شاہ فیصل مسجد اسلامی فن تعمیر کا شاہکار

مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع، وفاقی دارالحکومت اسلام آبادکی عظیم الشان فیصل مسجد یہاں کا امتیازی نشان بن چکی ہے۔ تکونی خیموں جیسی اس مسجد کا اپنے پس منظر میں ابھرتی پہاڑیوں اور ملحقہ وادیوں کے حسن سے عجیب رابطہ پیدا کیا گیا ہے۔ منفرد تعمیراتی حسن کی حامل اس خوبصورت مسجد کی تعمیر کا منصوبہ بہت عرصہ قبل بنایا گیا تھا۔ عزت مآب شاہ فیصل شہید کو ان کے دورہ پاکستان کے دوران اس مجوزہ مسجد کے متعلق بتایا گیا، تو انہوں نے خوش ہوتے ہوئے اس مسجد کی اپنے ذاتی خرچ سے تعمیر کرنے کی حامی بھری۔اسی مناسبت سے اس کا نام فیصل مسجد رکھا گیا ہے۔ سب سے پہلے 1969ء میں دنیا کے اعلیٰ ماہرین تعمیرات کی یونین نے حکومت سعودی عرب کے ایک نمائندے سمیت جیوری کے ایک پینل کی تشکیل کی۔

مسجد کے ڈیزائن کا مقابلہ صرف اسلامی ممالک کے نقشہ سازوں کے درمیان ہوا چنانچہ اسلامی ملک کے ماہرین تعمیرات میں سے ترکی کے وحدت ولوکے کا ڈیزائن متفقہ طور پر منتخب ہوا اور انہی کی زیر نگرانی مسجد کی تعمیر کے کام کا آغاز ہوا۔ اس کی تعمیر کا ٹھیکہ پاکستانی فرم ’’نیشنل کنسٹرکشن کمپنی‘‘ کو دیا گیا۔ مسجد قدیم و جدید کا حسین امتزاج، ماضی و حال کا لاجواب سنگم، فن تعمیر کا بے مثال نمونہ اور ذوق جمال کا نادر اظہار ہے۔ مسجد کا کام دو مراحل میں مکمل کیا گیا ۔اس کی خشتِ اوّل 12اکتوبر 1976ء کو شاہ خالد بن عبد العزیز کے ہاتھوں رکھی گئی۔ مسجد 146 ایکڑ مربع پر محیط ہے۔ اس کی تعمیر میں بے شمار تعمیری اور تکنیکی خوبیاں موجود ہیں۔ مسجد کے ہال میں جو بغیر کسی سہارے کے بنایا گیا ہے، صرف چار بڑے بڑے لوہے اور کنکریٹ کے شہتیروں پر پوری چھت کو سہارا دیا گیا ہے ،جو باہر سے دیکھنے پر بڑے کھلے معلوم ہوتے ہیں۔

 ہال میں خواتین کے نماز پڑھنے کے لیے خاصی بڑی گیلری بھی بنائی گئی ہے۔ اس گیلری میں مغلیہ طرز کی جالیاں لگائی گئی ہیں۔ گیلری کے شاندار دروازے پر خط کوفی میں ’’جنت ماں کے قدموں تلے ہے‘‘ کے علاوہ اور بھی آیات لکھی گئی ہیں۔ ہال میں دس ہزار سے زائد برآمدوں میں چوبیس ہزار اور میدانوں میں بھی ہزارہا افراد بیک وقت نماز ادا کر سکتے ہیں۔ اس گنجائش کو مزید بڑھایا بھی جاسکتا ہے۔ یہ مسجد اپنی کشادگی کے لحاظ سے بھی اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ مسجد میں روشنی کا بڑا عمدہ انتظام ہے۔ دُور سے دیکھنے پر مسجد روشنی کا منبع لگتی ہے۔ ہال میں قریباً ساڑھے چھ ٹن وزنی فانوس کے علاوہ دیگر چھوٹی لائٹیں بھی لگائی گئی ہیں۔ ہر لائٹ کے ساتھ آواز پہنچانے کے لیے دو چھوٹے چھوٹے سپیکر بھی نصب کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی آواز پہنچانے کے لیے سپیکر لگے ہوئے ہیں۔ واعظ کرنے اور اذان دینے کے لیے ایک اونچا پلیٹ فارم بنایا گیا ہے۔ یہاں حسن قرات وغیرہ کے مقابلے بھی منعقد کروائے جاتے ہیں۔

ہال کے چوبی اور ایلومنیم کی کھڑکیاں اور دروازے بھی بڑی مہارت سے بنائے گئے ہیں۔ مسجد کے حسن کو بڑھانے کے لیے طرح طرح کے رنگین شہتیروں، عمدہ ٹیلوں اور نفیس ترین شیشوں سے مرصع کیا گیا ہے۔ مسجد کی شکل کی ایک خوبی خیمے سے مشابہت بھی ہے کیونکہ حضور نبی کریمﷺ نے سب سے پہلے نماز خیمے میں ہی ادا فرمائی تھی چنانچہ یہ شکل اس واقعہ کو مدنظر رکھتے ہوئے دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ مسجد میں اعتکاف کے لیے حجرے بھی بنائے گئے ہیں۔ وضو کے لیے اعلیٰ پائے کی ٹوٹیاں اور اس کے علاوہ غسل خانے بھی بنائے گئے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ مسجد کے 285 فٹ اونچے چار مینار اس کی رونق اور حسن کو دوبالا کرتے ہیں۔ میناروں کے193 فٹ بلندی پر مشاہداتی گیلریاں بھی بنائی گئی ہیں، جہاں سیڑھیوں کے علاوہ لفٹ کا بھی بندوبست ہے ۔

مینار پر لگے سونے کے ہلال سے ان کا حسن اور بھی نکھر جاتا ہے۔ مسجد کی ظاہری شان و شوکت اور حسن و خوبی کے ساتھ ہی اس کی پائیداری پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ زمین کی تبدیلیوں، زلزلوں اور دیگر ممکنہ حادثات سے بچاؤ کے لیے جدید سائنسی اصولوں اور اعلیٰ تکنیکی و تحقیقی مہارتیں بھی اپنائی گئی ہیں۔ نمازیوں کی سہولت کے لیے یہاں سینکڑوں گاڑیاں اور ہزاروں موٹر سائیکلوں و سائیکلوں کے لیے بھی سٹینڈ بنائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی ریسرچ سینٹر، میوزیم، لائبریری، پرنٹنگ پریس، کیفے ٹیریا، انتظامی دفاتر اور انتظامیہ کی رہائش گاہوں کے علاوہ دیگر عمارتیں بھی اس کے حصے میں شامل ہیں۔ مسجد کے خوبصورت سبزہ زار بنفشی درو دیوار فوارے، راہ داریاں، برقی قمقمے، سونے کے چاند، میدان اور دالان دودھ جیسے فرش اور جدید سڑکیں سب مل کر دیکھنے والے کو مسحور کر دیتے ہیں۔

 مسجد کا اندورنی سامان اندرون اور بیرون ملک سے حاصل کیا گیا۔ 800 سے زائد کارکنوں کی شب و روز محنت جو انہوں نے دس برس سے زائد عرصہ میں کی ہے، یہ شاہکار عالم اسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی بھی شاہ فیصل مسجد کے ساتھ منسلک ہے ۔ یہاں ہزاروں کی تعداد میں بیرون ممالک سے لڑکے اور لڑکیاں اسلامی تعلیمات کے حصول کے لیے کھچے چلے آتے ہیں۔ اس یونیورسٹی کی اپنی ایک منفرد خصوصیت ہے ۔اس کا معیار تعلیم پوری اسلامی اُمہ میں جانا پہچانا جاتا ہے۔ یہاں سے فارغ التحصیل طلبا کی ایک کثیر تعداد پوری دنیا میں اسلام کے فروغ اور تبلیغ کا باعث ہے۔ اندازاً مسجد پر 50کروڑ روپے سے زائد یا اس کے لگ بھگ روپیہ خرچ ہوا۔ زیادہ رقم حکومت سعودیہ نے فراہم کی ،تاہم پاکستان نے بھی خلوص و محبت کے پھولوں کے ساتھ اپنی طرف سے خدا کے گھر کے لیے خرچ کیا ہے۔

 پاکستان میں جہاں بادشاہی مسجد، داتا گنج بخش، بھونگ مسجد اور مسجد طوبی جیسی بے شمار خوبصورت او ربڑی بڑی مسجدیں موجود ہیں، وہاں یہ مسجد ان میں ایک خوبصورت اضافہ ہے، جس پر نہ صرف پاکستان بلکہ تمام دنیا کو ناز ہے۔ دعا ہے کہ مسجد اپنے اصل مقاصد اتحاد و یکجہتی اخوت و مساوات ہمدردی و بھائی چارہ او راطاعت کے جذبے تمام مسلمان دنیا میں اجاگر کرے اور یہ عظیم مسجد تمام عالم اسلام کے اتحاد کا نشان ثابت ہو۔

(کتاب ’’پاکستان کی سیر گاہیں‘‘ سے مقتبس)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s