کمزور، لاچار اور بے اختیار عدالتی نظام

یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں سب سے بے بس، کمزور، لاچار اور بے اختیار عدالتی نظام ہے۔ اس نظام کے سامنے روز ایسے ملزم پیش ہوتے ہیں جن کے بارے میں ججوں کو سو فیصد یقین ہوتا ہے کہ ان سے جرم سرزد ہوا ہے لیکن وہ انھیں سزا نہیں دے سکتے۔کہتے ہیں اس کے خلاف صفحۂ مثل پر کچھ نہیں، ہم سزا کیسے دیں۔ یہ صرف چند ہفتے پہلے کی بات ہے کہ مشہور ممبر قومی اسمبلی اس بنیاد پر نااہل قرار دے دیا گیا کہ اس کی ڈگری جعلی ہے۔

 موصوف ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں پیش تھے۔ اینکر نے سوال پوچھا، آپ نے کس مضمون میں ایم ا ے کیا ہے۔ کہنے لگے یار تیرہ چودہ سال پرانی بات ہے، اب یاد تھوڑا رہتا ہے۔ اینکر کے بار بار اصرار کرنے پر بتایا کہ اتنا یاد ہے کہ میں نے ایم اے آرٹس کے مضمون میں کیا ہے۔ یہ اینکر اگر مزید دو تین سوال اور کرتا تو پاکستان بھر میں مناسب سی تعلیم رکھنے والا شخص بھی یہ فیصلہ کر سکتا تھا کہ اس ممبر اسمبلی کی ایم اے کی ڈگری جعلی ہے۔ لیکن کس قدر بے بس ہے ہمارا عدالتی نظام کہ موصوف کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کر کے اس کے مضمون کے مطابق چند سوال پوچھ کر یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ اس کی ڈگری جعلی ہے۔

اس کا یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ اگر ہم نے ایسا کرنا شروع کر دیا تو پھر ایک لائن لگ جائے گی۔ یعنی آپ اس خوف سے درست فیصلہ نہیں کرتے کہ آپ کو ایسے ہزاروں درست فیصلے کرنا پڑ جائیں گے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ڈگری تصدیق کرنے والے محکمے کے پاس بھیجو، تصدیق کر دے تو مان لو بے شک سامنے کھڑا شخص جاہل مطلق ہی کیوں نہ نظر آ رہا ہو۔ ایسا بہت کچھ روز عدالت کے سامنے ہو رہا ہوتا ہے۔ قانون میں ایک لفظ ’’alibi‘‘ ایلی بائی ہے جس کا مطلب ہے کہ فلاں شخص جس پر قتل یا کسی اور جرم کے ارتکاب کا الزام ہے وہ تو موقع پر موجود ہی نہیں تھا۔
 روزانہ عدالتوں میں جعلی سرٹیفکیٹ پیش ہوتے ہیں، جعلی جہاز کی ٹکٹیں اور بورڈنگ پاس دکھائے جاتے ہیں، کئی دفعہ تو یوں ہوتا ہے کہ کسی کرائے کے پیشہ ور قاتل کی گرفتاری ڈالی جاتی ہے، پھر اسے خاموشی سے چند گھنٹوں کے لیے حوالات سے نکالا جاتا ہے۔ وہ قتل کر کے واپس حوالات آ جاتا ہے۔ موقع پر دس لوگ موجود ہوں، وہ سب کے سب گواہی دیں، لیکن کس قدر بے بسی ہے عدالت کی کہ وہ صفحۂ مثل پر آئی ہوئی اس  پر خود تحقیق کا آغاز نہیں کر سکتی۔
روزانہ عدالت کے روبرو پیش ہونے والے گواہوں کو کہیں پیسے دیکر اور کہیں ڈرا دھمکا کر بیان بدلنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اسے بیرون از عدالت تصفیہ بھی کہتے ہیں۔ اکثر بااثر قاتل گھرانے کے لوگ مقتول کے گھرانے کو دھونس، جبر یا پھر ان کی غربت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سرمائے کا استعمال کر کے گواہوں کو بٹھاتے ہیں اور عدالت کس قدر بے بس ہو جاتی ہے کہ اس کو علم بھی ہو کہ اس شخص نے قتل کیا ہے، وہ اسے باعزت بری کر دیتی ہے۔ پاکستان کی جیلوں میں روزانہ ایسے ہزاروں افراد قید کر دیے جاتے ہیں جن کا نام دشمنی کی بنیاد پر ایف آئی آر میں لکھا جاتا ہے۔
 چالان پیش ہونے تک یہ عدالت کی دسترس میں نہیں آ پاتے، البتہ عدالتیں ہی انھیں ریمانڈ بھی دے رہی ہوتی ہیں۔ اگر کسی طرح ان بے گناہوں کے خلاف چالان بھی مکمل ہو جائے تو مقدمے کی آخری عدالت کی فیصلے کی بنیاد پر پھانسی پر بھی جھول جاتے ہیں۔ ایک دندناتے ہوئے مجرم کا عدالت کے ہاتھوں سے نکل جانا اور ایک بے گناہ کا سزا پا جانا ہمارے عدالتی نظام پر ایک سوال ہے جس کا جواب کوئی تلاش نہیں کرتا۔ البتہ اس عدالتی نظام کو مضبوط کرنے کے خواہش مند آپ کو ہر طبقۂ خیال میں ملیں گے۔
عدلیہ کی آزادی پر گھنٹوں دلائل دینے والوں میں وکیلوں کی فوج ظفر موج سے لے کر دانشور، سیاست دان اور صحافی سب شامل ہیں۔ ان سب کے سامنے گزشتہ دنوں سرمایہ اور طاقت کے نشے میں دھت بااثر لوگوں کی اولادوں نے قتل کیے۔ میڈیا کی چکا چوند روشنی میں مائیں اپنے لخت جگر کا ماتم کرتی نظر آئیں۔ لوگ باقاعدہ قاتلوں کی نشاندہی کرتے رہے۔ کراچی میں شاہ زیب اور لاہور میں زین کا قتل ایسے روز روشن کی طرح واضح حقیقتوں میں سے تھے کہ ان میں مجرم کا بچ نکلنا کسی کے تصور میں بھی نہیں آ سکتا تھا۔
 حیرت کی بات ہے زین کے قتل کے وقت وہ تمام گواہان جو انگلیاں اٹھا اٹھا کر صدیق کانجو کے بیٹے مصطفی کانجو کی فائرنگ کو زین کے قتل کی وجہ بتاتے تھے عدالت میں پلٹ گئے جیسے یہ سب ہوا ہی نہیں تھا۔ اب فیصلہ یوں ہے کہ وہاں گولیاں بھی چلیں، آپس میں لڑائی بھی ہوئی، سنسناتی گولی زین کے سینے میں اتری لیکن ان تمام لوگوں کی موجودگی کے باوجود عدالت کے سامنے یہ ثابت نہ ہو سکا کہ کس کی گولی زین کو موت کے گھاٹ اتار گئی۔ سب باعزت بری۔ یہ ہے ہمارے عدالتی نظام کی بے بسی۔
لیکن میرا المیہ یہ نہیں ہے کہ اس عدالتی نظام کا ماتم کروں جسے اینگلوسیکسن قانون کہتے ہیں اور جسے ہمارا آئین تحفظ دیتا ہے۔ میرا ماتم یہ ہے کہ یہی آئین اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ اس ملک میں کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنایا جا سکتا۔ اس اینگلوسیکسن قانون کے تحت اگر روز گواہ بیٹھ جائیں اور مجرم عدالت سے باعزت بری ہو جائے تو کوئی اس نظام پر انگلی نہیں اٹھاتا۔ لیکن اس ملک میں اللہ کے بتائے ہوئے اس اصول قصاص و دیت کے تحت اگر کوئی وارث اپنے مقتول کے قاتل کو معاف کر دے تو اخبارات کے صفحے اس قانون کے خلاف کالے ہونے لگتے ہیں۔ 
رات کو ٹاک شوز میں دانشور اسلام کے اس قانون کے خلاف آستین چڑھا لیتے ہیں، صدیوں سے پاکستان کے قبائلی معاشرے میں یہ اصول رائج ہے کہ جب جرگہ کسی قتل کا فیصلہ کرنے بیٹھتا ہے تو وہ یہ طے کر لیتے ہیں کہ ہم قتل کے بدلے قتل کروا کر دشمنی کو مزید ہوا نہیں دینا چاہتے۔ اس لیے خوں بہا لے کر صلح اور امن کی رسم کا آغاز کیا جائے۔ اسلام کے اس بنیادی اصول کو اپناتے ہوئے انھوں نے صدیوں پرانی دشمنیوں کو ختم کیا۔ لیکن ہم وہ بدقسمت ’’پڑھے لکھے‘‘ لوگ ہیں جو ایسے عدالتی نظام کا دفاع کرتے ہیں جہاں دھونس، دباؤ اور لالچ سے عدالت کے سامنے جھوٹ بول کر قاتل کو چھڑا لیا جائے لیکن اسلام کے اصولوں کے تحت کسی کو معاف کر کے دنیا میں امن اور آخرت میں اجر عظیم کا سودا نہیں کرنے دیتے۔
ہماری منافقت اور اسلام سے دشمنی کا یہ عالم ہے کہ روزانہ ہزاروں بے گناہ غلط ایف آئی آر درج ہونے کی وجہ سے جیل میں پھینک دیے جاتے ہیں لیکن کسی وکیل، انسانی حقوق کے چیمپئن یا این جی او کے کرتا دھرتا نے یہ آواز نہیں اٹھائی کہ پاکستان کے ضابطہ فوجداری میں ترمیم کی جائے اور اس وقت تک کسی کو گرفتار نہ کیا جائے جب تک تفتیش مکمل نہ ہو جائے۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں کو آج تک ایسے ہزاروں لوگ نظر نہیں آئے جو صرف ایف آئی آر میں نام درج ہونے کی وجہ سے سالوں جیل میں سڑتے رہتے ہیں۔ لیکن جیسے اسی ضابطۂ فوجداری کی وجہ سے توہین رسالت کا مقدمہ درج ہوتا ہے تو سب کی آنکھیں غصے سے ابلنے لگتی ہیں۔ 
ہر کوئی الفاظ کے تیر لے کر سامنے آ جاتا ہے۔کسی میں اتنی جرأت تو ہے نہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین کو جرم قرار نہ دے، اسے کبھی آمر کا بنایا ہوا قانون کہہ کر بات کی جاتی ہے اور کبھی کہا جاتا ہے کہ ضابطہ فوجداری کا قانون بدل دیا جائے۔ ہزاروں بے گناہ مجرم جیل کی سلاخوں کے پیچھے اس نظام کی بھینٹ چڑھ رہے ہوتے لیکن سب کو توہین رسالت کے مجرم ہی مظلوم نظر آتے ہیں لیکن جیلوں میں موجود ہزاروں بے گناہ یاد نہیں آتے۔ صرف وہی لوگ یاد آتے ہیں جن پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی توہین کا الزام تھا۔ کیا ایسا کرنا بذات خود توہین رسالت کی سزا کا تمسخر اڑانا نہیں ہے۔
کس نے قانون کو ہاتھ میں لیا اور کون بے گناہ مارا گیا، کس پر الزام جھوٹا اور کون عالمی ایجنڈے پر اس قانون کے خلاف بول رہا تھا، یہ سب کچھ سپریم کورٹ اور پاکستان کے بے بس عدالتی نظام میں زیربحث آتا ہے۔ فیصلے ہوتے ہیں لیکن ایک عدالت اس سے بالاتر ہے۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و آلہ و سلم بازار سے گزر رہے تھے کہ مکہ کے لوگوں نے اشارہ بازی شروع کی اور کہا یہ شخص کہتا ہے کہ اس کے پاس جبریل آتا ہے (نعوذ باللہ) جبرائیل علیہ السلام خود شریف لائے اور ان کی جانب انگلی کا اشارہ کیا تو ان کے جسم سے خون بہنے لگا اور ایسی بدبو آئی کہ ان کے قریب کوئی نہ جاتا تھا (طبرانی الاوسط)۔

 قبیلہ بنونجار کا ایک شخص مسلمان ہوا، کاتب وحی مقرر ہوا، پھر نصرانی ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مذاق اڑاتا کہ میں نے وحی میں بہت سی ایسی باتیں لکھ دیں جن کا انھیں پتہ نہ چلا۔ کچھ دن بعد اس کی گردن ٹوٹ گئی۔ لوگوں نے دفن کیا، لاش کو زمین نے قبول نہ کیا۔ صبح باہر پڑی تھی، اگلی صبح اور نیچے دفن کیا، پھر ایسا ہوا، پھر کیا، آخر لاش ویرانے میں پھینک دی گئی (مسلم) آپ فیصلے کرتے جاؤ، اینگلوسیکسن قانون کا تحفظ اور اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کا تمسخر اڑاتے جاؤ لیکن جان رکھو کہ اس کائنات کی آخری عدالت وہ قادر مطلق کی ہے جو جب، جہاں، جس وقت چاہے اپنے فیصلے کا اعلان کر دے اور ہماری چیخ و پکار سننے والا بھی کوئی نہ ہو۔

اوریا مقبول جان

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s