مقبوضہ کشمیر میں برہان وانی کی شہادت

مقبوضہ کشمیر میں انڈین پولیس نے بھی اپنی سپیشل فورسز کا ایک ونگ بنایا ہوا ہے جو ریگولر آرمی کی سپیشل فورسز کی طرز اور اس کی سطح کی ایک مسلح عسکری تنظیم ہے۔ 8 جولائی 2016ء کو جمعہ کا دن تھا کہ اس عسکری تنظیم نے کوکر ناگ (جنوبی مقبوضہ کشمیر) کے علاقے میں ایک گاؤں پر حملہ کیا جس کے ایک مکان میں برہان وانی اور اس کے دو ساتھی چھپے ہوئے تھے۔ اس مقابلے میں مکان کو بم مار کر تباہ کر دیا گیا اور اس میں تینوں کشمیری مجاہدین شہید ہو گئے۔ جب شہید وانی کی لاش اس کے آبائی گاؤں ترال (ضلع پلواما) میں برائے تدفین لے جائی گئی تو ساری وادی میں گویا آگ لگ گئی۔  یہ برہان وانی کون ہے جس نے کشمیری مزاحمتی تحریک میں نئی جان ڈال دی تھی؟

برہان مظفر وانی شہید کی عمر 22 سال تھی۔ وہ 15 برس کا تھا کہ گھر سے بھاگ گیا اور حزب المجاہدین نامی تحریکِ آزادی میں شامل ہو گیا جس کا نصب العین مقبوضہ کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزاد کروانا ہے۔ گزشتہ سات برسوں میں برہان وانی نے تحریک آزادی کے ایک شعلہ نوا مقرر اور سرگرم کارکن کے طور پر اتنی شہرت حاصل کر لی کہ انڈین گورنمنٹ نے اس کے سرکی قیمت 10 لاکھ روپے مقرر کر دی۔ وانی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے تحریک میں شامل ہونے کی ترغیب دی اور دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے۔ ریاست میں بھارتی سیکیورٹی فورسز (آرمی، نیم مسلح افواج وغیرہ) برہان وانی کے حملوں سے عاجز آگئیں اور مرکز کو بارڈر پولیس کی مزید کمپنیاں/ بٹالینیں بھیجنے کی درخواست کی تاکہ اس تحریک کو کچلا جا سکے۔

برہان وانی کے والد ایک سکول ٹیچر تھے جن کا نام مظفر احمد وانی ہے۔ اب وہ ہائر سیکنڈری سکول کے پرنسپل مقرر ہو چکے ہیں۔ ان کا بڑا بیٹا اور برہان وانی کا بڑا بھائی خالد مظفر وانی بھی گزشتہ برس بھارتی پولیس کے ہاتھوں شہید ہو گیا تھا۔ کہتے ہیں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اپنے چھوٹے بھائی کی تلاش میں جا رہا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے ان کو گھیرے میں لے لیا۔ خالد وانی کو تو وہیں شہید کر دیا گیا جبکہ باقی دو کو حراست میں لے لیا گیا۔ الزام لگایا گیا کہ خالد وانی، اپنے دوستوں کے ساتھ حزب المجاہدین جوائن کرنے جا رہا تھا! برہان مظفر وانی نے سوشل میڈیا کا زبردست استعمال کرتے ہوئے ایسی ایسی ویڈیوز اپ لوڈ کیں اور کشمیری نوجوانوں کو تحریکِ آزادی میں شمولیت کی ایسی ایسی ترغیبات دیں کہ ریاستی حکومت اس نئی سوشل میڈیا تحریک کے سامنے بے بس نظر آنے لگی۔ اس کے علاوہ کشمیری مسلمانوں کی مزاحمتی تحریک کی اس نشاۃ ثانیہ میں دو تین اور وجوہات و واقعات نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

آپ کو یاد ہوگا نریندر مودی نے وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالتے ہی مقبوضہ کشمیر کے یکے بعد دیگرے تین دورے کئے تھے۔ وہ سیاچن بھی گئے اور ٹروپس کی مادی، اخلاقی اور مالی دلجوئی کے وعدے کئے۔ مودی کی ترجیحات میں کشمیر کے مسئلے کو اولیت دینا، ان کے ماضی کے مسلم مخالف ڈاکٹرین کی ایک اور صورت تھی۔ دہلی نے مقبوضہ وادی میں دو اور بدعتیں بھی شروع کیں۔ دونوں کا تعلق نئی تعمیرات سے تھا۔ ہندو کو معلوم ہے کہ وادی کا علاقہ مسلم اکثریت کا علاقہ ہے اس لئے اس نے آبادی کی اس مساوات (ڈیمو گرافی) کو تبدیل کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ پہلے سری نگر کے نواح میں ایک نئی کالونی آباد کرنی شروع کر دی جس کا نام ’’پنڈت کالونی‘‘ رکھا۔ وہاں کشمیر کے کٹر برہمنوں اور بھارت کے مختلف علاقوں سے پنڈتوں کو (مع ان کے خاندانوں کے) اس کالونی میں لاکر بسانے کی ترغیبات دیں۔ بھارت میں ویسے بھی نریندر مودی ’’ہندوتا‘‘ کے بل پر کانگریس کو شکست دے کر برسرِ اقتدار آئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی ’’سکیم‘‘ جاری رکھی اور مقبوضہ کشمیر کی مسلم آبادی کی اکثریت کا توڑ کرنے کے لئے پنڈت کالونی میں ہزاروں کٹر پنڈتوں اور پروہتوں کو لا کر بسانا شروع کر دیا۔

برسبیل تذکرہ یہ اسی طرح کا حربہ ہے جیسا اسرائیل نے استعمال کر کے فلسطینی علاقوں میں نئی کالونیاں تعمیر کرنے میں اپنایا ہے اور وہاں یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسرائیل ہی نے انڈین گورنمنٹ کو یہ بات سجھائی ہے کہ کشمیر میں مسلمانوں کی عددی اکثریت ختم کرنے کے لئے نئی کالونیاں تعمیر کرو اور ان میں ہندو گھرانوں کو لاکر آباد کر دو۔۔۔ 20, 15 برس میں مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب معکوس ہو جائے گا! ۔۔۔اللہ اللہ خیر سلا!!

انڈیا نے اسی طرح کا دوسرا حربہ یہ استعمال کیا کہ جموں و کشمیر میں صف بند اپنے فوجیوں کی رہائش گاہوں کی تعمیر کا بھی ایک وسیع و عریض پروگرام مرتب کیا اور اس میں ان بھارتی فوجیوں (افسروں اور جوانوں) کی رہائش گاہیں تعمیر کرنا شروع کر دیں جو پوری وادی میں گزشتہ سات عشروں سے مقیم ہیں۔ ان فوجیوں کو اتفاقیہ اور استحقاقیہ رخصتوں پر سال میں کئی بار بھارت کے مختلف حصوں میں بھیجنا پڑتا ہے اور نئے ٹروپس ان کی جگہ ٹرانسفر کرنے پڑتے ہیں۔ اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ جس طرح پاکستان کے مختلف گیریزنوں اور چھاؤنیوں میں عسکری فلیٹ اور مکانات بنے ہوئے ہیں اور ان کی تعداد ہزاروں میں ہے، اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھی ’’سینک کالونیاں‘‘ (Sainak Colonies) تعمیر کر دی جائیں اور ان میں ہندو اور سکھ افسروں اور جوانوں کے خاندان لا کر بسا دیئے جائیں۔ ان پنڈتوں اور فوجیوں کے بچوں اور دوسرے افراد خانہ کو وہ تمام سہولتیں دی جا رہی ہیں جن کا خواب وہ بھارت میں اپنے سابقہ شہروں میں رہ کر دیکھا کرتے تھے۔۔۔ دوسرے لفظوں میں آئندہ دس پندرہ برس میں اگر جموں و کشمیر میں رائے شماری بھی کروانی پڑی تو ہندو مسلم آبادی کا وہ تناسب جو 1947-48ء میں مسلمانوں کے حق میں تھا، تبدیل ہو کر غیر مسلموں (ہندوؤں، سکھوں اور ڈوگروں وغیرہ) کے پاس چلا جائے گا۔

یہ سطور لکھتے لکھتے میرے ذہن میں یہ خیال بھی آیا ہے کہ ہم پاکستانی مسلمان فلسطینی مسلمانوں کے حق میں ہر طرح کے مظاہرے کرتے رہتے ہیں اور اسرائیل کے مظالم کو منظر عام پرلانے کے لئے بے تاب اور بے قرار رہتے ہیں لیکن میں نے آج تک یہ نہیں دیکھا کہ غزہ کی پٹی یا دریائے اردن کے مغربی کنارے پر بسنے والے فلسطینیوں نے کبھی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے حق میں بھی کوئی آواز اٹھائی ہو۔۔۔۔ اسلامی اخوت کا یہ یکطرفہ مظاہرہ کیوں ہے اس کے بارے میں کوئی صاحب اگر مجھے بریف کر سکیں تو ان کا ازبس شکر گزار ہوں گا۔

مقبوضہ کشمیر میں احتجاجات کا جو سلسلہ جاری ہے اس کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہندوؤں کی ایک اہم اور پوتر عبادت گاہ کی زیارت یعنی ’’امر ناتھ یاترا‘‘ بھی ملتوی کرنی پڑی ہے مزید یہ کہ ریاست نے صورت حال پر قابو پانے کے لئے مرکز سے مزید ٹروپس کی درخواست کر دی ہے، امتحانات منسوخ کر دیئے گئے ہیں، انٹرنیٹ اور موبائل کی سروسز بھی معطل ہیں، احتجاجات کی شدت جنوبی کشمیر کے اضلاع (اننت ناگ، پلواما، شوپیاں اور کلگام) میں زیادہ ہے اس لئے حزب المجاہدین نے پوری وادی میں آج (سوموار 11 جولائی 2016ء) ہڑتال کی کال دے دی ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ روز نامہ ’’ہندو‘‘ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حکومت ایک نئے قسم کے تشدد کی لہر کا منظر دیکھ رہی ہے، نوجوان طبقہ اب سیکیورٹی فورسز سے نہیں ڈرتا، کرفیو کی خلاف ورزیاں عام ہیں، ریاستی حکومت کی سیکیورٹی مشینری چونکہ اس طرح کے پُر تشدد مظاہروں کی توقع نہیں کر رہی تھی اس لئے مظاہرین اور پولیس کے درجنوں لوگ مارے گئے، یا زخمی ہو چکے ہیں، بہت سے برہمن ،پنڈت کالونی سے بھاگ چکے ہیں اور وہاں بہت سے مکانوں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے، کشمیری آبادی کا کثیر طبقہ، وانی کی شہادت پر شدید غمزدہ ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ وانی شہید لوگوں کے دلوں میں بستا تھا اور بستا رہے گا۔ بھارت کے سیکیورٹی اداروں نے پہلی بار برملا اعتراف کیا ہے کہ حزب المجاہدین اور تحریک آزادی کشمیر کی دوسری کسی شاخ کو لائن آف کنٹرول کے پارسے کسی اسلحہ و بارود کی سپلائی کی کوئی شہادت نہیں ملی یعنی یہ ’’لہر‘‘ خانہ ساز ہے۔۔۔ اور سب سے زیادہ معروضی اور متوازن تبصرہ ریاست کے ایک سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے یہ کہہ کر کیا ہے: ’’متوفی برہان وانی کی لحد، اب حریت پسندوں کے عزم و حوصلے کی ایک نئی آماجگاہ بن جائے گی۔‘‘مسلم مظاہرین میں سے 100 سے زیادہ مجروحین کو سری نگر کے ’’مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال‘‘ میں لایا گیا ہے۔ باقی ہسپتالوں سے بھی ایسی ہی خبریں آ رہی ہیں۔ زیادہ تر کشمیری مسلمان ’’پتھریلی گن‘‘ سے زخمی ہوئے ہیں۔ (یہ ’’سٹون گن‘‘ ایک نئی قسم کا اینٹی مظاہرین ہتھیار ہے جس سے انسان مرتا تو نہیں لیکن شدید زخمی ہو جاتا ہے۔) جن 100 زخمیوں کو ہسپتال میں لایا گیا ہے ان میں 40 کی آنکھوں کو نشانہ بنایا گیا تھا اور ہسپتال کے ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ ان زخمیوں میں سے بیشتر اندھے ہو جائیں گے۔

ممبئی اور پٹھانکوٹ کی طرح بھارت اب پاکستان پر یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ برہان وانی کو کسی پاکستانی ٹریننگ کیمپ میں ’’دہشت گردی‘‘ کی تربیت دی گئی ہے، نہ ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ مظاہرین کا اسلحہ اور گولہ بارود پاکستان سے لائن آف کنٹرول کی کسی زیر زمین سرنگ کے ذریعے کشمیر لایا گیا تھا۔ یہ ایسی تحریک ہے جو خود وادی کے باسیوں کے دلوں سے اٹھی ہے ۔ میں سوچتا ہوں کہ آج سے 51,50 برس پہلے اگست 1965ء میں جب آپریشن جبرالٹر لانچ کیا گیا تھا تو مقبوضہ کشمیرکی مساجد کے بہت سے خطیبوں نے خود جا کر انڈین آرمی یونٹوں کو خبر دی تھی کہ پاکستانی فوجی، ہماری مسجدوں میں چھپے ہوئے ہیں، ان کو آ کر پکڑ لو۔ چنانچہ ان کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ آپریشن (جبرالٹر) اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے لیکن 1965ء کی جنگ کے بعد اب کشمیریوں کی دو نسلیں جوان ہو چکی ہیں۔ برہان وانی شہید دوسری جوان نسل کا نمائندہ تھا جس نے آزادئ وطن کی خاطر اپنی جان قربان کر دی۔

کل وزیر اعظم پاکستان نے بھارت کی اس وحشت پر جو بیان دیا ہے، نہ صرف پاکستان بلکہ ساری مسلم دنیا کو ان کی ہاں میں ہاں ملانی چاہئے۔ ان کا کہنا تھا: ’’یہ امر نہایت قابلِ مذمت ہے۔ برہان وانی کی شہادت پر مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف بھارتی فورسز نے جو کارروائی کی وہ غیر قانونی تھی اور اس میں ضرورت سے کہیں زیادہ فورس استعمال کی گئی ۔لیکن بھارت کی یہ درندگی جموں اور کشمیر کے دلیر اور بہادر لوگوں کو اس جدوجہد سے خوفزدہ نہیں کر سکتی جو وہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنی آزادی کے لئے کر رہے ہیں!‘‘

لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s