سعودیہ ایران کشیدگی: او آئی سی کہاں ہے؟

پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے دورہ سعودی عرب و ایران کیا گیا جسے عالمی سطح پر خوب سراہا گیا اور کئی فورمز پر تھوڑی بہت تنقید بھی ہوئی لیکن مصالحتی عمل اس تنقید پر حاوی رہا،، اس حوالے سے وزیراعظم پاکستان جناب میاں نوازشریف اور آرمی چیف جناب راحیل شریف، مشرقِ وسطیٰ کے دو اہم ممالک سعودی عرب اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات جو دونوں ممالک کو ممکنہ جنگ میں دھکیل سکتے ہیں، میں ثالثی کیلئے متحرک نظر آئے۔ 
ہر طور پر پاکستان کا یہ اقدام خوش آئند ہے کیوں کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے مثبت اشارے ملے ہیں اور’’دہشت گردی اور انتہا پسندی‘‘ کے مشترکہ دشمن کیخلاف مل کر کام کرنے کا عزم بھی کیا گیا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سعودیہ، ایران تنازع پاکستان کیلئے ایک آزمائش کی گھڑی ہے۔ ایران پاکستان کا ایک ایسا اسلامی ہمسایہ ملک ہے جس کیساتھ اسکی نو سو کلو میٹر طویل سرحد لگتی ہے۔ اسی طرح سعودی عرب کیساتھ بھی پاکستان کے قدیم تعلقات قائم ہیں اورسعودی عرب نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ 
ایک جانب ہمسایہ ملک ایران جبکہ دوسری جانب برادر اسلامی ملک سعودی عرب، پاکستان کیلئے دونوں میں کسی ایک کا انتخاب کرنا انتہائی مشکل مرحلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان متوازن پالیسی اختیار کرنے پر مجبور ہے۔ دوسرے معنوں میں یہ کہہ لیجئے پاکستان کیلئے عرب و عجم معاملات میں ایک تعلقاتی توازن قائم رکھنا علاقائی، نظریاتی، سیاسی، ثقافتی و معاشی مجبوری بن گئی ہے۔ ایران سعودی عرب حالیہ کشیدگی کے باعث پاکستان ایک بار پھر 1980ء کے مقام پر کھڑا ہے جب عراق ایران جنگ شروع ہو چکی تھی اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک صدام حسین کی پشت پر کھڑے تھے۔
 ایسے میں پاکستان کیلئے بہت بڑا چیلنج تھا کہ وہ کہاں جائے اور کیا کرے۔ عرب و عجم کی جنگ میں کسی ایک فریق کی حمائت کرنا پاکستان کیلئے ہمیشہ سے ایک مشکل سوال رہا ہے دراصل لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں روزگار کیلئے مقیم ہیں۔ خلیجی ممالک کو ناراض کرنے کا واضح مطلب خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو امتحان میں ڈالنا ہے۔ یہ وہی پاکستانی ہیں جو پاکستان کی قومی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی سی حیثیت کے حامل ہیں۔
 دوسری جانب ایران کو ناراض کرنے سے پاکستان میں مقیم شیعہ مسلمان ناراض ہو جائینگے اور داخلی سطح پر پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے کے امکانات پیدا ہو جائینگے۔ گزشتہ دنوںجبکہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت سعودی عرب و ایران کے دورے پر گئی تھی تو اس حوالے سے تنقید بجا ہے کہ او آئی سی کہاں ہے؟ سعودی عرب اور ایران کی حالیہ کشیدگی کے حوالے سے یہ تنظیم ایک بار پھر ہدف تنقید ہے۔ اگر مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے بنائی جانے والی عالمی تنظیم او آئی سی سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی کے خاتمے میں کردار ادا نہیں کر سکتی تو اسے سرے سے ہی ختم کر دیا جائے کیوں کہ یہ تنازع پاکستان کیلئے اس قدر حساس ہے کہ پاکستان دونوں ممالک میں سے کسی ایک کی حمایت بھی نہیں کر سکتا۔
 یہ تنازع جب سے کھڑا ہوا ہے اس حوالے سے اب تک بہت کچھ لکھا اور کہا جارہا ہے ۔ کچھ نے ذاتی مفادات اور کچھ مسلکی عقیدت میں اندھے ہو کر اس حد تک جا چکے ہیں کہ ان کو اس بات کی پروا نہیں کہ انکے قلم کے چبھتے ہوئے نشتر اور انکی زبانوں سے ادا ہونیوالے فرقہ واریت پر مبنی جملوں سے مملکت اسلامیہ پاکستان کو گوناگوں مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے موقع پر جب تھوڑی سی غلطی یا جارحانہ اقدام خطے کو خون مسلم میں نہلا سکتا ہے ۔ سمجھ داری سے کام لینے کی بجائے کچھ لوگوں نے جذبات کی رو میں بہہ کر دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں ۔ حالانکہ یہ سرا سر دوسرے ملک کے اندورنی معاملات میں براہ راست مداخلت ہے۔
پاکستان کی سول اور ملٹری لیڈرشپ کا یہ کردار دونوں دوست ممالک اور خطے کیلئے امید کی ایک کرن ہے۔ لیکن اس مرتبہ امریکی سامراج اس درپے ہے کہ کسی طرح پاکستان بھی اس تنازع میں داخل ہو کر جنگی تھیٹر کا حصہ بن جائے۔ اس حوالے سے پاکستان کی پارلیمنٹ اور آرمی ہیڈکوارٹرز اس کوشش یا سازش کو ناکام بنانے اور امن کے قیام کیلئے متحرک نظر آرہے ہیں جو ایک نہایت ہی خوش آئند  ہے، بلکہ پاکستان اس ممکنہ جنگی تھیٹر کو ناکام بنانے کیلئے اپنا متحرک اور مثبت کردار اداکرنے کیلئے جس طرح آگے بڑھا ہے۔
 اگر یہ سلسلہ طاقت پکڑتا ہے تو خطے میں پائیدار امن کے امکانات بڑھ جائینگے۔ پاکستان کی قیادت سعودی حکمرانوں اور ایرانی قیادت کیساتھ مسلسل رابطوں میں ہے اور چین بھی اس ڈپلومیسی کے پیچھے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایران کا یورپ اور امریکہ کیساتھ جوہری ہتھیاروں کا معاملہ طے ہو جانے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کیساتھ امریکی سامراج جس طرح کھیل رہا ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی سامراج خطے میں امن کیلئے کتنا ’’مخلص‘‘ ہے۔ 
عراق میں ایرانی سرپرستی کی قبولیت، شام میں بشارالاسد کیخلاف متحرک مسلح گروہوں کی مالی و عسکری مدد اور اسی طرح ایران کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں تیزی،سعودی عرب کی یمن کے مسئلے میں ’’سرپرستی‘‘ اور خطے میں سنی اور شیعہ ریاستوں کے تصور کو ہوا دے کر سعودی عرب کی جنگ کیلئے کمر ٹھونکنا سامراج کی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ امریکی سامراج کو اسی لیے تودنیا میں ’’جنگوں کا سوداگر‘‘ کہا جاتا ہے۔
 اگر آپ پچھلی سات دہائیوں میں نظر دوڑائیں تو آسانی سے معلوم ہو گا کہ امریکی سامراج نے دنیا کے کونے کونے میں مختلف انداز کی ’’جنگوں‘‘ کی باربار سوداگری کی ہے۔ اس میں صرف امریکی اسلحہ ساز اپنا اسلحہ ہی بیچنے کیلئے خواہاں نہیں ہوئے بلکہ امریکی سامراج مختلف خطوں کو   کرکے اِن خطوں سے جنگوں کے ذریعے سٹرٹیجک اور اقتصادی مفادات کی تکمیل کرتا ہے۔ پچھلی ایک دہائی سے امریکہ نے ہمارے خطے میں اسلحہ فروشی اور جنگی سوداگری میں جو کردار ادا کیا ہے، اس حوالے سے ہماری سول و ملٹری لیڈر شپ بخوبی آگاہ ہے۔
 جنگوں کا سوداگر، امریکی سامراج اسلحوں کے انبار کو خطے میں استعمال کروانے کیلئے بڑا متحرک نظرآرہا ہے۔ اسلحے کے متعلق تحقیقی اداروں کیمطابق بھارت دنیا میں اسلحے کے خریداروں میں سرفہرست ریاست تھی جس کو اب سعودی عرب نے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ 2014ء میں بھارت نے 5.8 ارب ڈالر کا اسلحہ خریدا۔ سعودی عرب نے اس کے بعد 6.5 ارب ڈالر کا خرید کر اس جنگی سوداگری کو مات دے دی ہے۔
 اس خریداری کے دوران سعودی عرب نے برطانیہ سے نہایت جدید جنگی طیارے ٹائی فون اور امریکہ کے  طیارے بھی خریدے۔ اسلحے کی خریداری کی اس دوڑ میں متحدہ عرب امارات اور اومان بھی پیچھے نہیں رہا۔ متحدہ عرب امارات گزشتہ سال برطانیہ، فرانس، امریکہ اور کینیڈا سے 8.6 ارب ڈالر کا اسلحہ خرید کر مشرقِ وسطیٰ میں جنگی سازو سامان میں اپنا کردار ادا کرنے پر تلا نظر آرہا ہے۔ اس خطے میں ممکنہ جنگوں کی شکارخطے کی ریاستوںمیں ایران، سعودی عرب، عراق، شام، متحدہ عرب امارات، یمن، اومان، کویت، قطر، بحرین، اردن شامل ہوسکتی ہیں۔ 
یہی وجہ ہے امریکہ جیسی قوتیں نہیں چاہتیں کہ او آئی سی فعال ہو اور وہ ایسے اقدامات کرتی نظر آئے جس سے دو مسلم ممالک کی آپس میں صلح ہو یا آپسی تجارت ہو۔ بیرونی طاقتوں نے آج مسلم ممالک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور رہی بات پاکستان کی تو پاکستان کو بیرونی عناصر نے کھوکھلا کیا ہی ہے، اسکے ساتھ اندرونی عناصر نے بھی اس حوالے سے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آج او آئی سی کے کرنیوالے کام کو پاکستان نبھا رہا ہے سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان سفارتی تعلقات بحال کرنے میں کامیاب ہوگا؟ 
کیوں کہ پاکستان کی بُری معاشی صورتحال نے پاکستان کا قد کاٹھ وہ نہیں رہا جس طرح ہونا چاہیے تھا، ورنہ 73ء میں عالمی سربراہی کانفرنس کے وقت پاکستان کے حالات بہت اچھے تھے دنیا پاکستان کو اپنا لیڈر سمجھتی تھی لیکن وقت گزرنے کیساتھ ساتھ اس میں بدلائو آتا گیا اور سیاسی کوتاہیوں اور کرپشن کی لوٹ مار اور غلط قیادت نے اسے بہت پیچھے دھکیل دیا۔ اور اگر ثالثی کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوجاتی ہیں تو اس سے پاکستان خطے کی ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اہم مقام حاصل کرسکتا ہے۔ ورنہ تھوڑی شرمندگی تو ضرور ہوگی اور پھر پاکستان کو بھی اپنی پوزیشن واضح ہو جائے گی۔۔۔ 
محمد اکرام چودھری

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s