تحفظ نسواں ایکٹ ۔ غیر ضروری قانون

بات سادہ تو یہی ہے کہ تحفظ نسواں ایکٹ غیر ضروری تھا۔ ابھی اس کی فوری ضرورت نہیں تھی۔ یہ کوئی فوری نوعیت کی قانون سازی نہیں تھی۔ اس سے زیادہ کئی اہم معاملات زیر التوا ہیں ۔ جس پر فوری قانون سازی کی ضرورت ہے۔ فوری انصاف کے لئے بہتر قانون سازی کی جا سکتی تھی۔ لیکن تحفظ نسواں ایکٹ شاید اتنا ضروری نہیں تھا۔

خواتین پر تشدد کی کوئی بھی حمایت نہیں کر سکتا۔ جولوگ تحفظ نسواں ایکٹ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ وہ بھی خواتین پر کسی بھی قسم کے تشدد کی حمایت نہیں کر سکتے۔ لیکن ہمارے ملک میں جب خواتین کو مغرب کی سطح کے حقوق دینے کی کوشش کی جا تی ہے تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں مغرب نواز این جی اوز خواتین کے حقوق کے معاملہ کو ایک ایسے انداز میں لیتی ہیں۔ جو شاید ہمارے معاشرتی سیٹ اپ سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اس ضمن میں مختاراں مائی کیس ایک عمدہ مثال ہے۔ مختاراں مائی کیس کو ایک این جی او نے اٹھایا۔ سب این جی اوز نے اس کو اپنا لیا۔ مختاراں مائی کو عالمی سطح پر غیر ضروری شہرت ملی۔ مظلومیت کی ایک داستان بن گئی۔ اقوام متحدہ میں خطاب کے لئے بلا لیا گیا۔ نیو یارک سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز کے لئے گھنٹی بجانے کا اعزاز دینے کے لئے بلا لیا گیا۔ سپین میں خواتین کی عالمی کانفرنس کی صدارت کے لئے بلا لیا گیا۔ مختاراں مائی پاکستان کی پہچان بن گئی۔ جیسے کہا جا رہا ہے کہ آجکل شرمین عبید دو آسکر لیکر پاکستان کی پہچان بن گئی ہے۔ لیکن کیا ہوا۔ ساری کہانی جھوٹی نکلی۔ پہلے لاہور ہائی کورٹ میں جھوٹی نکلی۔ پھر سپریم کورٹ میں جھوٹی نکلی۔ اور آج مختاراں مائی ایک گمنام داستان ہیں۔

اسی طرح جب بھی مغرب کا خواتین کے حقوق کے حوالہ سے ایجنڈافالو کرنے کی کوشش کی گئی ہے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ اگر تحفظ نسواں ایکٹ کی بجائے یہ قانون سازی کی جاتی کہ جو لڑکیاں ڈاکٹر ، انجینئر، یا کوئی اور پروفیشنل ڈگری کر لیتی ہیں۔ ان کے لئے اس شعبہ میں دس سال کام کرنا لازمی قرار دیا جائے۔ پاکستان اور بالخصوص پنجاب میں میڈیکل کالجوں میں لڑکیوں کی شرح لڑکوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔

 پنجاب میں لڑکیاں بہت بڑی تعداد میں ہر سال ڈاکٹر بن رہی ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان لڑکیوں کی اکثریت ڈگری لینے کے بعد گھر بیٹھ جاتی ہے۔ یہ اعداد وشمار بھی موجود ہیں کام نہ کرنے والی ان لڑکیوں میں بھاری اکثریت ان امیر گھروں کی لڑکیوں کی ہے جن کے والدین کا تعلق اپر مڈل کلاس سے ہے۔غریب اور لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کی بڑی تعداد ڈاکٹر بننے کے بعد کام کرتی ہے۔ اس ضمن میں وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کو باقاعدہ یہ تجویز دی ہے کہ وہ میڈیکل کالجوں میں لڑکوں کی سیٹیں مختص کرے کیونکہ لڑکے ڈاکٹر بننے کے بعد کام کرتے ہیں۔
 قانون سازی تو یہ کرنی چاہئے کہ ڈاکٹر بننے والی لڑکیاں دور دراز کے دیہات و قصبوں میں جا کر کام کریں تا کہ پاکستان میں زچہ و بچہ کی اموات کی شرح پر قابو پا یا جا سکے۔ قانون سازی تو اس پر ہونی چاہئے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیاں دور دراز کے سکولوں میں جا کر کام کریں تا کہ ہر لڑکی کو تعلیم مل سکے۔ لیکن شاید مغرب کو اس قانون سازی کی سمجھ بھی نہ ہو کیونکہ یہ اس کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ مغرب کے مسائل نہیں ہیں۔ وہاں خواتین پر تشدد ، بچوں پر تشدد اس لئے بڑے مسائل ہیں کیونکہ وہاں شراب عام ہے۔ لوگ گھروں میں رات کو شراب پیتے ہیں اور پی کر تشدد کرنا ایک معمول کی بات ہے۔ اس لئے مغرب میں خواتین اور بچوں پرتشدد ایک اہم معاشرتی مسئلہ ہے۔
مغرب اور مشرق کی خاندانی روایات میں بھی بہت فرق ہے۔ خاندانی نظام میں بھی فرق ہے۔ شادی کے بندھن میں بھی فرق ہے۔ بچوں کی تربیت کے طریقہ کار میں فرق ہے۔ پھر قانون سازی ایک جیسی کیسے ہو سکتی ہے؟ بہر حال پنجاب حکومت کو یہ بات ماننی چاہئے کہ اس بل کے حوالہ سے عوامی رائے عامہ بھی اتنی مثبت نہیں ہے جتنی سمجھی جا رہی ہے۔
جہاں تک دینی جماعتوں کا تعلق ہے ۔ تو ان کا اس حوالہ سے موقف ٹھیک ہے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ تحفظ نسواں ایکٹ نے دینی جماعتوں کو ایک ایجنڈہ پر اکٹھے ہونے کا سنہری موقع فراہم کر دیا ہے۔ اس ضمن میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے اس موقع کو نہایت خاموشی سے متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے لئے بھی استعمال کر لیا ہے۔ جماعت اسلامی کے ہیڈ کوارٹر منصورہ میں تحفظ نسواں ایکٹ کے خلاف ہونے والے اجلاس نے دراصل متحدہ مجلس عمل کی جماعتوں کو ایک عرصہ بعد دوبارہ اکٹھے ہونے کا موقع دیا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید صرف اس میں ایک اضافہ تھے۔ لیکن ان کو بھی حکومت نے اس قدر دیوار کے ساتھ لگا دیا ہوا ہے کہ شاید وہ بھی اب متحدہ مجلس عمل میں شامل ہونے کا سوچ ہی لیں۔
مولانا فضل الرحمٰن منصورہ پہنچ گئے۔ حالانکہ قاضی حسین احمد کی جانب سے متحدہ مجلس توڑنے اور سید منور حسن کی جانب سے متحدہ مجلس کے خلاف سخت ترین موقف کے بعد مولانا فضل الرحمٰن کا منصورہ پہنچنا بھی ایک سیاسی معرکہ ہی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن پر منصورہ کے دروازے کھلنے کے بعد متحدہ مجلس عمل کے بھی بند دروازے کھل گئے ہیں۔ مولانا سمیع الحق بھی پہنچ گئے ہیں اور پروفیسر ساجد میر بھی پہنچ گئے ہیں۔ پرو فیسر میر کا بھی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد ختم ہی ہو رہا ہے۔ جب سے انہوں نے پرویز رشید کے خلاف خطرناک بیان بازی کی ہے۔ وہ کنارے لگ چکے ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین اہل تشیع کی نمائندگی کے لئے پہنچ گئی ہے۔ اور مولانا شاہ احمد نوارنی کے بیٹے بھی پہنچ گئے ہیں۔ سب پہنچ گئے ہیں۔
حکومت نے دینی جماعتوں کو حلوہ فراہم کر دیا ہے۔ اس لئے وہ حلوہ کے گرد جمع ہو گئی ہیں۔ تحفظ نسواں ایکٹ کے خلاف تحریک کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ مدرسوں پر پہلے ہی سختی ہے۔ وہ بھی ساتھ ہو نگے۔ اس لئے دینی جماعتیں سمجھ رہی ہیں کہ یہ ان کے پاس ایک سنہری موقع ہے ۔ اور وہ اس سے بھر پور فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ حکومت نے یہ کہہ کر کہ وہ اس ایکٹ میں ترامیم کرنے کے لئے تیار ہے۔ پسپائی شروع کر دی ہے۔ لیکن شاید دینی جماعتوں کو علم ہو گیا ہے کہ حکومت پسپائی اختیار کر رہی ہے۔ اس لئے وہ مکمل سرنڈر سے کم نہیں مانیں گی۔ شاید اس بار مولانا فضل الرحمٰن بھی حکومت سے زیادہ متحدہ مجلس عمل کی بحالی کو ترجیح دیں۔ کیونکہ انہیں بھی ماضی سے سبق سیکھنا ہو گا۔
مزمل سہروردی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s