کیا آخرکار روہنجیا مسلمانوں کی سنی گئی؟

گذشتہ چار سالوں کے دوران برما کے روہنجیا مسلمانوں کو خوشی کے لمحات خال ہی نصیب ہوئے ہیں۔ ملک میں آنے والی ڈرامائی سیاسی تبدیلیوں سے انھیں کچھ حاصل نہیں ہوا، کیونکہ اعلیٰ تر جمہوریت سے آنے سے ملک میں روہنجیا مسلمانوں کے انسانی حقوق کی پاسداری میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ لیکن روہنجیا ریاست کے لیے تشکیل دیا جانے والا مشاورتی کمیشن تاریک حالات میں گھرے مسمانوں کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ برما کی حکومت نے ملک کو درپیش سب سے پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے بین الاقوامی سفارتی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ یہ برما کی حکومت کے رویے میں ایک اہم تبدیلی ہے کیونکہ سالوں تک برما کی حکومت یہ کہتی رہی ہے کہ ’کوئی غیر ملکی ممکنہ طور پر رخائن کے مسائل کو نہیں سمجھ سکتا‘۔ اقوامِ متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کو اس نو رکنی کمشن کا سربراہ بنایا گیا ہے جس کا کام روہنجیا مسلمانوں کے مسائل کا از سرنو جائزہ لینا ہے۔

 دوہزار بارہ کے پرتشدد واقعات کے بعد ایک لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی رپورٹ رخائن اور روہنجیا مسلمانوں سے متعلق لکھی گئی متعدد رپورٹوں میں ایک اور اضافہ ہو لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اس سارے قصے میں ایک اہم موڑ ثابت ہو۔ تو اس سارے معاملے کا پس منظر کیا ہے؟ آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کے سیکریٹی جنرل بان کی مون برما کا دورہ کرنے والے ہیں جبکہ ستمبر میں آنگ سان سوچی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ جا رہی ہیں جہاں وہ صدر اوبامہ سے بھی ملیں گی۔

نوبل اعزاز یافتہ برمی رہنما کو اندازہ ہے کہ اس دوران ان سے پوچھا جائے گا کہ انھوں نے برما کی مسلم اقلیت اور خاص طور پر آٹھ لاکھ روہنجیا مسلمانوں کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیوں نہیں کیے۔ لیکن اس نئے کمیشن کی تشکیل کے بعد ان کے لیے ایسے سوالوں کا سامنا کرنا آسان ہو گا۔ لیکن اس اقدام کے اور مضمرات بھی ہیں۔ اس کمیشن کی تشکیل سے آنگ سان سو چی نے عندیا دیا ہے کہ اگرچہ ان کے پاس سب سوالوں کے جواب نہیں ہیں لیکن اس مسئلے کے حل کے لیے نئے امکانات پر غور کر سکتی ہیں۔ کوفی عنان اگرچہ 78 سال کے ہیں لیکن اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل ہونے کی بنیاد پر یہ واضح ہے کہ ایک آزادانہ سوچ کے حامل ہیں۔

اس کمیشن کی رپورٹ کو اگست 2017 کو حتمی شکل دی جائے گی اور امید یہی کہ اس میں ایسے اقدامات کی تجویز دی جائے گی جنھیں کئی برمی شہری ناقابل قبول سمجھتے ہیں۔ یہ بات یقینی ہے کہ یہ کمیشن اپنی رپورٹ میں اس بات پر زور دے گا کہ روہنجیا مسلمانوں کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کیا جائے۔ کمیشن اپنی رپورٹ میں برما کی حکومت کو اس بات کی تجویز بھی دے سکتا ہے کہ وہ ان کو شہریت دینے کے لیے کسی بہتر راستے کی پیش کش کرے۔ برما کے موجودہ سیاسی حالات میں آگ سان سو چی کے لیے یہ مشکل ہو گا کہ وہ ان تجاویز کو غور کے لیے آگے لائیں۔ انھیں ایک طرف بدھ آبادی کی سخت تنقید کا سامنا ہے جبکہ دوسری طرف انھیں اپنی جماعت کے اندر موجود کئی رہنماؤں کی بھی مخِالفت کا سامنا ہے۔ کوفی عنان اور ان کی رپورٹ سے یہ فائدہ ہو سکتا ہے کہ وہ اندہ ہی اندر غیر محسوس طریقے سے کام دکھائے اور اس تجویز پر قومی سطح پر ایک بحث کے آغاز کا موجب بن جائے۔

جونا فِشر

بی بی سی نیوز، برما

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s