ایک ایجنٹ کی گرفتاری پر اتنا شور کیوں ؟

ایک را کا ایجنٹ گرفتار ہو گیا ہے۔ کافی شور مچ گیا ہے۔ ایک عجیب سی بحث شروع ہو چکی ہے ۔ کچھ ایسا ماحول بن گیا ہے۔ جیسے کوئی بڑا بریک تھرو ہو گیا ہے۔ ایک بہت بڑی کامیابی مل گئی ہے۔ بس اس را کے ایجنٹ کے پکڑے جانے سے ساری گیم ہی بدل جائے گی۔ اب بھارت پھنس جائے گا۔

یہ کوئی پہلا را کا ایجنٹ نہیں جو پاکستان میں گرفتار ہوا ہے۔ یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں کہ را نے پاکستان میں اپنی کاروائیوں کے لئے کوئی ایجنٹ بھیجا ہو۔ سب ایک کھلی کہانی ہے۔ بچہ بچہ جانتا ہے۔ لیکن پھر بھی شور ہے۔ ایک انجانی سی خوشی کا ماحول ہے۔ جیسے کوئی بڑی کامیابی مل گئی ہو۔ بڑے بڑے اہم لوگ اس پر ہی بات کررہے ہیں۔ ایک کہانی یہ بھی ہے کہ میڈیا اور عسکری حلقوں نے زیادہ شور مچایا ہوا ہے۔
 جبکہ سیاسی قیادت خاموش ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ سیاسی قیادت سمجھداری سے کام لے رہی ہے۔ حساس اور اہم معاملہ پر غیر ذمہ داری نہیں دکھائی جا سکتی۔ حکومتیں اس طرح بینڈ باجے اور شادیانے نہیں بجا سکتیں ۔ جیسے میڈیا اور کچھ ریٹائرڈ عسکری لوگ بجا رہے ہیں۔ حکومت کے کہے ہوئے لفظ کی عالمی سطح پر ایک اہمیت ہو گی۔ اس لئے خاموشی ہی بہتر ہے۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ بیچارے ایجنٹ کو قابو آئے ابھی چوبیس گھنٹے بھی نہیں ہو ئے ہیں۔ میڈیا میں ساری تفتیش آگئی ہے۔ پاسپورٹ کی کاپی بھی میڈیا اور سوشل میڈیا میں عام ہے۔ کچھ تجزیہ نگاروں نے تو یہ تک بتا دیا ہے کہ ایجنٹ نے کون کون سے اہم رازں سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ شائد سب کچھ بہت جلدی میں ہو رہا ہے۔

 لیکن اس کی ایک تو جیح یہ بھی پیش کی جا رہی ہے کہ بھارتی میڈیا بھی تو ایسا ہی کرتا ہے۔ وہ بھی تو کسی ایک واقعہ کے چند لمحوں کے اندر ہی سارے تانے بانے پاکستان کے ساتھ ملا دیتے ہیں۔ وہ بھی تو اسی قسم کے ثبوت لیکر پاکستان کے خلاف چڑھ دوڑتے ہیں۔ تو بھارت کو اسی کی زبان میں جواب دینے کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے۔ بھارت کو صرف اس کی اپنی زبان ہی سمجھ آسکتی ہے۔ اس لئے سب ایسا ہو رہا ہے۔

آئی ایس آئی اور راء کے درمیان یہ پراکسی لڑائی کوئی نئی نہیں۔ یہ لڑائی قیام پاکستان سے ہی چل رہی ہے۔ دونوں ایجنسیاں ایک دوسرے کے ملک میں اپنا اپنا نیٹ ورک قائم رکھتی ہیں۔ پوائنٹ سکورنگ بھی جاری رہتی ہے۔ لیکن اب اس پراکسی لڑائی میں میڈیا کا بھی اہم کردار ہو گیا ہے۔ دونوں ممالک کی ایجنسیاں اب اپنے اپنے ملک اور دوسرے ملک کے میڈیا کو بھی اس پراکسی لڑائی میں استعمال کرتی ہیں۔ اسی لئے دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے نیوز چینلز کو بین کر دیا گیا ہوا ہے۔
 تا کہ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے خلاف پراپیگنڈا کو دیکھ نہ سکیں۔ پاکستان میں بھارتی نیوز چینلز پر پابندی ہے اور بھارت میں پاکستانی نیوز چینلز پر پابندی ہے۔ اس لئے بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف جو شور مچاتا ہے اس کا پاکستان میں بہت کم اثر ہو تا ہے۔ اور پاکستانی میڈیا جو شور مچاتا ہے اس کا بھارت میں بہت کم اثر ہو تا ہے۔ اس لئے جو طوفان اس وقت پاکستان میں نظر آرہا ہے۔ یہ ایک عام بھارتی کو نظر نہیں آرہا ہو گا۔
بھارت کو پاکستان پر ایک ہی برتری حاصل ہے۔ وہ سفارتی محاذ ہے۔ یہ ماننا ہو گا کہ بھارت کو سفارتی محاذ پر ہمیشہ پاکستان پر برتری حاصل رہی ہے۔ دنیا بھر میں اس کے سفارتخانہ پاکستانی سفارتخانوں سے زیادہ متحرک ہیں ۔ لیکن اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بھارت ایک بڑا ملک ہے۔ لیکن یہ وجہ قابل قبول نہیں۔ ہمیں اس ضمن میں اپنی کو تاہی قبول کرنا ہو گی۔
را کا یہ ایجنٹ جو ہم نے پکڑ لیا ہے۔ اس کی تفتیش کا مواد میڈیا میں جاری کرنے کی بجائے اس کی تفتیش سائنٹفک بنیادوں پر کی جانی چاہئے۔ اسے میڈیا میں عام کرنے کی بجائے پاکستان کے دوست ممالک کے ساتھ شئیر کرنا چاہئے۔ دیگر خفی ایجنسیوں کے ساتھ شیئر کرنا چاہئے۔ اگر واقعی یہ ایجنٹ اتنا ہم ہے تو اس کو را کا باقی نیٹ ورک توڑنے کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔
جہاں تک اس کے انکشافات کا تعلق ہے۔ تو ایک دوست نے کہا کہ جلد ہی اس کی ویڈیومنظر عام پر آجائے گی۔ لیکن ہمیں سمجھنا ہو گا کہ اس کے ویڈیو بیان کی کوئی اہمیت نہیں۔ دنیا کہے گی کہ وہ آپ کے قبضہ میں ہے۔ آپ جو چاہیں بیان لے سکتے ہیں۔ آپ کے اسی شور کی وجہ سے بھارت نے اس تک اپنے قونصلر کے ذریعے رسائی مانگ لی ہے۔ اب اگر ہم رسائی دیں تو پھنستے ہیں۔ نہ دیں تو پھنستے ہیں۔ اس لئے میڈیا ایسے معاملات میں مددگا ر کم ہی ہو تا ہے۔
ایک تجزیہ یہ بھی ہے کہ را کے ایجنٹ کے پکڑے جانے کے بعد اب پٹھانکوٹ پر پاکستان کی جس تفتیشی ٹیم نے بھارت جانا تھا۔ وہ اب نہیں جائے گی۔ اور بیچارے سرتاج عزیز نے جو معاملہ ٹھیک کیا تھا وہ پھر پٹری سے اتر گیا۔ پاک بھارت حالات ایک مرتبہ پھر خراب ہو جائیں گے۔ سیاسی حکومت کو ایک اور ایک قدم پیچھے آنا ہو گا۔ مودی کا لاہور آنا مزید ڈوب گیا۔
راء پاکستان میں پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ یہ سوال بھی اٹھا یا جا رہا ہے کہ گرفتار ہونیو الے ایجنٹ کے پاس ایران کا ویزہ تھا۔ وہ ایران کے راستے پاکستان آیا۔ بھارت ایران میں چاہِ بہار کی بندر گاہ پر بڑی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ یہ سرمایہ کاری گوادر کے خلاف ہے۔ لیکن ایران کے صدر پاکستان کے دورہ پر ہیں۔ دوستی کی بات بھی ہے۔ یہ دنیامفادات کا کھیل ہے۔ اس کو مفاد کی آنکھ سے دیکھیں تو سمجھ آئے گی۔
مزمل سہروردی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s