کشمیری عوام نے پاکستان کے حق میں رائے دے دی

اگر کسی کو کشمیریوں کی پاکستان میں شمولیت پر شک و شبہ تھا تووہ مقبوضہ علاقے کے باشندوں کے 14 اگست کو اپنے گھروں، دکانوں، شاہراہوں، درختوں، اپنی گاڑیوں، سائیکلوں، تانگوں پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرا کر اس کے ساتھ یکجہتی کے مظاہرے پر دور ہوجانا چاہیے اور یہ عوامی حمایت وادی پر قابض 6 لاکھ بھارتی فوج، نیم فوجی دستوں، پولیس کے سخت پہرے کے باوجود دیکھنے میں آئی۔ 
آسیہ اندرابی کا پاکستان کے جشن آزادی کے دن کھلے عام اس ریاست کا سرکاری پرچم لہرانا اس بات کا ثبوت ہے کہ نہ صرف مرد بلکہ کشمیری خواتین بھارت کی زنجیروں کو توڑ کر آزاد ہونا چاہتی ہیں اور یہ صورت حال ریاست جموں کشمیر پر بھارت کے 68 سالہ قبضے کے باوجود نہ صرف برقرار ہے بلکہ اس میں روز بروز شدت پیدا ہوتی جا رہی ہے جبکہ بھارت نے کشمیر کو بذریعہ ریل خود سے مربوط کردیا ہے اور سکول، کالج، جامعات قائم کردی ہیں اور بظاہر کشمیر کو دوسرے صوبوں کے مقابلے میں خصوصی حیثیت دینے کا تاثر پیدا کرنے کے لیے آئین کی شق کے ذریعے قانونی ضمانت دے دی ہے۔
لیکن کشمیری عوام اس فریب میں نہیں آئے۔ لہٰذا انہوں نے اردو زبان کو ترک نہیں کیا۔ نہ ہی ہندی کو اپنایا۔ بھارت کے سرکاری و غیر سرکاری ذرائع ابلاغ غیر ممالک اور کچھ آزاد خیال پاکستانیوں کو مقبوضہ کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں کے اعداد و شمار بتا کر ان کا مقابلہ آزاد کشمیر سے کر کے انہیں باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کا مقبوضہ کشمیر آزاد کشمیر سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہے لیکن وہ نہیں جانتے کہ ایسے دلائل برطانیہ، فرانس، ولندیزی، ہسپانوی، پرتگالی، اطالوی استعماری طاقتیں بھی اپنے اپنے افراشیائی لاطینی امریکی نو آبادیاتی روایات کے بارے میں دیا کرتی تھیں لیکن ان کا اثر مقامی آبادیوں پر بالکل نہیں پڑتا تھا۔
 کیونکہ مادی ترقی آزادی کا بدل ہو ہی نہیں سکتی۔ بھارت کے کھدر پوش حکمرانوں کو تو یاد ہوگا انگریز سامراج انہیں بار بار جتاتا رہتا تھا کہ کیا برطانوی قبضے سے قبل بھارت کے طول و عرض میں ریلوے کا جال بچھا ہوا تھا، کیا دریاؤں پر ایسے مستحکم پل پہلے کبھی تھے، کیا پنجاب جیسی نہریں شاہجہان کے زمانے میں کھودی گئی تھیں جنہوں نے بنجر زمینوں کو زرخیز بنا دیا، کیا پہاڑوں کو کاٹ کر ریل کی پٹریاں کبھی بچھائی گئی تھیں۔
کیا تار گھر اور ٹیلی فون کا مربوط نظام پہلے کبھی موجود تھا، کیا ایسی سائنسی تجربہ گاہیں تھیں، کیا جدید طبی و جراحی سہولتیں میسر تھیں، کیا آرٹس سائنس انجینئرنگ کی درسگاہیں تھیں، کیا مرکزی اور صوبائی ملازمتوں کے لیے پہلے مقابلے کے امتحانات اور قابلیت کی بناء پر تقرریاں ہوتی تھیں۔
یہاں تک کہ انگریزوں نے حالی سے بھی اپنے حسن انتظام کی بذریعہ نظم سند لے لی۔ خوشامدانہ نظم غاصب برطانوی استعمار کی شان میں قصیدہ نہیں تو اور کیا تھی جس کا صرف ایک شعر غلامانہ ذہنیت کا آئینہ دار ہے۔ ملاحظہ ہو
حکومت نے آزادیاں سب کو دی ہیں
ترقی کی راہیں سراسر کھلی ہیں
لیکن قوم مولانا حالی کی مجبوریاں سمجھتی تھی اس لیے اس نے اس نظم پر کان نہیں دھرے لیکن جب انہوں نے اپنی شہرہ آفاق نظم مدوجزر اسلام (جو مسدس حالی سے موسوم ہے) کہی تو ساری قوم گوش بر آواز ہوگئی۔ اسی طرح شیخ عبداللہ غلام محمد بخشی، افضل بیگ، فاروق عبداللہ مفتی وغیرہ جو بھی دعویٰ کرتے ہیں وہ کشمیر کے عوام کو ہر گز قائل نہیں کرسکتے کہ کشمیری آزاد اور خوشحال ہیں اور وہ پاکستان میں شمولیت نہیں چاہتے۔ اگر بالفرض وہ پاکستان کے اندرونی حالات اور امریکہ نواز خارجہ پالیسی سے بد ظن ہوں اور پاکستان میں شمولیت نہ چاہیں تو بھی وہ بھارت میں شمولیت کے مقابلے میں آزادی کو ترجیح دیں گے۔
اس کے لیے انہیں سلامتی کونسل یا کسی مالی ادارے کی نہ تو اجازت لینی ہے نہ ہی اس کی تحویل میں نامعلوم مستقبل میں کیے گئے ریفرنڈم کی ضرورت ہے کیونکہ آزادی ہر قوم کا پیدائشی حق ہے۔ جسے کسی سے مانگنے کی ضرورت نہیں ہے یہ تو حکومت پاکستان کا منصفانہ مؤقف تھا کہ تنازع کشمیر کے پر امن تصفیے کے لیے سلامتی کونسل کی قرار داد پر عمل درآمد کیا جائے لیکن فریق واحد کی نیک نیتی اس وقت کام آتی ہے جب فریق ثانی کی نیت بھی صاف ہو، لیکن حالات و واقعات شاہد ہیں بھارت ریاست جموں کشمیر کی شمولیت کی کونسل کی زیر نگرانی کرائی گئی رائے شماری کے نتائج پر مشروط قرار داد کو تسلیم کرنے کے بعد اس سے مخرف ہوگیا اور اس کو ضم کرنے کے بعد اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے۔
اس نے ایسی بد عہدی سوویت یونین کی شہہ اور امریکہ ویورپی برادری کی چشم پوشی پر کی۔ چنانچہ بھارت کی اس لاقانونیت کے خلاف عوامی رد عمل ہوا تو تحریک آزادی کو دہشت گردی قرار دیتا ہے۔ اس کے اس مؤقف کو امریکہ کی بھرپور حمایت حاصل ہے بلکہ بڑی طاقتیں مصلحت پسندی کے تحت پاکستان کو بھارت سے مذاکرات کرنے کی نصیحت کرتی ہیں۔ یہ بھی خوب ہے ایک فریق کہتا ہے کہ وہ کشمیر کو بھارت کا حصہ سمجھتے ہوئے اس کے بارے میں پاکستان سے بات چیت کرنے کو تیار ہے پھر کبھی سرحدی جھڑپوں تو کبھی کسی واردات میں پاکستان کے ملوث ہونے کا الزام لگا کر مذاکرات کو موخر کردیتا ہے تاکہ ان تاخیری حربوں سے کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ پکا کرلے۔ ادھر صہیونی، نصرانی، میڈیا ڈیڑھ کروڑ کشمیری باشندوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو بھارت کا علیحدگی پسندوں کا فیصلہ قرار دے کر یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ یہ اس کا اندرونی مسئلہ ہے جبکہ یہ بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف کشمیری عوام کی بھرپور جدوجہد آزادی ہے جس میں اب تک ایک لاکھ کشمیری بھارت کی قابض فوج کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے جبکہ ہزاروں کشمیری لا پتا ہیں۔
اگر ان کے DNA ٹیسٹ لیے جائیں یہ بات دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کے مصداق عیاں ہوجائے گی۔ متوفین اور لا پتا افراد میں کون کشمیری ہے اور کون درانداز۔ یہ تو سائنسی تفتیش کا دور ہے جس میں کسی کی شناخت چھپ نہیں سکتی لہٰذا کشمیریوں کو انسانی حقوق کونسل کی سطح پر مطالبہ کرنا چاہیے کہ ریاست جموں و کشمیر کی جدوجہد آزادی میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے افراد مقامی ہیں یا غیر ملکی، اس امر کے تعین کے بعد بھارت کا یہ پروپیگنڈا کہ ویسے تو راوی کشمیر میں چین لکھتا ہے لیکن پاکستان سے گھس بیٹھیے (در انداز) کشمیر میں داخل ہو کر دہشت گردی برپا کرتے ہیں تو بھارت کی قابض فوج کو مجبوراً گولی چلانا پڑتی ہے۔ 
جبکہ کشمیر کے عوام تو بھارت کے ساتھ ہیں۔ اگر وہ بھارت کے ساتھ ہوتے تو سری نگر اور وادئ کشمیر میں بھارت کی فوج کو 14 اور 15 اگست کو کرفیو کیوں نافذ کرنا پڑتا؟ کیا سری نگر، دوسرے قصبات میں مکانوں، دکانوں اور شاہراہوں پر سبز ہلالی پرچم لگانے والے سیالکوٹ یا مظفر آباد سے آکر وادی میں پاکستان کی پرچم کشائی کرتے ہیں؟
اور 15 اگست کو وادئ کشمیر میں سڑکیں کیوں ویران رہتی ہیں اور مقامی آبادی اپنی چھتوں پر سترنگا جھنڈا کیوں نہیں لگاتے؟
کیا یہ شواہد اور قرائن یہ ثابت نہیں کرتے کہ کشمیر کے عوام ریاست پر بھارت کے قبضے کے سخت مخالف ہیں اور اس سے جلد از جلد نجات چاہتے ہیں۔ ایسے میں تو ساری عالمی برادری کو ان کی حمایت کرنی چاہیے۔ چہ جائیکہ انہیں درانداز اور دہشتگرد گردانا جائے۔
تاریخ کے تناظر میں کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی امریکی اور یورپی نو آبادیات کی آبادی کی جدوجہد آزادی کا تسلسل ہے۔ لہٰذا اس پر نو آباد یات کی فوری آزادی پر مبنی اقوام متحدہ کی 1960ء کی قرار داد کا اطلاق ہوتا ہے۔ جس کی رو سے عالمی برادری کو کشمیری عوام کو بھارت کے فوجی قبضے سے آزاد کرانے کی جدوجہد کی حمایت کرنی چاہیے تاہم اگر عالمی برادری کسی مصلحت کے تحت ایسا نہیں کرتی تو کم از کم اسے کشمیریوں کو اپنی جنگ آزادی لڑنے سے روکنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ وہ اپنے کام سے کام رکھیں اور کشمیریوں کو اپنا کام کرنے دیں۔
پروفیسر شمیم اختر
بشکریہ روزنامہ نئی بات

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s