دہشتگردی کا سدباب

بہت سی  وجوہات کی بنا پر ایک یوم سوگ ہے۔ 43 سال تک ہم 1971ء میں مشرقی پاکستان کی فوجی شکست کو یاد کر کے غمگین رہے جب کہ 16 دسمبر 2014ء کو اس قدر ہولناک سانحہ ہوا جس کو  الفاظ میں بیان ہی نہیں کیا جا سکتا۔ اے پی ایس پشاور کے سانحہ نے پاکستانی عوام پر دہشتگردی کے وحشیانہ مائنڈ سیٹ کو مکمل تفصیلات کے ساتھ عیاں کر دیا اور اس سانحے نے پورے ملک کے لوگوں کو دہشتگردی کے عفریت کے مقابلے کے لیے متحد کر دیا۔

سندھ میں موجودہ تنازعہ اختیارات کی کشمکش کا نتیجہ ہے کیونکہ کرپشن کے ڈانڈے دہشتگردی سے مل جاتے ہیں، بسا اوقات منظم جرائم کی وجہ سے اور بسا اوقات براہ راست وہی نتیجہ نکلتا ہے۔ دہشت گرد گروپوں کو اسلحہ اور روپے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے جس کو مہمیز دینے کی خاطر گاہے بگاہے کسی نظریہ کو استعمال کیا جاتا ہے جب کہ جرائم پیشہ لوگوں کو مال و دولت کی ہوس کی وجہ سے تقویت حاصل ہوتی ہے۔ 
ان کے رابطے کالے دھن کو سفید کرنے والوں یعنی منی لانڈرنگ والوں سے‘ جعلی پاسپورٹ اور شناختی دستاویزات تیار کرنے والوں سے محفوظ رہائش گاہیں فراہم کرنے والوں سے، دھماکا خیز مواد فراہم کرنے والوں وغیرہ سے ہوتے ہیں۔ وہ بڑی کامیابی کے ساتھ حکومت کے اعلیٰ حلقوں تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں اور قوانین اور قواعد و ضوابط کا غلط استعمال کرتے ہیں اور یہی غلط استعمال بعض مواقع پر اصل قانون کا درجہ اختیار کر لیتا ہے۔
سندھ حکومت نے رینجرز کو کراچی میں کارروائی کا اختیار دینے میں جان بوجھ کر جو رکاوٹ پیدا کی اس سے سارا معاملہ واضح طور پر کھل کر سامنے آ گیا۔ دہشت گردی کی ترویج کے لیے لاجسٹکس کی فراہمی کی خاطر بھاری رقوم 3 مدوں میں لگائی گئی ہیں -1 دھماکا خیز ساز و سامان-2خفیہ پناہ گاہیں اور نقل و حرکت کی سہولتیں شامل ہیں نیز آسان اہداف کی تلاش کا کام بھی کیا جاتا ہے۔ یہ رقوم حاصل کرنے کے لیے قتل و غارت سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔
 دہشت گرد مختلف دائروں کی شکل میں رہتے ہیں۔ سب سے اندرونی دائرے کے باہر دوسرا نسبتاً وسیع تر دائرہ ہوتا ہے جس میں براہ راست مدد کرنے والے‘ منصوبہ بندی کرنے والے‘ کمانڈرز‘ مذہبی شخصیات وغیرہ شامل ہوتے ہیں جو انفراسٹرکچر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ تیسرا دائرہ مذہبی‘ تعلیمی اور فلاحی تنظیموں پر مشتمل ہوتا ہے جس میں سے بعض اپنے طور پر کام کرتے ہیں جب کہ بعض کو دباؤ کے ذریعے مجبور کیا جاتا ہے۔ 

چوتھا دائرہ وہ ہے جس میں منتخب نمائندے اور بیوروکریٹ شامل ہوتے ہیں جو درحقیقت سب سے زیادہ خطرناک لوگ ہوتے ہیں۔ ان لوگوں پر جمہوریت نافذ  کرنے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

جج حضرات جن پر عدل و انصاف کرنے کی ذمے داری عائد ہوتی ہے وہاں سے اگر مجرموں کو کوئی رعایت یا ریلیف مل جائے تو اس سے جرم ختم ہونے کے  بجائے الٹا  پرورش پانا شروع کر دیتا ہے۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ مجرم قانون کے نام پر کس طرح مجرمانہ کام کرتے ہیں اس کے لیے ہمیں ان معروف سیاسی شخصیات اور بیوروکریٹس کی طرف دیکھنا ہو گا جن کے خلاف بہت سے مقدمات کی تحقیقات جاری ہیں۔
 اہل دانش اور عام لوگ اس متوازی معاشرے کی سرگرمیوں سے یا تو لاعلم ہیں یا ان سے لاتعلق ہیں اور یہ متوازی سوسائٹی حکومت کے اندر اور حکومت کے باہر ہر دو طرف موجود ہے جس کا غیر قانونی انڈر ورلڈ سے اور غیر قانونی اقتصادی منڈیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے۔ میڈیا کی توجہ کھینچنے کے لیے دولت بھی استعمال کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر عاصم حسین کے مقدمے نے یہ سارے راز ہائے دروں خانہ کھول کر بیان کر دیے ہیں۔
دہشت گردی منظم جرائم کے بغیر کام نہیں کر سکتی اور منظم جرائم کے ذریعے اسمگل شدہ منشیات‘ اسلحہ اور انسانی اسمگلنگ مختلف ممالک اور خطوں میں کروائی جاتی ہے جو کرپشن کے بغیر ممکن نہیں نیز اس مقصد کے لیے منشیات کی نقل و حمل سے مدد لی جاتی ہے۔ عسکریت پسندوں کے مراکز کے ذریعے منشیات کی غیر قانونی تجارت اور دیگر جرائم کیے جاتے ہیں۔ ان سب چیزوں پر قابو پانے کے لیے پولیس کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا لازمی ہے تا کہ وہ مجرمانہ نیٹ ورک کا سراغ لگا کر انھیں ناکارہ بنا سکیں۔
 لیکن اگر پولیس خود ہی کرپشن اور منظم جرائم میں ملوث ہو جائے تب اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ڈاکٹر عاصم حسین قصوروار ہیں یا نہیں تاہم  ان سے  اعترافی بیان لکھوا لیا گیا جب کہ اس کے ساتھ ہی تمام شواہد ضایع کر دیے۔ اب ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک فوجی عدالت اس پولیس آفیسر پر مقدمہ چلا سکتی ہے جس  نے ٹھوس ثبوت ضایع کر دیے ہیں۔ 
اس کا جواب یہ ہے کہ مکمل طور پر غیر قانونی ماحول میں قانون کا نفاذ ممکن ہی نہیں ہے۔ ہم نے مذہب اور قومیت کے مابین فرق کو خلط ملط کر دیا ہے جو لوگ نسلی یا فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دیتے ہیں ان ہی کو سب سے زیادہ سزا ملنی چاہیے۔ وہ لوگ جو منصوبہ سازوں کے ساتھ براہ راست ملوث ہوتے ہیں اور وہ لوگ جو انھیں بالواسطہ مدد دیتے ہیں ان کو لازمی طور پر ہدف بنایا جانا چاہیے۔ ان لوگوں کو خیرات کے نام پر بھی فنڈ موصول ہوتے ہیں۔
دہشت گردوں کی مالی ضروریات کرپشن کے ذریعے یا غیر ملکی ذرائع سے پوری کی جاتی ہیں۔ اس کو روکنے کا طریقہ یہی ہے کہ تمام رقوم کا بینکوں کے ذریعے لین دین کیا جائے جس سے پیسے دینے والے اور وصول کرنے والے دونوں کا پتہ چل سکتا ہے اور یہی طریقہ ہے جس سے رقوم کی غیر قانونی منتقلی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ مہذب دنیا ابھی اس فریب میں مبتلا ہے کہ مکمل طور پر لاقانونیت کے ماحول میں بھی قانون کا عمل دخل نافذ کیا جا سکتا ہے۔ 
کسی ملک میں آدم خوروں کے خلاف کوئی قانون نہیں ہے کیونکہ قانون سازوں کے نزدیک اس قسم کا تصور بھی ممکن نہیں۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا ایسی چیزوں کے بارے میں بھی قانون سازی کرے جن کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے بہت سے دفاعی حصار قائم کرنا پڑیں گے مثلاً -1 جو لوگ دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث ہیں ان کا کھوج لگا کر ان کی شناخت واضح کی جائے اور ان کی نقل و حرکت پر کڑی نگاہ رکھی جائے اور جو ان معاملات میں ملوث پایا جائے اس کے خلاف فوری اور موثر قدم اٹھایا جائے۔
اکرام سہگل

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s