زمین کے بے زمین – وسعت اللہ خان

اسلام آباد کے سیکٹر آئی الیون میں لگ بھگ تیس برس سے آباد ’’غیر قانونی‘‘ کچی بستی کی مسماری اور مکینوں کی پولیس اور سی ڈے اے اہل کاروں سے دھینگا مشتی کے مناظر دیکھ کر مجھے ایک بار پھر غلام عباس کا شہرہِ آفاق افسانہ ’’آنندی‘‘ یاد آ گیا۔
جب میونسپل کمیٹی شہر کو اخلاقی آلودگی سے پاک کرنے کے لیے طوائفوں کو شہر سے پرے پھینک دیتی ہے اور کچھ ہی برس میں اس نئی جگہ پر ہیرا منڈی کے ارد گرد ایک اور شہر آباد ہوجاتا ہے اور پھر وہاں کی میونسپل کمیٹی بھی سر جوڑ کے بیٹھتی ہے کہ اب ان طوائفوں کو کہاں پھینکا جائے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں جب ریاست اپنے شہریوں کو سر چھپانے کی جگہ فراہم کرنے کے بنیادی فرض کی ادائیگی میں ناکام ہو جاتی ہے تو پھر وہ مسئلے کو سینگوں سے پکڑنے کے بجائے اس کے شکم سے جنم لینے والی کچی بستیوں کا علاج بذریعہ بلڈوزر کرتی ہے۔
پھر بس اتنا ہوتا ہے کہ نااہلی کے جسم پر بے گھری کا پھوڑا ایک سے دوسری جگہ منتقل ہو جاتا ہے اور کروڑوں انسانوں کی مستقل بے گھری ریاستی بے حسی کے سمندر پر پھولی لاش کی طرح تیرتی پھرتی ہے۔ جسے آپ نہ ڈبو سکتے ہیں نہ دفن کر سکتے ہیں۔ بس تعفن سے بچنے کے لیے دور ہٹا سکتے ہیں مگر یہ ڈھیٹ لاش پھر ساحل پر آ جاتی ہے۔
کیا وجہ ہے کہ ساڑھے تین لاکھ مربع میل پر پھیلی زمین پر کہنے کو اٹھارہ کروڑ لوگ رہتے ہیں مگر آدھوں سے بھی کم کے سر پر قانونی چھت ہے؟
اسٹیٹ بینک کی تازہ ترین سہ ماہی ہاؤسنگ فنانس رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں نوے لاکھ مکانات کی قلت ہے اور ہر سال اس قلت میں ساڑھے تین لاکھ مکانات کا اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ( لیکن جو حشر صحت، تعلیم اور روزگار کے بنیادی حق کا ہو رہا ہے اس سے زیادہ خراب حشر چھت کی فراہمی کے حق کا ہے)۔ رپورٹ کے مطابق قانونی طریقے سے صرف دو فیصد اور غیر قانونی طریقوں سے صرف دس تا بارہ فیصد بے گھروں کی رہائشی ضروریات ہی پوری ہو پا رہی ہیں۔
اگر نا اہلی اور منصوبہ بندی و حکمتِ عملی کا فقدان دیکھنا ہو تو سب سے بڑا شہر کراچی ایک ’’روشن مثال‘‘ہے۔ شہری منصوبہ بندی کے سرکردہ ماہر عارف حسن لکھتے ہیں کہ اس وقت کراچی کی باسٹھ فیصد آبادی (تیرہ ملین) شہر کی تئیس فیصد رہائشی زمین پر غیر رسمی، غیر منصوبہ بند بستیوں میں رہ رہی ہے۔ گویا فی کمرہ چھ سے دس لوگ اور فی ٹائلٹ بیس لوگ۔ دوسری جانب شہر کی بہتر فیصد رہائشی زمین پر قائم قانونی، منصوبہ بند بستیوں میں چھتیس فیصد آبادی (ساڑھے سات ملین لوگ) رہتی ہے۔
مضمون کے مطابق جس شہر میں باسٹھ فیصد آبادی صرف تئیس فیصد رہائشی علاقے کی غیر منصوبہ بند بستیوں میں رہ رہی ہے اسی شہرِ کراچی میں دو لاکھ سے زائد رہائشی پلاٹ اور باسٹھ ہزار اپارٹمنٹ خالی پڑے ہیں۔ پھر بھی چوبیس ہزار ہیکٹر سے زائد نئے رقبے پر نجی تعمیراتی کمپنیاں نئے رہائشی یونٹ اور پلاٹ ڈویلپ کر رہی ہیں جنھیں صرف مڈل کلاس ہی خریدنے کی سکت رکھتی ہے۔
لوئر مڈل کلاس اور مزدور طبقہ یا تو خواب میں گھر بنا سکتا ہے یا پھر چائنا کٹنگ (فلاحی پلاٹوں پر غیر قانونی تعمیرات) کے موجدوں یا کسی ڈنڈا بردار دادا، واجا، خانصاحب کے در پر دستک دینے پر مجبور ہے جو سرکاری زمین پر ان بے زمینوں کو یہ یقین دلا کر بٹھا دیتا ہے کہ میرے ہوتے نہ تو کوئی پولیس والا تمہیں تنگ کرے گا، نہ گیس کنکشن کاٹنے کوئی گاڑی آئے گی اور نہ بجلی کا بل آئے گا۔ یوں ڈھائی تین لاکھ روپے میں اس غریب کو ایک یا دو کمروں کی جگہ مل جاتی ہے۔
ٹیڑھی میڑھی کچی گلیاں ابھرنے لگتی ہیں۔ اور سرکاری اہلکاروں اور نجی لینڈ مافیا کی ملی بھگت اور منافع میں حصہ داری بستی کو جاری و ساری رکھتی ہے اور پھر اگلے الیکشن میں اپنے ووٹ بڑھانے کے خواہش مند ان بستیوں کو ’’لیگل‘‘ کروا دیتے ہیں۔
جو بستیاں کرپشن کی تکون میں دراڑ پڑنے کے سبب لیگل نہیں ہو سکتیں یا اپنے سرپرست سے محروم ہو جاتی ہیں انھیں بلڈوزر کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ تا کہ یہ بھی دکھایا جا سکے کہ حکومت ’’جرائم‘‘ کے ان اڈوں کو ختم کرنے کے لیے کس قدر سنجیدہ ہے۔ یہ بے گھر کچھ دن چیخ و پکار کرتے ہیں اور پھر کسی دادا کی سرپرستی میں پھر کسی سرکاری و نجی زمین پر تب تک کے لیے نئی زندگی شروع کر دیتے ہیں جب تک کرپشن کی نئی تکون برقرار رہے۔
بہت سال پہلے ہر صوبائی دارلحکومت میں کچھ خود مختار ادارے زندہ تھے جو ٹاؤن پلاننگ بھی کرتے تھے اور مستقبل کی ضروریات کے مدِ نظر نئی رہائشی اسکیمیں صوبے کی سطح پر ڈویلپ کرتے تھے۔ پھر سیاسی و غیر سیاسی حکومتوں نے اس بنیادی حق کو احسان کی گیٹگری میں رکھ دیا اور اپنی سیاسی مقبولیت کے لیے دو مرلہ، پانچ مرلہ، کم آمدنی پلاٹ اسکیم، آشیانہ، شامیانہ، عامیانہ، غرض بھانت بھانت کے ناموں سے رہائشی اسکیموں کا اعلان شروع کر دیا۔ کچھ مکمل ہو گئیں، کچھ نامکمل رہیں، کچھ کاغذ پر رہ گئیں اور کچھ اگلی حکومت نے فضول قرار دے کر منسوخ کر کے ان کی لاش پر اسی طرح کی نئی اسکیمیں چالو کر دیں۔
اس شعبدے بازی کا غریبوں کو تو خیر کیا فائدہ ہوتا۔ اسٹیٹ ایجنٹوں اور صاحبانِ زر کی چاندی ہو گئی جنہوں نے سیکڑوں پلاٹ مختلف ناموں سے خریدے، ذخیرہ اندوزی کی اور پھر مہنگے داموں بیچا۔ یوں اوپن فائل اور سٹہ کلچر وجود میں آ گیا۔ یعنی جو پلاٹ دراصل کسی غریب کو ایک ڈیڑھ لاکھ میں ملنا تھا وہ کئی ہاتھوں سے ہوتا ہواتا دس بارہ پندرہ بیس لاکھ روپے پھاند گیا۔
 اور جن غریبوں کو پلاٹ مل جاتے ہیں ان میں سے بھی بہت سے اتنے سیانے نکلتے ہیں کہ اپنا رعایتی قیمت کا پلاٹ منافع پر بیچ کر پھر اسی جگہ آن بیٹھتے ہیں کہ جس سے جان چھڑوانے کے لیے قانونی منصوبہ بند رہائشی اسکیمیں شروع کی گئی تھیں۔
اور پھر بے گھروں کے نام پر یہ فراڈ بھی شروع ہو گیا کہ جیسے ہی بااثر لوگوں کو ٹاؤن پلاننگ اداروں کے اندر بیٹھے گرگوں سے معلوم ہوتا کہ فلاں علاقے میں رہائشی اسکیم بننے جا رہی ہے تو وہاں راتوں رات بیسیوں جھونپڑیاں اور کچے مکانات وجود میں آ جاتے تا کہ اسکیم کا اعلان ہو تو ان ’’پروفیشنل مظلوموں‘‘ سے علاقہ خالی کرنے کے عوض کچھ نہ کچھ ’’معاوضہ‘‘ یا متبادل پلاٹ مل جائے۔
ہاں ٹاؤن پلاننگ کے سرکاری ادارے اب بھی ہیں لیکن اب انھوں نے اپنا زیادہ تر کام نجی ہاؤسنگ اسکیموں اور کمپنیوں کو سونپ دیا ہے، یا پھر وہ انھی پرچیوں پر سرکاری ریٹ پر الاٹمنٹ کرتے ہیں جو پرچی کوئی سرکاری طاقتور کسی نجی طاقتور کی خوشنودی کے لیے جاری کرتا ہے۔
یا پھر یہ ادارے لینڈ مافیا کی انیکسی بن چکے ہیں۔ یعنی لینڈ مافیا سے ہاتھ ملا کر وہ ایسی اراضی ڈھونڈ نکالتے ہیں جہاں پر لوگ سو سو برس سے آباد ہیں مگر ان کے پاس دستاویزات نہیں۔ چنانچہ ان کا تاریخی قبضے کا دعوی کوئی نہیں مانتا اور انھیں اکھاڑ کر ان کی زمین انھی کی آنکھوں کے سامنے اونے پونے داموں ریاستی رٹ سے بھی بڑے تعمیراتی جنات کو الاٹ کر دی جاتی ہے۔ یوں بے گھروں کی ایک نئی تعداد ریاستی کرپشن کی مہربانی سے پہلے سے موجود لاکھوں بے خانماؤں کی فوج کا حصہ بن کر پھر کوئی ’’غیر قانونی‘‘ بستی آباد کر لیتی ہے۔ آپ چاہیں تو انھیں ’’مقامی فلسطینی‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔
کسی کو یاد ہے کہ کراچی میں کے ڈی اے، لاہور میں ایل ڈی اے، پشاور میں پی ڈی اے اور اسلام آباد میں سی ڈی اے جیسے اداروں نے بے چھت غریبوں کے لیے کب آخری بار باضابطہ رہائشی اسکیم کا اعلان کیا تھا جو کامیابی سے آباد بھی ہو گئی ہو۔
اب تو مجھ جیسوں کو یوں لگتا ہے کہ پاکستان دراصل ساڑھے تین لاکھ مربع میل کا وہ پلاٹ ہے جس کے اندر موجود اٹھارہ کروڑ لوگوں کو اجازت ہے کہ اپنی خوشی سے جیسے چاہو رہو، نہ رہو، جنت بناؤ کہ جہنم میں جاؤ، پر ہمیں تنگ مت کرو پلیز۔ ہمارے پاس اور بھی ضروری کام ہیں۔۔۔۔
وسعت اللہ خان 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s