نواب برٹش یار جنگ کی استادی

ہمیں ہمارے بڑے اور ان کے بڑے اور ان کے بڑے نسل در نسل بتاتے آئے کہ انگریز سو سال آگے کی پلاننگ کرتا ہے تبھی تو اس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ ہمیں بتایا جاتا رہا کہ انگریز جمہوریت، روشن خیالی اور صنعتی انقلاب کا امام ہے، یورپی نشاۃ ثانیہ کا پیغمبر ہے، فنِ سفارت کاری کا استاد ہے، اس کے تہذیبی و تمدنی اثرات سے کوئی نہ بچ پایا۔ ہمیں یقین دلایا گیا کہ دنیا میں دو طرح کے لوگ بستے ہیں ایک وہ جو انگریزی جانتے ہیں، دوسرے وہ جو ان پڑھ ہیں۔ مگر یہ سب 23 جون سے پہلے کا قصہ ہے۔ ساڑھے سات سو برس پرانا وہ قصہ تو یاد ہو گا کہ کس طرح طاعون زدہ جرمن قصبے ہیملن کے بچے ایک پائیڈ پائپر کی بین سے نکلنے والے مدھر سروں سے مست قطار اندر قطار اس کے پیچھے چل پڑے اور پھر جانے کہاں کھو گئے۔ ہیملن کا پائیڈ پائپر تو والدین کو بتائے بغیر ان کے بچے لے گیا مگر تین دن پہلے امیگریشن کے فرضی طاعون سے خوفزدہ برطانوی بڈھوں نے اپنے ہاتھوں اپنے بچے سنہرے مستقبل کی مدھر دھن سنانے والے پائیڈ پائپر کے حوالے خوشی خوشی کردیے۔
میں بھی عجیب شخص ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں (جون ایلیا)
 آپ نے کہا ہم یورپی یونین میں تو رہیں گے مگر یورو زون کا حصہ نہیں بنیں گے اور اپنا پاؤنڈ چلائیں گے، یورپ نے کہا جیسے قبلہ کی مرضی۔ آپ نے کہا مابدولت یورپی یونین میں تو رہیں گے مگر شنیگن معاہدے میں شامل نہیں ہوں گے اور بارڈر کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھیں گے۔ یورپ نے کہا جیسے حضور چاہیں ویسا کرلیں۔ آپ نے فرمایا یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سرآنکھوں پر مگر امریکہ سے ہم اپنے خصوصی تعلقات میں مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔ یورپ نے کہا بجا فرمایا۔ 
حضورِ والا نے بقائمی ہوش و حواس 1992 میں یورپی یونین کے موجودہ ڈھانچے میں شمولیت کے لیے تاریخی ماسترخت معاہدے پر دستخط کیے۔ آپ کو معلوم تھا کہ اس نکاح کے بعد ماتھے پر شکن لائے بغیر تمام رکن ممالک کے مابین افراد، اشیا اور کاروبار کی آزادانہ نقل و حمل ہوگی۔ اور پھر اچانک 24 برس بعد ایک وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کو جانے کیوں سوجھی کہ برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے نہ رہنے پر ریفرنڈم کروائیں گے۔ حالانکہ یہ ریفرنڈم تو انیس سو بانوے میں ہونا چاہیے تھا۔ اور جب ریفرنڈم کا پنڈورا بکس کھل گیا اور اس میں سے نسل پرستی و تنگ نظری کے حشرات نکل نکل کر رینگنے لگے تو یہی ڈیوڈ کیمرون ووٹروں سے اپیل کرتے رہے کہ خدارا یونین سے نکلنے کے لیے ووٹ نہ دیجیے۔ مگر تب تک ہر قصبہ، محلہ، خاندان بٹ چکا تھا اور تمام قومی جماعتیں پٹ چکی تھیں۔ ایسا آخری بار 17 ویں صدی کی خونی خانہ جنگی میں ہوا تھا جب برطانیہ شاہ پرستوں اور جمہور پرستوں میں بٹ گیا تھا۔
 
مگر یہ ریفرنڈم تاریخ میں پہلی ایسی خانہ جنگی کے طور پر یاد رکھا جائے گا جو بلٹ کے بجائے بیلٹ سے لڑی گئی۔ جیتنے والوں کو بھی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اب وہ اپنی فتح کا کیا کریں اور ہارنے والے بھی ششدر ہیں کہ بیٹھے بٹھائے سر پر اینٹ (برک زٹ) کیوں مار لی؟ اگر تو یہ آزادی ہے تو کیسی آزادی ہے جس پر احساسِ تنہائی قہقہے لگا رہا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا رہا کہ انگریز سے زیادہ معاملہ فہم تیز طرار کوئی نہیں ہوتا تبھی تو مٹھی بھر انگریزوں نے لڑاؤ اور حکومت کرو کے اصول پر آدھی دنیا کو سینکڑوں سال دبا کے رکھا۔ مگر یہ کیا ہوا کہ استاد اپنے ہی مجرب جال میں خود پھنس گیا۔ تو کیا اب بھی انگریز لوگ اہلِ سکاٹ لینڈ اور آئرش لوگوں پر لطائف بناتے سناتے رہیں گے؟
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s