرولینا میں بہت سے بااثر لوگ اس کی مذمت کی بجائے ان ڈائریکٹ طور پر حمایت کررہے ہیں ۔ مذکورہ افسوسناک صورتحال اور نسلی منافرت کی امریکی تاریخ کے باوجود اس کا روشن پہلو یہ ہے کہ آج کے اس امریکی معاشرہ میں سچ بولنے اور سننے والے امریکی بھی موجود ہیں جو اصول و حقائق کو کسی خوف وخطر کے بغیر بیان کردیتے ہیں اور آگے بڑھ کر عملی قدم بھی اٹھاتے ہیں۔ صدر اوباما اور ہلیری کلنٹن کا موقف تو دنیا کے سامنے آچکا۔ نیویارک سٹی کےمیئر دی بلازیو نے اسے ’’داخلی دہشت گردی کا فعل‘‘ قرار دیا ہے۔
پاکستان کی طرح سخت گرمی کے باعث قتل کی ٹریجڈی کے موقع واردات یعنی سیاہ فاموں کے تاریخی چرچ میں کاغذ کے پنکھے ہاتھوں میں ہلاتے سیاہ فام امریکیوں کے ساتھ گوری نسل کے باشعور جوڑوں کو بھی ہاتھ پکڑ کر بیٹھے دعا کرتے ہوئے دنیا نے ٹی وی پر دیکھا ہے۔ آج جہاں امریکہ میں اس قاتل کے حمایتی بھی ہیں تو امریکہ کی مضبوط جمہوری قوتیں اس کی مذمت بھی کررہی ہیں ۔ اس مسئلہ کو بڑھانے کی بجائے روک تھام اور حل کرنا چاہتی ہیں۔ ہلیری کلنٹن کے بیان کا مختصر ذکر ضروری ہے کہ اس سے امریکی معاشرے کے تلخ حقائق کی تصدیق بھی ہوتی ہے اور ہمیں امریکی معاشرے کی مضبوطی کا پہلو دیکھنے میں مدد ملتی ہے۔ ہلیری کا بیان یوں ہے ’’ ہم ایک بار پھر سیاہ فام امریکیوں کے چرچ سے لاشیں اٹھا رہے ہیں… ایک بار پھر نسلی امتیاز کے حامیوں نے اسے نسلی تشدد میں تبدیل کردیا ہے۔
یہ ہماری وہ تاریخ ہے جو ہم پیچھے چھوڑ کر آگے جانا چاہتے تھے مگر ہم امریکہ میں انقلاب اور نسل کے بارےمیں حقائق کو نہیں چھپاسکتے ہمیں اس کی ذمہ داری لیکر اسے تبدیل کرنا ہوگا۔ آج بھی کالے امریکیوں کے مقابلے میں گورے امریکیوں کو مکانات کیلئے قرضے تین گنا زیادہ ملتے ہیں۔ آج بھی ہمارے اسکول 1960ء کے مقابلے میں کہیں زیادہ نسلی امتیاز کا شکار ہیں اور آج بھی ایک گورے بچے کے مقابلے میں 500 سیاہ فام بچوں کی سانس کی بیماری سے موت کی تلخ حقیقت موجود ہے۔ بطور قوم ہمیں اس حقیقت پر نظر ڈالنا چاہئے۔‘‘ ہلیری کلنٹن ، باراک اوباما اس انداز فکر میں اکیلے نہیں بلکہ ان امریکی ریاستوں میں مضبوط اور حکمراں ری پبلکن پارٹی کے سابق صدارتی امیدوار مٹ رومنی ، ریاست اوہائیو کے گورنر جان رسک سمیت کئی درجن نمایاں لیڈر بھی نسلی امتیاز کی علامت ’’کنفیڈریٹ فلیگ‘‘ کو ہٹانے اور نسلی مساوات کیلئے آواز اٹھا کر نقصان اٹھا چکے ہیں مگر اپنا موقف رکھتے ہیں۔
عوامی اور معاشرتی دبائو کے ہاتھوں مجبور ہوکر سائوتھ کیرولینا کے سینیٹر اور صدارتی امیدوار لنڈسی گراہم اور گورنر خاتون نکی سیلی بھی اپنا سخت موقف تبدیل کرنے پر تیار نظر آتے ہیں وہ بھی ’’کنفیڈریٹ فلیگ‘‘ ہٹانے پر مائل ہیں۔ دیکھیں عوام اور ان کے دانشور ، سیاستدان اور مفکرین نے مل کر آواز اٹھائی ہے تو نسلی امتیاز کی امریکی ’’فالٹ لائن‘‘ کو پر کرنے کی سمت میں پیش رفت نظر آنے لگی ہے۔ کیا ہم اپنے معاشرے میں نفرت اور تقسیم کی ’’فالٹ لائنز‘‘ کو اپنے چھوٹے مقاصد کی خاطر مزید تعمیر و توسیع کے کام میں مددگار بنے رہیں گے یا ہم نے موجودہ ’’فالٹ لائنز‘‘ کو پر کرنے اور ہم آہنگی پیدا کرنے میں اپنا رول ادا کرنا ہے
عظیم ایم میاں
بہ شکریہ روزنامہ جنگ

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s