بڑے ملک کا چھوٹا وزیراعظم

یہ 19 مئی 2014ءکا ایک گرم دن تھا، جب بھارتی فوج کی جانب سے بتایاگیا کہ جموں و کشمیر میں اکھنور کے مقام پراُن کا ایک فوجی ”بھکالے اتم بھالو“ بارودی سرنگ کے پھٹنے سے ہلاک ہوگیا۔ بھارت نے الزام لگایا کہ یہ بارودی سرنگ پاکستانی بارڈر ایکشن ٹیم نے بچھائی تھی۔ بھارت نے یہ الزام تو لگایا ہی لیکن میڈیا پر اِس الزام کا واویلہ بھی بہت مچایا مگر اپنے اس الزام کی حمایت میں بھارت کوئی ثبوت فراہم نہ کرسکا۔
اگرچہ یہ کوئی بہت بڑا واقعہ نہ تھا لیکن جس انداز میں بھارت میں اس واقعہ کی تشہیر اور پراپیگنڈا کیا گیا تھا، یہ ضرور غیر معمولی تھا، اِس واقعہ کے بعد بھارت نے ایک عرصہ سے خاموش مغربی محاذ کو اچانک گرم کر دیا اور ورکنگ باو¿نڈری اور لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کو معمول ہی بنالیا۔ پاکستان نے عالمی سرحد، ایل او سی یا ورکنگ باو¿نڈری پر جب بھی جذبہ خیر سگالی کا مظاہرہ کیا تو بھارت نے اس کا جواب منفی اور شرمناک انداز میں دیا۔
اس دوران سب سے افسوسناک واقعہ تو اُس وقت پیش آیا جب 31دسمبر کو پاکستانی سیکیورٹی حکام معمول کی فلیگ میٹنگ کے سلسلے بھارتی سیکیورٹی آفیسرز سے ملنے جارہے تھے کہ بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں نے پاکستان رینجرز کے دونوں آفیسرز پر فائر کھول دیا۔ جس سے دونوں پاکستانی افسر شہید ہوگئے، اس جارحانہ واقعہ کے جواب میں بھی بھارتی حکام نے پاکستان پر فائر بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے اپنے ایک فوجی کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔
بھارتی جارحیت سالِ گزشتہ کی بات ہی نہیں بلکہ یہ سلسلہ رواں برس بھی جاری ہے۔
 مثال کے طور پر بھارت نے نئے سال کا آغاز ہی ننگی جارحیت سے اِس طرح کیا کہ 2 جنوری کو سیالکوٹ کے شکرگڑھ سیکٹر پر بھارتی گولہ باری سے ایک تیرہ سالہ بچی سمیرہ جاں بحق جبکہ پانچ سالہ بچہ مرسلین شدید زخمی ہو گیا۔ 5 جنوری کو بھارتی فوج کی جانب سے شکر گڑھ اور ظفروال سیکٹرز میں بلا اشتعال فائرنگ سے پانچ شہری شہید ہوگئے اور 14 فروری کو ایک ساٹھ سالہ ضعیف شخص فائرنگ سے جاں بحق ہوگیا۔ مارچ اور اپریل میں بھارتی گنیں قدرے خاموش رہیں لیکن یکم مئی کو بھارتی بی ایس ایف کی بلا اشتعال فائرنگ سے ایک پاکستانی شہری امانت علی شکرگڑھ سیکٹر میں جاں بحق ہوگیا۔
بھارت کی جانب سے تاریخ کا سب سے بڑا ڈرامہ اُس وقت سامنے آیا جب 3 مئی کو بھارتی شہر پٹھانکوٹ کی پولیس نے ایک مبینہ پاکستانی کبوتر کو ”گرفتار“ کر لیا۔ اردو میں کچھ اعداد اور الفاظ کے ساتھ ساتھ انگریزی میں اس پرندہ کے جسم پر شکرگڑھ اور نارووال لکھا تھا، بھارت نے الزام لگایا کہ اس کبوتر کو پاکستان جاسوسی کے لیے استعمال کر رہا تھا، لیکن اُس کے بعد بھارت کو خود ہی یہ الزام واپس لینا پڑ گیا۔جون کے گرم مہینے میں محاذ پھر ٹھنڈا رہا ۔ 11 جولائی کو پاکستانی رینجرز نے دریائے چناب میں ڈوب جانے والے جموں کے نوجوان کنٹ لال کی میت بھارتی سرحدی سیکیورٹی حکام کے حوالے کی تو 15 جولائی کو بھارت نے پاکستان کی سرحدی چوکیوں کی تصویر کشی کیلئے جاسوس ڈرون بھیج دیا، جسے پاکستان نے بھمبر کے علاقے میں مار گرایا۔ اگلے روز 16 جولائی کو بھارتی فوج نے سیالکوٹ کے چپرار سیکٹر میں فائرنگ کرکے 5 پاکستانیوں کو شہید کردیا، اسی طرح 25 جولائی کو آزاد کشمیر میں شریکوٹ سیکٹر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک نوجوان محمد وسیم شہید ہوگیا۔ 
بھارتی جارحیت کے حوالے سے اگست کا مہینہ سب سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوا۔
مثال کے طور پر 4 اگست کو ورکنگ باو¿نڈری پر سیالکوٹ کے نزدیک سکھیال سیکٹر میں دو پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے، 7 اگست کو مظفر آباد میں ہیلان سیکٹر میں بھارتی کھلونا بم سے ایک بچہ شہید ہوگیا، 9 اگست کو بھارتی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والی خاتون فریدہ 11 اگست کو جاں بحق ہوگئی۔ بھارت نے پاکستان کے یوم آزادی پر بھی اپنی توپوں کے دہانے بند نہ کیے، اُس روز نیزاپیر سیکٹر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے منیرہ اختر نامی خاتون شہید ہوگئی۔ 15 اگست کو بھارتی فوج کی فائرنگ سے محمد شفیع اور شاہ پال خان شہید ہوئے، 17 اگست کو نکیال سیکٹر میں ایک خاتون جبکہ 18 اگست کو ایک اور شہری شہید ہوگیا۔ 22 اگست کو بٹل سیکٹر میں ایک نوجوان محمد اختر بھارتی فائرنگ سے شہید ہوا۔ بھارتی فائرنگ سے 28 اگست کو اِس سال اور مہینے کی سب سے زیادہ شہادتیں ہوئیں، اُس روز بھارتی فوج نے ورکنگ باؤنڈری پر آباد نہتے پاکستانی شہریوں پر بے رحمانہ گولہ باری کی جس سے دس افراد جاں بحق اور 22 خواتین سمیت پچاس شہری زخمی ہوگئے۔
قارئین کرام! بلاشبہ بھارت کی اس بے رحمانہ کارروائی کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں پاکستانی شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں، لیکن بہت سے لوگوں کو ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ گزشتہ برس مئی کے بعد اچانک ہوکیا گیا کہ عرصہ سے خاموش بھارتی توپوں کے دہانے کھل گئے ، جس سے پاکستان اور آزاد کشمیر کے شہر ی اِس ننگی جارحیت کا نشانہ بن کر شہید ہونے لگے؟حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ مئی میں بھارت کے ساتھ بڑی بدقسمتی ہوئی کہ بھارت جیسے بڑے ملک نے ایک ”چھوٹے“ ّآدمی کو اپنا پردھان منتری چننے کی غلطی کرلی۔
جی ہاں گزشتہ برس مئی میں یہ نریندرا مودی جیسا ”چھوٹا“ شخص ہی تھا، جسے بھارتی عوام نے اپنا پردھان منتری منتخب کرلیا۔ یہ چھوٹا شخص کبھی ”سیلفیز“ سے باہر نہیں نکلتا اور کبھی نہتے عوام پر جارحیت کا ارتکاب کرکے اپنے سینہ چوڑا کرنا چاہتا ہے۔اِس چھوٹے آدمی کی وجہ سے بھارت جنگی جنون میں مبتلا ہوتا نظر آتا ہے، لیکن جنگ اور جنون کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ افسوس اس کا کہ ایک چھوٹے آدمی کو اندازہ ہی نہیں
 
نازیہ مصطفیٰ
بشکریہ روزنامہ  نوائے وقت 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s