مونچھوں کا تاؤ کس کے لیے؟…وسعت اللہ خان

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور سکیورٹی کونسل کے ارکان کو بھارتی ایجنسی را کی مداخلت کے بارے میں ٹھوس معلومات اور ثبوتوں پر مبنی جو تین دستاویزات فراہم کی ہیں کیا یہ دستاویزات ’ملزم‘ کو بھی کسی سفارتی بیلف کے ذریعے بھجوائی گئیں؟ یا پھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ان دستاویزات کا مہر بند اضافی لفافہ تھمایا گیا کہ جس پر لکھا ہو، ’برائے ملاحظہ وزیرِ اعظم شری نریندر مودی معرفت بان کی مون صاحب، ڈاکخانہ خاص نئی دلی۔‘
 
اگر ایسا کچھ نہیں ہوا تو پھر اس دستاویزی مشقت کا مقصد سوائے اس کے کیا ہے کہ ملزم کے علم میں فردِ جرم لائے بغیر جیوری سے کہا جائے کہ فیصلہ سنائیے۔ اور وہ کیا مصلحت ہے جس کے تحت پاکستانی عوام اور میڈیا کو ان دستاویزات کی تفصیلات سے دور رکھا جا رہا ہے۔ بھارت تو دوست ملک بھی نہیں جس کے بارے میں ’حساس‘ معلومات عام کرنے سے تعلقات خراب ہوجائیں گے۔
مجھ جیسے یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہیں کہ بھارتی وزیرِ اعظم کے دورہِ امریکہ کے دوران 23 ستمبر کو جاری ہونے والا مشترکہ اعلامیہ پاکستانی میڈیا کی نگاہ سے کیسے اوجھل ہوگیا جس میں امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اور بھارتی وزیرِ خارجہ سوشما سوراج نے عہد کیا کہ:
(الف) اوباما مودی ویژن کے مطابق امریکہ بھارت تعلقات کو 21 ویں صدی میں انسدادِ دہشت گردی کی شراکت داری ( پارٹنر شپ ) میں تبدیل کیا جائے گا۔
(ب) دونوں ممالک متفق ہیں کہ القاعدہ اور اس کے ساتھی، لشکرِ طیبہ، جیشِ محمد، ڈی کمپنی ( یعنی داؤد ابراہیم )، حقانی نیٹ ورک اور دیگر علاقائی گروہ جنوبی ایشیا کے استحکام کے درپے ہیں۔
(ج) فریقین مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان 2008 ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔
(د) دونوں ممالک 27 جولائی کو گورداسپور اور پانچ اگست کو اودھم پور جموں و کشمیر میں دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔
 
چند روز بعد وزیرِ اعظم نواز شریف سلامتی کونسل کے ایک مستقل رکن امریکہ کے باضابطہ سرکاری دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ سلامتی کونسل کے اس مستقل رکن کو اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی بھارتی مداخلت سے متعلق تینوں دستاویزات پہلے ہی فراہم کرچکی ہیں۔ نیویارک میں وزیرِ اعظم نواز شریف جان کیری سے پہلے ہی چوبیس منٹ کی ملاقات کر چکے ہیں۔ ہوسکتا ہے انہوں نے امریکہ بھارت مشترکہ اعلامیے کے بارے میں اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیا ہو۔
چند روز بعد جب نواز شریف واشنگٹن میں صدر اوباما اور ان کی ٹیم سے اجتماعی و انفرادی طور پر ملیں گے تو اس کے بعد مشترکہ اعلامیہ بھی جاری ہوگا۔ کیا اس اعلامیے میں یہ ہوگا کہ:
(الف) اوباما شریف ویژن کے مطابق امریکہ پاکستان تعلقات کو 21 ویں صدی میں انسدادِ دہشت گردی کی شراکت داری ( پارٹنر شپ ) میں تبدیل کیا جائے گا۔
(ب) امریکہ اور پاکستان متفق ہیں کہ حساس بھارتی اداروں کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت جنوبی ایشیا کے استحکام کے منافی ہے اور اسے فوراً روکا جائے۔
( ج) فریقین مطالبہ کرتے ہیں کہ نواز شریف نے جنوبی ایشیا میں قیامِ امن کے لیے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جو چار نکاتی فارمولا پیش کیا ہے اس کی روشنی میں بھارت اور پاکستان دو طرفہ بات چیت کا عمل بحال کریں۔
(د) امریکہ اور پاکستان سمجھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا جلد از جلد پر امن حل نکلے تاکہ جنوبی ایشیا کے عوام پر ترقی کے دروازے کھل سکیں اور علاقے میں جوہری اور غیر جوہری اسلحے کی دوڑ تھم سکے۔
اگر ایسا یا اس کا بھی آدھا اعلامیہ جاری نہیں ہوسکتا تو پھر اتنی بھاگ دوڑ اور پھرتیاں کس لیے؟ جب صاحب لوگ ( عالمی برادری ) ہی مونچھوں کی تعریف نہ کریں تو اپنے خانسامے، ڈرائیور، مالی، چوکیدار اور آئینے کے سامنے اپنی مونچھوں کو تاؤ دینے کا فائدہ ؟
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s