تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی جھوٹ

 جدید زمانے میں سیاست اور جھوٹ کاچولی دامن کا ساتھ ہے بلکہ یہ کہا جائے، تو غلط نہ ہو گا کہ جدید سیاست کی بنیاد ہی جھوٹ پر کھڑی ہے۔ اس لیے سیاست دانوں کا جھوٹ بولنا ایسا کوئی انہونا واقعہ نہیں، لیکن چند جھوٹ ایسے ہیں، جنہیں ’’عظیم سیاسی جھوٹ‘‘ کہنا مناسب ہو گا۔ یہ وہ مشہور، بدنام اور ایسے جھوٹ ہیں، جنہوں نے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں پر اثر ڈالا: 

1۔ مونیکا لیونسکی سکینڈل جنوری 1998ء میں ایک امریکی صحافی نے ایسی خبر ’’بریک‘‘ کی، جو اپنے زمانے کی سب سے بڑی خبر بنی کہ امریکا کے صدر بل کلنٹن کے وائٹ ہاؤس کی ایک انٹرن مونیکالیونسکی کے ساتھ تعلقات ہیں۔ جیسے ہی شبہات بڑھے، صدر کلنٹن نے علانیہ کہا کہ ’’میرا اس عورت مونیکا کے ساتھ کوئی غلط تعلق نہیں ‘‘لیکن یہ سفید جھوٹ ہی نہیں بلکہ انہوں نے حلفیہ بھی یہی جھوٹ بولا، جو اُن کے خلاف مواخذے کا سبب بن سکتا تھا۔ بعد میں وائٹ ہاؤس کی ایک سابق اہلکار اور مونیکا کی ہم رازلنڈا ٹرپ کی ریکارڈ شدہ ٹیلی فونک گفتگو سامنے آئی ،جس میں وہ کلنٹن کے ساتھ اپنے تعلق کے بارے میں گفتگو کرتی پائی گئی۔ معاملہ کھل کر سامنے آ گیا اور بالآخر بل کلنٹن نے اقرار کیا اور یوں 90ء کی دہائی کا سب سے بڑا سیاسی جھوٹ پکڑا گیا۔ 

2۔ عراق کو کیمیائی ہتھیاروں کی فراہمی عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ امریکا جوہری، حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف ہے، خاص طور پر دوسری جنگ عظیم میں جاپان پر خود ایٹمی حملہ کرنے کے بعد سے۔ حال ہی میں سی آئی اے کی جانب سے چند دستاویزات کی راز دارانہ حیثیت ختم کی گئی ہے، جس میں معلوم ہوا ہے کہ امریکا نے عراق کے صدر صدام حسین کی مدد کی کہ وہ ایسے ہتھیار تیار کریں اور ایران کے خلاف جنگ میں اہداف پر اُن ہتھیاروں کا استعمال کریں۔ کہا جاتا ہے کہ صدر ریگن کی انتظامیہ نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ وہ ایران کو بڑا خطرہ سمجھتا تھے۔ 

3۔ خلیج ٹونکن کا واقعہ اگست 1964ء میں ویت نام کے قریب واقع خلیج ٹونکن میں امریکی بحری جہازوں پر حملے کے دعوے کیے گئے، جس نے بعد میں ویت نام پر جنگ مسلط کرنے کی راہ ہموار کی۔ اس واقعے میں نہ ہی امریکی بحری جہازوں کو نقصان پہنچا اور نہ ہی کوئی اہلکار مرا، لیکن مبینہ حملے اور داغے گئے، تارپیڈو کے بعد امریکا کی ’’سلامتی‘‘ کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا، بعد ازاں حکومت نے ویت نام میں ’’کمیونسٹ جارحیت‘‘ کو روکنے کی ٹھانی اور پھر ’’بڑے بے آبرو ہو کر‘‘ نکالے بھی گئے۔ واضح رہے کہ بعد ازاں ثابت ہوا تھا کہ ایسا کوئی واقعہ خلیج ٹونکن میں پیش ہی نہیں آیا تھا۔ 

4۔ شہزادی اناستاسیا کا قتل روس کی تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ کہ 1918ء میں زار کے پورے خاندان کے قتل میں شہزادی اناستاسیا بچ گئی تھیں۔ دہائیوں تک مختلف دعوے دارشہزادی اناستاسیا ہونے کا دعویٰ کرتے رہے، جن میں اینااینڈرسن سب سے مشہور تھیں۔ یہاں تک کہ اس ’’جھوٹ‘‘ پر کئی فلمیں تک بن گئیں، لیکن 2007ء میں جینیاتی جانچ سے ثابت ہوا کہ اس قتل ِعام میں شہزادی نہیں بچی تھی اور اینااینڈرسن جھوٹ بولتی رہی ۔ 

5۔ واٹرگیٹ سکینڈل کلنٹن،مونیکا سکینڈل سے دو دہائی قبل ایک اور امریکی صدر کے جھوٹ پکڑے گئے تھے اور اس پورے معاملے نے نہ صرف اُن کی صدارت کا خاتمہ کیا بلکہ ملک کی ساکھ کو بھی دنیا بھر میں نقصان پہنچایا۔ یہ امریکا کے صدر رچرڈنکسن تھے، جو گذشتہ موسم گرما ہی میں دوسری بار امریکا کے صدربننے تھے۔ 17 جون 1972ء کو واشنگٹن ڈی سی کے واٹرگیٹ ہوٹل میں واقع ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے صدر دفتر میں مشکوک سرگرمی کرتے ہوئے پانچ افراد پکڑے گئے اور جب اُن کا معاملہ کھلا تو معلوم ہوا کہ صدر نکسن نے اس دفتر میں ٹیلی فون کالز ریکارڈ کرنے کا نظام لگا رکھا ہے۔ عدالت میں سخت ترین جنگ کے بعد عدالت نے فیصلہ کیا کہ صدر ریکارڈ شدہ ٹیپس فراہم کریں۔ بدترین ہزیمت کے بعد بالآخر اگست 1974ء میں نکسن نے عہدہ چھوڑ دیا۔ وہ امریکا کی تاریخ کے پہلے اور واحد صدر ہیں، جنہیں اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ 

6۔ فوکوشیما حادثہ 11 مارچ 2011ء کو جاپان میں ایک زبردست زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں ایک تباہ کن سونامی نے ملک کا رُخ کر لیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دوسرا بڑا خطرہ تھا کیونکہ فوکوشیما نیوکلیئر پلانٹ میں واقع دو بڑے ایٹمی ری ایکٹرز نا کام ہو گئے تھے۔ ابتدائی طور پر جاپانی حکومت اور یہ پلانٹ چلانے والے ادارے نے تباہی کی سطح کو چار نمبر پر قرار دیا جو حقیقت میں 7 تھی  یعنی تاریخ کے بدترین جوہری حادثے چرنوبل کے برابر تھی۔ 

7۔ عراق کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار 2002ء میں امریکا نے دنیا بھر میں عراق کا ’’ہوا‘‘ پھیلایا اور صدر جارج ڈبلیوبش کی تمام انتظامیہ کا ایک ہی راگ تھا کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں، جن سے مغربی دنیا کو خطرہ لا حق ہے۔ صدربش ہی نہیں ان کے وزیر ڈونلڈرمزفیلڈ بھی یک زبان ہو کر اس دعوے کو حقیقت قرار دے رہے تھے اور نتیجے میں عراق پر حملہ کر کے اسے تہس نہس کر دیا گیا۔آج 13 سال گزر جانے کے بعد بھی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والا کوئی ہتھیار عراق سے برآمد نہیں ہوا، لیکن لاکھوں افراد کی جانیں ضرور چلیں گئیں اور ایک ہنستا بستا ملک برباد ہو گیا۔ بعد میں جارج ڈبلیوبش یہ کہہ کر اپنی خفت مٹاتے دکھائی دئیے کہ ہتھیار تو نہیں ملے، لیکن صدام حسین ایسے ہتھیار بنانے کی صلاحیت رکھتے تھے بلکہ ان کی حکمرانی میں عراق میں عوام پر جو عرصہ حیات تنگ تھا، اس سے اُن کی جان ضرور چھوٹی ہے۔

 (اُردو ٹرائب سے ماخوذ)     

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s