الطاف حسین کی سلطنت کا اچانک زوال

الطاف حسین کا لندن میں بیٹھ کر پاکستان میں تشدد کی آگ بھڑکانے کا ناقابل رشک ریکارڈ ہے۔ تاریخ میں کسی بھی اور لیڈر کے بس میں یہ صلاحیت نہیں کہ لاشوں کی سیاست سے کھیلے، ان لاشوں میں اس کے اپنے پیروکار ہوں یا دیگر معصوم افراد اس کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔ 22 اگست کو زینب مارکیٹ کے علاقے میں جمع ہونے والے ہجوم کی جو کچھ کیا وہ کسی فوری فیصلے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ باقاعدہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان اور پاک فوج کے خلاف نہایت زہریلا پراپیگنڈا کیا گیا۔ مسلح افراد دو قریبی بینکوں کے اندر چھپے ہوئے تھے جب کہ مبینہ طور پر بینک کے افسروں کا تعلق ایم کیو ایم سے تھا۔ رینجرز کے سربراہ میجر جنرل بلال اکبر نے تصدیق کی ہے کہ ایم کیو ایم کے جن چھ کلیدی کارکنوں کو رینجرز نے گرفتار کیا انھوں نے بتایا ہے کہ انھیں کس نے ایسا کرنے کی ہدایات دیں اور ہتھیار وغیرہ کس نے فراہم کیے تھے۔ اصل میں کشمیر میں ہونیوالے ظلم و تشدد سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے را نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت منظم کارروائیاں کرنا چاہیں لیکن اس کی منصوبہ بندی ناکام ہو گئی۔

جن ٹی وی اسٹیشنز پر حملہ کیا گیا وہ چینلز ایم کیو ایم مخالف نہیں بلکہ حکومت مخالف تھے۔ اس طرح بھارت کی پاکستان کا بین الاقوامی امیج خراب کرنے کی سازش میں پاکستان حکومت بھی غیر ارادی طور پر را کی آلہ کار بن گئی۔ ملٹری نے فیصلہ کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگائی۔ ابھی صوبائی اور وفاقی حکومت شش و پنج میں مبتلا تھے کہ بظاہر وزیراعلیٰ سندھ کے ’’حکم‘‘ پر ایم کیو ایم کے بے شمار یونٹ آفس مسمار کر دیے گئے۔ شاہین صہبائی کے مطابق ’’ایم کیو ایم کے دفاتر جس سرعت کے ساتھ رینجرز نے مسمار کیے ہیں جس میں الطاف حسین کے نائن زیرو عزیز آباد میں واقع گھر کی تالہ بندی بھی شامل ہے، اس سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ آرمی والے سیاستدانوں کا ’’ریڈ لائن‘‘ عبور کرنا کسی طور برداشت نہیں کریں گے۔‘‘

اس بات سے مکمل اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ موجودہ ملٹری قیادت 22 اگست کے واقعہ کے بعد ایکشن لینے میں مکمل سنجیدہ تھی۔ الطاف حسین کی سیاسی طاقت آج سے کچھ عرصہ قبل بھی اتنی زیادہ تھی کہ صرف ایک کال پر کراچی جیسا بڑا شہر مکمل بند ہو جاتا تھا۔ 95-96ء میں بینظیر کے دور میں جنرل نصیر بابر کی قیادت میں کیے جانے والے آپریشن نے ایم کیو ایم کے عسکری ونگ کا کافی حد تک صفایا کر دیا تھا۔ لیکن مشرف کی 2002ء کے بعد سیاسی مفاہمت کے باعث نہ صرف ایم کیو ایم کی عسکری طاقت بحال ہو گئی بلکہ NRO کی وجہ سے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی ساری کرپشن بھی معاف کر دی گئی۔ کرپشن کی اس طریقے سے ’’ادارہ جاتی‘ قانون سازی‘‘ کرنے سے پاکستان کو جو نقصان پہنچایا گیا اس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔

ایم کیو ایم کے عسکری ونگ کے ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی اور اے این پی کے عسکری بازوؤں نے بھی تقویت پائی اور کراچی جرائم اور کرپشن کی آماجگاہ بن گیا جس کو مکمل سیاسی اور حکومتی سرپرستی حاصل تھی۔ لوگوں نے بندوق کے سائے میں زندگی گزارنا ناگزیر سمجھ لیا۔ 2012ء میں اس وقت کے ڈی جی رینجر میجر جنرل اعجاز چوہدری نے اس مشکل صورتحال کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی اور ایم کیو ایم کے عسکری بازو کو ہدف بنایا۔ اس کے بعد میجر جنرل رضوان اختر اور اب میجر جنرل بلال اکبر نے اس آپریشن کو کامیابی سے جاری رکھا اور اس کے ثمرات آج سب کے سامنے ہیں۔ شاہین صہبائی کے مطابق ’’فاروق ستار کے پاس بچ نکلنے کی کوئی راہ نہیں تھی۔ یا تو وہ اپنے قائد سے لاتعلقی اختیار کرتے یا پھر حکومت کی جانب سے ایم کیو ایم کو ایک کالعدم پارٹی قرار دیا جاتا کیونکہ راولپنڈی سے کافی سخت احکامات جاری کیے گئے تھے۔‘‘ اگر فاروق ستار مستعفی ہو جاتے یا اپنی پارٹی پر پابندی لگوا لیتے تو قومی اسمبلی کی 25 اور سندھ اسمبلی کی 60 نشستیں خالی ہو جاتیں جن پر نئے سرے سے الیکشن کروانا پڑتا‘‘

فاروق ستار کے پارٹی کی قیادت کرنے کے فیصلے سے یہ امکان ختم ہو گیا کہ ان کی پارٹی کو کالعدم قرار دیا جائے۔ لیکن جن پارٹی کارکنوں نے اس نعرے تلے پروان پائی ہے کہ ’’جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے‘‘ ان پر اب بھی الطاف حسین کے سحر کا اثر باقی ہے۔ ایم کیو ایم کو جمہوریت کا حصہ ضرور ہونا چاہیے لیکن الطاف حسین کے بغیر جو کھلے عام پاکستان مخالف نظریات کا پرچار کرتے ہیں۔ وہ اگر بھارت کو اتنے ہی محبوب ہیں تو بھارت ان کو اپنا سکتا ہے۔ اس پر کسی کو اعتراض نہ ہو گا۔

GHQ کے نامزد کردہ وفاقی سیکریٹری برائے دفاع کا تقرر کرنے سے حکومت اور آرمی کے مابین جاری چپقلش کا یقینا خاتمہ ہو گیا ہو گا۔ لیکن ن لیگ کے عمومی رویے سے لگتا ہے کہ انھوں نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا اور اب بھی فوج مخالف رویہ ان کے اقدامات سے نمایاں ہے۔ شہباز شریف نے حال ہی میں ترکی میں ہونے والی فوجی بغاوت کو کچلنے پر ترک حکومت کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ کچھ مناظر میں دیکھا گیا کہ ترک پولیس والے بغاوت کرنے والے سینئر فوجی افسران کو ہتھکڑی لگائے عدالت لے جا رہے تھے۔ کیا اس سے یہ سبق تو نہیں لینا چاہیے کہ رانا ثناء اللہ جیسے لوگ فوج کو کوئی ڈھکا چھپا پیغام دے رہے ہوں۔

پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی پٹیشن کو اعتراض کے ساتھ مسترد کر دیا گیا جس پر بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ یہ عدلیہ کی افادیت اور غیر جانبداری پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ یہ محض اتفاق ہے کہ بلاول کے والد محترم وہ واحد شخصیت تھے جنہوں نے اس لیے اپنے اثاثہ جات ظاہر نہیں کیے کیونکہ خوش قسمتی سے ملک کا صدر ایسا کرنے سے مستثنیٰ ہوتا ہے۔ زرداری نے بھی کرپشن کرنے کی ’’ادارہ سازی‘‘ کی۔ اس لیے بلاول کو عدلیہ کے بارے میں بیان دینے سے پہلے یہ یاد رکھنا چاہیے۔ خیر، یہ ضرور خوش آیند ہے کہ پاک فوج نے ایم کیو ایم پر ایکشن لے کر ایک واضح پیغام دیا ہے جو یقینا سیاستدانوں کو اپنے رویے بدلنے پر مجبور کرے گا۔

اکرام سہگل

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s