دہشت گردوں کی کتنی صورتیں ہم نے دیکھیں

دہشت گردی کا ایک ہی چہرہ نہیں ہے۔ ایک وہ ہے جس سے جسم کے پرخچے اڑ جاتے ہیں اور ایک وہ ہے جو دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ اس کی ایک ہولناک شکل تو وہ ہے جس کے مکروہ سائے پچھلے کئی برسوں سے ہمارے ملک اور معاشرے پر پڑ رہے ہیں۔ پبلک مقامات، بازار اور مارکیٹیں، کھیل کے میدان، مساجد، مزارات اور غیر مسلموں کی عبادت گاہیں، تعلیمی ادارے اور ہمارے دفاعی مراکزاس کاہدف ہیں۔ قومی تنصیبات اور نمایاں سیاسی اور سماجی شخصیات اس کی ہِٹ لِسٹ پر ہیں۔
پولیس اور فوج کے سینکڑوں جوان اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ادھر ہمارا ازلی دشمن بھارت سرحدوں پر جارحانہ چھیڑ چھاڑ جاری رکھے ہوئے ہے اور ادھر ہماری بہادر افواج اس اندرونی دشمن یعنی دہشت گردی سے الجھی ہوئی ہیں۔ دہشت گردی کی اس سے بھی بڑی ایک شکل جذباتی گھاؤ لگانا ہے۔ مسلمانوں کے اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے بڑے مرکزِ عقیدت، یعنی نبی آخرالزّماں حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی شان میں زبان و قلم یا کسی بے ہودہ حرکت سے گستاخی اور ہماری متبرک و مقدس کتاب قُرآنِ کریم کی بے حرمتی کر نا اس دہشت گردی کی ایک اذیت ناک صورت ہے۔
اسی طرح ملک کے نظریاتی اور فکری وجود پر حملہ بھی دہشت گردی ہے۔ یہ دہشت گردی قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد تہذیبِ مغرب کے زیرِ اثرتجدد کی لہریں اٹھنے اور سیکولرزم اور لبرل ازم کی مسموم ہوائیں چلنے لگی تھیں۔ اگرچہ میری نظر میں سلمیٰ یاسمین نجمی کا ناول ’سانجھ بھئی چودیس ‘ اس دور کا شاہکار ہے لیکن گزشتہ ساٹھ پینسٹھ برسوں میں لکھے جانے والے جن دیگرتین چار اردو ناولوں کی قارئین اور نقادوں کے حلقوں میں خوب دھوم رہی ان میں قُرۃُ العین حیدرکا ناول ’آگ کا دریا‘ بھی ایک بڑا ناول ہے۔ اس پر ایک تو ویدانت فلسفے کی چھاپ گہری ہے دوسرے یہ اس ارسٹوکریٹ طبقے کی کہانی ہے جس سے خود مصنفہ کا تعلق تھا۔
اس کے 98 ویں باب میں پاکستان کی جو منفی تصویر کھینچی گئی ہے اس میں کچھ سچائی ہے اور کچھ مبالغہ ۔ لگن اور محنت سے وطن کی خدمت کے عزم، ایثار کیشی کی تابندہ مثالوں ،مثبت قدروں اور تعمیری جذبوں کو اس تصویر میں کوئی جگہ نہیں دی گئی۔ ان کی خود نوشت ’کارِ جہاں دراز ہے ‘ پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں اونچے منصبوں پرجو لوگ فائز ہوئے ان میں ایک بڑی تعداد ان کے قریب و دور کے رشتہ داروں اور ان کے خاندان سے قریبی تعلق والے سر ظفراللہ جیسے لوگوں اور اس ارسٹوکریٹ طبقے کی تھی۔ ملکی معیشت ابھی ٹھٹھری ہوئی تھی۔ ملک ابھی ٹھیک سے قدموں پر کھڑا بھی نہیں ہوا تھا۔ لاکھوں تباہ حال مہاجرین کو سر چھپانے کے لیے چھت بھی میسر نہیں آئی تھی۔ اپنے پیاروں سے بچھڑے ہوئے سینکڑوں لٹے پٹے مہاجرکیمپوں میں پڑے ہوئے تھے۔
لیکن ان لوگوں نے اپنے لیے شاندار کوٹھیاں اور بنگلے بنوانے شروع کر دیے۔ بے پناہ مراعات حاصل کر لی تھیں۔ بہانوں بہانوں سے بھاری ٹی اے ، ڈی اے کے ساتھ بیرونی ملکوں کے غیر ضروری دورے کر رہے تھے۔ اس طبقے میں مغربی تہذیب کے دلدادگان اور لبرل سوچ کا غلبہ تھا۔ بائیں بازوکے بارے میں مصنفہ بتاتی ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد اشتراکی انٹلکچوئل انقلاب سے نا امیدہو گیا تھا۔لیکن یہ پورا سچ نہیں ہے۔ اشتراکی دانش و فکر کے لشکروں نے ابھی میدان نہیں چھوڑا تھا۔ان دنوں اخبارات کی تعداد زیادہ نہیں تھی لیکن جتنے اخبار تھے ان کو لکھنے والوں کی ضرورت تھی۔ قلم کاروں کی دنیا میں اسلامی فکر اور صالح نظریات کا خاصا کال تھا۔
اخبارات اور ادبی اور سیاسی رسالے بائیں بازو کے اہلِ قلم کی مضبوط کمین گاہیں بن گئی تھیں جہاں سے وہ پاکستان کی فکری اور نظریاتی بنیادوں پر تابڑ توڑ حملے کر رہے تھے۔فکری دھول اڑائی جا تی تھی تاکہ ’پاکستان کا مطلب کیا، لَا اِلٰہ الَا اللہ ‘کا تصور آنکھوں سے اوجھل ہو جائے اور اس مملکتِ نو زائدہ کی نظریاتی شناخت کسی کو نظر نہ آئے۔ اسلام پسندی کے رجحانات پر بائیں بازو کا یہ طائفہ اور ساتھ مغرب نواز سیکولر لبرل طبقہ پے در پے حملے کر رہا تھا۔ یورپ کے اخبارات اور رسائل کی کارٹونوں کی صورت میں پیغمبرِ انسانیت ﷺ کی شان میں گستاخی تو ابھی کل کی بات ہے ۔ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ یہ کسی سوشلسٹ مزدور یونین کے زیرِ اہتمام چھپنے والا رسالہ تھا جس میں قیامِ پاکستان کے کچھ ہی عرصہ بعد ایک کارٹون چھاپ کر رسولِ پاک ﷺ کی شان میں سخت گستاخی کی گئی تھی۔
اس دہشت گردی کا وار سیدھا مسلمانوں کے قلب و روح پر پڑتا تھا۔ ایسی حرکتوں کا مقصد یہ جانچنا ہوتا تھا کہ مسلمان معاشرے میں دین پسندی کے رجحانات تحریکِ پاکستان کے وقت کی سطح پر ہیں یا ٹھنڈے پڑ رہے ہیں۔ یوں گویا فکری و نظر ی دہشت گردی زوروں پر تھی۔ جہاں اسلام کے خلاف کھلی دریدہ دہنی ممکن نہ ہوتی تھی وہاں ان دینی قوتوں کو طنز اور تنقید کا نشانہ بنانا ترقی پسندی کا وتیرہ بن گیا تھا جو پاکستان میں اسلامی نظام کا مطالبہ  کرتی تھیں۔ جماعت اسلامی اور اس کے بانی سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ ہمیشہ اس فکری دہشت گردی کا ہدف رہے ہیں۔
سرد جنگ کے عرصے میں اشتراکی فکر اور مغربی تہذیب اور سرمایہ دارانہ نظام کے حامی دانشوروں میں باہم خواہ کیسی ہی فکری مناقشت رہی ہو لیکن اسلام کے خلاف ان کی سوچ اور اظہارات یکساں تھے۔ اسلامی قوتوں میں مدرسہ و خانقاہ سے نہ ان کو کبھی خطرہ رہا اور نہ ان کے ساتھ کوئی آویزش۔ دینی جماعتوں میں جدید نظریاتی فتنوں کا ادراک بھی صرف جماعت اسلامی کو تھا اور ان فتنوں کا توڑ کرنے کی علمی و فکری استعداد بھی اسی کے پاس تھی ۔
منیر احمد خلیلی
بہ شکریہ روزنامہ  نئی بات 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s