افغانستان میں نیا گیم پلان

ملا منصور کی موت کی خبر پر پوری دنیا یقین کر رہی ہے، اب تو امریکی صدر
نے بھی کہہ دیا ہے، پاکستان ابھی تحقیق کر رہا ہے۔ ایک دوست نے مجھے فون کر کے بہت غصہ کیا کہ اس میں تحقیق کرنے والی کونسی بات ہے، مر گیا تو مر گیا۔ جب امریکی کہہ رہے ہیں تو مان لیں۔ میں نے کہا کہ ابھی طالبان نے نہیں مانا، شائد اس لئے پاکستان انتظار کر رہا ہے کہ طالبان پہلے اعلان کر دیں کہ واقعی ملااختر منصور مر گیا،تو میرے دوست نے کہا طالبان کا تو اس ضمن میں ٹریک ریکارڈ زبردست ہے۔ انہوں نے تو دو سال تک ملا عمر کی موت تسلیم نہیں کی تھی اور ایک مرے ہوئے امیر کے ساتھ ہی دو سال تک نہ صرف لڑائی چلائی بلکہ امن عمل کو بھی بہت آگے بڑھا دیا۔ ان کے لئے اب بھی کیا مشکل ہے کہ اگر وہ کچھ دن خاموش رہیں اور ابہام کو باقی رکھیں۔

ویسے تو امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ملا اختر منصور کو ڈرون حملہ سے نشانہ بنانے کی بنیادی وجہ یہ بتائی ہے کہ وہ افغان امن عمل کے مخالف تھے، اس لئے ان کو نشانہ بنا یا گیا۔ لیکن اس ضمن میں واحد سوال یہ ہے کہ یہ بات تو تسلیم کی جا رہی ہے کہ ملا عمر کی موت کی خبر کو ملا اختر منصور نے ہی دو سال تک پوشیدہ رکھا، اور دراصل ملا اختر منصور دو سال تک اپنے احکامات کو ملا عمر کے احکامات ظاہر کر کے افغان طالبان کو چلا تا رہا۔ اسی دوران پاکستان کے علاقہ مری میں جو افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات ہوئے تب بھی ملا عمر تو انتقال کر چکے تھے، اور ملا اختر منصور ہی دراصل ان مذاکرات کو گرین سگنل دے رہا تھا، تا ہم جب مذاکرات کامیاب ہو تے نظر آئے تو سی آئی اے نے ملا عمر کے انتقال کی خبر بریک کر دی اور اس طرح امن مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔

کہا جاتا ہے کہ ملا اختر منصور ملا عمر کے انتقال کی خبر کے باہر آنے کے خلاف تھے کیونکہ اس سے طالبان میں انتشار پیدا ہوا اور وہ اس پر سی آئی اے سے نا لاں بھی تھے کہ سی آئی اے نے طالبان کو تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے بعد سے امریکہ اور ملا منصور کے تعلقات کشیدہ تھے، یہی کشیدہ تعلقات دراصل افغان امن عمل کی بحالی میں رکاوٹ تھے۔ امریکہ ملا منصور کے ساتھ اعتماد کا رشتہ بحال کرنے میں نا کام رہا، لیکن یہ کہنا کہ ملا منصور امن عمل کی راہ میں رکاوٹ تھے درست نہیں کیونکہ ملا منصور اور طالبان کا موقف تھا کہ سی آئی اے خود امن عمل کی مخالف ہے ۔ جس کا ثبوت ملا عمر کی موت کی خبر کو غلط موقع پر بریک کرنا ہے۔

ملا اختر منصور اور سی آئی اے کے درمیان یہی سرد جنگ گلبدین حکمت یار کی افغان امن عمل میں انٹری کا باعث بنی ورنہ یہ وہی گلبدین حکمت یار تھے جن کو امریکہ نے پہلے پاکستان سے نکلوایا اور وہ ایران میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے او ر بعد میں امریکہ نے گلبدین کو ایران سے بھی نکلوایا۔
1998 میں تہران میں گلبدین حکمت یار سے ملا اور میں نے ان کا ایک طویل انٹرویو کیا۔ میں جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد کا رقعہ لیکر گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ مجھ سے ملے۔ وہ طالبان کے سخت خلاف تھے، ان کے طرز حکومت کو غیر اسلامی اور افغانستان کے لئے زہر قاتل سمجھتے تھے۔ وہ ملا عمر کو کسی بھی طرح امیر المومنین ماننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ وہ پاکستان کے سخت مخالف ہو چکے تھے کہ پاکستان نے ان کو رد کر کے طالبان کو افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے میں مدد دی ہے۔ مجھے ان سے تب ملکر اندازہ ہو اکہ وہ پاکستان کے سخت مخالف ہو چکے تھے۔ ان کے خیال میں پاکستان نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا ہے، وہ سمجھتے تھے کہ ضیاء الحق کی موت دراصل افغانستان کے لئے زہر قاتل تھی۔
آج ملا ختر منصور کو ڈرون حملہ میں ہلاک کر کے گلبدین حکمت یار کو امن عمل میں شامل کرنا دراصل پاکستان کی افغانستان میں عملداری کو ختم کرنے کی ایک اور سازش ہے۔ یہ طالبان میں سے پاکستان کی حمائت ختم کرنے کی سازش ہے اور طالبان میں سے ایک ایسے دھڑے کو آگے لانے کی سازش ہے جو پاکستان مخالف ہو، اسی لئے پاکستان کوئی بھی رد عمل دینے میں محتاط ہے۔ گلبدین اب پاکستان نہیں ایران کے حامی ہیں، ان کو جب سے پاکستان نے نکالا ہے وہ ایران کے در پر ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس وقت ایران میں ہیں، انہوں نے افغان ایران بھارت ٹریڈ معاہدہ بھی کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایران بھارت افغانستان میں ایک ہیں اور پاکستان دوسری طرف ہے، ایران شروع سے طالبان کے خلاف رہا ہے، اسی لئے اس نے گلبدین کو پناہ بھی دی تھی۔ اب جب ایران کی امریکہ سے صلح ہو گئی ہے تو گلبدین بھی امریکہ کوقا بل قبول ہو گیا ہے۔
امریکہ مسلسل پاکستان سے ناراضگی کے سگنل دے رہا ہے، پاکستان کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ایف سولہ روک دئے گئے، امداد روک دی گئی،۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا معاملہ غیر ضروری اہم کر دیا گیا۔ سب کو نظر آرہا تھا کہ امریکہ ناراض ہے، اب ملا اختر منصور کو ماردیا گیا ہے، یہ سب سی آئی اے کا آئی ایس آئی کو پیغام ہے اور یہ سی آئی اے اور آئی ایس آئی کی ہی لڑائی ہے اور ان دونوں نے ہی اس کو حل کرنا ہے، کیونکہ ملا اختر منصور کو آئی ایس آئی کا حمائتی کہا جاتا تھا اور اس کی وجہ سے پاکستان کی طالبان پر گرفت تھی۔ نئے امیر کے آنے تک ابہام رہے گا اور شائد آئی ایس آئی اس وقت نئے امیر کے عمل میں مصروف ہے، اسی لئے سب کچھ جامد نظر آرہا ہے۔
مزمل سہروردی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s