پاک چائنا اکنامک کاریڈور۔ ایک قابل عمل فارمولا

احمق ہیں وہ لوگ جو چین پاکستان اکنامک کاریڈور کو محض ایک بڑا پروجیکٹ قرار دے رہے ہیں۔ یہ محض ایک پروجیکٹ نہیں بلکہ خطے کے لئے گیم چینجر ہے۔ یہ پاکستان کی سماج، سیاست اور بالخصوص معیشت میں مثبت انقلاب کی کنجی ہے اور اس سے بڑھ کر یہ خود چین کی معیشت اور تزویراتی اہداف کے لئے اب اس کی سب سے بڑی ضرورت اور مجبوری ہے۔ اس پروجیکٹ کا دوست چین اور پاکستان کا دوست اور اس کا دشمن، ان دونوں کا دشمن ہے۔

 جو اس کو متنازع بناتا ہے، وہ ان دونوں ممالک بلکہ خطے کے روشن مستقبل کو متنازع بناتا ہے اور جو اس کی روح کے مطابق اس کی جلد از جلد تکمیل کو ممکن بنانے میں حصہ ڈالتا ہے ، وہ ان دونوں ممالک اور خطے کے عوام کا محسن قرار پاتا ہے لیکن بدقسمتی سے کوئی اور نہیں بلکہ خود موجودہ حکمران، اپنی چند ذاتی خواہشات، علاقائی مفادات اور مخصوص تعصبات کی وجہ سے اسے متنازع بنا کر چین اور پاکستان بلکہ خطے کے ساتھ بے وفائی اور ظلم کے مرتکب ہورہے ہیں۔

 وہ شخص پاکستانی کہلانے کا مستحق ہی نہیں جو اس کے مشرق اور مغرب میں تفریق کرے اور جو اس کے ایک حصے کی خوشحالی کو دوسرے حصے کی خوشحالی نہ سمجھے لیکن وسائل کی تقسیم میرٹ اور برابری کی بنیاد پر نہ ہوتو سگے بھائی بھی الجھ پڑتے ہیں۔ بات بڑی سادہ ہے۔ شمالی اور جنوبی پاکستان، مشرقی سمت میں جی ٹی روڈ کی شکل میں ایک خوبصورت سڑک کے ذریعے بھی ایک دوسرے سے منسلک ہیں، ریلوے لائن کے ذریعے بھی اور اب الحمد للہ موٹروے کے ذریعے بھی لیکن مغرب کی طرف پشاور کو گوادر یا پھر اسلام آباد کو کوئٹہ سے ملانے کی لئے کوئی روڈ نہیں تھا۔

ہندوستان کے ساتھ جنگوں کے دوران جب اس کی فوجوں نے جی ٹی روڈ کو بند کرکے پاکستان کے شمال کو جنوب سے کاٹنا چاہا تو اس وقت مغربی سمت میں انڈس ہائی وے کی تعمیر کا خیال سامنے آیا لیکن آج تک اسے جی ٹی روڈ کی طرح دو رویہ نہیں بنایا جاسکا۔ پاکستان جیسے ملک میں تو کبھی یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ چین کی طرز پر شمال اور مشرق سے وسائل اٹھاکر اسلام آباد سے گوادر تک یا پھر چترال سے گوادر تک موٹروے تعمیر کی جاتی لیکن چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور کی صورت میں یہ موقع میسر آیا تھا کہ چین کے تعاون سے ایسا کیا جائے لیکن افسوس کہ حکمرانوں نے اس حوالے سے غلط بیانی اور جھوٹ سے کام لے کر لاہور کو ہی کاریڈور کا مرکز بنانے کی سازش کی ۔

 جب ہم جیسے چند دل جلوں نے پہلے خلوتوں میں اور پھر جلوتوں میں فریا د شروع کی تو حکومتی ترجمانوں نے روایتی چالاکی سے کام لینا شروع کیا۔ پہلے ایک موقف اپنایا گیا ، پھر دوسرا اور پھر تیسرا۔ جب پلاننگ کمیشن کا ایک ایک جھوٹ اور غلط بیانی دلائل اور شواہد کے ساتھ آشکار ہونے لگی اور بلوچستان یا پختونخوا تو کیا سندھ سے بھی آوازیں بلند ہونے لگیں تو مجبور ہوکر آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی ۔
اس میں وزیراعظم نے قوم اور سیاسی رہنمائوں سے یہ وعدہ کیا کہ مغربی روٹ کو ترجیح دی جائے گی لیکن اب سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی ، نگرانی کے لئے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی اور اے پی سی میں شریک بیشتر سیاسی قائدین پکار اٹھے ہیں کہ ان سے جھوٹا وعدہ کیا گیا ۔ ایک طرف تو حویلیاںکو موٹروے کے ذریعے سیدھا اسلام آباد میں لاہور موٹروے سے جوڑا جارہا ہے ۔ دوسری طرف رتوڈیروکو گوادر سے موٹروے کے ذریعے ملایا جارہا ہے اور دونوں پر بڑی تیزی کے ساتھ کام جاری ہے لیکن حسن ابدال سے براستہ میانوالی ، ڈی آئی خان  ژوب تاگوادر موٹروے پر رتی برابر کوئی کام نہیں ہورہا ۔
 نہ تو اس کی فیزیبلٹی بنائی جارہی ہے ، نہ اس کے لئے بجٹ میں کوئی رقم مختص کی گئی ہے اور نہ اس حوالے سے کوئی اور سرگرمی نظر آرہی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ ا س وقت لاہور اور اسلام آباد کے مابین جی ٹی روڈ کا فاصلہ بہت کم ہے۔ وہ چار لائن کی سڑک ہے اور نہایت ہموار ہے۔ اس پر موٹروے کی طرح کوئی ٹیکس بھی نہیں لیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف اسلام آباد لاہور موٹروے کا فاصلہ اس کے مقابلے میں تقریباً سو کلومیٹر زیادہ ہے اور اس پر کئی سو روپے ٹیکس بھی دینا پڑتا ہے لیکن لاہور اور اسلام آباد کے درمیان سفر کے لئے ہر کوئی موٹروے کا استعمال کرتا ہے۔ اب جب ایبٹ آباد(حویلیاں)سے لے کر گوادر تک براستہ لاہور موٹروے موجود ہو تو کسی ڈرائیور کا دماغ خراب ہے کہ وہ میانوالی اور ڈی آئی خان وغیرہ کے راستے تنگ سڑک پر گوادر جائے ۔ دوسری طرف اکنامک زونز کے بارے میں بھی ابھی تک پراسراریت اور دوغلے پن سے کام لیا جارہا ہے ۔
 دوسری طرف حکومتی بدنیتی عیاں ہوتے ہی بلوچستان اور پختونخوا میں عوامی غیض وغضب میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اے این پی ، جماعت اسلامی اور جے یو آئی سے بڑھ کر عمران خان صاحب مغربی روٹ کے حق میں میدان میں نکل آئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے بھی وزیراعظم کواس حوالے سے خط لکھ دیا ہے۔ دوسری طرف چینی حکومت کی تشویش رو ز بروز بڑھ رہی ہے ۔ وہاں کی قیادت پروجیکٹ کے متنازع بن جانے سے شدید پریشان ہے ۔
یہاں خود حکمران پاکستان میں چین کی دوستی اور تعاون کو متنازع بنانے کی دانستہ یا نادانستہ کوشش کررہے ہیں ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ حکمران مغربی روٹ کے حامی سیاسی رہنمائوں کے سامنے غلط بیانی کرکے یہ عذر پیش کررہے ہیں کہ یہ تو چین کا منصوبہ ہے اور یہ چینیوں کی خواہش ہے کہ مغربی کی بجائے مشرقی روٹ کو ترجیح دی جائے۔ اسی طرح یہ غلط بیانی بھی کی جارہی ہے کہ اکنامک زونز اور انرجی پروجیکٹ کی ترجیحات چینی حکومت اور کمپنیوں نے متعین کرنی ہیں۔
 حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے اور کوئی بھی ملک ، کسی دوسرے ملک کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ اپنے ہاں ترجیحات کا تعین وہ کرے اور چین تو قطعاً ایسا نہیں کرتا ۔ لیکن اپنی خواہشات کے لئے کئے جانے والے ان اقدامات کے لئے جب حکومتی لوگ وہاں کے عوام اور سیاستدانوں کے سامنے چین کاسہارا لیتے ہیںتو لوگوں کی نظروں میں اس کی حیثیت متنازع بنتی ہے ۔ اس لئے اب چین اور پاکستان کی دوستی کی مٹھاس کو برقرار رکھنے کا بھی تقاضا یہ ہے کہ حکمران اپنی ضد اور چالاکی چھوڑ دیں ۔
 انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ایشوکم ازکم پختونخوا اور بلوچستان میں عوامی سطح پر ذہنوں میں اتر چکا ہے ۔ حکمران اگر خلوتوں میں بلوچ اور پختون رہنمائوں کو منا بھی لیں تو عوام ان کو معاف نہیں کریں گے ۔ اگرتو مغربی روٹ کو اپنایا گیا تو ناراض بلوچوںا ور محروم پختونوں کو بھی راضی کیا جاسکے گا لیکن اگر حکومتی ہٹ دھرمی جاری رہی تو راضی بلوچ بھی ناراض ہوجائیں گے اور پاکستان کے شیدائی پختون بھی بگڑ جائیں گے۔
موجودہ حکمرانوں کے بارے میں پہلے سے یہ تاثر عا م ہے کہ وہ دوستوں کو رسوا کرتے ہیں۔ پہلے ایک برادر عرب ملک جیسے دوست اور ذاتی محسن کو یمن کے معاملے پر پاکستان میں رسوا کیا گیا۔ ترکی کے وزیراعظم اور ان کے خاندان کو پاکستانی طرز سیاست سکھا کر انہیں پاکستان میں متنازع کیا گیا اور اب لگتا ہے کہ چین جیسے غیرمتنازع دوست کی دوستی اورتعاون کو پاکستان میں متنازع بنایا جارہا ہے۔ اس لئے وزیراعظم صاحب لفاظی چھوڑ کر اور سازشی مشیروں سے کم ازکم اس معاملے میں جان چھڑا کر چین پاکستان اکنامک کاریڈور منصوبے کو آئینی فورم یعنی مشترکہ مفادات کونسل میں لے آئیں۔
 مغربی روٹ پر موٹروے کی تعمیر کے لئے فنڈز دے کر اس پر کام کا آغاز کردیں ۔جب تک مغربی موٹروے مکمل نہیں ہوتی تب تک بے شک مشرقی اور وسطی روٹ کو استعمال کیا جائے۔ نگرانی کے لئے تمام جماعتوں کے رہنمائوں پر مشتمل ایسی کمیٹی بنائی جائے جس میں بلوچستان کا حصہ سب سے زیادہ ہو اور جس میں گلگت بلتستان کے نمائندے بھی شامل ہوں۔
 آئینی، اخلاقی اور سیاسی ہر حوالے سے گوادر سے متعلقہ کسی بھی منصوبے پر سب سے زیادہ حق بلوچوں کا ہے۔ اس لئے صرف وزیراعلیٰ بلوچستان اور محمود خان اچکزئی کو رام کرنے پر اکتفا کرنے کی بجائے بلوچستان کے ہر طرح کے رہنمائوں کو ہر حوالے سے اعتماد میں لیا جائے۔ اکنامک زون کم ازکم پچاس فیصد بلوچستان کو دئیے جائیں۔اس کے بعد گلگت بلتستان اور پھر پختونخوا کو حصہ دیا جائے۔ انرجی پروجیکٹس میں سندھ اور جنوبی پنجاب کو ترجیح دی جائے۔
وسطی پنجاب کی ترقی بھی ہماری ترقی ہے لیکن قوم کے وسیع تر مفاد میں اگر اس ایک منصوبے میں وہ قربانی دے دے تو کوئی قیامت نہیں آئے گی ۔ ہاں البتہ ٹھیکے اور کمیشن بلاشبہ حسب منشا وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والے سرمایہ داروں اور حکمرانوں کو دئیے جائیں ، جن کو نوازنے کے لئے یہ سب جتن کرکے منصوبے کو متنازع بنایا رہا ہے۔ پختون، سندھی اور بلوچ قوم پرستوں نے پچھلے سالوں میں بہت کما لیاہے۔ اس لئے چین پاکستان اکنامک کاریڈور میں وہ ٹھیکوں اور کمیشنوں سے دستبردار ہوجائیں اور باقی حوالوں سے وسطی پنجاب کی مسلم لیگی قیادت قربانی دے دیں۔یہ پاکستان پر بھی احسان ہوگا اور چین پر بھی۔
سلیم صافی
 بشکریہ روزنامہ ‘جنگ 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s