آزادی کی امید ابھی زندہ ہے

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں تقریباً تین ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری احتجاج کی لہر، تشدد اور کرفیو کا کشمیریوں پر کیا اثر پڑا ہے؟ بی بی سی اردو نے سرینگر کی رہائشی ایک خاتون سے رابطہ کیا جن کے تجربات و تاثرات کی پانچویں کڑی یہاں پیش کی جا رہی ہے۔ کشمیر میں مواصلاتی بلیک آؤٹ کی وجہ سے یہ تحریریں آپ تک بلاتعطل پہنچانے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ کچھ دن پہلے کسی کو لینے ایئرپورٹ جانا تھا۔ سورج طلوع ہوتے ہی گھر سے نکلنا پڑا۔ سفر تو خیر سے گزرا مگر اس بات کا احساس ہوا کہ اب راستے میں آئے کئی مقامات سے نئی یادیں وابستہ ہوگئی تھیں۔

وہ نکڑ جہاں صحافی کو پیٹا گیا تھا، وہ چوراہا جہاں اکثر آنسو گیس فائر کی جاتی ہے، وہ گلی جو اس جگہ جاتی ہے جہاں ایک نوجوان کو گولی ماری گئی تھی، وہ محلہ جس کے مکانوں کی کھڑکیاں فوجیوں کے ڈنڈوں کی نظر ہو گئیں اور ایک سابقہ اذیتی مرکز جو اب حکومتی مرکز بن گیا ہے۔ یہ نئی یادیں ہر جگہ ہیں۔ ہمارے گھر میں ایک گملے میں گہرے سرخ رنگ کے پھول نکلے ہیں۔ ان کو دیکھ کر وہ نوجوان یاد آ جاتے ہیں جن کا لہو ہماری گلیوں میں بہت بہہ چکا ہے۔ آج کل تو سرخ رنگ کہیں بھی دیکھیں تو یہی چہرے سامنے آ جاتے ہیں جو اپنے وقت سے بہت پہلے ایک خون کے دریا میں بہہ گئے۔ ان ظلم بھری یادوں سے نقصان بھی ہوتا ہے۔ جب انسان ظلم کے ماحول میں گرفتار ہو اور اپنے اردگرد ظلم اور جبر کی انتہا دیکھے تو اس کا اظہار صرف غصے ہی کی صورت میں نہیں ہوتا بلکہ اس انسان میں اکثر ایک کڑوا پن بھی آ جاتا ہے اور امید ختم ہو جاتی ہے۔

مظلوم لوگوں کی جھولی میں ظلم کا یہ بھی ایک تحفہ ہے۔ مجھے اس بات کا خیال تب آیا جب میرا شوہر میرے لیے باغ سے دل کی شکل کا ایک پتھر لایا- مجھے خوش کرنے کے لیے۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب ہم سب پر کرفیو آٹھ دن سے نافذ تھا اور درجنوں کشمیری ہلاک اور سینکڑوں زخمی کر دیے گئے تھے۔ مجھے یہ بات موزوں لگی کہ ہمارے پتھر محبت کی نشانی بن گئے تھے چاہے یہ کسی کی محبت کی ترجمانی کر رہے ہوں یا اس جذبے کی جو گذشتہ 70 برس سے ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔ ہمارا سب سے بڑا پتھر ہندوستان کے لیے یہی ہے کہ ہم امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے چاہے وہ ہم پر کتنے بھی ظلم کرے۔ یہی امید ہے کہ جو ہمارے لوگوں کو بار بار سڑک پر ایک پرامن جلوس کی صورت میں لاتی ہے۔ ان کے نعروں کی بلندی میں اور ان کی ثابت قدمی میں امید ہی کا تو شرارہ ہوتا ہے۔

کبھی یہ امید ایک چھرّوں سے زخمی بچے کی ماں کی لوری میں ڈھل جاتی ہے اور کبھی اس باپ کی بند مٹھی میں جو اپنے جوان بیٹے کی قبر پر مٹی ڈال رہا ہے اس دعا کے ساتھ کہ کسی اور باپ کو ایسا نہ کرنا پڑے۔ کبھی اس امید نے آنسو گیس سے بھرے آپریشن تھیٹر میں سرجن کے ہاتھوں کو لرزش سے بچایا اور کبھی اس نے اس عورت کو ہمت بخشی جو برسوں سے اپنے گمشدہ شوہر کو تلاش کر رہی ہے۔ ہماری امید کے کئی رنگ ہیں جو اس ظلم اور جبر کے ماحول میں ہمیں جِلا بخشتے ہیں۔ انھی رنگوں کی قوسِ قزح سے ابھی تک امیدِ آزادی تابناک ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s