فاروق ستار، مرد بیمار یا مردِ آزاد؟

مجھے معلوم ہے اس وقت بہت جذباتی فضا ہے اور ایسی فضا میں کسی ایسے موضوع پر لکھنا جو ابھی آہستہ آہستہ کھل رہا ہو، دشوار ہوتا ہے، لوگ اُسے اپنے اپنے خیالات کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ لیکن کیا کیا جائے کہ اس لمحے اس کے سوا کوئی اور موضوع پوری سیاست پر محیط نظر بھی تو نہیں آتا۔ میری مراد ایم کیو ایم کے حالات اور اُس میں فاروق ستار کے کردار کی ہے ویسے تو جس قدر ذکر فاروق ستار کا آج کل ہو رہا ہے، وہ اچھا ہی ہے، اس کے نتیجے میں لندن والے بھائی صاحب بھولتے جا رہے ہیں اور فاروق ستار منظر پر غالب آ رہے ہیں۔ البتہ ایک شک ہے جس نے ساری فضا کو گدلا کر رکھا ہے۔ یہ شک فاروق ستار کی صلاحیت اور پھر ان کی اپنے پرانے قائد سے وفاداری کی وجہ سے چھایا ہوا ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ وہ ایم کیو ایم کو کالعدم جماعت ہونے سے بچانے کے لئے یہ سارا ڈرامہ رچا رہے ہیں وگرنہ آج بھی ایم کیو ایم بھائی کے احکامات پر چل رہی ہے اور خود فاروق ستار اور ان کے ساتھی بھی انہی کی چشم و ابرو کے محتاج ہیں لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا، اور یہی وہ نکتہ ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ مجھ پر تنقید کر سکتے ہیں اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ میں ایک ایسی جماعت کے باقی رہنے کی حمایت کر رہا ہوں جس کے قائد اور کارکنوں نے پاکستان کے خلاف نعرے لگائے۔

نہیں صاحب ایسا ہرگز نہیں ہے۔ میں تو اس سوال میں الجھا ہوا ہوں کہ کیا ایم کیو ایم پر پابندی لگانا درست فیصلہ ہوگا یا اسے ایک سیاسی جماعت کے طور پر کام کرنے کا موقع دینا مناسب رہے گا؟ میں دوسرے آپشن کے حق میں ہوں۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے بطور سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک شخص کے طور پر جو کردار ادا کیا وہ خرابیوں کا باعث بنا۔ کراچی کے لاکھوں عوام ہرگز ظالم یا دہشت گرد نہیں ہو سکتے انہیں استعمال کیا گیا، مہاجر کارڈ کے ذریعے ایم کیو ایم کو سیاسی جماعت کی بجائے پریشر گروپ کے طور پر چلایا جاتا رہا جس پر خوف اور دہشت کی فضا طاری رکھی گئی اسٹیبلشمنٹ ان باتوں سے مصلحتاً صرفِ نظر کرتی رہی اور معاملات بگڑتے چلے گئے، لیکن یہ ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ ہر مہاجر دہشت گرد تھا یا ہر مہاجر نے پاکستان کے خلاف سوچا، اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں بسنے والے مہاجروں کی اکثریت محب وطن ہے یہی وجہ ہے کہ 22 اگست کو پاکستان کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی، اس نے کھیل کا پانسہ ہی پلٹ دیا اور عوام کی اکثریت نے اس کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا خوف و دہشت کی فضا چھٹتے ہی کراچی کے عوام بھی آزاد ہو گئے۔ حالیہ دنوں میں جب ایم کیو ایم کے سرکاری زمینوں پر بنے دفاتر گرائے گئے تو لوگوں نے احتجاج کی بجائے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔

موجودہ حالات میں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے۔ مجرم سے مظلوم بننے میں دیر نہیں لگتی۔ اس وقت سب سے اہم ٹاسک یہ ہے کہ کراچی میں بسنے والے مہاجروں کو احساسِِ محرومی اور احساس عدم تحفظ سے بچایا جائے۔ الطاف حسین نے 24 برسوں سے اُنہیں مہاجر کارڈ کے نام پر یرغمال بنائے رکھا تو ساتھ ہی یہ احساس بھی دلایا کہ اس کے بغیر مہاجروں کا کوئی پرسانِ حال نہیں رہے گا۔ آج سب مہاجر یہ جانتے ہیں کہ انہیں ایک دھوکے اور جھانسے میں رکھ کر مفادات اور ’’را‘‘ کی ایجنسی کا کھیل کھیلا گیا۔ وہ جس ملک کے لئے لاکھوں جانیں قربان کر کے آئے تھے۔ اُسے اندر ہی اندر سے بیچا جاتا رہا، کھوکھلا کیا جاتا رہا۔ اب انہیں یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ وہ کراچی کے اصل مالک ہیں، ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، انہیں کسی قسم کے عدم تحفظ میں مبتلا ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ یہ کام ایم کیو ایم کے بغیر نہیں ہو سکتا اس جماعت سے کراچی کے پر امن مہاجروں کی ربع صدی سے وابستگی ہے۔ اگر اس پر پابندی لگا دی جاتی ہے تو مہاجروں میں احساسِ محرومی اور احساسِ عدم تحفظ دو چند ہو جائے گا۔ لیکن دوسری طرف ایم کیو ایم کی ایک فعال سیاسی جماعت کی حیثیت سے موجودگی مہاجروں کے لئے ایک ڈھال ثابت ہو گی۔ پھر اب بدلی ہوئی فضا میں وہ ایم کیو ایم کو بھی ایک بدلی ہوئی پر امن سیاسی جماعت دیکھنا چاہتے ہیں۔ ربع صدی میں لاشیں تو زیادہ تر مہاجروں ہی کی گری ہیں۔ اس کارڈ کو بے دردی سے استعمال کرنے والوں نے اس تکنیک کے ذریعے ایک طرف مہاجروں میں خوف و ہراس پھیلایا تو دوسری طرف مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر اپنے لئے مراعات و مفادات حاصل کئے۔

اس تناظر میں میرا نقطہ نظر تو یہی ہے کہ فاروق ستار کو کام کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ مانا کہ وہ قابلِ اعتبار نہیں یہ بھی تسلیم کیا کہ ان میں اتنی سکت بھی نہیں کہ وہ لندن والوں کے دباؤ کا سامنا کر سکیں چلیں یہ بھی تسلیم کر لیتے ہیں کہ وہ موجودہ حالات سے نکلنے کے لئے ایک ڈرامہ کر رہے ہیں لیکن صاحبو! کوئی یہ تو بتائے کہ فاروق ستار کے سوا ایم کیو ایم کے منظر نامے پر اور کون سی شخصیت ہے جو ان حالات میں اس پارٹی کی کمان سنبھال سکے۔ ساری قیادت تو ملک چھوڑ کر بھاگ گئی، جو ملک میں ہیں وہ استعفے دے رہے ہیں یا پاک سر زمین پارٹی میں جا رہے ہیں۔ اگر ہم الطاف حسین کی لندن سے مداخلت روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایم کیو ایم پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع دینا چاہئے۔ اس سے بہت سے فائدے ہیں جو رفتہ رفتہ سامنے آئیں گے سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ ایم کیو ایم کا عسکری ونگ اب ختم ہو جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فاروق ستار یا ان کے ساتھی یہ نہیں چاہیں گے کہ پھر شہر میں لاشیں گریں اور پھر ایم کیو ایم کے کارکن پکڑے جائیں اور یہ اقرار کریں کہ انہوں نے پارٹی کی قیادت کے حکم پر یہ سب کچھ کیا ہے۔ ویسے بھی دفاتر کے نیٹ ورک کی مسماری کے بعد کسی نیٹ ورک کا قائم رکھنا آسان نہیں، ایسے میں جبکہ رینجرز، پولیس اور ایجنسیاں ایسے افراد کو سونگھتی پھر رہی ہیں، اگر پاکستان میں قیادت کا خلاء نہیں آتا اور ایم کیو ایم نارمل طریقے سے کام کرتی رہتی ہے تو اس کا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ الطاف حسین کا نام معدوم ہوتا جائے گا۔

 یہ بات تو طے ہو چکی کہ اب کراچی میں الطاف حسین کا خطاب کبھی نہیں ہوگا کیونکہ جب ایم کیو ایم نے ہی انہیں ڈس اون کر دیا ہے تو ان کے جلسے کا انتظام کون کرے گا اور سامعین کیسے اکٹھے ہوں گے۔ گویا پہلے ریڈیو ٹی وی پر الطاف حسین کی تقریر بند تھی، اب کراچی اور حیدر آباد کی سڑکوں اور چوراہوں پر بھی ان کی آواز نہیں دھاڑ سکے گی، اب تک حالات سے ثابت ہو چکا ہے کہ ایم کیو ایم کے کارکن یا رہنما نظریاتی نہیں بلکہ وقتی ہیں، کیونکہ جس تیزی کے ساتھ وہ تبدیل ہوئے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی الطاف حسین سے وابستگی صرف خوف کی وجہ سے تھی۔ اس لئے امکان یہی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ الطاف حسین بھی قصۂ پارینہ بن جائیں گے، بشرطیکہ پاکستان میں سیاسی طور پر ایم کیو ایم کو کام کرنے کی مکمل آزادی دی جائے۔ اس ٹاسک کو فاروق ستار کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت انہیں کمزور نہیں مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اگر وہ کمزور ہوئے تو ماضی کی طرف لوٹ جائیں گے۔

انہیں ماضی سے جدا کرنا ہے تاکہ وہ ایم کیو ایم کو بھی پاکستان کی ایک خود

مختار، پر امن اور دہشت گردی سے پاک جماعت بنا سکیں۔ کچھ لوگ میری اس بات پر ہنسیں گے کہ میں کیسی کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہا ہوں اور فاروق ستار سے امید باندھ رہا ہوں کہ وہ ایم کیو ایم کو پنجۂ استبداد سے نکالنے میں کامیاب رہیں گے حالانکہ وہ جسمانی ہی نہیں عزم و ارادے کے لحاظ سے بھی بہت کمزور ہیں لیکن میں پھر کہوں گا کہ ہمیں فاروق ستار کو معجزہ دکھانے کے لئے بھرپور موقع اور وقت دینا چاہئے، کیونکہ اس کے سوا ہمارے پاس جو آپشن ہے وہ ملک دشمنوں کو مدد تو دے سکتا ہے۔ ہمارے کسی کام کا نہیں۔

نسیم شاہد

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s