بات اپنی اپنی، ہاتھی اپنا اپنا – وسعت اللہ خان

امریکی صدر بارک حسین اوباما نے اپنے دورِ صدارت کے آخری اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کانگریس کے مشترکہ اجلاس کے روبرو بہت سے باتیں کہیں۔ ان میں یہ بات بھی تھی کہ 

اگلے کئی برس تک مشرقِ وسطی، افغانستان، پاکستان اور وسطی امریکا، افریقہ اور ایشیا کے متعدد خطے عدم استحکام سے دوچار رہیں گے۔ کچھ خطے نئے دھشت گرد گروہوں کی پناہ گاہ بنیں گے، کئی علاقے نسلی بحران کی لپیٹ میں آئیں گے یا پھر قحط سالی  اور پناہ گزینوں کی نئی لہر کا سامنا کریں گے‘‘۔
اوباما کی اس خبرداری کا مقصد یہ تھا کہ امریکی کانگریس آنے والے برسوں میں ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے  دامے درمے قدمے آنکھیں،  کان  اور دل و دماغ کھلے رکھے۔
اوباما کے اس خطاب پر پاکستانی مشیرِ خارجہ سرتاج عزیز نے یہ تبصرہ کیا کہ  امریکی صدر نے افغانستان اور پاکستان میں عدم استحکام کے تسلسل کے بارے میں جو کہا ہے دراصل وہ پیش گوئیاں ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان انتہا پسندی اور دھشت گردی کے خلاف جو اقدامات کر رہا ہے ان کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں مزید استحکام آئے گا۔ جہاں تک افغانستان کا معاملہ ہے وہاں کچھ عدم استحکام ضرور ہے البتہ پاکستان افغانستان میں قیامِ امن اور استحکام کے لیے ہر ممکن کوشاں ہے‘‘۔
سرتاج عزیز نے یہ تبصرہ چینی اسکالرز، سفارت کاروں اور صحافیوں سے ایک ملاقات کے دوران کیا۔ میں یہ بتانے سے قاصر ہوں کہ چینیوں نے سرتاج عزیز کی بات سنجیدگی سے سنی ہو گی کہ زیرِلب مسکراتے ہوئے۔ البتہ یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ سرتاج عزیز نے عامل بابا اوباما  کی تمام پیش گوئیوں میں سے اپنی مرضی کی ایک پیشگوئی اٹھا کر اسے زمینی حقائق کے برعکس قرار دے ڈالا۔

ایک ہاتھی کو چار نابینا ٹٹول رہے تھے۔ ایک کا ہاتھ سونڈ پے پڑ گیا تو وہ چیخا ہاتھی لمبا اور لچکدار ہوتا ہے اور اس میں ہڈی نہیں ہوتی۔ دوسرے نے پاؤں ٹٹولتے ہوئے کہا ہاتھی گول ہوتا ہے اور اتنا بھی ہاتھی نہیں ہوتا جتنا بتایا جاتا ہے۔ تیسرے کا ہاتھ  پیٹ پر پڑا اور وہ بول پڑا کہ تم دونوں غلط کہہ رہے ہو۔ ہاتھی نہ لمبا ہوتا ہے نہ گول بلکہ گوشت کی دیوار جیسا ہوتا ہے۔

چوتھا نابینا جو ہاتھی کے پیچھے کھڑا تھا اس کے چہرے پر پٹاخ سے ہاتھی کی چھوٹی سی دم کوڑے کی طرح پڑی اور وہ گرتے گرتے چلایا ہاتھی نیولے کے سائز کا ہوتا ہے اور اس سے زیادہ تیز جانور میں نے آج تک نہیں محسوس کیا۔ چاروں نابینا اپنی اپنی جگہ جزوی طور پر درست تھے مگر کیا چاروں کلی طور پر بھی درست تھے؟
یہ کرہِ ارض بھی ہاتھی جیسا ہے۔ جو جس بلندی، سمت اور فاصلے سے جتنا بھی گلوب دیکھ رہا ہے اسے وہ ویسا ہی نظر آ رہا ہے۔ مگر آپ کا جو بھی نظریہ یا نظر ہو اس سے ہاتھی یا گلوب کی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے؟
اگر ترقی پذیر دنیا میں آنے والے عشروں میں عدم استحکام برقرار رہنے کی اوبامی پیش گوئیاں زمینی حقائق سے لگا نہیں کھاتیں تو نہ کھائیں۔ مگر سرتاج عزیز کو اپنے خطے میں ایسی کیا امیدیں دکھائی دے رہی ہیں جو اوباما  کی نگاہوں سے اوجھل رہ گئیں؟
تو کیا اگلے دس سے پندرہ برس کے دوران افغانستان میں کوئی ایسی مرکزی حکومت قائم ہو جائے گی جسے اہم افغان نسلی گروہوں کے ساتھ ساتھ ایران، پاکستان، روس، چین اور بھارت جیسی علاقائی طاقتوں کا اعتماد حاصل ہو جائے اور افغانستان شطرنج کی خونی بساط کے بجائے واقعی ایک پرامن و ترقی کی جانب گامزن ایک نارمل ملک کی طرح بحال ہو جائے اور اس میں کم از کم اتنا استحکام ضرور آ جائے جتنا ظاہر شاہ کے دور تک تھا؟
تو کیا پاکستانی ریاست اگلے ایک دو عشروں میں تمام مسلح نان اسٹیٹ ایکٹرز کے چنگل سے اپنی رٹ چھڑوانے اور ان ایکٹرز کو بلا امتیاز اوقات میں لانے میں  کامیاب ہو جائے گی؟ اس کام کے لیے جو اجزائے ترکیبی درکار ہیں ان میں گڈ گورننس، بیرونی امور میں عدم مداخلت، مقتدر اداروں کا خارجہ و داخلہ کلیدی نکات پر یک رخہ و ہم آہنگ ہونے کی ضرورت، ہمسائہ ممالک سے اہم سرحدی امور و تنازعات میں پیش رفت، خود انحصاری کو سہارا دینے والے مالیاتی نظام کے بلا امتیاز نفاز کی ضرورت، وفاقی یونٹوں کے درمیان وسائل کی تقسیم اور احساسِ محرومی کو قابلِ برداشت حد میں لانے اور پاکستانی سماج میں مذہبی، سیاسی، علاقائی اور نسلی ہم آہنگی، برداشت اور روشن خیالی کے فروغ جیسے بنیادی اقدامات شامل ہیں۔
ہو سکتا ہے اس خطے میں نمود پذیر سنہرا استحکامی دور بارہ ہزار کلومیٹر پرے بیٹھے اوباما یا مجھ جیسے ٹچے تجزیہ بازوں کو ٹپائی نہ دے رہا ہو وہ سرتاج عزیز کو صاف صاف نظر آ رہا ہو۔ لہذا اب یہ راز شیئر کرنا ان کی ذمے داری ہے کہ وہ کیا اقدامات ہیں جو استحکام کی پائپ لائن میں ہیں اور یہ اقدامات اگر افغانستان کو نہیں تو کم از کم پاکستان کو ضرور اتنا پرامن ملک بنا دیں گے جتنا امن ضیا حکومت سے پہلے تک نصیب تھا۔
بھلا کون سا پاکستانی ہو گا جو بارک اوباما کی پیش گوئی کو غلط نہ دیکھنا چاہے۔ لیکن صرف یہ کہہ دینے سے تو کام نہیں چلتا کہ اوباما کا تجزیہ زمینی حقائق سے لگا نہیں کھاتا۔ اگر اوباما  کی مایوسی بے جواز ہے تو سرتاج عزیز کی خوش خیالی کن ستونوں پر کھڑی ہے؟
ویتنام کی سخت جانی کے بارے میں برخود غلط ہونے کے باوجود، مسئلہ فلسطین کے حل کی بابت منہ چڑھی اسرائیلی ڈومنی سے بار بار بے عزت ہونے کے باوجود، سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد دنیا پر بلا شرکتِ غیرے حکمرانی کا نشہ ٹوٹنے کے باوجود اور القاعدہ و دولتِ اسلامیہ جیسے نان اسٹیٹ ایکٹرز کے ہاتھوں دھول دھپے کے نتیجے میں اپنے عالمی دبدبے کو تار تار دیکھنے  کے باوجود امریکا کو آج بھی ایک بڑی طاقت ہونے کے سبب یہ عیاشی میسر ہے کہ وہ اپنے غلط اندازوں کے نتائج بطور ریاست سہ سکے۔
لیکن کیا پاکستان جیسے ممالک اپنے اسٹرٹیجک منصوبے، علاقائی تجزیے اور خوش فہم توقعات غلط ثابت ہونا افورڈ  کر پائیں گے؟ غالباً یہی وہ سوالات ہیں جو اوباما کے آخری اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ظاہر ہونے والے خدشات کی بنیاد ہیں۔۔۔
کاش سب اچھا کہنے سے سب اچھا ہو بھی جاتا۔ کاش ہاتھی اتنا ہی ہو جتنا مجھے محسوس ہوتا ہے۔۔
وسعت اللہ خان

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s