فاتح ترکی و غزہ

فری غزہ موومنٹ اور ترکی کی نجی این جی او (فاونڈیشن فار ہیومن رائٹس اینڈ
فریڈمز اینڈ ہیومینٹیرین ریلیف) کی جانب سے غزہ کیلئے 2004ء سے امدادی سامان پر مشتمل کھیپ جاتی تھی۔ اس میں اشیائے خورد و نوش، ادویات، کمبل، بستر اور کپڑے وغیرہ شامل ہوتے تھے۔ یہ کھیپ ہر سال ہی کسی نہ کسی واقعے کے بعد پہنچائی جاتی تھی۔ 2010ء میں ان ہی اداروں کی جانب سے چھوٹے سمندری جہازوں پر سامان کی کھیپ غزہ لے جائے جانے کا اعلان کیا گیا، اس مرتبہ اسرائیل کو اپنی جارحیت کے جواب میں کافی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ لہذا اس نے سامان کو غزہ لے جانے پر مختلف وجوہات اور تاویلیں گھڑ کر روکنے کی غرض سے پابندی لگادی۔

اب کی مرتبہ اس امدادی قافلے ’فریڈم فلوٹیلا‘ کے ساتھ معتبر صحافیوں کی ایک بڑی تعداد بھی شریک تھی۔ قافلے کو بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیل کی جانب سے روکا گیا اور ساتھ ہی غیر قانونی طور پر اس قافلے پر حملہ کردیا گیا۔ اس حملے میں کئی ترک باشندے شہید ہوگئے۔ کسی بھی غیرت مند قوم کی مانند یہ شہادتیں ترکی کیلئے ناقابل قبول تھیں۔ ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردگان نے اسرائیل کی اس اجارہ داری اور غنڈہ گردی کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس کے بعد ترکی نے ہر فورم پر اسرائیل کے خلاف آواز بلند کی۔ صرف یہی نہیں بلکہ جدید دنیا کو جدید ذرائع سے اسرائیلی مظالم کے بارے میں آگاہ کیا جاتا رہا۔ معاملات اس نہج تک پہنچ گئے کہ ترکی اور اسرائیل کے تعلقات تھرڈ لیول سیکرٹری تک آگئے تھے۔ اس کے علاوہ نیٹو کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی بھی ملک نے اسرائیل کے خلاف ویٹو پاور کا استعمال کیا تھا، جس سے اسرائیل کو مشترکہ فوجی مشقوں میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران ترکی کی موثر اور زبردست قسم کی سفارتکاری نے دنیا بھرمیں ترکی کے موقف کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ اس کیلئے نرم گوشہ بھی پیدا ہوا۔

2013ء میں جب امریکہ کی کوششوں سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے تو اُس میں ترکی کی جانب سے یہ مطالبہ واضح طور پر رکھا گیا تھا کہ جب تک اسرائیل سرعام معافی نہیں مانگے گا اُس وقت تک تعلقات ٹھیک ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ ترکی کی اس ضمن میں تین بنیادی شکایات تھیں۔
پہلی یہ کہ اسرائیل اپنی جارحیت کی واضح الفاظ میں معافی مانگے
دوسرا یہ کہ اسرائیل فریڈم فلوٹیلا کے حملے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کیلئے 2 کروڑ ڈالر ادا کرے
تیسری شرط یہ تھی کہ اسرائیل غزہ کے محاصرے اور ناکہ بندی میں کمی اور نرمی کرے
یہ تیسری شرط اسرائیل کیلئے قبول کرنا مشکل کام تھا، تاہم ترکی نے اس دوران نہ صرف اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا بلکہ اسرائیل پر بھی غیر محسوس طریقے سے دباؤ قائم کئے رکھا۔
لیکن اب حالیہ ہونے والے مذاکرات میں ایک معاہدہ طے پایا ہے۔ اس معاہدے کی رو سے اسرائیل ترکی کی تینوں شرائط کو قبول کرے گا۔ واضح رہے کہ معاہدے میں فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے بارے میں کوئی بھی شق شامل نہیں ہے۔ اس معاہدے سے قبل اور درمیان فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اور صدر محمود عباس کو مکمل اعتماد میں رکھا گیا ہے۔ میرے وہ صحافی دوست جو فلسطین میں مقیم ہیں، وہ اس معاہدے کو خوشی کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر ترکی کی جانب سے امداد عید سے قبل غزہ پہنچ جائے تو یہ غزہ والوں کیلئے عید کا تحفہ ہوگا۔ لیکن ترکی کی قومی اسمبلی اور اسرائیلی کابینہ کی جانب سے ابھی اس معاہدے کی منظوری ہونا باقی ہے۔ اس معاہدے کی آخری شق کے مطابق غزہ میں انسانی امداد، غیر فوجی اشیاء، گھریلو استعمال کی اشیاء، اشیائے خورد و نوش کے ساتھ ساتھ کپڑے، بستر، کمبل اور ادویات بھی جاسکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر ڈاکٹرز بھی غزہ کے اسپتالوں میں کام بھی کرسکتے ہیں۔ مزید یہ کہ ترکی غزہ میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر کام بھی کرسکتا ہے اور پانی و بجلی کی کمی کا سدباب بھی کرسکتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ترکی کے موجودہ صدر رجب طیب اردگان نے ترکی اسرائیل معاہدہ پر اپنے تاثرات دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے فلسطینیوں کے حقوق کی کھلی جانب داری کی ہے اور ہم یہ کرتے رہیں گے۔ طیب اردگان نے کہا کہ آئندہ بھی وقت آیا تو فریڈم فلوٹیلا بھیجیں گے اور اسی طرح اپنی جان پر کھیلیں گے۔ ہم نے پہلے بھی غزہ کی خاطر ہی اسرائیل سے اپنے تعلقات ختم کئے تھے اور اب بھی شرائط کا تعلق اور تعلقات کی بحالی غزہ کی وجہ سے ہے۔ اس سے ہم اہل غزہ تک پہنچ سکتے ہیں، اُن کی زندگیوں کو بہتر کرسکتے ہیں۔ اس معاہدے کی رو سے اسرائیل انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے کا پابند ہوگا۔ طیب اردگان نے اپنے تاثرات میں یہ ذکر بھی کیا کہ جمعہ المبارک یعنی (یکم جولائی 2016ء) کو 14 ہزار ٹن کی امداد پر مشتمل ایک اور فلوٹیلا غزہ کی جانب بھیجا جائے گا۔ یہ فلوٹیلا بغیر کسی رکاوٹ کے غزہ کے ساحل پر اترے گا اوریہ غزہ کیلئے عید کا تحفہ ہوگا۔

آپ اس ساری معاملے کو جس بھی اینگل سے دیکھ لیں، آپ کو اس میں ترکی کی فتح اور برتری کا واضح احساس ہوگا۔ ترکی نے 6 سال تک اسرائیل پر ہر قسم کا دباؤ رکھا ہے، اس کو ہر فورم پر آڑے ہاتھوں لیا ہے، اس کے کیخلاف آواز اٹھائی ہے اور اب جب تعلقات بحال ہو رہے تو وہ بھی ترکی کی شرائط پر بحال ہو رہے ہیں۔ اس سے تو یہی واضح ہوتا ہے کہ تعلقات کی بحالی اسرائیل کی مجبوری ہے ناں کہ ترکی کی، لیکن میرے ملک کے نوجوان دانشور طبقے کو اس بات میں بھی بے بنیاد تنقید کرنے کا موقع میسر آگیا کہ انہوں نے اپنے مشاہدے پر قیاس کرتے ہوئے اس عمل کو ترکی کی شکست قرار دیا ہے۔ تنقید اچھی بات ہے، لیکن فضول تنقید کا کیا کوئی فائدہ ہے؟ جن کو عالم اسلام اور نظریات سے چڑ ہے اور جو معاملات کو مخصوص زاویے سے دیکھنے کے قائل ہیں، ان کی نظر میں یہ شکست ہوسکتی ہے لیکن وہ جن کو اسلام اور انسانیت سے لگاؤ ہے، وہ اس کو ترکی اور غزہ کی فتح کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
سالار سلیمان

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s