یہ حیدرآباد ہے

پچھلے دنوں ہمیں کچھ عرصے کے لئے حیدرآباد (سندھ) جانے کا اتفاق ہوا۔ لاہور سے بزنس ٹرین کے اے۔ سی سٹینڈرڈ درجے میں دو سیٹیں، سفر سے دودن پہلے محفوظ کرائی تھیں خوشگوار حیرت کا سامنا ہوا۔ جب خوبصورت ڈبے اورآرام دہ نشستیں دیکھیں۔ اے۔ سی بھی ہماری امید سے زیادہ ٹھنڈک پیدا کر رہا تھا۔ ہم کہ جو پہلے ہی زیادہ سردی کے مارے ہوئے تھے۔ اس اضافی سردی کی وجہ سے ٹھٹھرنے لگے۔ 
وہ تو بھلا ہو ایک ریلوے اہلکار کا،جو کمبل اورتکیے ہاتھوں میں تھامے آیا اورایک تکیہ اور ایک کمبل بہ عوض سور وپیہ کرایہ ضرورت مندوں کے حوالے کرنے لگا۔ لیکن جب ٹرین چلی تو یہ موسمی حالت یک دم تبدیل ہونے لگی۔ یاردوستوں نے انکشاف کیا کہ یہ ریلوے والوں کی ایک چال تھی۔ تکیے اورکمبل کرائے پر دینے کی! جب یہ کمبل خاصی تعداد میں مسافروں نے لے لئے تو انہوں نے اسے۔ سی ’’ٹھنڈا‘‘ کردیا۔ خیر! کوئی بات نہیں۔ تھوڑی دیر بعد باتھ روم جانے کا ارادہ کیاتو وہاں ایک چھوٹی سی لیکن اہم اوربڑی خرابی نظر آئی۔ یعنی اس کا دروازہ اندر سے لاک نہیں ہو سکتا تھا۔ کیونکہ یہ ٹوٹا ہوا تھا۔
 اورظاہر ہے کہ ایسی صورت میں کوئی بھی شریف آدمی یکسوئی سے مسافروں سے بھری ٹرین میں ایسے باتھ روم میں اپنے حوائج ضروری سے فارغ نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا متبادل کے طور پر دوسرا باتھ روم استعمال کیا۔ اورسکون کے ساتھ آکر اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ ایک رات سفر کے بعد اگلی صبح مقررہ وقت سے ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر کے ساتھ حیدر آباد پہنچے۔ یہ ہمارا اپنی زندگی میں حیدرآباد کا دوسرا سفر تھا۔ یہاں ہمارا قیام اپنی بیٹی کے ہاں لطیف آباد یونٹ نمبر6میں تھا۔ ہمیں یہاں حالات کے بارے میں زبانی کلامی پہلے سے آگاہ کیا چکا تھا۔ جس میں یہاں کے صحت، صفائی اورپانی کے معاملات فہرست ہیں۔ ان کے علاوہ گلی محلوں میں سڑکوں کی صورت حال بھی ناگفتہ بہ ہے۔
 یہیں ہمارے ایک عزیز نے ایک عجب واقعہ سنایا کہ وہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے جام شورو گئے۔ تووہاں انہوں نے ایک غلاظت بھری گلی میں بڑی بڑی پراڈو ٹائپ کئی گاڑیاں کھڑی ہوئی دیکھیں استفسار پر پتہ چلا کہ اعلیٰ حضرت جناب قائم علی شاہ وزیر اعلیٰ سندھ اپنے آبائی گھر تشریف لائے ہیں۔ ان سے جب کسی صاحب نے علاقے کی ابتر حالت کے بارے میں ذکر کیا تو انہوں نے ترنت جواب دیا’’چھوڑیں اس بات کو، کوئی اور بات کریں‘‘!یا مظہر العجائب ! یعنی جس صوبے کے وزیر اعلیٰ کا اپنے ہی صوبے بلکہ اپنے ہی گھر کے گلی محلے کے ترقیاتی کاموں سے بیگا نگی، بے ،رحمی بے اعتنائی اورلاپرواہی کا یہ عالم ہو تو پھر عوام کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔
حیدر آباد شہر پاکستان کا ایک قدیم، تاریخی،مخصوص تہذیب وتمدن اورثقافت کا حامل شہر ہے۔ خواتین کے فیشن اورپہناوے کے لحاظ سے یہاں بے شمار اشیاء دستیاب ہیں۔ جن کی نہ صرف مقامی طور پر بلکہ ملکی و غیر ملکی سطح پر بہت زیادہ مانگ ہے۔ جن میں چوڑیاں،سلائی کڑھائی کا کام، لباس اورچادروں پر شیشے کا کام،رلیاں، سندھی اجرک، خواتین کے خوبصورت بیگ اورپاؤچ،مردانہ اورزنانہ کڑھائی والے سوٹ قابل ذکر ہیں۔
یہاں کے تاریخی مقامات میں پکا قلعہ، کچا قلعہ اوقدم گاہ مولا علی ؑ سر فہرست ہیں۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ امتدادِ زمانہ کے ہاتھوں اورحکومت وقت کی روائتی بے حسی کی وجہ سے پکا قلعہ اورکچا قلعہ کی حالت دگر گوں ہے۔ رہی سہی کسر ہمارے عوام ان تاریخی مقامات کو مسمار کر کے یا جزوی طور پر نقصان پہنچاتے ہوئے اپنی ناجائز تجاوزات و تعمیرات کھڑی کر کے پوری کردیتے ہیں۔ یہ تو خیر پورے ملک کے طول و عرض میں پائے جانے والے تاریخی اورقیمتی عمارات کے ساتھ ہونے والے بد ترین’’سلوک‘‘ کا ایک حصہ ہے۔
 اس ضمن میں صرف ایک مثال لاہور میں واقع’’شاہی قلعہ‘‘ کی کافی ہے۔ جس کے صدر دروازے کی تزئین و آرائش کی بحالی کے لئے عرصہ دراز سے ایک یادو کاریگر کبھی کبھار کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جو کہ یقیناًاس عظیم الشان ثقافتی اورتاریخی ورثہ کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے۔ ہم بذات خود یہ دل آزار مذاق سال ہا سال سے ہوتے ہوئے دیکھتے چلے آرہے ہیں۔
انہی دنوں ایک شام ہمارے داماد نے ، جو کہ ایک ملٹی نیشنل ٹوبیکو کمپنی میں انجینئر ہیں، کوٹری بیراج پرواقع ایک ریسٹورنٹ پر چلنے اوروہاں مچھلی کھانے کی دعوت دی۔ سو جب ہم وہاں پہنچے تو سورج ڈھل چکا تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی تیز ہوائیں چل رہی تھی۔ ریسٹورنٹ کی اپنی عمارت میں نہ تو روشنی کا انتظام تھا اورنہ گاہکوں کے اندر بیٹھنے کا !سبزہ زار میں البتہ کچھ میزیں اور کرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔ اورچند بلب جل رہے تھے۔ 
جن پر بے شمار پتنگے قطار اندر قطار اپنی جان، جانِ آفریں کے حوالے کررہے تھے۔ اورکچھ ہمارے سروں اور منہ پربِھنبِھنارہے تھے چند ایک گستاخ اور بد تمیز قسم کے پتنگوں نے تو ہمارے باتیں کرنے کے دوران کھلے دہانے کو دیکھتے ہوئے منہ میں گھسنے کی ناکام کوشش بھی کی جس کا ہمیں بہت برا محسوس ہوا۔ اتنی دیر میں ہم نے مچھلی کی تیاری کا آرڈر دے دیا تھا لیکن مدہم روشنی، بیٹھنے کے ناکافی اورغیر تسلی بخش انتظامات اور پتنگوں کی یلغار سے بچنے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ کھانا پیک کراکے ساتھ لے جانا بہتر ہے۔ گھر جا کر تسلی و اطمینان کے ساتھ کھائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ اب کیا کہا جائے کہ ایسے بہترین محل وقوع اور بیراج کو ضائع کیاجارہا ہے۔ جہاں اگر حکومت کا کوئی ادارہ نہ سہی پرائیویٹ سیکڑہی آگے بڑھ کر کچھ سرمایہ کاری کر کے اس جگہ کو تفریحی مقام کی شکل میں بدل دے تو اس پُر آشوب دور میں حیدرآباد کے معصوم عوام کو اپنا اوراپنے بچوں کا دل بہلانے کے لئے ایک گوشۂ تسکین و مسرت مل سکتا ہے۔
شہر میں صفائی کی صورت حال سب سے زیادہ ابتر ہے اورجلد از جلد حکام بالا کی توجہ کی متقاضی ہے۔ گھروں کے آگے تو لوگوں نے اپنی تھوڑی بہت شرم و حیا بچا کررکھی ہوئی ہے۔ لیکن گھروں کے ساتھ پچھلی گلیاں’’ڈسٹ بن‘‘ کی واضح ترین مثال قائم کرتی نظر آتی ہیں۔ اس حساب سے تو شہر کے ڈویلپرز حضرات دادو تحسین کے مستحق ہیں۔ جنہوں نے متعلقہ حکومتی اداروں کی نااہلی چھپانے اورعوام کو آسانیاں اورسہولتیں میسر کرنے کے لئے ان کے گھروں کے پیچھے کافی کھلی گلیاں چھوڑ رکھی ہیں۔ تاکہ وہ اپنا تمام کوڑا، کچرا وہاں پھینک دیا کریں۔ اور میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر یہ بھی نہ ہوتیں تو پھر ۔۔۔؟
امتیاز کاظمی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s