بنگلہ دیش میں پھانسیوں کی سزا اور پاکستان کی خاموشی

بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد نے اپنے تیسرے دورِ حکومت میں وزیراعظم سے زیادہ ایک قاتل کا روپ دھار لیا ہے۔ بعض ذرائع ابلاغ میں بجاطور پر اسے قاتل حسینہ کا خطاب دیا گیا ہے، لیکن حقیقت میں اسے کالی ماتا کہنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اس نے اپنے آقا بھارت کے زیر اثر کالی ماتا کا روپ دھار لیا ہے اور کالی ماتا کا انتقام ہے کہ رُکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔
2013ء سے لے کر اب تک 13افراد کو پھانسی کی سزا ہو چکی ہے جسے دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان تیرہ افراد میں سے سات کا تعلق جماعتِ اسلامی سے ہے، جبکہ 6 کا تعلق خالدہ ضیاء کی نیشنل پارٹی سے ہے۔ یہ سزائیں ایک ایسے نام نہاد ٹربیونل کی طرف سے دی گئی ہیں جو ایک آرڈیننس کے تحت قائم کیا گیا اور جس کے قیام اور طریقہ کار پر بہت اعتراض کیا گیا ہے۔ جن افراد کو سزائیں دی گئیں، تختہ دار پر لٹکایا گیا ہے ان سب کی عمر 70 اور 90 سال کے درمیان ہے۔ حال ہی میں جس شخصیت کو تختہ دار پر لٹکایا گیا ہے وہ ناظم جماعتِ اسلامی مطیع الرحمن نظامی مرحوم ہیں جو ایک نیک اور فرشتہ سیرت انسان تھے۔ ایک طرف حسینہ واجد کا جذبہ انتقام ہے، جو کئی بے گناہ افراد کو تختہ دار پر لٹکا چکا ہے اور دوسری طرف پاکستانی حکومت کی مجرمانہ خاموشی ہے۔ یہ صورتِ حال کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ پہلا سوال تو یہ کہ بنگلہ دیش کے قیام کے چار عشرے بعد اس جذبہ انتقام کے پیچھے کیا محرکات کا رفرما ہیں اور جن افراد کو سزائے موت کا مستحق گردانا گیا ہے وہ کون ہیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت اور ذرائع ابلاغ نے اس سارے معاملے پر مجرمانہ خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے؟ تیسرا اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پھانسیوں کے ان اقدامات سے اندرونی طور پر پاکستان میں کیا اثرات مرتب ہوں گے اور خارجی سطح پر اس کے کیا مضمرات ہوں گے؟
پہلے سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لئے بنگلہ دیش کے قیام کا مختصر سا پسِ منظر پیش نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ یہ واقعہ چونکہ آج سے پینتالیس سال قبل کا ہے اس لئے نئی نسل کو اس کا صحیح پسِ منظر معلوم نہیں ہے، یہ بات اب پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ بنگلہ دیش کی نام نہاد جنگ آزادی کے پیچھے مکمل ہاتھ بھارت کا تھا۔ مکتی باہنی کے بھیس میں ایک طرف تو بھارتی فوج کے حاضر سروس جوان اس جنگ میں شریک تھے اور دوسری طرف یہی افراد پاکستانی فوج کی وردی میں ملبوس مقامی افراد کو تشدد کا نشانہ بنا کر پاک فوج کے لئے بدنامی کا باعث بھی بن رہے تھے اور مقامی اور بین الاقوامی رائے عامہ بھی پاکستان کے خلاف ہموار کر رہے تھے۔ ایسی صورتِ حال میں پاکستانی فوج نے دفاعی حکمت عملی کے تحت مقامی افراد پر مشتمل البدر اور الشمس نامی تنظیمیں قائم کیں جن کا مقصد پاکستانی فوج کی مدد کرنا تھا۔ یہ یاد رہے کہ ان تنظیموں کی قیادت باقاعدہ پاکستانی فوج کے پاس تھی، اس وقت چونکہ بنگلہ دیش قائم نہیں ہوا تھا اور یہ حصہ پاکستان کا مشرقی صوبہ تھا، اور دوسری طرف پاکستان کو بیرونی جارحیت کا سامنا تھا، اِس لئے البدر اور الشمسکا یہ اقدام سو فیصد وطن کے دفاع کے لئے تھا، اور وطن کا دفاع کسی بھی قانون کے تحت جرم نہیں ہے۔ 
اِس لئے جن افراد کو سزائے موت سنائی گئی ہے، ان کا جرم مقامی افراد پر تشدد یا قتل نہیں، بلکہ ان کا جرم پاکستان سے محبت اور اس کا دفاع ہے، لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ افراد 45 سال بعد سزا وار کیوں ٹھہرائے گئے۔ یاد رہے کہ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد خود مجیب الرحمن وزیراعظم رہا اور یہ حکومت 1975ء تک قائم رہی۔ اس کے دورِ حکومت میں اگرچہ ایسے افراد کو سزا دینے کے لئے ایک ٹربیونل قائم ہوا، لیکن 1974ء میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین ایک سہ فریقی معاہدے کے تحت نہ صرف یہ الزامات واپس لے لئے گئے، بلکہ ٹریبونل بھی ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد 1995ء تک فوجی سربراہان کی حکومت رہی جوان الزامات کی صحت اور اس قسم کے جرائم کا بدلہ لینے کے زیادہ حقدار تھے، لیکن اس دوران بھی کوئی ایسا اقدام نہ کیا گیا، پھر 1996ء سے 2000ء تک خود حسینہ واجد کی حکومت رہی، اس دوران بھی نہ تو ایسا ٹریبونل قائم کیا گیا اور نہ ہی ایسی وحشیانہ سزائیں سنائی گئیں۔
حسینہ واجد دوسری بار 2009ء میں برسرِ اقتدار آئی، لیکن مذکورہ ٹریبونل کا قیام اس کے تیسرے دورِ حکومت،یعنی 2013ء میں آیا۔ اس دوران دو تین واقعات ایسے ہوئے، جس سے حسینہ واجد کی حکومت کو دھچکا لگا۔ ایک تو 2012ء میں ایک فیکٹری میں آگ لگ گئی، جس سے تقریباً 150 افراد جھلس کر مر گئے۔ دوسری بار اپریل 2013ء میں ایک عمارت کے گرنے سے تقریباً 900 افراد مارے گئے۔ حسینہ واجد نے لوگوں کے غم و غصہ کا رُخ موڑنے کے لئے 1971ء میں پاکستان کے واقعات کو ہوا دی اور لوگوں پر مقدمات چلانے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی ڈھاکہ اور میرپور کے ہاکی سٹیڈیم میں بھارت اور پاکستانی ٹیموں کے درمیان میچ کے موقع پر بہت بڑی تعداد میں بنگلہ دیشی عوام کی طرف سے پاکستانی پرچم لہرانے اور پاکستانی ٹیم کا ساتھ دینے کی وجہ سے حسینہ واجد جو بھارت کے بہت زیادہ زیرِ اثر ہے، ان لوگوں کے اس اقدام کو سخت ناپسند کیا اور اس کا قصور وار بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی کو گردانا ۔
اس لئے جماعتِ اسلامی کے راہنماؤں کو تختہ دار پر لٹکانے کی وجہ نہ صرف 1971ء میں سرزمینِ پاکستان سے اپنی محبت اور وفاداری ہے، بلکہ اب بھی بنگلہ دیش کے اندر پاکستان کے بارے میں مثبت رائے عامہ ہموار کرنے کی پاداش میں ہے، لیکن جو بات باعث حیرت ہے کہ پاکستان کے ذرائع ابلاغ اور بالخصوص حکومت اس پر کیوں خاموش ہیں۔ میرے نزدیک اس خاموشی کی دو تین بنیادی وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ پاکستان کے ایک میڈیا ہاؤس کی جانب سے ان سزاؤں کے اعلانات سے قبل جماعت اسلام کے خلاف ایک رائے عامہ ہموار کی گئی اور پاکستانی افواج اور جماعت اسلامی کے مابین ایک خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، بلکہ پاکستان ہی کے بعض صحافتی حلقوں کی جانب سے حسینہ واجد سے ان افراد کے خلاف مقدمات قائم کرنے کے مطالبے کئے گئے۔ راقم کا پیشہ وارانہ سرگرمیوں کے حوالے سے تین بار بنگلہ دیش جانے کا اتفاق ہوا۔ 2012ء میں ایک بین الاقوامی ادارے کی جانب سے منعقد کردہ ایک اجلاس میں جانا ہوا۔ اسی ادارے کی طرف سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے سکولوں میں ایک منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔ اس منصوبے میں سرکاری سکولوں کے ساتھ ہمارے آزاد کشمیر کے کچھ نجی سکول بھی شامل تھے۔ ڈھاکہ میں منعقدہ ایک منصوبے کے ایک جائزہ اجلاس میں ایک برطانوی خاتون بھی شامل ہوئیں، جن کا تعلق درس و تدریس کے شعبے سے تھا۔
میرے لئے یہ بات باعث حیرانی تھی کہ اس نے آزاد کشمیر کے بعض سکولوں کو اس منصوبے میں شمولیت پر اعتراض کیا کہ اس کے بقول ان سکولوں کا تعلق جماعتِ اسلامی سے تھا اور اس کا نقطہ نظر جماعتِ اسلامی کے بارے میں نہایت متعصبانہ تھا۔ یہی نہیں،بلکہ حکومتی حلقوں میں جماعت کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں اور وہ بھی سب کو معلوم ہیں۔ تین چار سال قبل کی بات ہے کہ حکمران جماعت کے ایک فرد کی تحریرمیری نظر سے گزری ، اس تحریر میں یہ بتایا گیا تھا کہ پاکستان کے قیام سے قبل 1946ء میں ہونے والے انتخابات میں ’’پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ اللّٰہ کتنا مقبول تھا۔ میں نے ان صاحب سے پوچھا کہ اگر یہ نعرہ اتنا مقبول تھا اور آپ خود اس تحریک میں شامل تھے تو پھر جب بعض سیکولر عناصر کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر قائم نہیں کیا گیا اور یہ کہ دو قومی نظریہ نام کی کوئی چیز نہیں ہے تو پھر آپ اس دعویٰ کی تردید کیوں نہیں کرتے۔ تو ان صاحب نے جو آج بھی ایک سیاسی عہدے پر قائم ہیں،جو جواب دیا وہ میرے لئے انتہائی تعجب اور حیرانی کا باعث تھا۔ 
انہوں نے کہا کہ دو قومی نظریہ بالکل سچ تھا اور ہے اور یہ کہ پاکستان اسلام کے نام پر ہی قائم ہوا تھا، لیکن جب پاکستان قائم ہو گیا تو اس کی تشریح کا ٹھیکہ جماعت اسلامی نے لے لیا، اس لئے ہم نے یہ نعرہ ترک کر دیا۔ ان کے اس جواب سے جہاں جماعتِ اسلامی کے خلاف ان کے ذہنی تعصّب کا اظہار ہوتا ہے، وہیں پر ان کی سوچ اور فکر کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔ بہرحال چونکہ جماعت اسلامی کے خلاف حکومتی حلقوں اور ذرائع ابلاغ ہی تحفظات پائے جاتے ہیں، اس لئے مختلف حلقوں میں ان سزاؤں کے خلاف اس طرح آواز بلند نہیں ہوئی جس طرح کہ ہونی چاہیے تھی، اور پھر اس پر طرہ یہ کہ عالمی دباؤ اور سیکولر عناصر کی تحریک کے نتیجے میں ہندوستان کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کی ایک کوشش ایک عرصے سے جاری ہے، اس لئے بھی ان سزاؤں کے خلاف آواز بلند کرنا خلافِ مصلحت سمجھا گیا۔
اب آتے ہیں تیسرے سوال کی طرف، سوال یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں روا رکھی جانے والی ان ظالمانہ سزاؤں کے پاکستان کے لئے کیا مضمرات ہوں۔ 1973ء میں بنگلہ دیش میں قائم جنگی جرائم کے ٹریبونل میں جہاں کچھ مقامی افراد پر الزامات عائد کئے گئے تھے وہیں پر تقریباً 150 کے قریب فوجی افراد کو بھی موردِ الزام ٹھہرایا گیا تھا۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے ، مقامی افراد پر الزام یہ تھا کہ انہوں نے پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر آزادی کے خواہاں افراد کو قتل و غارت اور تشدد کا نشانہ بنایا، اِس لئے 45سال بعد روا رکھی جانے والی موت کی سزاؤں سے دو پیغامات دینا مقصود ہے اور اس کے دو ممکنہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ پاکستانی عوام کو پیغام دینا مقصود ہے کہ خدانخواستہ آئندہ اگر کوئی اس قسم کی صورتِ حال پیدا ہو جیسی کہ 1971ء میں ہوئی تھی، تو پاکستانی عوام اپنی افواج کا ساتھ دینے سے باز رہیں۔ اللہ نہ کرے کہ ایسی صورتِ حال پھر کبھی پیدا ہو۔ لیکن پاکستان کی حکومتی سطح پر مسلسل خاموشی ایک ممکنہ مصیبت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ان سزاؤں سے بنگلہ دیش کی حکومت اس الزام کو منظم کر رہی ہے کہ 1971ء میں جنگی جرائم روا رکھے گئے تھے۔ اگر ایسا ہے تو پھر کل بنگلہ دیش اس بات کا بھی مطالبہ کر سکتا ہے پاکستان ان 150کے قریب فوجیوں کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے جن پر جنگی جرائم کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔ اللہ نہ کرے کہ وہ وقت آئے، لیکن خدشات کے تدارک کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان اب اور بھی ان سزاؤں کے خلاف احتجاج بلند کرے اور بین الاقوامی برادری میں ایک موثر آواز اٹھائے تاکہ اس سلسلے کو یہیں روکا جا سکے۔
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد اقبال

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s