حویلی لکھا : نہایت پرامن اور صاف ستھرا شہر

ضلع اوکاڑہ کی تحصیل دیپالپور کا قصبہ جسے وٹو قبیلے نے آباد کیا تھا۔ دیپالپور سے ۳۰ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ ستلج کے دونوں کناروں پر آباد ہوئے اور بڑے رقبے کے مالک بنے۔ اسی وٹو قبیلے کا ایک سردار لکھا تھا، جو ۱۷۵۰ء کے لگ بھگ نہ صرف یہ کہ اس بڑے علاقے کا مالک تھا بلکہ اس نے خود مختار حیثیت سے اس علاقے پر حکومت بھی کی اور اسی دوران حویلی کے نام سے گائوں کی بنیاد بھی رکھی۔ پہلے پہل اس نے یہاں ایک بڑی حویلی قائم کی تھی۔ اسی کے نام پر قصبہ حویلی لکھا مشہور ہوا۔ موجودہ قصبہ اس جگہ پر موجود نہیں، جہاں یہ حویلی تعمیر کی گئی تھی۔ لکھا وٹو کے انتقال کے بعد اس کا پوتا احمد یار خاں اس کاجانشین بنا، جو ہیرا سنگھ نکئی کی شکست کے وقت موجود تھا۔ بعد ازاں بھنگی سرداروں نے وٹوئوں کے اس علاقے پر قبضہ کرلیا۔

بھنگی مثل کے سرداروں نے زرعی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کیا البتہ ۱۷۸۳ء میں قحط کی وجہ سے بُدھ سنگھ نے اپنی جائیداد لوگوں کے ہاتھ بیچ ڈالی تھی۔ ۱۸۰۷ء میں حویلی لکھا سمیت علاقے پر رنجیت سنگھ قابض ہو گیا اور یہاں کاہن سنگھ نکئی کو نگران مقرر کیا۔ کھڑک سنگھ کی موت تک یہ پہلے کلال خاندان اور پھر مہان سنگھ دت کی جاگیر رہا۔ ۱۸۴۹ء میں انگریزوں کے ماتحت آگیا اور اسے ابتداً ضلع گوگیرہ، پھر ضلع منٹگمری یعنی ساہیوال میں شامل کیا گیا، پھر اوکاڑہ ضلع بننے پر اس میں شامل ہوا۔ ۱۹۱۹ء کی رپورٹ کے مطابق یہاں تھانہ، ڈاکخانہ اور ریسٹ ہائوس موجود تھے۔ پہلے اسے ٹائون کمیٹی کا درجہ حاصل تھا۔ ۲۰۰۱ء کے بلدیاتی نظام کے تحت اسے تین یونین کونسلوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ بنیادی طور پر یہ ایک زرعی علاقہ ہے اور آلو، گندم، چاول اور مکئی یہاں کی اہم فصلیں ہیں۔ حویلی لکھا کو ایک زرعی منڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ کسی زمانے میں یہاں کے حُقّے بڑے مشہور تھے۔ کسی حد تک اب بھی بنتے ہیں۔

یہاں طلبا و طالبات کے کالجز، سکول، ہسپتال اور دیگر دفاتر موجود ہیں۔ سابق وفاقی وزیر خزانہ میاں محمد یسٰین وٹو (مرحوم) اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو کا تعلق اسی قصبے سے ہے۔ ۱۹۹۸ء کی مردم شماری کے مطابق حویلی لکھا کی آبادی ۶۱۷۴۱ افراد پر مشتمل تھی جبکہ آج کل اس کی آبادی ۷۵ ہزار کے لگ بھگ ہے۔ یہاں کے اہم قبائل میں چشتی، پٹھان اور وٹو شامل ہیں جبکہ دیگر ذاتوں کے لوگ بھی آباد ہیں۔ صدربازار، مارکیٹ کمیٹی بازار، چھوٹی گلی، غلہ منڈی، سبزی منڈی، ہیڈ سلیمانکی روڈ، منور سعید روڈ اور حجرہ روڈ اہم کاروباری مراکز جبکہ جھنڈی محلہ، ہتھوڑاں والا محلہ، محلہ پیر اسلام، ڈھکی محلہ، گرین سٹی، المعصوم ہائوسنگ سکیم، محلہ شکور آباد، محلہ درس، محلہ مال منڈی، اسلام نگر اور الکرامت سٹی وغیرہ رہائشی علاقے ہیں۔ ہیڈ سلیمانکی یہاں سے ۱۸کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ شعر و ادب کے حوالے سے مزمل احمد یہاں کی قابلِ ذکر شخصیت ہے۔ آپ ۱۹۶۳ء میں پیدا ہوئے۔ پنجابی قاعدہ، اُردو ضرب الامثال اور کہاوتیں، پنجابی ضرب الامثال اور کہاوتیں، نیلی دے لوک گیت، فارسی ضرب الامثال اور کہاوتیں، انگریزی کہاوتیں اور پنجابی انسائیکلوپیڈیا آپ کی کتب ہیں۔

(کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s