آصف زرداری نے کوئی سبق نہیں سیکھا

سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے پہلے بھی لوگوں کو اپنے بدلتے بیانات کے ذریعے حیرت زدہ کیا ہے۔ حالیہ وقتوں میں زرداری صاحب نے قومی سیاست، اداروں کے مابین تعلقات اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر ایسے بیانات دیے ہیں جنہوں نے ان کی اپنی جماعت کو بھی ورطہء حیرت میں ڈال دیا ہے۔

مگر شاید کبھی بھی انہوں نے ملک اور اپنی جماعت کو اس قدر حیرت میں نہیں ڈالا جتنا کہ منگل کے روز دیے گئے ان کے تازہ ترین بیان نے۔
دو روز قبل میڈیا اور سیاسی قائدین نے کئی گھنٹوں تک زرداری صاحب کے اس بیان کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی جس میں بظاہر انہوں نے جنرل راحیل شریف سے نومبر میں ریٹائر ہونے کے فیصلے پر نظرِثانی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
یہ ایک پریشان کن بیان تھا جو کہ ان کے اپنے ایک ماہ پہلے کے بیان سے متصادم تھا۔ سابق صدر آخر کیا سوچ رہے تھے؟
مگر یہاں پر ایک بات ضرور واضح ہے کہ جب ان کے قائد خودساختہ جلاوطنی کے دوران بیرونِ ملک سے بیٹھ کر پارٹی معاملات چلانے کی کوشش کر رہے ہیں، تو ان کی جماعت میں ہم آہنگی موجود نہیں ہے۔
اور نہ ہی بظاہر زرداری صاحب اپنے ایک بیان پر قائم رہنے کے قابل نظر آتے ہیں خاص طور پر اس وقت جب ان کے ذاتی ترجمان فرحت اللہ بابر ان کے الفاظ اور بیانات پر نظرِثانی کے لیے قریب موجود نہیں ہوتے۔

قومی سیاست اور خود پیپلز پارٹی کے لیے بھی افسوسناک بات یہ ہے کہ جو جماعت صرف تین سال قبل مرکز میں حکومت میں تھی، اور اب بھی سندھ میں حاکم ہے، اپنا تماشہ بنا چکی ہے۔

اب جبکہ زرداری صاحب نے منگل کے روز دیے گئے اپنے بیان کے سب سے اہم نکتے سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے اور ان کی جماعت کے ترجمان نقصان کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں، تو اس وقت ہمیں جنرل راحیل شریف کی مدتِ ملازمت میں ممکنہ توسیع کے بارے میں زرداری صاحب کے خیالات کے نتائج پر بھی غور کرنا چاہیے۔
شاید سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ زرداری صاحب خود اس بات سے لاعلم ہیں کہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع پر اگر آج ملک میں بحث جاری ہے، تو اس میں ان کا کتنا کردار ہے۔
پانچ سال قبل زرداری صاحب نے ریٹائرمنٹ تک پہنچ چکے اور طاقت کے خواہشمند جنرل اشفاق پرویز کیانی کی بات پست ہمتی سے تسلیم نہ کی ہوتی، تو آج سویلین دورِ حکومت میں ایک آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا تصور بھی ممکن نہیں ہوتا۔
ہوسکتا ہے کہ اس وقت زرداری صاحب نے حساب لگایا ہو کہ کیانی صاحب کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے پی پی کا اپنا مدتِ اقتدار مکمل کرنا یقینی ہو سکے گا، جو کہ ملک کے بار بار مداخلت سہنے والے جمہوری نظام میں بلاشبہ ایک بے مثال کامیابی ہے۔
مگر پھر بھی توسیع کے چند ماہ بعد ہی میموگیٹ اسکینڈل نے پی پی کو ہلا کر رکھ دیا، اور جلد ہی یہ واضح ہوگیا کہ ہدف زرداری صاحب اور ان کے خود منتخب کردہ سفیر حسین حقانی کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔
پریشان کن بات ہے کہ بظاہر آصف زرداری صاحب نے توسیع اور اس سے جنم لینے والے اداراتی مسائل پر اپنے تجربے سے کچھ نہیں سیکھا ہے۔
کیا زرداری صاحب بدلے میں سندھ میں اپنی حکومت کے لیے امان کی امید کر رہے تھے؟ یا پھر وہ وفاقی حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان تعلقات میں دراڑ ڈالنا چاہ رہے تھے؟ اور اگر ایسا ہے، تو کیوں؟
آصف علی زرداری کے اقدامات واقعی پراسرار بن چکے ہیں۔
بشکریہ ڈان نیوز اردو

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s