انڈیا کچھ روز اکڑ دکھائے گا پھر آ جائے گا

انڈیا اور پھر دیگر تین ممالک کی جانب سے سارک اجلاس میں شرکت کرنے سے انکار کے بعد تنظیم کے 19 ویں اجلاس کو ملتوی کیے جانے سے کیا پاکستان کو خطے میں پاکستان کو تنہا کرنے کی انڈیا کی مہم کا حصہ ہے اور پاکستان پر سفارتی سطح پر کتنا دباؤ پڑے گا؟ تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ انڈیا کی وجہ سے سارک کا اجلاس ملتوی ہوا ہو۔ اس سے قبل 1999 میں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد انڈیا نے کٹھمنڈو 26 سے 28 نومبر کا اجلاس ملتوی کرنے کے لیے درخواست کی تھی۔  اجلاس کے ملتوی ہونے سے پاکستان پر سفارتی دباؤ کے حوالے سے سابق سفارت کار عزیز خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ انڈیا کی وجہ سے سارک کا اجلاس منسوخ ہوا ہو۔  انھوں نے مزید کہا کہ ’انڈیا کچھ روز اکڑ دکھائے گا اس کے بعد آ جائے گا۔ یا تو وہ یہ کہہ دے کہ آٹھ جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک ہی کو ختم کر دیا جائے تو وہ الگ بات ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر کوئی سفارتی دباؤ نہیں پڑتا کیونکہ سارک کے اجلاس پہلے بھی ملتوی ہوتے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا: ’افغانستان بھی خفا پھر رہے ہیں لیکن اجلاس ملتوی ہونے سے تنہائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘ کیا یہ انڈیا کی جانب سے پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کی کوشش کی کڑی ہے؟ وزیر اعظم نریندر مودی کہہ چکے ہیں کہ انڈیا پوری دنیا میں پاکستان کو الگ تھلگ رہنے پر مجبور کردے گا۔ اگر دیکھا جائے تو ایران نے حال ہی میں چین پاکستان اقتصادی راہداری میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے، روس نے پاکستانی فوج کے ساتھ اپنی فوجی مشقیں منسوخ کرنے سے انکار کر دیا اور پہلی بار روسی فوج پاکستان میں مشترکہ فوجی مشقوں کے لیے آئی ہے۔ سابق سفیر ظفر ہلالی کا کہنا ہے کہ ایران کی پاکستان اقتصادی راہداری میں شمولیت کی خواہش، روسی فوج کی پاکستان میں مشقوں کے لیے آنا چند مثالیں ہیں جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان تنہا نہیں ہو رہا۔

’سارک اجلاس ملتوی ہونے سے پاکستان پر سفارتی طور پر کوئی دباؤ نہیں پڑے گا اور تنہائی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سارک ایک غیر موثر تنظیم ہے۔‘ سابق سفیر نجم الدین شیخ کا کہنا ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں حملے کے بعد سارک اجلاس کا ملتوی ہونا تو واضح تھا۔ ’سارک چارٹر کے مطابق ایک رکن اجلاس میں نہیں آتا تو اجلاس ملتوی ہو جاتا ہے۔ تین دیگر ممالک کی جانب سے اجلاس میں شرکت میں انکار سے انڈیا کو خطے کی بڑی طاقت کے طور پر پیش کرنا ہے۔ لیکن اگر مغرب کی جانب دیکھیں تو وہ یہی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کو بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے چاہیے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ جو خبریں انڈین میڈیا پر آ رہی ہیں تو اس سے لگتا ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہرے وغیرہ اسی شدت سے جاری ہیں جو شدت پہلے دن تھی۔ ’سارک میں شرکت نہ کرنے کی وجہ کشمیر کی صورت حال سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ پہلی بار نریندر مودی نے عوام کے ردعمل کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اپنی تقریر میں پاکستان کو تنہا کرنے کا کہا اور اب بھی سارک میں شرکت نہ کرنا عوام کو خوش کرنے اور عالمی توجہ کو کشمیر میں بگڑی ہوئی صورت حال کے واقعات سے ہٹانے کی کوشش ہے۔‘

رضا ہمدانی

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s