سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کی دولت ہندوستان سے زیادہ

 سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کی دولت ہندوستان کے شہریوں سے زیادہ ہوگئی.

 سوئس بینکوں میں زیادہ رقم رکھنے والے ممالک کی فہرست میں ہندوستان 61 ویں سے 75 ویں نمبر پر چلا گیا ہے جبکہ برطانیہ اب بھی سرِفہرست ہے۔

گزشتہ برس تک ہندوستان عالمی درجہ بندی میں 61 ویں پوزیشن پر تھا جبکہ 2007 تک یہ سوئس بینکوں میں سب سے زیادہ دولت رکھنے والے 50 ممالک میں شامل تھا۔ 2004 میں تو ہندوستان 37 ویں نمبر پر پہنچ گیا تھا تاہم اب اس کے شہریوں کی سوئس بینکوں میں موجود رقم مسلسل کم ہورہی ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے مرکزی بینک (سوئس نیشنل بینک) کی جانب سے جارہ کردہ سوئس بینکوں کے سالانہ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر سوئس بینک میں موجود غیر ملکیوں کی دولت میں 4 فیصد تک کمی آئی ہے اور 2015 کے آخر تک اس کا مجموعی حجم 14 کھرب 20 ارب سوئس فرانکس ہوگیا ہے۔
پاکستانی شہریوں کے تقریباً 1.5 ارب سوئس فرانکس سوئس بینکوں میں موجود ہیں اور اس اعتبار سے پاکستان کا 69 واں نمبر ہے۔
برطانیہ سوئس بینکوں میں سب سے زیادہ رقم رکھنے والا ملک برقرار ہے جس کے تقریباً 350 ارب سوئس فرانکس وہاں موجود ہیں اور یہ سوئس بینکوں میں موجود مجموعی غیر ملکی دولت کا 25 فیصد بنتا ہے۔ امریکا کا دوسرا نمبر ہے اور اس کے تقریباً 196 ارب فرانکس یا 14 فیصد سوئس بینکوں میں موجود ہیں۔
سوئس بینکوں میں زیادہ اثاثے رکھنے والے ممالک کی فہرست میں ٹاپ ٹین میں ویسٹ انڈیز، جرمنی، بہاماس، فرانس، لگسمبرگ، ہانگ کانگ اور پاناما شامل ہیں۔
سوئس بینکوں میں ہندوستان کے صرف 1.2 ارب سوئس فرانکس موجود ہیں جو وہاں موجود کل بیرونی دولت کا 0.1 فیصد بھی نہیں ہے اور یہ ہندوستان کی سوئس بینکوں میں موجود 1996 کے بعد سے کم ترین رقم ہے۔
برکس گروپ میں شامل تمام ممالک سے موازنہ کیا جائے تو بھی ہندوستان کے سب سے کم پیسے سوئس بینکوں میں موجود ہیں، روس 17.6 ارب کے ساتھ 17 ویں، چین 7.4 ارب کے ساتھ 28 ویں، برازیل 4.8 ارب کے ساتھ 37 ویں اور جنوبی افریقا 2.2 ارب سوئس فرانکس کے ساتھ 60 ویں نمبر پر ہے۔
سوئس بینکوں میں ہندوستان سے زیادہ رقم رکھنے والے دیگر ممالک میں ماریشس، قازقستان، ایران، چلی، انگولا، فلپائن، انڈونیشیا اور میکسیکو شامل ہیں۔
ٹیکس جنت کہلانے والے ممالک بھی ہندوستان سے اوپر ہیں جن میں جرسی، کے مین آئی لینڈ، قبرص، مارشل جزائر، برمودا، بیلیز، جبل الطارق، سیچیلیس، سینٹ ونسینٹ، آئل آف مین اور گریناڈائنز شامل ہیں۔
آف شور فنانشل سینٹرز کے مجموعی طور پر سوئس بینکوں میں 378 ارب سوئس فرانکس موجود ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک کے 207 ارب فرانکس اور ترقی یافتہ ممالک کا حجم اس سے کہیں زیادہ ہے۔ 1996 سے 2007 کے دوران ہندوستان ٹاپ 50 ممالک میں شامل تھا تاہم اس کے بعد بتدریج سوئس بینکوں میں موجود ہندوستانی شہریوں کی رقم میں کمی آنے لگی، 2008 میں ہندوستان 55 ویں، 2009 میں 59 ویں، 2012میں 71 ویں اور 2013 میں پھر 58 ویں نمبر پر آگیا تھا۔
(نوٹ:ایک سوئس فرانکس 1.03 ڈالر اور 107.57 روپے کے برابر ہے)
یہ خبر 4 جولائی 2016 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s