سیاسی غلام

نہ تو مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف پیپلز پارٹی کی ہم پلہ جماعتیں ہیں اور نہ سیاسی چالوں میں میاں نوازشریف یا عمران خان آصف علی زرداری کا مقابلہ کرسکتے ہیں ۔ پیپلزپارٹی کے پاس ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی صورت میں دو ’’سیاسی شہید‘‘ موجود ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کا اس حوالے سے دامن خالی ہے ۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کی صفوں میں ایسے لوگ دیکھنے کو ملتے ہیں جنہوں نے جیلیں کاٹی ہیں اور اب بھی کاٹ سکتے ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی قیادت قیدوبند جیسی سختیوں سے کتراتی ہے ۔ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف بنیادی طور پر دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ایک جیسی جماعتیں ہیں جبکہ پیپلز پارٹی جیسی بھی ہے ، بائیں بازو کی نمائندہ جماعت ہے اور ابھی تک بائیں بازو کی نمائندہ متبادل کوئی جماعت سامنے نہیں آئی۔
اسی طرح آئینی محاذ پر بھی پیپلز پارٹی ہی مقدم رہی ہے اور آئین سازی سے لے کر اٹھارویں آئینی ترمیم تک کا سہرا اس کے سر ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے کریڈٹ میں ایسا کوئی آئینی کارنامہ موجود نہیں ۔ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے معاشی اور معاشرتی تصورات کنفیوژن کا شکار ہیں جبکہ پیپلز پارٹی اس معاملے میں واضح طور پر بائیں بازو کی سوچ کی حامل ہے ۔ اسی طرح خارجہ پالیسی کے تصورات بھی مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے معاملے میں زیادہ حقیقت پسندانہ ہیں ۔ وفاقیت کے پیمانے پر بھی پیپلز پارٹی سرفہرست قرار پاتی ہے کیونکہ مسلم لیگ (ن) عملاً پنجاب کی جبکہ تحریک انصاف پختونخوا، پنجاب اور کراچی کی نمائندہ جماعت تو ہے لیکن بلوچستان اور اندرون سندھ میں ابھی اسے جگہ بنانے میں بہت وقت لگے گا لیکن پیپلزپارٹی یکساں طور پر چترال سے لے کر کراچی تک اور گوادر سے لے کر گلگت بلتستان تک اپنا وجود رکھتی تھی۔ رجال کار کے معاملے میں پیپلز پارٹی کا پلڑا بھاری ہے

۔

یہاں رضا ربانی، اعتزازاحسن، خورشید شاہ، مخدوم امین فہیم ، قمر زمان کائرہ ، یوسف رضا گیلانی اور اسی نوع کی درجنوں دیگر تجربہ کار اور بھاری بھر کم شخصیات موجود ہیں لیکن ان سب کچھ کے باوجود پیپلز پارٹی کا دھڑن تختہ ہونے کو ہے ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے پارٹی کے اندر جمہوریت ختم کردی تھی۔ قیادت کا حکم حرف آخر قرار پایاتھا ۔ کرپشن زوروں پر رہی لیکن پارٹی کے اندر اس کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھاسکا ۔ پارٹی فورمز پر یوں تو لوگوں کو دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کے مقابلے میں زیادہ ملتا رہا لیکن سکہ قیادت اسی طرح قیادت کا چلتا رہا جس طرح کہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف میں چلتا ہے۔
اقتدار تک رسائی ، سیاسی جوڑ توڑ اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیلنگ کے ضمن میں چونکہ قیادت کے بعض پتے صحیح بیٹھ گئے تھے ، اس لئے وہ اس زعم کی شکار رہی کہ سیاست جانتی ہے تو بس وہی جانتی ہے اور اس کی وجہ سے جہاں سے بھی صائب آواز اٹھتی تو اسے یہ کہہ کر خاموش کردیا جاتا کہ تم کیا جانو کہ سیاست کیا ہوتی ہے۔اس وقت اہل صحافت کی صفوں میں سے ہونے والی تنقید کا بھی یہ کہہ کر مذاق اڑایا جاتا رہا کہ میں اپنی سیاست صحافیوں کے مشورے سے نہیں کرسکتا۔ یوں پیپلز پارٹی کے نظریاتی کارکن اور قائدین شدید گھٹن کے تو شکار رہے لیکن مصلحتوں کی وجہ سے وہ زبان نہ کھول سکے ۔ جس نے بھی قیادت کی مرضی کے خلاف قدم اٹھایا اسے اسی طرح باہر نکال کر پھینک دیا گیا جس طرح کہ چائے کی پیالی سے مکھی کو نکالا جاتا ہے ۔
اس خوف سے باقی باضمیر لوگوں کی زباں بندی ہوگئی اور وہ مصلحتوں کا شکار ہوکر بدترین سیاسی غلامی کی زندگی گزارنے لگے ۔ لیکن اب وہ وقت آگیا کہ جب یہ آمرانہ رویہ رنگ دکھانے لگا۔ گزشتہ انتخابات کے بعد بلدیاتی انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی کا صفایا ہونے لگا۔ گلگت بلتستان سے جنازہ نکل گیا۔ سیاسی دائو پیچ میں مہارت کا زعم خاک میں ملنے لگا۔ پے درپے گٹھن کا شکار رہنما پارٹی چھوڑنے لگے۔ جو باقی بچے ہیں وہ چھوڑنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اب کرپشن کی بنیاد پر بھی گھیرا تنگ ہونے لگا اور کارکن تو کیا دوسرے درجے کے لیڈر بھی قیادت کی صفائی دینے کو تیار نہیں ۔ اب معاملہ الٹ ہوگیا ۔ گزشتہ ہفتے بلاول زرداری کے دورہ اسلام آباد کے موقع پر ہر اجلاس میں لوگ ان کے ابو اور ابو کی بہن پر برستے رہے اور نہ صرف وہ بلکہ ادی بھی خاموشی کے ساتھ سنتی رہیں ۔
دو سابق وزرائے اعظم کی موجودگی میں نظریاتی رہنما کہتے رہے کہ انہیں انکے پھنس جانے کا کوئی دکھ نہیں ۔ کئی ایک نے تو بلاول کے سامنے لکیر کھینچ دی کہ اگر وہ قیادت خود سنبھال کر پارٹی کو نظریاتی ڈگر پر گامزن نہیں کرسکتے تو انہیں صاف بتادیا جائے کہ وہ دوسری پارٹیوں میں چلے جائیں ۔کل کے سیاسی غلام ، آج کے سیاسی باغی بننے لگے ہیں اور کل کی بند زبانیں اب گویا ہوگئی ہیں ۔ سیاسی غرور ، سیاسی افق سے فرار میں بدل گیا ہے
۔ پیپلز پارٹی کا جو حشر ہونا تھا ، بدقسمتی سے ہوگیا ۔یہ الگ بات ہے کہ بائیں بازو کی جماعت کا خلاء اب بھی موجود ہے اور اگر بلاول زرداری واقعی لیڈر بن کر پارٹی کو نظریاتی ڈگر پر گامزن کرلیں تو شاید بچائو کا کوئی راستہ نکل آئے لیکن بدقسمتی سے اب دوسری دو بڑی جماعتیں یعنی مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی قیادت بھی ، پیپلز پارٹی کی قیادت کے راستے پر گامزن ہے ۔ جمہوریت کے نام پر ان دونوں جماعتوں میں بدترین شخصی آمریت دیکھنے کو ملتی ہے اور دونوں جماعتوں کے کارکن تو کیا دوسرے اور تیسرے درجے کے لیڈر بدترین سیاسی غلامی کی زندگی گزاررہے ہیں ۔ یوں تو مسلم لیگ (ن) کے ایم این ایز، ایم پی ایز اور دیگر رہنما بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ میاں صاحب ان سے بڑی مشاورت کرتے ہیں اور تنقید بھی خندہ پیشانی سے سن لیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی شریف خاندان سے اختلاف کی جرات نہیں کرسکتا۔
جس نے بھی اس خاندان کے کسی فرد کو ناراض کیا ہے، اسے غوث علی شاہ اور ذوالفقار کھوسہ کی طرح باہر پھینک دیا گیا ہے ۔ یہی معاملہ تحریک انصاف کاہے ۔جس نے بھی اختلاف کی جرات کی، اسے جاوید ہاشمی بنا دیا گیا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت کی ساری خبریں خود اس حکومت میں شامل لوگوں کے ذریعے نکل رہی ہیں ۔ چند چہیتوں کے سوا جو بھی مسلم لیگی رہنما ملتا ہے تو فریاد کرتا نظرآتاہے ۔ یہی معاملہ تحریک انصاف کا ہے ۔
عمران خان پر خرچہ کرنے والے یا ان کی چاپلوسی کرنے والے چند افراد کے سوا ہر کوئی گھٹن کا شکار ہے۔پرویز خٹک کے خلاف خبریں ان کے ایم پی ایز اور وزیر تقسیم کررہے ہوتے ہیں ۔ دھرنوں سے لے کر علیم خان کے انتخاب تک ہر معاملے پر کارکن اور دوسرے درجے کے لیڈر جگہ جگہ فریاد کرتے رہتے ہیں لیکن کسی میں جرات نہیں کہ وہ خان یا ان کے نامزد کردہ لوگوں کے سامنے رکاوٹ ڈال سکیں ۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پیپلزپارٹی کی طرح اب مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف میں بھی ایک لیڈر اور باقی سب سیاسی غلام ہیں ۔ فرق صرف یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ہاں قائدین کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان کی بھی غلامی کرنی پڑتی ہے جبکہ تحریک انصاف میں خان صاحب کے ساتھ ساتھ ان کے چند چہیتوں کی غلامی کرنا پڑتی ہے ۔
دیکھتے ہیں سیاسی غلامی کا یہ سرکس کب تک چلتا ہے اور کب وہ وقت آتا ہے کہ جب مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے سیاسی غلام بھی بغاوت پر اتر آتے ہیں ۔پیپلز پارٹی کا حشر مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے سیاسی غلاموں کے لئے بھی سبق ہے ۔ انہوں نے اگر ابھی اپنی اپنی قیادت کے سامنے زبان کھولنے کی جرات کرلی تو شاید ان کی پارٹیاں پیپلزپارٹی جیسے انجام سے بچ جائیں لیکن اگر وہ مصلحتوں کے شکار رہ کر اسی طرح خاموش رہے تو کل قیادت کے ساتھ ساتھ انہیں بھی رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ پیپلز پارٹی سے نکلنے والے تو اب تحریک انصاف یا مسلم لیگ (ن) میں جارہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہاں سے نکلنے والے پھر کہاں جائیں گے اور جب تینوں سیاسی پارٹیاں اسی طرح آمرانہ رویوں کا شکار ہوجائیں تو پھر آمریت کا راستہ کون روکے گا۔کاش سیاسی غلام زبانیں کھول سکیں۔
 
سلیم صافی
بشکریہ روزنامہ  جنگ 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s