مسکراتے راحیل شریف کا خوف….وسعت اللہ خان

مصر کے جنرل عبدالفتح السیسی کو بطور چیف آف سٹاف کیا مقبولیت ملی ہوگی جو ان دنوں پاکستان میں جنرل راحیل شریف کو حاصل ہے۔
کراچی اور دیگر بڑے شہروں کے کچھ علاقوں کے ہر چوتھے کھمبے پر ہلتے پوسٹروں میں کہیں مکہ تان کے اور کہیں تانے بغیر جنرل صاحب ہر آنے جانے والے کی محبت کا مسکراتے ہوئے خیرمقدم کر رہے ہیں۔
کسی پوسٹر پر لکھا ہے ’تھینک یو راحیل شریف‘ تو کسی پر اہلیانِ شہر ان کے احسان مند ہیں۔
پاکستان میں روایت یہ رہی ہے کہ عموماً ایسے شکرانہ پوسٹروں پر ’منجانب فلاں فلاں‘ لکھا جاتا ہے اور پوسٹر میں ہیرو کے دائیں بائیں ’منجانب ‘ کی چھوٹی سی تصویر بھی کہیں نہ کہیں سے جھانک رہی ہوتی ہے۔
مگر راحیلی پوسٹروں میں نہ کسی ’منجانب‘ کا نام ہے نہ نشان۔ لگتا ہے نامعلوم محبِ وطن شہریوں نے خود کو بس ’اہلیان‘ لکھ کر صرف ایک مردِ آہن کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ثواب کمانے کی نیت کی ہے۔
مگر خراِج تحسین و عقیدت کی دوڑ میں اہلیان ِ کراچی و دیگران اب بھی اہلِ سوات سے کوسوں پیچھے ہیں۔ جب 2009 میں بذریعہ آپریشن راہِ نجات سوات سے طالبان کا صفایا کر دیا گیا تو مینگورہ اور سیدو شریف کے ہر دروازے، ستون، پٹرول پمپ، گاڑی، ٹرک، سائیکل، بجلی کے کھمبے، دیوار حتیٰ کہ چپلی کباب تلنے والے کڑاہوں اور مرغیوں کے آہنی پنجروں کو بھی سبز و سفید کر دیا گیا۔
اس جوش و خروش میں جہاں جہاں سبز رنگ کم پڑ گیا وہاں جامنی رنگ سے پاکستان کا عبوری جھنڈا بنا دیا گیا۔
میں اس حب الوطنی اور شکر گزاری کے مناظر نمناک آنکھوں سے دیکھتا جا رہا تھا کہ ایک جگہ کسی کریانہ فروش سے پوچھ لیا کہ سوات کے عوام نے از خود زندہ پرچم بنایا ہے یا کسی نے کان میں مشورہ پھونکا تھا؟ مجھے دیکھے بغیر کہنے لگا: ’بس یہی سمجھ لو ہم نے خود کیا ہے۔ ابھی اور بھی کچھ پوچھےگا یا پھر ہم تسلی سے اپنا سودا بیچ لیوے۔ 
پاکستان میں ایوب خان، یحییٰ خان، ضیا الحق اور پرویز مشرف کے بطور صدر اور 65 اور 71 کی جنگوں کے شہدا کے پوسٹر تو بہت شائع ہوئے لیکن حاضر سروس جنرلوں کے پوسٹر شائع ہونا تازہ رجحان ہے۔
اس کی ابتدا غالباً دو برس پہلے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر السلام کے پوسٹروں سے ہوئی جب حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد جنرل صاحب کے خلاف جیو نیوز نیٹ ورک نے شدید ردِعمل دکھایا اور پھر اچانک جنرل ظہیر السلام سے اظہارِ یکجہتی کے بینر اور پوسٹرز کچھ مذہبی سیاسی جماعتوں کے جلوسوں میں اور پنڈی اسلام آباد کے کھمبوں پر پھڑپھڑانے لگے۔اب جنرل راحیل شریف کے پوسٹر جگہ جگہ نظر آ رہے ہیں۔
’بے ساختہ والہانہ محبت‘ کے ان تصویری مظاہروں سے اور تو کچھ نہیں ہو رہا، بس یہ ہو رہا ہے کہ اہلِ سیاست میں عدم تحفظ پہلے سے زیادہ ہوگیا ہے اور تاثر یہ پیدا ہو رہا ہے گویا ملک دو حصوں میں بٹ گیا ہے۔ ایک وہ جو کرپٹ ہیں اور دوسرے وہ جو کرپٹ نہیں۔
گذشتہ دو ہفتے میں ایسےسوالات بھی ڈرائنگ روم سے باہر نکل پڑے ہیں کہ سب خیریت تو ہے؟ سب اچھا تو ہے؟
یہ خیال بھی جڑ پکڑ رہا ہے کہ حالات کے جبر کے سبب سیاسی حکومت کی رٹ فوجی قیادت کی جانب کھسک چکی ہے اور مرکزی حکومت عملاً ’ہر میجسٹی دا کوین‘ ہوتی جارہی ہے۔گو حکمران جماعت اب بھی بضد ہے کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں مگر تصویر کچھ یوں ٹپائی دے رہی ہے کہ یہ ’ون پیج‘ جنرل صاحب کے ہاتھ میں ہے اور نواز شریف اس پیج پر انگلی رکھ کے کچھ پڑھنے کی اداکاری کر رہے ہیں۔
اس فضا میں وفاقی وزرا بھی خاصے ٹچی (اضافی حساس) ہو رہے ہیں۔ مثلاً جب عمران خان نے دو تین روز پہلے مطالبہ کیا کہ کراچی کی طرز پر پنجاب میں بھی رینجرز آپریشن کیا جائے تو وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی نے ترنت جواب دیا کہ رینجرز کو کراچی میں احتساب کے اختیارات نہیں دیے گئے اور ذاتی سیاست چمکانے کے لیے عمران خان کی طرف سے فوج اور رینجرز کو سیاسی معاملات میں مداخلت کی دعوت دینا جمہوری ڈھانچے کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
اگر کسی سیاست دان نے پنجاب میں رینجرز کی مداخلت کا مطالبہ کیا بھی ہے تو اس مطالبے کا جواب وزیرِ اعلیٰ پنجاب یا ان کے معاونِ اعلیٰ رانا ثنا اللہ کو دینا چاہیے کہ وفاقِ پاکستان کے نمائندہ وزیرِ داخلہ کو؟
سوال یہ ہے کہ کیاسندھ اور اس کا دارالحکومت ترکی میں ہیں جہاں نیشنل ایکشن پلان کے تحت رینجرز کو احتساب کی غیر اعلانیہ اجازت ہے مگر پاکستان کے کسی اور صوبے میں نہیں؟
اور اگر کسی سیاست دان نے پنجاب میں رینجرز کی مداخلت کا مطالبہ کیا بھی ہے تو اس مطالبے کا جواب وزیرِ اعلیٰ پنجاب یا ان کے معاونِ اعلیٰ رانا ثنا اللہ کو دینا چاہیے کہ وفاقِ پاکستان کے نمائندہ وزیرِ داخلہ کو؟
پچھلے چند ماہ کے دوران فوج کے بڑھتے انتظامی و سیاسی اثر و رسوخ سے سول ملٹری تعلقات میں تناؤ کس قدر بڑھا، اس کا ایک ثبوت سیینٹ کے اندر ہونے والی بحث ہے جس کا اختتام کرتے ہوئے چیئرمین رضا ربانی نے کھل کر کہا کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر نہیں اور آئین کے اندر حکومت کی ماورائے قانون تبدیلی کی روک کےلیے آرٹیکل چھ سمیت جو رکاوٹیں شامل کی گئی تھیں وہ کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔
موجودہ فوجی قیادت نے ماورائے آئین اقدامات کا کوئی عندیہ نہیں دیا، مگر جنھوں نے پہلے ٹیک اوور کیا انھوں نے کون سا پیشگی عندیہ دیا تھا؟
دودھ کے جلے اس تاریخی پس منظر والے ملک میں اگر فوج کے حاضر سروس سربراہ کی تصاویر بکثرت نمودار ہو جائیں اور الیکٹرونک اور سوشل میڈیا بھی تھینک یو راحیل شریف کے کورس میں شامل ہو جائے تو وہاں وہاں تھرتھلی تو بہرحال مچتی ہے جہاں جہاں مچنے کا حق ہے۔
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s