زرداری صاحب ! آپ ٹھیک کہتے تھے

آصف علی زرداری میں بہت سی خامیاں ہیں۔ ہر انسان کی طرح زرداری صاحب نے بھی زندگی میں بہت غلطیاں کی ہیں اور ان کا خمیازہ بھی بھگتا۔ وہ اپنے کچھ دوستوں کو بڑا وفادار اور بہادر سمجھتے تھے لیکن ان دوستوں نے انکی کمر میں خنجر گھونپے اور جن کی وفاداری پر وہ شک کرتے تھے مشکل وقت میں ان میں سے اکثر لوگ زرداری صاحب کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن آج میں زرداری صاحب کی ایک ایسی پیش گوئی کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو درست ثابت ہوئی۔

 یہ 2008ء کی بات ہے عام انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت اسلام آباد میں سر جوڑ کر بیٹھی تھی کہ مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم، اے این پی اور کچھ دیگر چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائے یا مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر حکومت بنائے۔ اس وقت کے صدر پرویز مشرف کا زرداری صاحب کے ساتھ رابطہ تھا ۔ مشرف پی پی پی اور مسلم لیگ (ق) کی مخلوط حکومت بنا کر اپنی صدارت قائم رکھنا چاہتے تھے لیکن وہ مخدوم امین فہیم کو وزیر اعظم بنوانا چاہتے تھے۔
زرداری صاحب کو مشرف کے عزائم کا علم تھا اس لئے وہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ حکومت بنانے میں زیادہ سنجیدہ تھے ۔مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی سے یہ تحریری وعدہ لینا چاہتی تھی کہ وہ حکومت بننے کے فوراً بعد معزول ججوں کو رہا کرنے کے علاوہ فوری طور پر بحال بھی کرے گی۔آصف علی زرداری تحریری وعدہ کرنے سے گریز کر رہے تھے ۔
یہ خاکسار ان ٹی وی اینکرز میں شامل تھا جن پر مشرف حکومت نے نومبر 2007ء میں پابندی لگا دی تھی کیونکہ ہم نے وکلاء تحریک کو بہت اجاگر کیا تھا ۔میری یہ رائے تھی کہ آصف علی زرداری کو نواز شریف کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ کرکے مخلوط حکومت بنا لینی چاہئے۔ ایک دن آصف علی زرداری نے مجھ سے پوچھا کہ آپ نے نواز شریف اور عمران خان کی طرح جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کو اپنی زندگی اور موت کا مسئلہ کیوں بنا رکھا ہے ؟

میں نے وضاحت کی کہ میرے سمیت اکثر صحافیوں کو افتخار محمد چوہدری کی ذات سے کوئی غرض نہیں ہم تو صرف آئین کی بالادستی چاہتے ہیں اور آئین کے مطابق چیف جسٹس کی برطرفی غلط ہے ۔زرداری صاحب نے کہا کہ میری بات لکھ کر جیب میں ڈال لو۔افتخار محمد چوہدری کا ایجنڈا آئینی نہیں بلکہ سیاسی ہے اور ایک دن وہ اپنی سیاسی جماعت بنائے گا جس کا نام جسٹس پارٹی ہو گا۔ میں نے زرداری صاحب کے اس دعوے کو مسترد کر دیا تو انہوں نے کہا کہ اس شخص نے 1999ء میں مشرف کی بغاوت کو جائز قرار دیا آج یہی شخص تمہارا ہیرو کیسے بن گیا ؟ میں نے زرداری صاحب کو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی تقریر کے وہ الفاظ یاد دلائے جن میں انہوں نے سابق چیف جسٹس کی رہائش گاہ کے باہر کھڑے ہو کر کہا تھا کہ وہ اس گھر پر پاکستان کا پرچم دوبارہ لہرائیں گی۔ 

آصف علی زرداری نے یہ کہہ کر بحث ختم کر دی کہ میں زیادہ دلائل نہیں دوں گا لیکن یاد رکھنا افتخار محمد چوہدری کا مقصد آئین کی بالادستی نہیں بلکہ سیاست ہے۔ کچھ دنوں بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ایک تحریری معاہدہ کر لیا ۔ آصف علی زرداری اور نواز شریف کی ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں مجھ سمیت دیگر اینکرز پر پابندی کے خاتمے کا اعلان ہو گیا اور ہم نے ٹی وی اسکرین پر جلوہ افروز ہوتے ہی معزول ججوں کی بحالی کے مطالبے کو دہرانا شروع کر دیا۔
آصف علی زرداری نے مخدوم امین فہیم کی بجائے مخدوم یوسف رضا گیلانی کو وزیر اعظم بنوایا۔ نواز شریف کے ساتھ مل کر پرویز مشرف کو ایوان صدر سے نکالا اور خود صدر پاکستان بن گئے۔ وقت گزرتا گیا اور معزول ججوں کی بحالی کا معاہدہ لٹکتا گیا۔ میرے کالم اور تبصرے تیر و تلوار بن کر زرداری صاحب پر برس رہے تھے۔
ایک دن انہوں نے مجھے ایوان صدر بلایا اور کہا کہ مشرف کے ساتھیوں نے جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے ذریعے مجھے صدارتی الیکشن کیلئے نااہل قرار دلوانے کو کوشش کی لیکن ڈوگر صاحب نے انکار کر دیا جب تک ڈوگر صاحب کا وقت پورا نہیں ہوتا افتخار محمد چوہدری بحال نہیں ہو سکتے، آپ نے میرے بارے میں جو لکھنا اور بولنا ہے بولتے رہو لیکن مت بھولنا ایک دن یہی شخص سیاسی پارٹی بنا کر تم سب کو غلط ثابت کر دے گا ۔پھر یہ ہوا کہ معزول ججوں کی بحالی کا وعدہ پورا نہ ہونے پر مسلم لیگ (ن) حکومت سے نکل گئی، پنجاب میں گورنر راج نافذ ہو گیا۔ نواز شریف اور عمران خان سڑکوں پر آگئے اور آخر کار افتخار محمد چوہدری بحال ہو گئے۔ ہم نے اس بحالی کو آئین کی فتح قرار دیا۔
ایک قصہ اور سن لیجئے۔ جب پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتیں مل کر اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے صدر کو حاصل اختیارات وزیر اعظم کو منتقل کرنے کی تیاریوں میں تھیں تو ایک دن میں نے زرداری صاحب سے پوچھا کہ آپ نے افتخار محمد چوہدری کو بحال کرنے میں بہت دیر لگائی لیکن صدر کے اختیارات ختم کرنے پر اتنی جلدی کیسے راضی ہو گئے؟زرداری صاحب نے قہقہہ لگایا اور کہا کہ میں چاہوں تو نواز شریف تیسری مرتبہ وزیر اعظم نہیں بن سکتے لیکن میں اس ترمیم کے ذریعے تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے پر پابندی ختم کروں گا 
کیونکہ یہ پابندی ایک فوجی صدر نے لگائی، پھر وہ مسکرائے اور کہا کہ میں چاہتا ہوں نواز شریف تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنیں اور انہیں پتہ چلے کہ میں افتخار محمد چوہدری کے بارے میں جو کہتا تھا وہ سچ تھا۔ کچھ دن پہلے افتخار محمد چوہدری صاحب نے اپنی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا تو مجھے آصف علی زرداری بہت یاد آئے ۔وہ صحیح اور میں غلط ثابت ہوا۔سیاسی جماعت بنانا کوئی بری بات نہیں۔
افتخار محمد چوہدری سمیت ہر پاکستانی شہری کو نئی سیاسی جماعت بنانے کا حق حاصل ہے لیکن حیرانگی اس بات پر ہوئی کہ سابق چیف جسٹس نے پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام لانے کیلئے جدوجہد کا اعلان کر دیا ۔وہ یہ کیسے بھول گئے کہ 1962ء میں جنرل ایوب خان نے نئے آئین کے ذریعے صدارتی نظام نافذ کیا تھا۔یہ آئین چیف جسٹس شہاب الدین نے بنا کر دیا تھا ۔ اسی آئین کے تحت 1965ء میں صدارتی انتخاب ہوا جس میں محترمہ فاطمہ جناح نے جنرل ایوب خان کا مقابلہ کیا۔

جنرل صاحب نے قائد اعظم ؒ کی بہن کو انڈین ایجنٹ قرار دیا اور دھاندلی سے الیکشن جیت لیا۔اسی صدارتی نظام میں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے راستے جدا ہوئے۔ 1973ء میں پارلیمانی نظام لایا گیا لیکن جنرل ضیاءالحق نے آٹھویں ترمیم کے ذریعے اس نظام کو دوبارہ صدارتی بنا دیا۔ جنرل مشرف نے بھی سترہویں ترمیم کے ذریعے صدارتی نظام کو بحال کیا۔یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ صدارتی نظام ایک دفعہ نہیں تین دفعہ آزمایا جا چکا ہے۔

ایوب خان کے وزیر قانون ایس ایم ظفر کہتے ہیں کہ صدارتی نظام اچھی چیز ہے لیکن پاکستان کیلئے مناسب نہیں ہے ۔کچھ لوگ صدارتی نظام کے حق میں قائد اعظم ؒکا نام استعمال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قائداعظم ؒ صدارتی نظام کے حامی تھے۔ قائد اعظم ؒنے مہاتما گاندھی اور امبیدکر کی طرح صدارتی نظام پر غور تو کیا لیکن اس کے حق میں کوئی فیصلہ نہ دیا۔ انہوں نے 25 مارچ 1948ء کو چٹاگانگ میں سرکاری افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کی حکومت ہے اور جمہوری اصولوں کے مطابق اور پارلیمانی روایات کے مطابق عوام کو جواب دہ ہے۔
 قائد اعظمؒ نے پارلیمانی روایات کے مطابق گورنر جنرل بننے کے بعد مسلم لیگ کی صدارت چھوڑ دی تھی۔ قائد اعظم ؒکے ساتھیوں نے 1956ء میں جو آئین بنایا وہ پارلیمانی تھا صدارتی نہیں تھا۔ افتخار محمد چوہدری صاحب کو اپنی رائے کے اظہار کا پورا حق ہے اسی طرح ہم بھی اپنے حق کو استعمال کرتے ہوئے انہیں یاد دلائیں گے کہ 12دسمبر 2013ء کو انہوں نے سپریم کورٹ میں اپنے الوداعی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جس آئین کی بالادستی کیلئے عدلیہ کی قربانیوں کا ذکر کیا وہ پارلیمانی ہے صدارتی نہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ آپ نے زرداری صاحب کو صحیح اور مجھے غلط ثابت کر دیا ہے
حامد میر
 بشکریہ روزنامہ “جنگ”

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s