بڑھتی ہوئی غربت اورترقی کے دعوے

کستان کی وزارت منصوبہ بندی، ترقی اصلاحات نے پہلی با ضابطہ ایم پی آئی سروے رپورٹ جاری کی ہے،جس کے مطابق پاکستان کی 38.8 فیصد آبادی غربت کا شکار ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آٹھ کروڑ افراد خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ وہ دن بھر میں اتنا بھی نہیں کما پاتے کہ زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں یا اپنے اور خاندان کے لئے متوازن خوراک کا ہی بندوبست کرسکیں۔
اس سروے میں مختلف معاملات کو بنیاد بنا کر غربت کی شرح کا پتہ چلایا جاتا ہے۔ غربت کی یہ شرح حکومت کی تسلیم کردہ ہے کل آبادی کا 38.8 فیصد غریب ہونا معمولی شرح نہیں ہے۔ یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے۔ آزادی کے دن سے لے کر اب تک اس مملکت خدا داد میں برسراقتدار آنے والی تمام حکومتوں نے غربت کے خاتمہ کے لئے اقدامات کرنے کے دعوے تو بہت کئے، لیکن اس سلسلے میں عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر تھے۔ دوسری جانب غربت میں اضافے کا باعث بننے والے عوامل اپنی جگہ قائم رہے، جس کی وجہ سے غربت کی شرح کم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھتی رہی اور صورت حال یہ ہے کہ جس قوم کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو، اس کی ترقی کرنے کی رفتار کیا ہوسکتی ہے۔
کئی عوامل غربت بڑھانے کا باعث بنتے ہیں، جیسے دولت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، وسائل میں کمی، بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی آبادی۔ پاکستان میں بھی یہ سبھی عوامل غربت بڑھانے میں کار فرما نظر آتے ہیں، لیکن سب سے زیادہ اثرات دولت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے مرتب ہو رہے ہیں۔ جن کے پاس پہلے سے دولت موجود ہے، وہ اس کے بل پر مزید دولت مند بنتے جارہے ہیں اور جن کے پاس پہلے سے وسائل کی کمی ہے وہ ان سے مزید تہی داماں ہوتے جارہے ہیں اور حکومت اس فرق کو کم کرنے یا مٹانے کی بجائے اس میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ انداز اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت نوکری پیشہ افراد اور عام آدمی سے کئی ٹیکس وصول کرتی ہے، لیکن دولت مند مختلف ہتھکنڈے اختیار کرکے ٹیکس نیٹ میں آنے سے بچ جاتے ہیں۔ اس طرح محدود آمدنی والے تو ٹیکس دیتے رہتے ہیں، لیکن متمول طبقہ اپنے منافع اور آمدن کے مطابق حکومت کو ٹیکس نہیں دیتا۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ہی وسائل میں کمی اور بے روزگاری میں اضافے کا باعث ہے جبکہ بے روزگا ری غربت بڑھاتی ہے۔
حکومت اگر واقعی غربت کی شرح میں کمی لانا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ دولت مندوں کو ٹیکس نیٹ میں لائے، سبسڈیز صرف غریب طبقے تک محدود کرے، جو لوگ مہنگی اشیا خرید سکتے ہیں، ان کے لئے سبسڈی والی اشیا کیوں؟ علاوہ ازیں ملک بھر میں روزگار کے مواقع بڑھانے والے منصوبے شروع کرنے چاہئیں تاکہ لوگوں کو روزگار ملے اور ان کے لئے اپنی غربت کم کرنے میں آسانی پیدا ہو۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مہنگائی بڑھانے والے عوامل کو حکومتی سطح پر کنڑول کیا جانا چاہیے اور اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ کچھ رمضان بازار لگادیئے اور اگر رمضان نہ ہوتو اتوار بازاروں سے لوگوں کو دلاسادینے کی کوشش کی جائے بلکہ حکومت کو اپنی رٹ بروئے کار لاتے ہوئے ان عوامل کو کنٹرول کرنا چاہیے، جن کی وجہ سے مہنگائی بڑھتی ہے۔ گزشتہ ایک ڈیڑھ سال میں عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچھی خاصی کمی واقعی ہوئی، یہ بہترین موقع تھا کہ حکومت مہنگائی کا گراف نیچے لانے کے لئے اقدامات کرتی، لیکن افسوس کہ اس موقع کو ضائع کیا جارہا ہے۔ حرف آخر یہ کہ جب تک حکومت کی جانب سے غربت بڑھانے کے عوامل پر قابو پانے کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے جاتے، غربت میں کمی لانا ناممکن رہے گا۔
محمد معاذ قریشی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s