کرپشن کیخلاف جنگ : منطقی انجام ضروری

بھارتی حکمرانوں کا پاکستان کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اپنی جگہ، کشمیر کا مسئلہ اپنی جگہ، امریکی امداد کا رک جانا اپنی جگہ، ملک میں غیرملکی جاسوسوں کا پکڑے جانا اپنی جگہ، افغانستان کی ہرزہ سرائی اپنی جگہ، پاک چین اقتصادی راہداری میں حائل رکاوٹیں اپنی جگہ، ایران کے ساتھ تعلقات اپنی جگہ، بیرون ملک پاکستانیوں کے مسائل اپنی جگہ اور اس طرح کے سینکڑوں مسائل اپنی جگہ لیکن ہمارے سیاستدانوں کی آپسی لڑائیوں کے موضوعات کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں، فلاں نے فلاں کیخلاف ریفرنس دائر کردیا۔ فلاں نے فلاں کو چت کر دیا۔ گزشتہ چار ماہ سے ٹی او آرز پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق نہیں ہو سکا۔ فلاں بن فلاں ایجنسیوں کا آدمی ہے اس لیے وہ ایسی باتیں کرتا ہے۔ فلاں ممبر پارلیمنٹ کا تعلق ’را‘ سے ہے اس لیے وہ کبھی بھارت کیخلاف بات نہیں کریگا۔ اب فیصلے سڑکوں پر ہونگے اور حکومت کیخلاف ہر شہر میں دما دم مست قلندر ہوگا۔ فلاں جماعت میں فارورڈ بلاک ہے جو کسی بھی وقت سامنے آسکتا ہے۔

فلاں سیاستدان کی بیرون ملک 25 کمپنیاں ہیں۔ اور فلاں حکمران کے بیرون ملک اثاثوں کی مالیت اربوں ڈالر میں ہے۔ الغرض روزانہ اخبار کھولیں آپ کو کم و بیش روزانہ 10سے 15 سیاسی لڑائیوں کی تفصیلات پڑھنے کو ملیں گی۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیا پاکستان کی قسمت میں اسی طرح کی سیاست لکھی ہے؟ اور رہی بات اپوزیشن کی تو اگر صدق دل سے عمران خان کرپشن کیخلاف آواز اُٹھا رہے ہیں تو یہ کسی نہ کسی طرح اپنے منطقی انجام کو پہنچنی چاہیے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ ملک دنیا کا واحد ملک ہو گا جس نے حالیہ اسمبلیوں سے کرپشن زدہ لوگوں کو نکال باہر کیا اس لیے مجھ سمیت ہر فکر مند پاکستانی یہ چاہتا ہے کہ کرپشن کیخلاف جنگ اپنے منطقی انجام کو پہنچے۔ اور خدارا! عوام یہ لڑائیاں دیکھ دیکھ کر اور سُن سُن کر تنگ آچکے ہیں۔ عوام کے مسائل سننے والا کوئی نہیں ہے۔ عوام کے لخت جگر اُٹھائے جا رہے ہیں انہوں نے ہر گلی محلے میں اپنی عدالتیں قائم کرکے خود ساختہ سزا و جزا کا عمل شروع کر لیا ہے۔ یعنی ملک میں اتنے گھمبیر مسائل ہیں کہ اگر ہر سیاستدان اگلے 20 سال تک دن رات عوامی خدمت میں صرف کرے تب بھی یہ مسائل حل نہیں ہو سکتے لیکن یہ کیا یہاں تو ہمارے سیاستدان 5 سال تک عوام کو بے وقوف بنائے رکھتے ہیں اور نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلتا۔

اگر گزشتہ چند ماہ پر نظر ڈالیں تو پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعظم نواز شریف کو بحیثیت رکن قومی اسمبلی نااہل قرار دینے کیلئے ریفرنس دائر کیا ہے۔ اس ریفرنس سے قبل حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے بھی پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کیخلاف ریفرنس دائر کیا تھا۔ اس سے پہلے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس بھی شکایات موجود ہیں جن پر 6 ستمبر کو فریقین کو نوٹس بھجوائے جا چکے ہیں۔ پہلے قومی اسمبلی کی طرف آتے ہیں جہاں اسپیکر ایاز صادق کی میز پر اس وقت دو ریفرنس کی درخواستیں موجود ہیں، لہذا اب دیکھنا یہ ہے کہ ایاز صادق ان دونوں کے معاملات کو کیسے ڈیل کرتے ہیں۔ آئین کے تحت اگر اسپیکر قومی اسمبلی نے ان ریفرنسز پر کارروائی نہیں کی تو ایک ماہ بعد خود بخود یہ درخواستیں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو منتقل ہوجائیں گی۔

قارئین کو یہ بھی علم ہو گا کہ پی ٹی آئی گزشتہ ماہ 25 جولائی کو وزیراعظم نواز شریف اور انکے اہل خانہ کیخلاف قومی احتساب بیورو (نیب) میں مبینہ کرپشن الزامات کے تحت بھی ریفرنس دائر کرچکی ہے۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم نے ایک اعلیٰ سطح کا تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم اس کمیشن کے ٹی او آرز پر حکومت اور حزب اختلاف میں اب تک اتفاق نہیں ہو سکا۔ پاناما لیکس کے انکشافات کے بعد پی ٹی آئی سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم نواز شریف کے احتساب کا مطالبہ کیا تھا، تاہم پاناما لیکس کے حوالے سے ٹرمز آف ریفرنسز (ٹی او آرز) پر اتفاق نہ ہونے پر تحریک انصاف نے 7 اگست کو احتساب تحریک کا آغاز کیا۔

اب وزیراعظم کی نااہلی کیلئے تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اورعوامی تحریک سمیت عوامی مسلم لیگ نے الیکشن کمیشن میں درخواستیں دے رکھی ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاناما لیکس کے حوالے سے نااہلی کے ریفرنسز پر شریف فیملی کے تمام ارکان پارلیمنٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 6 ستمبر کو جواب طلب کرلیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ ایک خوش آئند اقدام ہے۔ اور تو اور شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں انصاف چاہتی ہیں۔ اگرعدالتوں سے انصاف نہ ملا تو ستمبر میں سڑکوں پر فیصلہ ہو گا۔ مختصر یہ کہ یہ ریفرنسز وغیرہ سب سیاسی جنگیں ہیں جو وقت گزاری کیلئے شروع کی گئی ہیں ان سے ملک کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونیوالا لیکن ملکی مفاد میں وزیر اعظم اور انکے اہل خانہ کو بھی چاہئے کہ وہ بھی معاملات کو الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ میں ہی رکھیں۔ اور اب جب انکے مخالفین سڑکوں سے تنگ آکر عدالتوں میں پہنچ گئے ہیں تو انہیں عدالتوں سے بھاگنے نہیں دینا چاہئے۔ اس ملک میں پا نامہ سے پہلے دھاندلی کا ایک بہت بڑا بحران آیا تھا۔ جس نے اس ملک کی جمہوریت کی بقا کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ ایسا لگنے لگا تھا کہ جمہور یت دھاندلی کی نظر ہو جائیگی۔ جس طرح آج کہا جا رہا ہے کہ کرپشن اور جمہوریت اکٹھے نہیں چل سکتے تب کہا جارہا تھا کہ دھاندلی اور جمہوریت اکٹھے نہیں چل سکتے۔

اب کہا جا رہا ہے کہ کرپشن نے جمہوریت کو کھوکھلا کر دیا ہے تب کہا جا رہا تھا دھاندلی نے جمہوریت کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ کرپشن والی جمہوریت قابل قبول نہیں اور تب کہا جا رہا تھا دھاندلی والی جمہوریت قبول نہیں۔

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کرپشن کی وجہ سے کئی ممالک دنیا میں اپنی ساکھ برقرار نہ رکھ سکے اور تاریخ کے اوراق میں گم ہو گئے۔ اسی کرپشن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک ایسی دیمک ہے جو معاشروں کو کھا جاتی ہے بدنصیبی ہے بیچارے غریب ممالک کی، کہ جن کے عوام دہرے عذاب سے گزرتے ہیں۔ ایک تو انکے حکمران ان کا خون نچوڑتے ہیں اور دوسرا انکے ٹیکس کی مد میں دئیے گئے پیسے کوبے دردی سے لوٹتے ہیں۔ میرے خیال میں سیاسی جماعتوں کو اپنے اندر بھی احتساب کا عمل شروع کرنا چاہیے۔

جماعتوں کے اندر ایسا نظام موجود ہونا چاہیے جس سے پیسے والی یا بغیر پیسے والی شخصیت جب بھی کرپشن کرے اس پارٹی سے نہ صرف استعفیٰ دے دینا چاہیے بلکہ پارٹی کو بھی اختیار ہونا چاہیے کہ وہ اس کا احتساب کرے لیکن بدقسمتی سے اس وقت پاکستان کی کوئی جماعت نہ ایسا نظام رکھتی ہے اور نہ ہی اس پر یقین رکھتی ہے بلکہ اسکے برعکس تمام سیاسی جماعتیں زیادہ پیسے والی شخصیات کو آگے لا کر ملک کی باگ ڈور سنبھالنے اور کرپشن کے مواقع فراہم کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ پاکستان میں ہر پیدا ہوانیوالا بچہ مقروض ہے اسکے ذمے جو قرض ہے وہ ہر سال اسی عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔ اس سب کی بڑی وجہ کرپشن ہے جو بڑھتی ہی جا رہی ہے آج حکومتی جماعت کے لیڈران کو پاکستانی عوام کے سوالوں کا جواب دینا ہوگا کہ کہ انکے پاس دولت کے انبار کہاں سے آئے اور وہ جو حلال دولت کی بات کرتے ہیں تو اس کا ریکارڈپیش کرنے سے کیوں قاصر ہیں۔ اب تمام جماعتیں اس ایشو پر حکومتی جماعت کیخلاف ہیں عوام کرپشن کا خاتمہ کرنا چاہتی ہے۔ کرپشن اور حکمرانی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی کیونکہ جو حکمران ملکی دولت لوٹتا ہے پھر اگر اس پر ہاتھ پڑ جائے تو جمہوریت کے کھاتے میں ڈال کر خود کو جمہوریت کی آڑ میں معصوم بنا کر پیش کرتا ہے۔ ایسے حکمران کبھی نہ کبھی بے نقاب ہو کر سامنے آہی جاتے ہیں۔ آج کرپشن کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ تمام جماعتیں اپنے اندر بھی احتساب کا موثر نظام اپنائیں۔ کرپشن کا خاتمہ کرکے جمہوریت کو مضبوط بنانے کی کوششیں ہونی چاہئیں۔ اسکی آڑ میں کسی کو جمہوریت مخالف عناصر کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ عوام جمہوریت کا خاتمہ نہیں چاہتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت نے جس ادارے کو کرپشن ختم کرنے پر لگایا ہو اہے اسے اتنا بااختیار بنایا جائے کہ وہ خود سے فیصلے لے سکے۔

اس کیلئے اگر کسی بڑے سے بڑے آدمی پر ہاتھ بھی ڈالا جائے تو کوئی شور شرابہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اسی پالیسی کی وجہ سے ماضی میں بھی کئی بار کرپشن کے خاتمے کیلئے چلائی جانے والی مہم متاثر ہوتی رہی ہے اور اس ملک کا سب سے بڑا المیہ ہی یہی ہے کہ جب بھی کسی باثر شخص پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو کئی طرح کے شوشے سر اٹھا لیتے ہیں جس کی وجہ سے مجبورا وہ مہم روک دینی پرتی ہے یا پھر ملتوی کر دی جاتی ہے۔ اور جو کرپشن کیخلاف جو مہم شروع کی جاچکی ہے یا تو اسے منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے یا آج ہی اسے ختم کرکے آئندہ کا مضبوط لائحہ عمل بنانا چاہیے۔ اسی میں ملک کی بہتری اور بقاء ہے۔

محمد اکرم چوہدری

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s