پاکستان زندہ باد

ایوب، ضیا اور مشرف پاکستان کے ایسے حکمران ہیں جنھوں نے ملک پر تیس برسوں تک حکومت کی۔ کارنیلس، حلیم اور چوہدری ایسے ججز ہیں جنھوں نے آٹھ آٹھ برسوں تک ان آمروں کے دور میں ملک کی عدلیہ کی سربراہی کی۔ ایک پختون جنرل ایوب خان نے آگرہ میں پیدا ہونے والے مسیحی اے آر کارنیلس کو چیف جسٹس کیوں بنایا؟ ضیا نے ’’اپنی بات نہ ماننے والے‘‘ جسٹس حلیم کو کیوں کر پاکستانی عدلیہ کی سربراہی سونپی؟ کیا حالات تھے کہ مشرف نے جسٹس افتخار چاہدری کو چیف جسٹس بنا کر اپنے اقتدار کے خاتمے کی بنیاد رکھی؟ تین ججز اور تین آمروں کی کشمکش ہمیں تیس عشروں کے واقعات سے آگاہ کرسکتی ہے۔ اگلے تین سو سیکنڈز میں یہ کوئی مہنگا سودا نہیں کہ اس میں ہمیں پاکستان کی تابندگی کو پرکھنے کا موقع ملے گا۔

مسیحی گھرانے میں پیدا ہونے والے Alvin Robert Cornelius نے آزادی کے موقع پر پاکستان کا انتخاب کیا۔ ملکی تاریخ کے اہم موقع پر اصول پسندی دکھانے کے باوجود ایوب نے انھیں 1960 میں چیف جسٹس نامزد کیا۔ اہم موقع کون سا تھا اور اصول پسندی کیا تھی؟ گورنر جنرل غلام محمد نے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو برطرف کردیا تو وہ خاموش رہے۔ ڈیڑھ سال بعد جب اس سربراہ مملکت نے اسمبلی توڑ دی تو اسپیکر مولوی تمیز الدین نے سندھ کی اعلیٰ عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور جمہوریت کے حق میں فیصلہ حاصل کرلیا۔

حکومت نے اپیل کی۔ اس وقت پاکستان کی عدلیہ کے سربراہ جسٹس منیر تھے۔ انھوں نے حکومت کے حق میں فیصلہ دیا۔ جسٹس اے آر کارنیلس نے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔ ایک مسیحی جج کی اصول پسندی یا ڈٹ جانے کے باوجود جب موقع آیا تو ایک فوجی حکمران نے میرٹ اور سینیارٹی کی بنیاد پر انھیں پاکستان کی عدلیہ کا سربراہ نامزد کیا۔ جسٹس کارنیلس اسی عہدے پر آٹھ سال تک برقرار رہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آگرے میں پیدا ہونے والے مسیحی کا عدلیہ کا سربراہ ہونا ہماری اعلیٰ ظرفی کا مظہر ہے۔ اگر جسٹس چوہدری کا دور اتنا طول نہ پکڑتا تو جسٹس رانا بھگوان داس بھی عدالت عظمیٰ کے سربراہ ہوسکتے تھے۔

لکھنو میں پیدا ہونے والے جسٹس محمد حلیم ایک اہم موقع پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج تھے۔ جنرل ضیا کا مارشل لا اور بھٹو کا مقدمہ قتل۔ لاہور ہائی کورٹ کے پانچ ججوں نے متفقہ طور پر سابق وزیراعظم کو محمد احمد خان قصوری کے قتل پر پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ جب اپیل سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھی تب نو میں سے دو ججز ریٹائرڈ ہوگئے، ایک بیماری کے سبب اور دوسرے 65 سال کی عمر ہوجانے پر۔ سات میں سے چار ججز نے بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ برقرار رکھا اور تین نے انھیں بری کردینے کا فیصلہ دیا۔

اکثریتی فیصلے پر عمل ہوا اور رحم کی اپیل مسترد ہونے پر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ جنرل ضیا اور ججز تاریخ کے کٹہرے میں ہیں کہ فیصلہ چار تین سے ہوا۔ اگر ایک جج صاحب بھی اپنا فیصلہ بھٹو کے حق میں دیتے تو ان کی جان بچ سکتی تھی۔ جنرل ضیا کے مخالفین ان پر الزام لگاتے ہیں کہ انھوں نے ججز پر دباؤ ڈالا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس میں کتنی حقیقت ہے؟ جسٹس حلیم کا فیصلہ اور پھر ان کی بعد کی زندگی ہمیں ضیا بھٹو کشمکش کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گی۔ چار ججز نے بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ سنایا، وہ ایس انوار الحق، محمد اکرم، نسیم حسن شاہ اور کرم الٰہی چوہان تھے۔

حیرت ہے کہ جسٹس حلیم کا نام ان میں شامل نہیں۔ جسٹس دراب پٹیل اور صفدر شاہ کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے انھوں نے بھٹو کو بے گناہ قرار دیا۔ تھوڑی دیر کے لیے اس بات کو مان لیتے ہیں کہ جنرل ضیا نے سپریم کورٹ کے ججز پر بھٹو کو پھانسی دینے کے لیے دباؤ ڈالا۔ یوں جسٹس حلیم نے اپنے دو برادر ججوں کے ہمراہ ان کی بات نہیں مانی۔ پھر 81 میں جنرل ضیا نے جسٹس حلیم کو چیف جسٹس کیوں بنایا؟ وہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک عدالت عظمیٰ کے سربراہ رہے۔ پونے نو سال۔ مارشل لا کے دوران جب جنرل ضیا غیر ملکی دورے پر جاتے تو جسٹس حلیم قائم مقام صدر ہوتے۔ اتنا زیادہ اعتماد اس شخص پر جس نے بھٹو کو معافی دینے کا فیصلہ دیا۔ ایک حکمران کا اپنی مخالفت میں اتنا اہم فیصلہ دینے والے جج کو اعلیٰ منصب دینا کیا ظاہر کرتا ہے؟ بھٹو کے مقدمہ قتل میں عدلیہ پر کتنا دباؤ تھا؟ جسٹس حلیم کی زندگی ان سوالوں کا جواب ہے۔

کوئٹہ میں پیدا ہونے والے جسٹس افتخار چوہدری بہت جلد سپریم کورٹ کے جج بن گئے۔ جسٹس غیور مرزا کی اچانک وفات اور جسٹس مری کے قتل نے عدالت عظمیٰ میں بلوچستان کی نمایندگی ختم کردی۔ یوں کم عمر جسٹس چوہدری کو عدلیہ کا سربراہ بننے کا موقع ملا۔ دہلی میں پیدا ہونے والے مشرف کے سامنے نہ افتخار چوہدری کی کوئی اصول پسندی تھی اور نہ کوئی حیران کن فیصلہ۔ 2005 میں عہدہ سنبھالنے والے اسٹیل مل پر ’’ناپسندیدہ‘‘ فیصلے کے بعد استعفیٰ طلب کیا گیا، انکار پر قید کرلیا۔ یوں وکلا تحریک شروع ہوگئی۔ کالے کوٹ والے آمر سے ٹکرا گئے۔ جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی اور پھر گرفتاری نے ایک بار پھر تحریک کو جنم دیا۔ دو سال بعد حکومت تمام ججوں کو ان کی نشستوں پر براجمان کرنے پر مجبور ہوئی۔ جسٹس چوہدری اپنی میعاد مکمل کرنے کے بعد ریٹائرڈ ہوئے۔ ان کا کردار اور اعمال تاریخ کے رو برو ہیں۔ انتہائی پسندیدگی کے بعد ناپسندیدگی ہم سب کے سامنے ہے۔ لیکن یہ طے ہے کہ مشرف کا سوا نیزے پر چمکتا دمکتا اقتدار ماند پڑا تو وہ جسٹس چوہدری کی بدولت۔ بے نظیر اور نواز شریف پاکستان واپس آسکے تو وکلا تحریک کے بعد۔

بانیان پاکستان کی اولاد ہونے کا دعویٰ کرنے والے ایم کیو ایم کے مہاجروں اور ان کے ’’سابقہ قائد‘‘ کے لیے ان واقعات میں بڑے سبق پوشیدہ ہیں۔ آگرہ میں جنم لینے والے اے آر کارنیلس کو ہزارہ میں پیدا ہونے والے ایوب خان نے چیف جسٹس بنایا۔ لکھنو میں پیدا ہونے والے جسٹس حلیم کو مشرقی پنجاب کے شہر جالندھر میں جنم لینے والے جنرل ضیا نے چیف جسٹس بنایا۔ دہلی میں پیدا ہونے والے مشرف کو لاہور کے رہنے والے وزیراعظم نے چیف آف آرمی اسٹاف بنایا۔ لندن کی ایم کیو ایم کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان میں تمام فیصلے ڈومیسائل دیکھ کر نہیں کیے جاتے۔ اکثر و بیشتر میرٹ ہوتی ہے اور جائے پیدائش پر کم ہی غور کیا جاتا ہے۔

ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والوں کا اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونا کام کرتا ہے کہ وہ فرزند زمیں ہیں کہ وہ افغان مہاجروں کو دیکھیں۔ بھارت کے مسلمانوں کی حالت زار اور پارلیمنٹ میں کم تر نمایندگی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتی ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں سے زیادہ گائے کی عزت اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی تمام پاکستانیوں کو ایک زوردار نعرہ لگانے پر مجبور کرتی ہے۔ ہر طرف گونجتا نعرہ یقیناً ایک ہی ہے کہ پاکستان زندہ باد۔

محمد ابراہیم عزمی ایڈووکیٹ

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s