کسی اچھے حکمران کی تلاش

انسانوں کے خالق اللہ تبارک تعالیٰ نے انسان کو دو بازو دیے اور ان کے سر پر ہاتھوں کی صورت میں تاج سجائے چنانچہ یہی تاج والے بازو ہیں جن کے سہارے انسان زندگی بسر کرتا ہے یہی روٹی روزی کا ذریعہ بنتے ہیں اور انھی ہاتھوں سے میں یہ سطریں بھی لکھ رہا ہوں وہ انسان ایک نا مکمل انسان ہے جس کے بازو نہ ہوں یا جو ہاتھوں سے محروم ہو جن کی انگلیوں اور ہتھیلیوں نے کبھی دلآویز لمس محسوس نہ کیا ہو لیکن تقدیر اگر کسی انسان کو ہاتھوں سے محروم کر دے اور وہ ٹنڈ منڈ بازوؤں کے سہارے زندگی گزارنے کی کوشش کرے تو شاید سانس تو لیتا رہے مگر ایک بے جان مشین کی طرح ایک ایسی ہی بے جان مشین ان دنوں ضلع حافظ آباد کے ایک گاؤں میں کسی کی سنگ دلی کا تماشا بنی ہوئی ہے۔

جوریاں گاؤں کا نوجوان ابوبکر عرف اکرم سے اس کا زمیندار اس کے کام نہ کرنے سے اس قدر برہم ہوا کہ اس نوجوان کے دونوں ہاتھ چارہ کاٹنے والی مشین میں دے دیے جو کٹ گئے۔ جب یہ خبر وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کو ملی تو وہ گاؤں میں اس مضروب کے پاس پہنچے اس سے تفصیلات معلوم کیں اور اسے تسلی دی کہ اس کے زخم کا ہر ممکن ازالہ کیا جائے گا۔ دس لاکھ روپے دیے اور سرکاری خرچ پر مصنوعی ہاتھ لگانے کے بعد اسے سرکاری ملازمت بھی دی جائے گی۔

مگر یہ ہاتھ کٹا ابوبکر عرف اکرم اپنی باقی زندگی کس طرح گزارے گا یہ میاں صاحب کو معلوم ہو گا یا اس زمیندار کو جس کے اس جرم کے بارے میں میاں صاحب مکمل غیر جانبدار انکوائری کرا رہے ہیں۔ اس کے ہاتھ تو کٹ چکے اب انکوائری کس بات کی۔ اس کا ازالہ تو صرف ایک ہی صورت میں ہو سکتا ہے جو سراسر اسلامی ہے وہ یہ کہ مجرم کے ہاتھ بھی کاٹ دیے جائیں اس چارہ کاٹنے والی مشین سے جس نے اکرم کی زندگی تباہ کر دی ہے۔

یہ دس لاکھ روپے اور سرکاری نوکری اگر کسی نوجوان کے دونوں ہاتھوں کا معاوضہ ہو سکتا ہے تو دس دس لاکھ روپوں کی گڈیاں بنا کر اس بہادر زمیندار کے عزیز نوجوانوں کو پیش کر دی جائیں ان کے ہاتھوں کے عوض۔ آنکھ کے بدلے آنکھ تو اس کو ہی کہتے ہیں اور دنیا کا کوئی قانون اسے بے انصافی نہیں کہہ سکتا بلکہ بے انصافی تو یہ ہے کہ مجرم کو اس کے جرم کی سزا نہ دی جائے اور دی بھی جائے تو کوئی ایسی سزا دی جائے جو اس کے جرم کے برابر نہ ہو۔ اس کے ہاتھ تو سلامت رہیں مگر اس کے کسی کمزور کے ہاتھ کاٹ کر زمیندار کے کسی کتے کو ڈال دیے جائیں۔
حضور پاکؐ  نے فرمایا تھا کہ وہ قومیں تباہ ہوئیں جن کے بڑوں کے لیے الگ قانون ہوتے تھے اور کمزوروں کے لیے الگ۔ حضور پاکؐ کی کچہری میں جب رئیس خاندان کی کسی مسماۃ فاطمہ کے خلاف چوری کا مقدمہ پیش ہوا تو اہل مکہ نے سفارش کی کہ یہ بڑے باپ اور بااثر قبیلے کی بیٹی ہے اسے معاف کر دیں تو حضور پاک نے فرمایا کہ اس کی جگہ اگر ہماری بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تو میں اسے بھی معاف نہ کرتا۔ ہمارے صوبے کے حاکم میاں شہباز شریف کے آئیڈیل حکمران حضرت عمر بن عبدالعزیز ہیں۔ میں نے ان سے رابطہ نہیں کیا لیکن انھیں مجھ سے زیادہ معلوم ہو گا کہ اصل صورت حال کیا ہے اور انصاف کیسے کیا جا سکتا ہے۔
حضرت ابو بکر صدیقؓ  نے فرمایا تھا کہ جسے مسلمانوں کا سربراہ بنایا گیا گویا اسے کند چھری سے ذبح کر دیا گیا۔ ہم لوگ جو باہر بیٹھے ہیں اور کسی ایسی ذمے داری سے آزاد ہیں ان کی سوچ کچھ بھی ہو سکتی ہے لیکن میاں صاحب کے دل میں اگر خدا نے انصاف کی شمع روشن کر دی ہے تو وہ اس کی روشنی اپنے پورے صوبے میں پھیلا دیں۔ وہ صرف صوبے کے چیف منسٹر ہی نہیں ہیں وہ وزیر اعظم کے حقیقی بھائی بھی ہیں اور دونوں کی سیاسی زندگی ساجھی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم کو تو ان کے بقول ایک مدت سے پتہ ہی نہیں چلا کہ حکومت کیا ہوتی ہے۔ گویا ہم پاکستانی اپنے حکمران کی بے خبری میں ہی مرتے رہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ اب تھوڑا تھوڑا پتہ چل رہا ہے چنانچہ اب ہم بحوالہ کسی حد تک ایک باخبر حکمران کی حکومت میں زندہ رہیں گے میاں شہباز شروع دن سے ہی ماشاء اللہ باخبر ہیں کیونکہ ان کی مشہور عالم سرگرمی کو ایک دنیا تسلیم کرتی ہے اور بعض حکمران تو ان کی نقل کی کوشش بھی کرتے ہیں پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی مثال ہے کہ کسی نے ہمارے کسی حکمران کی تعریف کی ہے ورنہ حالت تو یہ رہی ہے کہ پاکستان کو امداد دینے والے اداروں کا ایک اجلاس ہوا ۔
جس میں بعض امدادیوں نے کھل کر کہا کہ ان کو کیا امداد دیں یہ تو سب کھا پی جاتے ہیں اور یہ انھوں نے سچ کہا ہے کہ سب کچھ ہمارے سامنے ہے اب پہلی بار کسی حکمران کی تعریف کی جا رہی ہے بلکہ خود پاکستان کے اندر ایک صوبے کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہمیں بھی شہباز شریف مل جائے تو غنیمت ہے لیکن ایک سوال یہ ہے کہ ہمارے اس صوبے کے حکمران کو کس نے روکا ہے کہ وہ شہباز نہ بنیں۔ نیت نیک اور ارادہ پختہ ہو تو ہر صوبے کا حکمران شہباز شریف ہے۔
پاکستان کے عوام کو اسی شہباز کی تلاش ہے جو ان کی صفوں میں موجود ہے مگر حالات نے اسے دبا  رکھا ہے۔ خود یہ اصلی شہباز بھی کسی ادارے کے تربیت یافتہ نہیں ہیں ان کو موقع ملا اور ان کا ضمیر جاگ اٹھا بس اتنی سی بات ہے جو ہر پاکستانی کو میسر آ سکتی ہے خواہ وہ کسی صوبے اور کسی قبیلے کا بھی ہو لیکن کسی شہباز کی تلاش جاری رہے کہ اس تلاش میں بھی برکت پیدا ہو سکتی ہے اور بے انصافی کے شکار پاکستانی انصاف اور عدل کی دنیا میں سانس لے سکتے ہیں۔
عبدالقادر حسن

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s