سرائے سدھو : دریائے راوی سے ایک کلو میٹر دور جنوب میں واقع ہے

سرائے سدھو قبل ازمسیح کا تاریخی قصبہ ہے جو کہ دریائے راوی سے ایک کلو میٹر دور جنوب میں واقع ہے تاریخ یہ بھی بتاتی ہے 325 قبل از مسیح سکندر اعظم فتوحات کرتا ہوا جب ملتان پہنچا تو وہ بیمار ہوگیا توا س کا معالج سرائے سدھو سے ملتان منگوایا گیا تھا 2500 سال پہلے نورالدین جہانگیر کے دور میں سرائے سدھو تلمبہ میں شامل تھا تلمبہ ،سرائے سدھواور مخدوم پور کی تہذیب اور قصباتی بناوٹ ایک جیسی ہے تو قیاس آرائی کی جاسکتی ہے کہ یہ تینوں شہر 2500 سال پہلے آباد تھے۔ سرائے سدھو کو شاہجہاں کے دور میں تلمبہ سے الگ کر دیا گیا ،تاریخی اہمیت کا حامل قصبہ ضلعی صدر مقام خانیوال سے چالیس کلومیٹر دور شمال کی جانب دریائے راوی کے جنوبی کنارے آباد ہے۔ سرائے سدھو کے تاریخی شواہد آج بھی قدم قدم پر موجود ہیں رام ً لچھمنً اور سیتا نے اپنے جلاوطنی کے کم و بیش دس سال دریائے راوی کے کنارے سرائے سدھو کے نزدیک گزارے جن کے آثار اب بھی موجود ہیں۔

شیر شاہ سوری جب اپنے لشکر کے ہمراہ سرائے سدھو سے گزرتے توا ن کا کئی کئی ماہ برگد کے درخت کے نیچے قیام ہوتا تھا۔ اپنی عبادت کے لیے انہوں نے مسجد بنوائی جو کہ آج کل پریس کلب سرائے سدھو کا حصہ ہے۔ پانی نکالنے کے لئے انہوں نے ایک کنوا ں کھدوایا جو کہ مٹی ڈال کے بند کر دیا گیا اوراس دور کے ہندوئوں کی عبادت کے لیے مندر بھی تعمیر کروایا جو کہ اب خستہ حال ہوچکا ہے۔ اسی دور میں شیرشاہ سوری نے لاہور براستہ سرائے سدھو متی تل سڑک بنوائی جو کہ شیرشاہ سوری جرنیلی سڑک کہلواتی ہے۔ شہر کے درمیان معروف بزرگ بابا ارجن شیر بخاری کا مزار ہے مزار کے عقب میں موجود مسجد ہے جس کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ ہندو مسلم فساد کھڑا ہو گیا کہ ہندومندر تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ مسلمانوں نے راتوں رات مسجد کھڑی کر دی جو کہ آج بھی موجود ہے۔ سرائے سدھو کے آس پاس کے لوگ اس وقت ہندوئوں کے مقروض ہوتے تھے اور ہندو اپنا کاروبار کرتے تھے ۔

1825 میں تھانہ سرائے سدھو کا وجود عمل میں آیا اور برگد کے درخت کے نیچے پولیس افسران کچہریاں لگا کر لوگو ں کو انصاف مہیا کر تے تھے۔ اس دور سے 1985 تک تھانہ سرائے سدھو کا حدود اربعہ وسیع و عریض تھا، شمال میں درکھانہ بار ، جڑالہ پل ، 25 پل، جنوب مغرب میں نواں شہر ، بند بوسن ، سردار پور ، رنگ پور تک ملتا تھا اور مشرق میں عبدالحکیم پر مشتمل تھا ۔آج قدیم تھانہ کے مزید تین تھانے وجود میں آچکے ہیں جن میں تھانہ نواں شہر ، تھانہ عبدالحکیم اور حویلی کورنگا ہے، جن کا شمار ماڈل تھانوں میں کیا جاتا ہے۔ قدیم تھانہ حدود اربعہ کے لحاظ سے پنجاب بھر میں سب سے بڑا تھانہ تھا۔ 1849میں جب ملتان کا ایسٹ انڈیا کمپنی سے الحاق ہوا تو اس وقت سرائے سدھو ملتان کی عمل داری میں شامل تھا، انگریز حکومت نے الحاق کے فوراً بعد سرائے سدھو کو تحصیل کا درجہ دے دیا۔

1889 میں جب کبیروالا کو تحصیل کا درجہ دیا گیا تو سرائے سدھو کی تحصیلی حیثیت ختم کر کے کبیروالا میں شامل کر دیا۔ 1850 میں سرائے سدھو میں پہلا پرائمری سکول بنایا گیا سرائے سدھو میں تاریخی ورثہ کے حوالے سے عمارتیں اب بھی موجود ہیں۔ تھانہ کے سامنے ریسٹ ہاوس تھا جس کی دیکھ بھال نہ ہونے کیوجہ سے اس کو ختم کر دیا گیا جو کہ سرائے سدھو کی تاریخ کا ایک حصہ تھا۔ اب موجودہ دور میں تاریخی گورنمنٹ ہائی سکول کی عمارت کو ختم کر کے گرلز ہائی سکول بنا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے سرائے سدھو ایک تاریخی عمارت سے محروم ہوگیا ۔ موجودہ دور میں گورنمنٹ ڈگری کالج ، آر ایچ سی ہسپتال ، ویٹرنری ہسپتال ، ڈاکخانہ، دفتر زراعت، ٹیلی فون ایکسچینج و دیگر سہولیات تو مہیا کر دی گئیں لیکن سرائے سدھو کی تاریخی حیثیت کسی نے بحال نہ کی۔

غضنفر مہدی لنگاہ

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s