یہ ویلنٹائن ڈے اور ہماری تہذیب

ہمارے جو پیارے اور دوست بیرونی ممالک میں رہائش پذیر ہیں، وہ بہت غصے میں ہیں اور فیس بُک پر اس کا اظہار بھی کر رہے ہیں، ہمارے بہت ہی اچھے دوست ہمراز احسن تو برہم ہیں کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ منانے پر پابندی لگا دی گئی ہے، ان کی اطلاع تو یہ ہے کہ ایسا لاہور میں بھی ہوا ہے، حالانکہ اسلام آباد کے سوا کسی اور شہر کے حوالے سے ایسی کوئی خبر تاحال نہیں۔

 احسن کا خیال ہے کہ یہ ایک سماجی رسم ہے اور اگر سال میں ایک دن ایسا ہو کہ عزیز و اقارب اور دوست ایک دوسرے کو پیار اور محبت سے تحفہ دے دیں تو اس سے معاشرے میں اخلاق اور محبت ہی تو بڑھے گی اور تعلقات بھی خوشگوار ہوں گے۔ اس کا مذہب سے بھی کوئی تعلق نہیں، دوسری طرف ہمارے دین دار بھائی ہیں جو اسے سرا سر خلاف دین اور اخلاق سے دور جانتے اور ناراض ہو رہے ہیں، ان کے مطابق یہ ایک یہودی کو غلط حرکت پر خراج تحسین پیش کرنے کا دن اور اس کے علاوہ نوجوان بگاڑ کی طرف جاتے ہیں۔
اگر دونوں موقف ہی سنے جائیں ، پڑھے جائیں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایک دوسرے کے سامنے انتہاپر ہیں، ہمیں اس سے غرض نہیں، اور نہ ہی ہم اتنے بڑے فاضل اور عالم ہیں کہ اس سب کا تاریخی پس منظر تلاش کرتے پھریں اور نہ ہی ہم فتویٰ گر ہیں کہ ایک دم سے کفر تک چلے جائیں تاہم سماج اور معاشرے کے حوالے سے تو بات کی جا سکتی ہے۔

 ہمارے’’مغربی پاکستانی‘‘ دوست جہاں رہتے ہیں، وہاں کی تہذیب اور ہماری مشرقی تہذیب اور رہن سہن میں فرق واضح ہے جو ان کو بھی معلوم ہے، ہم اس جھگڑے میں بھی نہیں پڑتے ہم تو سیدھا سادا سوال خود سے کر لیتے ہیں کہ کیا یہ دن یہاں منایا جاتا تھا، اور ہم لاہوریوں کے لئے ایسے ہی تہوار رہ گئے ہیں، ہمارے اپنے تہوار کیا ہوئے؟ لاہور کے بارے میں کہا جاتا تھا ’’سات دن اورآٹھ میلے‘‘۔

اب اس پر مزید بات کرنے سے پہلے بعض جدید سہولتوں کی قباحتوں(اچھائیاں اپنی جگہ) کا ذکر ہو جائے، آئی ٹی کے مفید استعمال کا مسئلہ اپنی جگہ ہے، لیکن ہمارے یہاں اسے جس برے انداز سے استعمال کیا جا رہا ہے وہ والدین اور شہریوں کے لئے وبالِ جان بنا ہوا ہے، پہلی بات تو یہ کہ نوجوان نسل اسے معلومات کی بجائے اچھی اور بری تفریح کے لئے استعمال کر رہی ہے، پھر یہ سماجی برائی بھی بن چکا۔
 اب فیس بٍک وغیرہ ہی دیکھ لیں تو غیر شائستہ، غیر مہذب اور غلیظ نوعیت کی گفتگو سے توہین تک جاری ہے، شرمناک ویڈیو لوڈ کر دی جاتی ہیں، پھر یہ ذریعہ بلیک میلنگ کے لئے استعمال ہو رہا ہے، جبکہ دہشت گردی اور جرائم پیشہ لوگ فراڈ اور جرم کے لئے سہارا لیتے ہیں۔
اب ذرا اصل مسئلے کی بات کر لیں، کل (اتوار) 14فروری اور یہ ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ ہے جسے یہاں خلوص، محبت اور پیار کا اظہار قرار دے کر شروع کر دیا گیا۔ یہ معلوم نہیں کہ یہاں شروع کرنے والا کون تھا اور کب، کس طریقے سے آغاز ہوا۔ بہرحال اسے خلوص کا ذریعہ بنا کر پیش کیا گیا، جیسے مدر ڈے اور فادر ڈے بھی مغرب کی درآمد ہیں،یہاں بھی رواج پا گئے کہ ان میں کوئی برائی نہیں پائی جاتی۔ 
تاہم یہ جو اظہار خلوص کا دن کہا جا رہا ہے یہ تو اظہارِ محبت، بلکہ اظہارِ عشق کا ذریعہ بن گیا، ہمارے مشرقی ادب میں پھول پیش کرنے کا جو مطلب ہے وہ ہمارے، ’’مغربی پاکستانی دوست‘‘ خوب جانتے ہیں کہ وہ خود بھی ادیب ہیں، اور اگر یہ دو محبت والے دِلوں کے لئے تبادلہ اظہار ہی کا ذریعہ ہے تو پھر یہ کس سماج کا ہے، تاہم یہاں تو اب  بنا لیا گیا اور گلاب کے پھول اور گلاب کی کلیاں یہاں نوجوان نسل کی طرف سے بچیوں کو پریشان کرنے کا ذریعہ ہیں۔
 آج کل کی نوجوان نسل کیا خوب ہے کہ اپنے گھر میں بھی گلاب لاتے، والد، والدہ اور بہنوں کو خلوص کا تحفہ دیتے ہیں تو پھر کسی ’’اور‘‘ کو چھیڑنے کا ذریعہ بھی بنا لیتے ہیں۔ یوں یہاں جو تم پیزار بھی ہو جاتی ہے اور اس طرح ایک نئی تہذیب بھی بننے لگی ہے، اس لئے ٹھنڈے دل سے غور کر کے بتا دیجئے کہ اس کی کیا ضرورت ہے۔
جہاں تک اسلام آباد میں پابندی کا سوال ہے تو اس کا مذہب سے نہیں،تہذیب اور امن و امان سے تعلق ہے کہ اسلام آباد وفاقی دارالحکومت ہے، وہاں غیر ملکیوں کی معتدبہ تعداد ہے، ان میں سے اکثریت یہ دن مناتی ہے، لیکن یہ سب وہ اپنے دائرہ کار کے اندر کرتے ہیں، عام پبلک مقامات پر نہیں، لیکن ہمارے’’دیسی صاحب‘‘ اور ان کی نسل کوچہ و بازار کو بازیچہ اطفال بنا لیتے ہیں، اس سے تنازعات ہوتے اور جھگڑے بھی ہو جاتے ہیں، جو یقیناًحالات حاضرہ میں امن و امان کے حوالے سے کوئی اچھی بات نہیں، غیر ملکی اپنے رواج کے طور پر اپنے دفاتر یا رہائش گاہوں پر یہ سب کریں گے، سڑکوں پر ہلا گلا نہیں ہو گا توکوئی خطرناک صورت بھی پیدا نہیں ہو گی۔
ہم نے اس کے سماجی اور اخلاقی پہلو پر بات کی، اب ذرا ان حضرات سے بھی ایک سوال ہے جو ایسی رسوم کو قبیح جان کر دینی حوالے سے کفر بنا لیتے ہیں اور آج اقتدار کے سنگھاسن پر بھی براجمان ہیں، کیا یہ حضرات بتا سکیں گے کہ ہمارے مُلک میں ہماری اپنی تہذیب، روایت اور معاشرت کے مطابق ہماری نوجوان نسل کو جو تفریح حاصل تھی وہ اب کہاں ہے؟ وہ میلے ٹھیلے کیا ہوئے، جہاں بندر کا تماشہ اور مداری کھیل دکھاتے، کھانے پینے کے سٹال اور کھلونوں کی دکانیں ہوتیں، یہاں مختلف کھیل (کبڈی اور کُشتی) کھیلے جاتے۔ 
یوں نوجوانوں کو تفریح کے مواقع ملتے تھے، پھر باغات اور کھیل کے میدان بھی بہت تھے، جو اب قبضہ گروپوں کی مہربانی سے نا پیدا ہو گئے، سب سے بڑا قبضہ گروپ تو خود حکومت ہے، جو ترقیاتی کاموں کے نام پر عوامی مقامات کو شامل منصوبہ کر لیتے ہیں، لیکن متبادل انتظام نہیں کیا جاتا، نئی نئی ہاؤسنگ کالونیاں بنیں، تفریح اور کھیل کی گنجائش نہیں رکھی گئی، حتیٰ کہ قبرستان تک کی جگہ مختص نہیں کی جاتی، بلکہ ایسے بھی ماہرین ہیں جو رہائشی کالونیوں میں کھیل کے میدان اور پارکوں کی جگہ مختص کرتے ہیں اور جب یہ رہائشی سکیم چل نکلتی ہے تو یہ پلاٹ بنا کر بیچ کھاتے ہیں، تمام پہلوؤں پر غور لازم ہے، ایسی جدید ’’نام نہاد تفریحات‘‘ کو روکنا ہے تو اپنے سماجی پہلوؤں کے حوالے سے نوجوانوں کو مکمل تفریح عنایت فرما دیں، اللہ بھلا کرے گا، اپنے ’’مغربی پاکستانی‘‘دوستوں سے بہت معذرت کہ کسی کا دِل نہ دکھے۔
چوہدری خادم  حسین

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s