کوٹ ڈیجی – Kot Diji | archaeological site, Pakistan

خیرپور میرس سے تقریباً 15 میل کے فاصلے پر ہزاروں برس قبل کوٹ ڈیجی کی موجودہ بستی کے مغرب کی جانب ایک پہاڑی پر ایک چھوٹا سا حسین شہر آباد تھا جو ڈیجی رانی کے دور میں کافی مشہور تھا۔ یہ شہر تو آہستہ آہستہ ختم ہوگیا لیکن ڈیجی کے نام سے یہ پہاڑی قائم رہی جس کی چند برسوں قبل کھدائی مکمل ہوئی ہے اور آثار قدیمہ کے ماہرین نے اس میں سے بہت سی نادر اشیاء برآمد کی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ جگہ جہاں اب ’’کوٹ ڈیجی‘‘ ہے یہاں میر سہراب خان نے احمد آباد کی حفاظت کے لیے ایک قلعہ تعمیر کروایا تھا۔ 

سندھی زبان میں قلعہ کو ’’کوٹ‘‘ کہتے ہیں۔ چونکہ یہ قلعہ ڈیجی پہاڑی کی اسی پرانی بستی پر بنایا گیا اس لیے یہ ’’کوٹ ڈیجی‘‘ کہلایا۔ ایک سروے کے مطابق اس قلعہ کی لمبائی 5000 فٹ، چوڑائی3000 فٹ اور سطح زمین سے بلندی 70 فٹ ہے۔ اسے میرسہراب خان کے وزیر تعمیرات محمد صالح زہری بلوچ کی زیر نگرانی تعمیر کیا گیا اور اسے قلعہ احمد آباد کا نام دیا گیا۔ ہزاروں کاریگروں، مزدوروں اور ماہرین کی مدد سے اس قلعے کی تعمیر 26 برس میں مکمل ہوئی۔اس کا طول عرض 85,730مربع میٹر ہے اس کے اندر سات برج یا مینار ہیں۔ اس قلعے میں چاروں طرف فصیل اور پہاڑوں پر مورچے بنائے گئے تھے قلعے میں بڑی بڑی توپیں جن میں تین خاص طور پر مشہور ہوئیں۔

 ایک ’’مریم توپ‘‘ جسے شاہ پرتگال اپنے ساتھ لایا تھا اور اسے روہڑی کے قریب دریائے سندھ پر چھوڑا کر چلا گیا تھا۔ میر سہراب خان نے ہاتھیوں کے ذریعے اس توپ کو کوٹ ڈیجی پہنچا دیا۔ دوسری توپ ’’صنعا صنعا‘‘ اور تیسری ’’ملک میدان‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ شروع میں تو اس بستی کا نام احمد آباد ہی تھا لیکن جب خیرپور کے میروں نے قلعہ کوٹ ڈیجی کو اپنا دارالخلافہ بنایا تو امیروں اور وزیروں کے محلات اور مکانات یہاں تعمیر ہونے شروع ہوئے اور آس پاس کے رہنے والے لوگ سرکاری کام کاج کے لیے یہاں آنے لگے۔ جب ان سے کوئی پوچھتا کہ’’کہاں جا رہے ہو تو وہ جواب میں کہتے ’’کوٹ ڈیجی‘‘ یوں آہستہ آہستہ اس پوری بستی کا نام ہی ’’کوٹ ڈیجی‘‘ پڑ گیا۔ 1845ء تک کوٹ ڈیجی کو بڑی اہمیت حاصل تھی لیکن اس کے بعد جب انگریزوں کی حکومت قائم ہوئی اور سرچارلس نیپئر اس علاقے کے ریذیڈنٹ تعینات ہوئے تو کوٹ ڈیجی کی جگہ خیرپور نے لے لی۔ 

اس قلعے کی چار دیواری پکی اینٹوں کی بنی ہوئی ہے اور اس میں داخل ہونے کے لیے صرف ایک ہی بڑا سا دروازہ ہے جو مضبوط لکڑی کا بنا ہوا ہے دیواروں پر چڑھنے کے لیے اندر بنی ہوئی سیڑھیاں اور مورچے قابل دید ہیں۔ اوپر کے حصے میں سفید پتھروں سے ایک بارہ دری بنائی گئی ہے جس میں میر اپنا دربار لگایا کرتے تھے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس کے اندر یا باہر کبھی کوئی جنگ نہیں لڑی گئی۔ روایت ہے کہ مریم نامی توپ میں دو ایسے کڑے لگے ہوئے ہیں جو ہر سال اپنی جگہ بدلتے رہتے ہیں اگر وہ ایک سال اوپر کے حصے میں ہوں تو اگلے سال نچلے حصے میں نظر آئیں گے۔

 انگریزوں نے اس بعید کو جاننے کی سرتوڑ کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ جب مریم توپ کو چلایا گیا تو اس سے نکلا ہوا گولہ چودہ میل کے فاصلے پر جا کر گرا جس سے ایک راہ گیر اور گدھا ہلاک ہوگیا۔ گولے کے دھماکے سے تمام شہر اور پہاڑیاں اس طرح کانپ اٹھی تھیں جیسے شدید زلزلہ آیا ہو۔ کوٹ ڈیجی کا قلعہ دفاعی اور انتظامی مقاصد کے لیے مخصوص کیا گیا تھا اور یہاں ایک سالار کی نگرانی میں 500 سپاہیوں کا دستہ 100 توپوں کے ساتھ تعینات کیا گیا تھا یہ سلسلہ کم و بیش 1843ء تک جاری رہا۔ 

قلعے کے رہائشی علاقے تک پہنچنے کے لئے تین بڑے ہال نما دروازوں کو عبور کرکے آنا پڑتا ہے۔ تینوں دروازے انتہائی مضبوط لکڑی سے بنائے گئے ہیں۔ ہاتھیوں کے حملے سے بچائو کے لیے اس پر آہنی کیلیں ٹھونکی گئیں ہیں۔ یہ آہنی نوک دار کیلیں دروازے سے اس طرح ابھری ہوئی ہیں کہ ایک بار ٹکرانے کے بعد شاید ہی کوئی ہاتھ دوسری بار ٹکرانے کی کوشش کرے۔ پہلے دروازے سے گزر کر سامنے چھوٹے میدان میں پہنچتے ہی بائیں طرف کنواں نظر آئے گا اس کنوئیں سے ان دنوں پانی کی ضرورت پوری کی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ سامنے ہی ایک کمرہ نظر آئیگا جس کی آج چھت نہیں ہے اس کمرے کے سامنے والی دیوار میں 1000 سوراخ بنائے گئے ہیں جن میں چراغ رکھے جاتے تھے یعنی یہ جگہ گودام کے طور پر استعمال کی جاتی تھی۔

 گودام کے پاس کھڑے ہو کر بائیں جانب دیکھنے سے نگاہ ایک حوض پر پڑتی ہے جس کی گہرائی 12 فٹ لمبائی 37 فٹ اور چوڑائی 33 فٹ ہے۔ یہ حوض قلعے کے اندر پانی ذخیرہ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ قلعے کے مشرقی سمت میں سب سے اونچا برج واقع ہے جسے فتح برج قرار دیا گیا ہے مرکزی دروازے سے کچھ ہی فاصلے پر شمال کی جانب سابق والئی ریاست کی عارضی رہائش گاہ واقع ہے اس کی بیرونی چار دیواری اور باورچی خانے والا حصہ کچی اینٹوں سے بنا ہوا ہے جبکہ اندرونی رہائشی حصہ پختہ اور مغلیہ طرز پر محرابی دروازوں اور خوبصورت نقش و نگار پر مشتمل ہے۔ قلعے کے اندر شمالی حصے میں ایک اونچے اور پختہ چبوترے پر والئی ریاست کے لیے بنائی گئی پتھر کی تخت گاہ فن سنگ تراشی کا ایک خوبصورت اور بیش قیمت نمونہ ہے۔ 

 شیخ نوید اسلم کی کتاب ’’پاکستان کے آثارِ قدیمہ‘‘ سے ماخوذ   

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s