امریکہ ۔ بھارت ملٹری لاجسٹک معا ہدہ

چند روز قبل امریکہ اور بھارت کے ما بین ہونے والے ملٹری لاجسٹک معا ہدے کو کئی اعتبا ر سے بہت زیادہ اہمیت کا حامل معا ہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔ خود امریکی اور بھارتی میڈیا کے مطابق۔ Logistics Exchange Memorandum of Agreement (LEMOA) ۔ کے نام سے کئے جانے والے اس معا ہدے کے اثرات چین، روس، پاکستان سمیت مشرق بعید تک ہوں گے۔ اس معاہدے کے مطابق اب بھارت اور امریکہ ایک دوسرے کے فوجی اڈوں کو بھر پور طریقے سے استعما ل کر پا ئیں گے۔ بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر کے اس دورے کے دوران امریکہ کی جانب سے بھارت کو جیٹ انجن ٹیکنالوجی اور ڈرون طیارے فراہم کرنے کے حوالے سے بھی با ت چیت کی گئی۔ LEMOA معاہدے کو 29 اگست کو عملی شکل دی گئی، مگر اس معا ہدے کے متن کو بھارتی وزیر اعظم مودی کے جون کے دورۂ امریکہ کے دوران ہی طے کر لیا گیا تھا ۔

اس معا ہدے پر امریکہ کے اہم جریدے’’ Forbes magazine‘‘ میں بہت اہم آرٹیکل۔ “China and Pakistan beware – this week, India and US sign major war pact,” ۔ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس آرٹیکل کے مطابق اس معا ہدے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کو روکا جا سکے۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتی خارجہ پا لیسی اور عسکری امور کے کئی ما ہرین نے حکومت کو اس نوعیت کے معا ہدے سے روکنے کے لئے اس دلیل کا سہا را لیا کہ اس نوعیت کے معاہدے سے بھارت کا پرانا حلیف روس بھی بھارت سے خوش نہیں ہوگا،مگر مودی حکومت کسی بھی صورت میں امریکی قربت سے دوری اختیار نہیں کر سکتی ۔ اب امریکہ، روس کے مقابلے میں بھارت کو زیا دہ اسلحہ دے رہاہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے بھارت نہ صرف امریکہ، بلکہ اس کے اتحادی ممالک جیسے جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ بھی لاجسٹک معا ہدے کر رہاہے۔

گزشتہ سال ستمبر میں امریکہ ، جاپان اور بھارت کے ما بین سہ فریقی ڈائیلاگ کا آغاز ہوا اور اس سال موسم گرما میں ان تینوں ممالک نے بحیرۂجنوبی چین کے متنا زعہ پا نیوں میں بحری مشقیں بھی کیں۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ اس وقت امریکہ جس ملک کے ساتھ سب سے زیا دہ فوجی مشقوں میں حصہ لے رہا ہے، وہ بھا رت ہی ہے ۔ اسی آرٹیکل میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ بھارت کے ساتھ اس نوعیت کے معا ہدے ، بھارت کو جیٹ انجن اور ڈرون بنانے کی ٹیکنالوجی فراہم کرنے سے پاکستان کی تشویش میں مزید اضافہ ہوگا۔ پا کستان کا دفتر خارجہ بھی اس معا ہدے پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔ بھارتی حکومت اور میڈیا اس معا ہدے کو بھارتی عوام اور دنیا کے سامنے اس تا ثر کے ساتھ پیش کر رہے ہیں کہ اگر ایک طرف بھارت نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے استعما ل کرنے کی اجازت دی ہے تو دوسری طرف امریکہ نے بھارت کو بھی اپنے اڈے استعما ل کرنے کی اجازت دی ہے، مگر یہاں پر اس حقیقت کو مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا رہا ہے کہ امریکہ جیسی ایک عالمی سپر پا ور کے مقابلے میں بھارت کو اپنے مقاصد کے لئے دنیا بھر میں پھیلے کتنے امریکی اڈوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ کئے جانے والے معاہدوں کی طرح اس(LEMOA) معا ہدے میں جس فریق کا پلڑا بھا ری رہے گا وہ امریکہ ہی ہو گا ۔

اس معا ہدے کے ساتھ ہی امریکی بحر الکاہل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل ہیری بی ہیرس کی جانب سے یہ بیا ن بھی سامنے آ گیا ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ امریکہ مستقبل قریب میں بحرالکاہل،بحرہند اور بحیرۂ جنوبی چین میں بھارت کے ساتھ مشترکہ بحری گشت کرے۔ اس بات کو اگر سادہ انداز میں کیا جا ئے تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ جیسا ایک بڑا چودھری اپنے تابع دار تھانہ دار یعنی بھارت کے ساتھ مل کر ان علاقوں میں اپنے اثر ورسوخ کی نگرانی کرے گا۔ مودی حکومت جنوری2015ء سے ہی بحرجنوبی ہند جیسے انتہا ئی اہم ایشو پر بھی مکمل طور پر امریکہ کی ہاں میں ہاں ملا رہی ہے۔امریکہ کے ساتھ LEMOA معا ہد ہ کرکے بھارت نے امریکی سامراجی کیمپ کی جانب ایک اور بڑا اہم قدم بڑھا دیا ہے،بلکہ اب بھارت، چین کے خلاف ایک طرح سے امریکہ کی فرنٹ لائن اسٹیٹ بننے کی جانب گامزن ہو چکا ہے۔

بھارت کی آزادی کے بعد یہ پہلا موقع ہو گا کہ کسی اہم عسکری قوت کی افواج بھارتی اڈوں کو استعما ل کر سکیں گی۔ امریکہ نے اس صدی کے آغاز کے ساتھ ہی بھارت کو اپنے حربی مقاصد کے لئے استعما ل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔ بش انتظامیہ نے2005 میں بھارت کے ساتھ عالمی اسٹرٹیجک پاٹنر شپ قائم کرنے کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی بھا رت کوLEMOA کی طرح کے معا ہدوں کی پیش کش کی تھی، کیونکہ سر د جنگ کے خاتمے کے بعد امریکی سامراج کو نئے تقاضوں کے مطابق بھا رت کی اہمیت اس لئے زیا دہ محسوس ہو ئی، کیو نکہ بھارت ، جنوبی ایشیا، مشرقی ایشیا اور وسطی ایشیا کے ساتھ ساتھ بحر ہند جیسے انتہا ئی اہم سمندری راستے تک بھی رسائی رکھتا ہے۔ اس وقت کی کانگرسی حکومت نے امریکہ کے ساتھ عسکری اور حربی شعبوں میں تعاون کو بہت زیا دہ فروغ دیا، مگر کا نگرس نے LEMOA معا ہدہ اس خطرے کے پیش نظر نہیں کیا کہ اس سے بھا رت کی اسٹرٹیجک خود مختاری متا ثر ہو گی ۔

اب بھارت عملی طور پر امریکہ کا دست نگربن جائے گا اور روس جیسے اہم حلیف سے بھی تعلقات متا ثر ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت کانگرس اور با ئیں بازو کی جماعتیں LEMOA معا ہدے پر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔     کانگرس کے موقف کے مطابق مودی سرکا رنے یہ معا ہدہ کرکے عملی طور پر بھا رت کی غیر جانبداری پر مبنی پا لیسی کو سرے سے ختم کرکے بھارت کو امریکی کیمپ میں ڈال دیا ہے۔ بھارتی حکمران طبقات نے آزادی کے بعد کئی عشروں تک اس با ت پر فخر کیا کہ بھارت نے عالمی طور پر کسی ایک کیمپ کا حصہ بننے کی بجائے غیر جانبداری پر مبنی پالیسی اپنا ئی۔ پہلے بھا رتی وزیر اعظم جواہر لعل نہروکو غیر وابستہ تحریک (NAM) کا بانی تسلیم کیا جا تا ہے۔17 سال بھارت کا وزیر اعظم رہتے ہوئے نہرو بڑی حد تک اس پالیسی پر گامزن بھی رہے۔

نہرو کے بعد آنے والے حکمرانوں نے بھی ایک حد تک اسی پالیسی پر عمل کیا، مگر اب گز شتہ دو عشروں سے بھا رت ، امریکہ نواز پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے۔ سرد جنگ اور اس کے بعد جتنے ممالک نے بھی امریکہ نواز پالیسیوں کو اختیار کیا انہیں کہیں نہ کہیں ان پالیسیو ں کی قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔ خود آج پاکستان دہشت گردی سمیت بہت سے ایسے مسائل سے اس لئے دوچار ہے کہ پاکستانی حکمران طبقات نے شروع سے ہی آنکھیں بند کر کے امریکہ نواز

پالیسیوں کو اختیار کیا۔ بھارت کو یہ زعم ہے کہ وہ بڑا ملک ہے اس لئے امریکہ کے ساتھ دفاعی اور عسکری معا ہدوں کے باوجود اسے نقصان نہیں ہوگا، مگر اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چا ہیے کہ صرف امریکہ کی خوشنودی کی خاطر چین اور روس جیسی اہم طاقتوں کو ناراض کرنا کسی بھی صورت سود مند نہیں ہوگا۔

عمر جاوید

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s