میاں طفیل محمدؒ – 1913ء – 2009ء

اس دنیا میں جو آیا ، اسے جانا ہے ۔ خو ش قسمت ہے وہ شخص جو یہاں
مسافروں کی طرح زند گی گزارے اور اپنے اصلی گھر جائے تو وہاں اسے آباد پائے ۔ یہ دنیا ئے فانی ہر مسافر کا دامن کھینچتی ہے، مگر سمجھدار مسافر اسے جھٹک کر اپنا دامن بچالے جاتا ہے۔ ’’ کل من علیھا فان ویبقٰی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام‘‘۔۔۔ 25؍جون2009ء کو نماز مغرب سے ذرا قبل اللہ کا ایک ایسا بندہ اللہ کے دربار میں حاضر ہوا ، جس کی پوری زندگی، ظاہر و باطن ، سفر وحضر  خوشی و غمی ، غصہ و رضا ، غرض ہرمعاملے میں یک رنگ تھی ۔ نماز کے دوران دربار خداوندی میں اس کی حاضری کی کیفیت مکمل وارفتگی کا ایمان افروز نمونہ ہوتی تھی۔ اس خوش نصیب انسان کی ہرنماز حدیث پاک کے مطابق یہ تصور اجاگر کرتی تھی کہ گویا وہ بندۂ خدا الوداعی نماز ادا کررہا ہے ۔ اس شخص نے واقعی اپنی پوری زندگی ایک ایسے ذمہ دار مسافر کی حیثیت سے گزاری ، جسے صعوبتوں کے باوجود اپنی منزل کا پورا شعور بھی ہوتا ہے اور اس تک پہنچنے کے لئے ہر لمحے فکر مندی بھی ۔ یہ تھے میاں طفیل محمد ؒ جو زندگی کی 96بہاریں مکمل کرکے 25؍جون2009ء کو شیخ زائد ہسپتال میں دائمی اور میٹھی نیند سوگئے اور اگلے روزمنصورہ میں بعد نماز جمعہ ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں نماز جنازہ کے بعد کریم بلاک، علامہ اقبال ٹاؤن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوگئے۔۔۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

میاں طفیل محمد مرحوم جماعت اسلامی کے سابق امیر تھے اور اپنی وفات کے وقت تک ادارہ معارف اسلامی لاہور کے چیئر مین ، رابطہ عالم اسلامی کے رکن اور رابطہ کے تحت قائم عالمی مساجد کونسل کے ممبر تھے۔ میاں طفیل محمد مولانا سید ابولاعلیٰ مودودی ؒ کے معتمد ترین ساتھی تھے اور جماعت کی تنظیم میں طویل عرصے تک ان کے ساتھ قیم کی حیثیت سے فرائض اداکرتے رہے۔ مولانا مودودی ؒ کی جانشینی کا شرف بھی انہیں حاصل ہوا اور نہوں نے مشکل اور پُرآشوب حالات میں جماعت اسلامی کی قیادت کا حق بھی ادا کیا۔ مولاناؒ مودودی اور میاں طفیل محمدکے درمیان مثالی اخوت و محبت کا تعلق قائم تھا۔ دونوں عظیم انسان تھے، خیر کے عَلم بردار ،طاغوت کی حکمرانی کے لئے ننگی تلوار!

میاں طفیل محمد مشرقی پنجاب کی ریاست کپور تھلہ کے ایک گاؤ ں رائے پور آرائیاں میں نومبر 1913ء میں پیدا ہوئے ۔ان کا تعلق متوسط درجے کے ایک کاشت کار گھرانے سے تھا ، جس کے افراد اپنی شرافت و دیانت ، تعاونِ باہمی اور اتفاق و محبت کی وجہ سے پورے علاقے میں معزز و محترم مقام کے حامل تھے۔ ان کے خاندان کے بزرگان گاؤں میں نمبر دار اور ذیلدار تھے۔ میاں طفیل محمدکے تایا چودھری رحمت علی کپور تھلہ اسمبلی کے ممبر بھی چنے گئے تھے۔ میاں طفیل محمداپنی خود نوشت سوانح ’’ مشاہدات ‘‘میں بیان فرماتے ہیں کہ بچپن کے زمانے میں وہ گلی کوچوں میں کھیلنے اور شور و ہنگامہ کرنے والے بچوں سے بہت کم ملا کرتے تھے،اس کے برعکس نصابی سرگرمیوں سے فارغ ہونے کے بعد بیش تر وقت بزرگوں اور بااثر لوگوں کی مجالس میں گزارا کرتے تھے ، جس سے ان کی طبیعت میں سنجیدگی اور تفکر و تدبر پیداہوا۔

میاں طفیل محمد کو اپنے خاندان کے بزرگوں کے علاوہ بچپن اور لڑکپن میں جن لوگوں سے نیاز حاصل رہا ،ان میں امیرِ شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ، مولانا محمد بخش مسلم ، مولانا عبدالحنان ، مولانا محمد جعفر شاہ پھلواروی ،مولانا جلال الدین گورداسپوری اور مولانا پیر فضل محمد خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ آخر الذکر بزرگ مولانا مودودی ؒ کے ابتدائی ساتھی سید عبدالعزیز شرقی مرحوم کے والد گرامی تھے۔ میاں طفیل محمد کی طبیعت میں پیدائشی طور پر سنجیدگی تھی۔ محنت کی عادت کے ساتھ اللہ نے انہیں بے پناہ ذہانت بھی بخشی تھی۔ ہر امتحان میں شان دار کامیابی حاصل کرتے ہوئے گورنمنٹ کالج لاہور میں آئے ۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلے کے وقت امیدوار سے ایک سوال یہ پوچھا جاتا تھا کہ آپ کا کوئی خونی رشتے دار اس کالج میں طالب علم رہ چکا ہے ؟ میاں طفیل محمد نے اس پر برجستہ جواب دیا کہ میں اگر تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے معیار پر پورا اُترتا ہوں تو مجھے داخلہ دیا جائے ،قرابت داری (kinship) کامعاملہ بھی آئندہ چل پڑ ے گا،جب ہمارے خاندان کے کسی شخص کو آپ داخلہ ہی نہیں دیں گے تو قرابت داری کا خانہ کیسے پُر ہوسکتا ہے ۔
میاں طفیل محمد سائنس کے طالب علم تھے ۔ کالج سے بی ایس سی کا امتحان اعزاز کے ساتھ پاس کیا۔ میاں طفیل محمدکے اپنے بقول کپور تھلہ میں ہندو اور سکھ معیشت پر قابض تھے، بالخصوص ہندو بنئے نے اپنے سودی کارو بار میں مسلمانوں کو بری طرح جکڑ رکھا تھا۔ اس حوالے سے جب معاملات عدالتوں میں جاتے تو وہاں مجسٹریٹ ، جج اور وکلاسبھی غیر مسلم ہوتے تھے۔ خود میاں طفیل محمد کے خاندان کو بھی سود خوروں کے اس جال سے واسطہ پڑا، چنانچہ خاندان کے لوگوں نے طے کیا کہ ان کا یہ ہونہار سپوت سائنس کے بجائے قانون کی تعلیم حاصل کرے۔ اسی فیصلے کے تحت میاں طفیل محمد نے سائنس کے مضامین پسندیدہ ہونے کے باوجود بادلِ نخواستہ سائنس میں ماسٹر کرنے کے بجائے لاء کالج لاہور سے ایل ایل بی کا امتحان دیا اور اس میں بھی شان دار کامیابی حاصل کی ۔ میاں طفیل محمد کے والدِ گرامی میاں برکت علی سکول ٹیچر تھے اور کمال یہ ہے کہ علی الصبح اپنے بھائیوں کے ساتھ کھیتوں میں ہل چلاتے اور سکول کا وقت شروع ہونے سے قبل تیاری کرکے سکول پہنچ جاتے ۔ میاں طفیل محمد کے والد محترم کو ہم نے بھی دیکھا ۔ وہ بہت نیک اور سادہ طبیعت کے بزرگ تھے ۔ میاں صاحب امیر جماعت ہونے کے زمانے میں بھی اپنے والد کے سامنے یوں مودب کھڑے ہوتے، جیسے کوئی چھوٹا بچہ اپنے بزرگوں کے سامنے کھڑا ہوتا ہے ۔
میاں طفیل محمد کے دو بھائی اور ایک بہن بچپن میں ہی فوت ہوگئے تھے۔اب وہ تین بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے ۔ میاں طفیل محمد کے وکیل بن جانے پر پورے خاندان، بلکہ ریاست کپور تھلہ کی ساری مسلم آبادی کو بڑی امیدیں وابستہ تھیں کہ اب یہ ہونہار نوجوان وکالت و عدالت میں نام بھی پیدا کرے گا اور اپنا معیار زندگی بھی بلند کرے گا۔ میاں طفیل محمدنے وکالت شروع کردی ، جس کی کامیابی کے بہت روشن امکانات تھے ۔اسی عرصے میں ان کی شادی بھی ہوئی، اہلیہ محترمہ بھی ایک بہت عظیم خاتون تھیں ۔ ہم نے ان کے حالات اپنی کتاب ’’مسافرانِ راہ وفا ‘‘میں تفصیلاً لکھ دیئے ہیں ۔اسی دور میں ان کے کانوں میں سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی دعوتِ حق نے رس گھولا۔ وہ ترجمان القرآن کے مضامین کے ذریعے اقامت دین کی اس دعوت سے روشناس ہوئے اور پھر زندگی کا دھارا بالکل تبدیل ہوگیا ۔ تمنائیں، آرزوئیں، معیارِ زندگی کے خواب اور حسین مستقبل کا تانا بانا سب منہ دیکھتے رہ گئے۔ مسافر اپنا دامن چھڑا کر ایک اور ہی منزل کی تلاش میں نئی راہوں پر چل نکلا ۔ میاں طفیل محمد کو جس مضمون نے زیادہ متاثرکیا، اس کا عنوان تھا:’’ راہ روپشت بہ منزل ‘‘۔۔۔ ( ترجمان القرآن جنوری 1940ء)۔ اس مضمون نے اس راہ رو کو منزل کا پتابتادیا اور وہ واقعی منزل سے ہم کنار بھی ہوا۔
جماعت اسلامی میں شمولیت کیسے اور کیوں کر ہوئی ؟ یہ ساری تفصیلات انہوں نے اپنی کتاب مشاہدات میں بیان کی ہیں اور اس میں ایک اہم بات یہ ہے کہ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ،جن سے ان کا بچپن سے عقیدت مندی کا تعلق تھا ، انہیں مولانا مودودی ؒ تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ بن گئے ۔ اس دور میں طفیل محمد بیک وقت عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے پُرجوش خطابات سے بھی متاثر تھے اور مولانا مودودی ؒ کی دل نشین تحریروں کے بھی گرویدہ تھے ۔ اب ان کے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ ان میں سے کس راہ پر چلیں ، اس کے جواب میں امیر شریعت نے یوں نصیحت فرمائی: ’’وکیل صاحب خدا لگتی پوچھتے ہوتو کرنے کا اصل کام وہی ہے جو سیدکا وہ لاہور ی لعل ( مولانا مودودی ؒ ) کہتا ہے ۔ اسی سید کے پاس جاؤ اور اس کے ساتھ مل کر کام کرو‘‘۔۔۔ ( بحوالہ مشاہدات از میاں طفیل محمد مطبوعہ ادار ہ معارف اسلامی ص56)۔۔۔ اسی سے میاں طفیل محمد کو یکسوئی حاصل ہوئی اور وہ جماعت کے تاسیسی اجلاس میں شریک ہوئے۔ تاسیسی اجلاس میں شرکت اور وہاں جماعت کی رکنیت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنے کا واقعہ ان کی کئی تحریروں، بالخصوص مشاہدات میں موجود ہے ۔ وہاں جو سوال جواب ہوئے اور میاں طفیل محمد جس ذہنی و قلبی کیفیت سے گزر ے  اس کی پوری تفصیل بھی ان کی تحریروں میں موجود ہے ۔ اس کے بعد کے مراحل ان کی سوانح اور جماعت کی تاریخ کا اہم ترین باب ہے۔
حافظ محمد ادریس

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s