موئن جودڑو کی تہذیب مصر سے بھی زیادہ قدیم ہے، تحقیق

تازہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ وادی سندھ کی تہذیب (جس میں موئن جو دڑو اور ہڑپہ بھی شامل ہیں) ہماری سابقہ معلومات کے مقابلے میں ڈھائی ہزارسال زیادہ یعنی 8,000 سال قدیم ہے! اس تحقیق کے نتائج ’’سائنٹفک رپورٹس‘‘ نامی تحقیقی جریدے کی ایک حالیہ آن لائن اشاعت میں شائع ہوئے ہیں۔ شمالی ہندوستان میں ’’بھیرانا‘‘ کی ایک کھاڑی سے ملنے والے، وادی سندھ کی قدیم تہذیب سے تعلق رکھنے والے برتنوں اور پالتو جانوروں کے دانتوں اور ہڈیوں کی ’’ریڈیو آکسیجن تاریخ نگاری‘‘ سے یہ دریافت ہوئی۔ اس تحقیق میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا، انسٹی ٹیوٹ آف آرکیالوجی، دکن کالج پونا اور آئی آئی ٹی کھڑگ پور سے ماہرین شریک ہوئے۔
وادی سندھ کی تہذیب (Indus valley civilization) کا شمار قدیم مصر اور میسوپوٹیمیا کے ساتھ، دنیا کی تین قدیم ترین تہذیبوں میں ہوتا ہے۔ لیکن اس حالیہ دریافت کے ساتھ ہی یہ دنیا کی قدیم ترین تہذیب بن گئی ہے جو مصر سے بھی زیادہ قدیم ہے۔ وادی سندھ کی قدیم تہذیب اُن علاقوں میں پھیلی ہوئی تھی جو موجودہ پاکستان، ہندوستان اور افغانستان میں شامل ہیں۔ دنیا کے اوّلین غسل خانے، نکاسی کےلئے ڈھکی ہوئی نالیاں اور شہر کی تعمیر میں شہری منصوبہ بندی کے جدید اصولوں کا اطلاق، وادی سندھ کی قدیم تہذیب کے طرہ ہائے امتیاز ہیں۔ اپنے عروج کے زمانے میں وادی سندھ کی قدیم تہذیب کی مجموعی آبادی 50 لاکھ افراد کے لگ بھگ تھی، جو اُس وقت ساری دنیا کی انسانی آبادی کا 10 فیصد تھی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s