بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان : ایک تاریخ ساز شخصیت

بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان 1918ء میں خان گڑھ میں پیدا ہوئے، آپ کا خاندان سرفضل حسین کی سربراہی میں یونیٹسٹ پارٹی سے وابستہ تھا، مگر نوابزادہ نصر اللہ خان نے اپنے خاندان کے بزرگوں کی سوچ سے ہٹ کر1930ء میں مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ یہ جماعت انگریز کی غلامی کے خلاف تھی اور انگریز کو برصغیر سے نکالنے کے لئے عملی جدوجہد کر رہی تھی۔اختلافات کے باوجود تحریک پاکستان کی حمایت کی اور23مارچ 1940ء کو قراردادِ پاکستان کی منظوری کے موقع پر نوابزادہ نصر اللہ خان نے آل انڈیا مسلم لیگ کے منٹو پارک لاہور (یاد گار قرارداد پاکستان گراؤنڈ) میں منعقد ہونے والے جلسۂ عا م میں شرکت کی۔ وہ اِس موقع پر ترکی ٹوپی،اچکن پاجامہ میں ملبوس تھے، حالانکہ اس وقت وہ ایک سرگرم احراری طالب علم رہنما کی حیثیت سے اپنی ایک الگ پہچان رکھتے تھے، اُن کی اِس تاریخ ساز جلسے میں شرکت اُن کی اعلیٰ سیاسی بصیرت کی مظہر ہے۔

مملکتِ خداداد پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد نوابزادہ نصر اللہ خان نے مجلس احرار اسلام کی فکر کو خیر باد کہہ دیا اور پاکستان مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے1951ء میں خان گڑھ کے دو حلقوں سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، لیکن مسلم لیگ کے ساتھ آپ کا زیادہ عرصہ نباہ نہ ہو سکا۔ آپ اصولی اختلافات کے باعث مسلم لیگ سے الگ ہو گئے اور آخر کار انہوں نے اپنی سیاسی جماعت پاکستان جمہوری پارٹی بنا لی، پھر پاکستان کی سیاسی تاریخ میں رہنمائی کے ایسے چراغ روشن کئے جو آج بھی مُلک کی سیاسی قیادت کے لئے مشعل راہ ہیں۔ نوابزادہ نصراللہ خان (مرحوم) کو اللہ تعالیٰ نے علم و ادب اور سیاست کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا، وہ میدانِ علم و ادب اور سیاست میں ممتاز اور منفرد نظر آتے ہیں۔ جہاں آپ سیاسی طور پر ایک مضبوط فکر کھتے تھے، وہاں مذہبی طور پر بھی وہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھے، تحریک ختم نبوت کے مجاہد اور بڑے رہنما تھے۔

اُن کی طبیعت میں بچپن سے ہی سنجیدگی تھی، اس وصف نے آپ کو تصوف کے قریب تر کر دیا تھا۔ برصغیر کے نامور خطیب، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی قربت اور تربیت نے سونے پر سہاگے کا کام کیا اور وہ مُلک کے سیاسی افق پر50 سال سے زیادہ عرصے تک روشن ستارہ بن کر چمکے، اپنی آخری سانس تک مُلک میں جمہوری اقتدار کے فروغ اور جمہوریت کے قیام کے لئے جدوجہد کی۔ انہوں نے ہمیشہ آمرانہ نظام حکومت کی مخالفت کی اور مُلک میں جمہوریت کی بحالی کے لئے چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کو متحد کر کے آمروں و ڈکٹیٹروں کے خلاف مضبوط سیاسی اتحاد بنائے اور مُلک کی سیاست میں حیران کن تبدیلیاں لا کر مُلک میں جمہوری عمل کو جاری رکھنے کی راہ ہموار کی۔

پاکستان میں جمہوریت، آئین اور پارلیمینٹ کی بالادستی کے لئے جدوجہد کو بابائے جمہوریت کی زندگی کی داستان کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ متعدد سیاسی دانشور کہتے ہیں کہ مُلک میں جب آمریت ہوتی تو نوابزادہ نصر اللہ خان جمہوریت کی بحالی کے لئے جدوجہد کرتے تھے اور جب مُلک میں جمہوریت ہوتی تو حقیقی جمہوریت کے نام پر سیاسی حکومت کے خلاف تحریک شروع کر دیتے تھے۔

دراصل یہ بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان کی دانائی، حکمت عملی اور سیاسی کرشمہ سازی تھی کہ جب وہ سیاسی حکومت کو جمہوریت کی پٹڑی سے پھسلتے دیکھتے تو وہ منتشر اور متحارب سیاسی قوتوں کو متحد کر کے آمریت کے سامنے ڈٹ جاتے۔ یہ میثاق جمہوریت کا ہی نتیجہ تھا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھ کر اپنی پانچ سالہ حکومت کی مدت پوری کی، جبکہ مُلک میں اب مسلم لیگ(ن) جمہوری انداز سے برسر اقتدار ہے۔ بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان نے دُنیا بھر کی اقوام کی جمہوریت کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد اپنی ایک مضبوط رائے قائم کی تھی کہ جمہوریت آنکھ جھپکنے سے نہیں، بلکہ ہمہ وقت سیاسی بیداری اور مسلسل جدوجہد سے آتے آتے آتی ہے۔

بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان 1962ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے،وہ جناح عوامی لیگ میں شامل ہوئے، جو بعد میں عوامی لیگ کہلائی، سید حسین شہید سہروری اس جماعت کے صدر اور نوابزادہ نصر اللہ خان نائب صدر تھے۔ حسین شہید سہروردی تحریک پاکستان میں قائداعظمؒ کے ہم رکاب رہے، اس حوالے سے ان کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان سیاسی اتحاد بنانے اور بحالی جمہوریت کی تحریک چلانے کی بے پناہ اہلیت رکھتے تھے۔ ایوب خان سے ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق، محترمہ بے نظیر بھٹو، میاں نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف تک کے خلاف ہر اتحاد میں ان کا کردار قائدانہ رہا۔ وہ مُلک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کو آپس میں سیکڑوں اختلافات کے باوجود، کم سے کم ایجنڈے پر متحد اور اکٹھا کر کے اپنی جماعت سمیت دینی اور دیگر سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر تیرہ اور سترہ جماعتی اتحاد بنا لیتے اور ان اتحادوں میں انہیں ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی۔

وہ سخت سیاسی مخالفین کو ملکی مفاد کی خاطر مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے فن سے واقف تھے۔ انہوں نے ایم آر ڈی بنا کر ولی خان اور بیگم نصرت بھٹو کو ایک مشترکہ پلیٹ فام پر اکٹھا کر دیا اور پی ڈی ایف بنا کر ایئر مارشل اصغر خان اور بے نظیر بھٹو کو ایک میز پر بٹھا دیا۔ آپس میں شدید سیاسی مخالف جماعتوں، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کو اے آر ڈی میں اکٹھا کر لیا اور میثاق جمہوریت پر دستخط بھی کروا دیئے۔ نوابزادہ نصر اللہ خان کی جمہوری نظام کے بارے میں بنیادی سوچ یہ تھی کہ پاکستان کی فیڈریشن صرف پارلیمانی جمہوریت سے ہی قائم رہ سکتی ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ رہی ہے کہ مُلک پر 33سال طالع آزماؤں نے زبردستی قبضہ کئے رکھا طالع آزما یہ سمجھتے رہے کہ قوم کے لیڈر کا فیصلہ انہوں نے کرنا ہے۔ اِس صورت میں مُلک پر آمریت اور مارشل لاء کے بادل منڈلاتے رہے اور جمہوریت کی کونپلیں پوری طرح پروان نہ چڑھ سکیں۔

بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان (مرحوم) نے32 نکلسن روڈ لاہور میں اپنی رہائش گاہ کو مُلک کے سیاست دانوں اور اپنی پارٹی کے کارکنوں کے لئے ایک مکمل سیاسی سیکرٹریٹ (تربیت گاہ) بنا رکھا تھا، جس کے دروازے ہر خاص وعام کے لئے دن رات کھلے رہتے تھے اور مُلک کی سیاسی قیادت سیاسی مشوروں اور مسائل کے حل کے لئے ان کے پاس حاضری دیتی تھی۔ نواز شریف جب دوسری بار برسر اقتدار آئے تو جنرل پرویز مشرف کو چیف آف آرمی سٹاف انہوں نے ہی بنایا تھا، بعد میں حکومت اور ان کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوتا گیا۔ 12اکتوبر 1999ء کو طالع آزما نے اقتدار پر قبضہ کر لیا، مُلک کا وزیراعظم گرفتار ہو کر اندھیری کوٹھڑی میں بند ہو گیا اور بعدازاں وہ اپنے خاندان سمیت جدہ بھجوا دیئے گئے۔ سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو آٹھ سال سے پہلے ہی طویل اور صبر آزما جلا وطنی کاٹ رہی تھیں۔

بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان نے اپنی بیماری اور بڑھاپے کی پروا کئے بغیر مُلک کی سیاسی کشتی کو اندھیرے بھنور سے نکالنے کے ساتھ طالع آزما جنرل پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف سیاسی اتحاد بنانے کے لئے طویل ملاقاتیں کیں اور ایک دوسرے کو ایک آنکھ نہ دیکھنے والی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو اے آر ڈی کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کر لیا اور طائع آزما کی آمریت سے نجات کا راستہ ہموار کر دیا۔ میثاق جمہوریت کی بنیاد رکھ کر بابائے جمہوریت پاکستان پہنچ گئے۔ وہ فوراً سیاسی سرگرمیاں شروع کرنا چاہتے تھے۔ اِس سلسلے میں انہوں نے اے آر ڈی کا اجلاس 25 ستمبر کو اسلام آباد میں طلب کر لیا تھا، لیکن زندگی نے وفا نہ کی اور دِل کا دورہ پڑنے کے باعث اُن کو الشفاء ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا اور اے آر ڈی کا اجلاس ملتوی ہو گیا۔ نوابزادہ نصراللہ خان کی طبیعت سنبھل کر دوباہ بگڑ گئی، 26اور 27 ستمبر کی شب وہ داعی اجل کو لبیک کہہ کر اِس دارِفانی سے کوچ کر گئے۔۔۔

(انا للہ وانا الیہ راجعون)۔۔۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے، آمین!

محمد سرور جالندھری

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s