بچے کی لاش کی تصویر میں عالمی سامراج کا چہرہ بے نقاب

تین سالہ معصوم شامی بچے ’’ ایلان ‘‘ کی لاش نے مغرب کے حکمرانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھدیا ہے ۔ اس طرح کی خبریں اگلے روز اخبارات میں چھپی ہوئی تھیں لیکن کیا اس بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ اس ایک بچے کی لاش سے مغربی دنیا کا ضمیر جاگ گیا ہو گا ؟ دنیا بھر میں روزانہ ہزاروں معصوم بچے انتشار ، بدامنی ، دہشت گردی ، جنگوں اور جبری بے دخلیوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ کہیں دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر ڈرونز کے ذریعے حملے کئے جاتے ہیں اور پوری انسانی آبادیاں صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں ۔
 کہیں طیاروں سے بمباری کرکے ااسکولوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور سینکڑوں بچوں کو بموں کے بارود میں جلا کر بھسم کردیا جاتا ہے اور بعد ازاں معافی مانگ لی جاتی ہے کہ غلطی ہو گئی ۔ کہیں دہشت گرد خود کش حملوں سے بچوں کی لاشوں کے چیتھڑے اڑادیتے ہیں اور کہیں ااسکولوں میں گھس کر بچوں کو گولیوں سے بھون دیتے ہیں ۔ کہیں دہشت گرد ماں باپ کے سامنے بچوں کی گردنیں کاٹ رہے ہوتے ہیں لیکن جب ایک فرانسیسی وزیر اعظم کسی بچے کی لاش کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتا ہے یا کوئی آسٹریلوی وزیر اعظم کانوں کو ہاتھ لگا کر یہ کہتا ہے کہ داعش کے دہشت گرد نازیوں سے بھی زیادہ بدترین اور زیادہ ظالم ہیں تو ہم تیسری دنیا کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مغرب کے حکمرانوں کے دلوں میں رحم پیدا ہو گیا ہے یا ان کے ضمیر جاگ گئے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔
ایلان بھی مغربی حکمرانوں کی بے رحمانہ پالیسیوں اور سامراجی عزائم کا شکار ہوا ہے۔ ایلان بھی ان لاکھوں بچوں میں شریک ہے ، جو نیو ورلڈ آرڈر کا شکار ہوئے اور جن کی زندگیوں کے پھول کھلنے سے پہلے مرجھا گئے ۔ مغرب کے حکمراں اپنے اپنے ملکوں کی اسٹیبلشمنٹ کی سامراجی پالیسیوں کے غلام ہیں ۔ ان کا کام صرف اداکاری کرنا ہوتا ہے ۔ ایلان کی لاش پر افسردہ دکھائی دینا یا اس پر آنسو بہانا محض اداکاری ہے ۔
البتہ یورپ اور امریکہ میں سول سوسائٹی کے بعض حلقے ایسے ہیں جو دنیا کی مظلوم قوموں اور گروہوں کے لئے حقیقی طور پر آواز اٹھاتے ہیں ۔ اس وقت بھی یہ حلقے مغربی حکومتوں پر یہ زور دے رہے ہیں کہ دنیا کے بدامنی کے شکار ملکوں سے آنے والے تارکین وطن کو یورپ میں پناہ دی جائے ۔ انہی حلقوں نے ایلان کی تصاویر کو سوشل میڈیا پر جاری کیا تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جا سکے کہ ان تارکین وطن کے مسائل کیا ہیں اور وہ کن مصائب سے دوچار ہیں ۔ جب سول سوسائٹی کی طرف سے مظلوم ایلان کی تصویر پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تو مغرب کے حکمرانوں کو بھی اداکاری کرنا پڑی ۔
 ایلان کا خاندان شام سے اپنی جان بچا کر نکلا تھا ۔ ایلان کے والد عبداللہ کردی نے یہ سوچا تھا کہ وہ اپنے خاندان کو دنیا کی کسی محفوظ سرزمین پر منتقل کردے گا ۔ شام میں گزشتہ کئی سالوں سے خانہ جنگی کے باعث لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں ۔ دیگر تارکین وطن کے ہمراہ عبداللہ کردی بھی مغربی ممالک میں پناہ لینے کے لئے غیر قانونی طور پر سمندری سفر پر روانہ ہوا ۔ پہلے کینیڈا نے ان کی پناہ کی درخواست مسترد کردی تھی ۔ وہاں سے مایوس ہوکر تارکین وطن کی کشتی کسی دوسرے یورپی ملک کی طرف روانہ ہوئی لیکن یہ کشتی ایک یونانی جزیرے کے قریب الٹ گئی ۔
 اس حادثے میں عبداللہ کردی کی بیوی ، 5 سالہ بیٹا غالب اور 3 سالہ بیٹا ایلان ڈوب کر جاں بحق ہوگئے عبداللہ کی بیوی اور 5 پانچ سالہ بیٹے کی لاش تو مل گئی لیکن ایلان کی لاش بہتے ہوئے ترکی کے ساحل بورم پر جاپہنچی ۔ ساحل پر پڑی ہوئی اس لاش کی تصویر کو مغرب کی سول سوسائٹی کے ان حلقوں نے سوشل میڈیا پر جاری کیا ، جو تارکین وطن کو پناہ دینے کے حامی ہیں۔
اس وقت یورپ پر تارکین وطن اور پناہ گزینوں کی یلغار ہے ۔ ان میں زیادہ تر تارکین ان عرب اور افریقی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں ، جو اس وقت بدترین خانہ جنگی ، خونریزی اور دہشت گردی کا شکار ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف ایک مہینے میں پناہ حاصل کرنے کے لئے جرمنی آنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی ہے ۔ اس وقت دنیا میں تارکین وطن کا بہت بڑا بحران موجود ہے ۔ یہ وہ لوگ نہیں ہیں ، جو یورپی ممالک میں بہتر مستقبل کے لئے جانا چاہتے ہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں ، جو اپنے ملکوں سے اپنی اور اپنے بچوں کی جانیں بچانے کے لئے وہاں سے فرار ہوئے ہیں ۔
 امریکہ اور اس کے حواری مغربی ممالک کی سامراجی پالیسیوں ، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر دنیا کے مختلف خطوں میں فوج کشی اور ان ممالک کے خفیہ اداروں کی خوف ناک کارروائیوں کی وجہ سے کرہ ارض کا ایک بہت بڑا حصہ جہنم بنا ہوا ہے اور انسانوں کی ایک بہت بڑی آبادی لاشیں اٹھانے ، معذوروں کو سنبھالنے ، اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ جگہیں تلاش کرنے ، بھوک اور بیماریوں سے لڑنے اور نفرتوں کے قہر سے بچنے میں مصروف ہے۔
دنیا کے کروڑوں انسانوں کے نزدیک زندگی کا مفہوم صرف یہ ہے کہ موت سے کیسے بچا جائے ۔ امریکہ اور اس کے حواری مغربی ممالک دہشت گردوں کی خفیہ پشت پناہی کرتے ہیں ، نسلی ، مذہبی اور فرقہ ورانہ فسادات کو ہوا دیتے ہیں ، لوگوں کو موت کے خوف میں مبتلا رکھتے ہیں ۔ تیسری دنیا کے فوجی افسروں اور سیاست دانوں کو اپنا ایجنٹ بنا کر وہاں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ایسے حالات پیدا کرتے ہیں کہ کبھی امن قائم نہ ہو ۔ امریکہ اور اس کے حواریوں نے اپنے ملکوں کو جنت بنا رکھا ہے ۔ ایلان کے باپ عبداللہ نے یہ خواہش کی تھی کہ وہ ایلان کو ایسی جگہ پہنچادے ، جہاں اس کی زندگی کو کوئی خطرہ نہ ہو لیکن بدنصیب ایلان کی لاش بھی وہاں نہ ملی ، جہاں وہ ڈوبا تھا ۔
مغربی حکمرانوں کا ضمیر ہو گا ، لیکن وہ کبھی جاگے گا نہیں ۔ اگر ضمیر جاگتا تو کسی مغربی ملک کا کوئی سربراہ حکومت یہ اعلان کرتا کہ وہ امریکہ اور اس کے حواریوں کی پالیسیوں سے لاتعلق ہورہا ہے ۔ ایسا اعلان کسی نے نہیں کیا ۔ تیسری دنیا کے حکمرانوں کا تو ضمیر مغرب پہلے ہی خرید چکا ہے ۔ معصوم ایلان کی لاش کی تصویر اگر عالمی سامراج کا بھیانک چہرہ واضح کرنے کی علامت بن گئی ہے تو آئیے اس تصویر کو سامنے رکھیں اور دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں مغربی حکمرانوں اور ان کے ایجنٹ تیسری دنیا کے حکمرانوں کی اداکاریوں کی بھرپور مذمت کریں اور صدق دل سے دو آنسو بہا کر اس مکاری کا پردہ چاک کریں ، جس کے ذریعے ایک طرف تو دہشت گردوں کی پشت پناہی کی جا رہی ہے اور دوسری طرف دہشت گردی کے خلاف جنگوں کے نام پر تیسری دنیا کے غریب ملکوں خصوصاً مسلمان ملکوں کو بدامنی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار کیاجا رہا ہے۔ 
عباس مہکری
بہ شکریہ روزنامہ  جنگ 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s