پائیدار بھی حاضر ہے اور عارضی بھی…وسعت اللہ خان

برطانیہ کروڑوں ہندوستانیوں پر صرف ایک لاکھ بیس ہزار گوروں کی مدد سے نوے برس یوں موثر حکومت کر سکا کیونکہ اس نے برِصغیر میں بسنے والے بھانت بھانت کے انسانوں کی نسلی، مذہبی، سماجی اور نفسیاتی نزاکتوں کو نہ صرف سمجھنے کی کوشش کی بلکہ ان کا الگ الگ پروفائل بھی بنایا اور اس پروفائل کے مطابق ہر علاقے کے لیے مختلف اقتداری پالیسی اپنائی۔ کہیں ڈنڈا تو کہیں پیار تو کہیں پیسہ تو کہیں مروت تو کہیں اپنے حال پر چھوڑ دینے کی پالیسی۔
اس تناظر میں برطانوی سامراج کے مستشرقین، بیورو کریسی اور ماہرینِ سماجیات نے بلوچوں کا جو پروفائل تیار کیا وہ مختلف گزیٹیرز، روزنامچوں، یادداشتوں، سرکاری مراسلت اور کتابوں کی شکل میں بکھرا پڑا ہے۔ مگر لُبِ لباب یہ ہے کہ بلوچ طبعاً اتنے آزاد منش ہیں کہ ایک ہم نسل دوسرے ہم نسل کی اپنے معاملات میں مداخلت برداشت نہیں کرتا اور زندگی اپنی مقامی و اندرونی شناخت کے سائے میں گزارنا پسند کرتا ہے۔ کئی اقوام پیسے یا طاقت سے رام ہو جاتی ہیں لیکن بلوچ کو رام کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے اس کی بات توجہ سے سنی جائے اور ہر اس اندرونی معاملے اور رواج میں ٹانگ اڑانے سے پرہیز کیا جائے جس کا آپ سے براہ راست لینا دینا نہیں، حتیٰ کہ بلوچ خود آپ سے مشورہ لینے آئے۔
پچھلے انسٹھ برس میں اگر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ قومیتی نفسیات کے بارے میں انگریز کی چھوڑی علمی و مشاہداتی میراث کی سمری ہی پڑھ لیتی تو نہ صرف بنگال کو سمجھا جا سکتا تھا بلکہ یہ راز بھی کھولا جا سکتا تھا کہ بلوچ آخر ہر چند برس بعد ہتھیار کیوں اٹھا لیتے ہیں اور نہیں بھی اٹھاتے تب بھی شکوے شکایت کی مسلسل تسبیح کیوں پھیرتے رہتے ہیں؟ مگر اسٹیبلشمنٹ کو شاید انگریز کے تیار کردہ قومیتی پروفائلز پڑھنے کے محنت طلب کام سے زیادہ آسان یہ لگتا ہے کہ ڈنڈا ڈپلومیسی ہر مرض کے لیے اکسیرِ اعظم ہے۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا؟ مریض مر ہی جائے گا نا؟ مگر مرنا تو سب کو ہی ایک دن ہے چنانچہ کسی کی انفرادی و اجتماعی نفسیات سمجھنے کی ٹینشن کاہے کو لینا؟
لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ ون یونٹ کے نظریے کی تدفین کے چھیالیس برس بعد بھی وفاق کے ذہن پر ون یونٹ کا بھوت پوری طرح قابض ہے۔ اس عرصے میں اگر کسی فن میں مہارت حاصل کی گئی تو بس یہ کہ پہلے مرض پیدا کرو اور پھر علاج کرو اور اگر علاج نہ کر پاؤ تو توجہ ہٹانے کے لیے اس سے بھی بڑا مرض پیدا کر دو اور کسی موثر دوا یا ویکسین کی تیاری کے صبر آزما کام کے بجائے وائرس اور مریض کی بے احتیاطی وغیرہ وغیرہ کو ہی برا بھلا کہتے رہو۔
اس لمبی تقریر کے بعد دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ میں وہ کیا وجوہات ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی بلوچستان پالیسی میں ڈنڈے کے ساتھ گاجر بھی لٹکائی جا رہی ہے اور وہ کیا وجوہات ہیں کہ بلوچ علیحدگی پسندوں کے رویے میں سالِ گزشتہ کے مقابلے میں کچھ لچک دکھائی دے رہی ہے؟ بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریک کا موجودہ باب نائن الیون کے بعد کھلا لیکن ابتدا میں اس کی نوعیت مسلح سے زیادہ شکایتی و احتجاجی تھی۔
اگر جنوری دو ہزار پانچ میں سوئی میں ڈاکٹر شازیہ ریپ کیس کسی عدالت کے سپرد کر دیا جاتا اور جنرل پرویز مشرف خود عدالت بنتے ہوئے اس کیس کے ایک ملزم کیپٹن حماد کی بریت کا ذاتی فتویٰ دینے سے پرہیز کرتے اور نواب اکبر بگٹی کی جانب سے اس کیس کی بابت بلند ہونے والی آواز کو ذرا سی بھی اہمیت دیتے اور اس قولِ زریں کو اپنے اندر ہی دبا لیتے کہ ’’ان قبائلیوں کو یہ بھی پتہ نہیں چلے گا کہ ان کے سر سے کیا شے ٹکرائی‘‘ اور ڈاکٹر شازیہ کو خوفزدہ کر کے ملک سے باہر نہ بھیجتے اور بگٹی علاقے کی ناکہ بندی کے ردِ عمل میں نواب صاحب کو پہاڑی غاروں کی جانب مراجعت پر مجبور نہ کرتے اور پھر بھی کوئی لچک دکھانے کے بجائے اکبر بگٹی کو ہلاک کر کے سینہ ٹھونک کر اپنے اقدام کا دفاع نہ کرتے اور بگٹی کی لاش کو تالے والے تابوت میں سپردِ خاک نہ کرواتے تو آج تک بلوچستان جس آگ میں جل رہا ہے اس کی شدت اتنی زیادہ نہ ہوتی۔ 
سیکڑوں جانیں بچ جاتیں اور محرومی اور ناسپاسی کا گھاؤ ایسا گہرا بھی نہ ہوتا۔
لیکن تاریخ میں اگر مگر کی کوئی حیثیت ہوتی تو تاریخ بے وقوفیوں سے پاک مضمون ہوتا۔ حیرت یہ ہے کہ مشرف کے جانے کے بعد بھی ’’مشرفی ذہن‘‘ بلوچستان کی بابت فیصلہ سازی پر حاوی رہا بلکہ جبری گمشدگی، مسخ لاشوں اور ذیلی طفیلی تنظیموں کی ’’تشدد آمیز وفاداری‘‘ کو اور بڑھاوا ملا۔
لیکن اس سال ایسا کیا ہو گیا کہ مرکز کی یہ پالیسی بھی بدل گئی کہ علیحدگی پسند جب تک ہتھیار نہیں ڈالیں گے ان سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی اور ایسا کیا ہوا کہ جون میں عام معافی کا اعلان کیا گیا اور پھر ایسا کیا ہوا کہ بیرونِ ملک مقیم خان آف قلات میر سلمان داؤد سمیت محبِ وطن بلوچوں کو بھڑکانے والے ’’مٹھی بھر غیر ملکی ایجنٹ‘‘ رہنماؤں سے خفیہ و ظاہری اور براہِ راست و بلا واسطہ رابطہ کاری کا سلسلہ شروع ہوا۔
وجہ شائد یہ احساس ہو کہ طاقت سے آپ زمین تو لیول کر سکتے ہیں مگر انسانوں سے مکمل صاف نہیں کر سکتے۔ چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور اگر طے شدہ نظام الاوقات کے مطابق وجود میں آنا ہے تو پھر ڈنڈے، گاجر اور لچک سمیت ایک تازہ پالیسی اپنانی ہو گی اور بنیادی اسٹیک ہولڈرز کو ہم نوا نہ بھی بنایا جا سکے تو انھیں نیوٹرل ضرور کرنا ہو گا۔ لہذا پچھلے چند ماہ میں جبری گمشدگیاں گزشتہ برس کے مقابلے میں نسبتاً کم ہوئی ہیں اور آپریشن کا زور بھی ان جنوبی علاقوں میں زیادہ ہے جو کاریڈور کا مجوزہ روٹ ہیں۔ طفیلی پرتشدد تنظیموں کو بھی فی الحال آگے پیچھے کر دیا گیا ہے۔ پبلک ریلیشننگ کی میڈیائی مہم میں بھی زور آ گیا ہے اور جلا وطن بلوچ قیادت کو براہ راست مجرم قرار دینے کے بجائے بلوچستان کی بدامنی کا فوکس بھارت پر شفٹ ہو گیا ہے۔
چار روز پہلے علیحدگی پسند بلوچ رہنما براہمداغ بگٹی نے مسئلے کے سیاسی حل کے لیے جس لچک کا عندیہ دیا اس کا خیر مقدم فی الحال بلوچستان کے قوم پرست وزیرِ اعلی ڈاکٹر مالک بلوچ تک ہی محدود ہے۔ مرکز کی خاموشی کی وجہ شائد یہ ہو کہ فی الحال جلا وطن بلوچ قیادت سے بات چیت کی نوعیت غیر رسمی ہے۔ جب کہ جلا وطن قیادت منتظر ہے کہ اعتماد سازی کے لیے وفاق اور اس کے ادارے آپریشن اور جبری گمشدگیوں کے انسانی مسئلے کے بارے میں کیا نئے پالیسی خطوط وضع کرتے ہیں۔ یہ خطرہ بھی ہے کہ وفاقی پالیسی ساز اس گھمنڈ کے اسیر نہ ہو جائیں کہ سختی ہی دراصل بلوچ علیحدگی پسند قیادت کو ’’نرم‘‘ کر رہی ہے۔
اچھا تو وہ بلوچ جو آزادی سے کم کسی بات پر راضی نہیں اب ان میں سے بھی کچھ سرکردہ لوگ شاخِ زیتون کی اہمیت کے قائل ہوتے کیوں نظر آتے ہیں۔ پہلی وجہ شائد یہ ہے کہ پچھلے دس برس کے دوران مشترکہ ہدف کے باوجود بلوچ مزاحمتی قیادت کسی ایک پلیٹ فارم پر خود کو منظم نہیں کر سکی۔ وقت کے ساتھ ساتھ باہمی شکوک و شبہات اور حکمتِ عملی کا گہرا اختلاف ایک لمبی تحریک کو بھی بیزاری، جھنجھلاہٹ اور تھکن کی دھند میں لپیٹ لیتا ہے۔ اندرونی تحریکی بحران اور بڑھ جاتا ہے جب ایک فریق کے پاس بے پناہ ترغیب و طاقت ہو اور دوسرا فریق انتہائی کم وسائل اور محدود نظریاتی حدود میں جکڑا ہوا ہو۔
دوسری وجہ شاید یہ ہے کہ گزشتہ ادوار کے برعکس تازہ مزاحمتی دور میں مسلح تحریک کی عملی قیادت روایتی خانوادوں سے نکل کے مڈل یا لوئر مڈل کلاس کی نئی بلوچ نسل کے ہاتھ میں آ گئی۔ مگر یہ تازہ قیادت اپنے طور پر سیاسی سودے بازی کا وہ تجربہ نہیں رکھتی جیسا تجربہ روایتی قیادت کے پاس ہے۔ چنانچہ نوجوان قیادت کو کسی بھی ڈیل کے لیے بالاخر ’’بزرگوں‘‘ کا ہی سہارا لینا پڑے گا۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ بلوچستان کے معاملے میں ’’آزاد میڈیا‘‘ پر ریاستی کنٹرول تقریباً مکمل ہے اور خود قوم پرست بلوچوں نے اپنے کاز سے نابلد پاکستان کی نان بلوچ اکثریت کو وسائل، پہنچ اور اس پہنچ کی اہمیت نہ سمجھنے کے سبب اپنا کیس سمجھانے کی شعوری کوشش نہیں کی۔ الا یہ کہ ماما قدیر کی تحریک اور انسانی حقوق کے چند سر پھرے کارکنوں اور لکھاریوں نے اپنے طور پر بلوچستان کرائسس سے باقی پاکستان کو متعارف کروانے کی اپنی سی ہمت کی۔
لیکن ان تمام تاویلات سے قطع نظر مختصر بات یہ ہے کہ ایک ایسا امن ہاتھ آنے کا امکان ہو جس میں طے شدہ بنیادی حقوق کی پاسداری باہمی عزت و احترام کی بحالی کے ساتھ ممکن ہو سکے تو پھر یہ موقع بے وقوفی یا گھمنڈ کے ہاتھوں گنوانا نہیں چاہیے۔ 
اسی دنیا میں طاقت اور کمزوری کی بنیاد پر بھی بے شمار سمجھوتے ہوئے ہیں مگر ایسے سمجھوتے کرتے وقت یہ یاد رہنا چاہیے کہ ان معاہدوں کی نوعیت وقتی ہوتی ہے اور اصل مرض کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ دو گنی قوت سے حملہ آور ہوتا ہے۔
وسعت اللہ خان
بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s