منچھر جھیل : پاکستان میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل

This photo of Manchar Lake is courtesy of TripAdvisor

دنیا کی سب سے قدیم جھیل منچھر جھیل کراچی سے قریباً 280 کلومیٹر (175میل) کے فاصلے پر ضلع دادو کے تعلقہ جوھی کھیرتھر پہاڑ کے دامن میں واقع ہے۔ یہ جھیل کب وجود میں آئی، اس کے متعلق حتمی طور پر کوئی کچھ نہیں کہا جاسکتا البتہ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ جھیل موہن جودڑو اور ہڑپہ کی تہذیبوں سے بھی قدیم ہے، یعنی یہ قدیم ترین پتھر کے دور سے اسی جگہ پر موجود ہے۔ منچھر جھیل دریائے سندھ سے قدرے بلندی پر واقع ہے۔ اس لیے جب دریا میں سیلابی کیفیت ہوتی ہے تو دریا کا زائد پانی حفاظتی پشتے توڑ کر پورے علاقے میں پھیل جاتا ہے ،مگر جب دریا کی سیلابی کیفیت ختم ہو جاتی ہے تو جھیل کا زائد پانی دریائے سندھ میں واپس ہو جاتا ہے اور منچھر جھیل اپنی اصل حالت میں واپس آجاتی ہے۔

ان حالات کے پیش نظر گذشتہ صدی کے دوران سے دریائے سندھ کے ساتھ ملانے کے لیے ایک ’’اڑی‘‘ نامی نہر بنا دی گئی تھی، جس سے دریا کا سیلابی پانی منچھر جھیل میں محفوظ ہو جاتا ہے، یہ جھیل 520 مربع کلومیٹر کے وسیع عریض علاقے میں پھیلی ہوئی ہے۔ منچھر جھیل سے لاکھوں لوگوں کی قسمتیں وابستہ ہیں۔ ا س جھیل کو دیکھا جائے، تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی کوئی شہر آباد ہے۔ اس شہر میں ہزاروں کشتیوں پر سوار پورے کا پورا خاندان نسل در نسل آباد ہے۔ ان خاندانوں کو ’’میر بحر‘‘ کہا جاتا ہے، ان کی صبح کہیں ہوتی ہے تو شام کہیں۔ میر بحروں کی تمام تر خوشیاں، مصائب اور تکالیف اس جھیل ہی سے وابستہ ہیں منچھر جھیل ان کے لیے ذریعہ آمدنی اور غذا کی فراہمی کا وسیلہ بھی ہے۔ جھیل میں قریباً دو سے زائد اقسام کی مچھلیاں جو صدیوں سے منچھر جھیل میں پائی جاتی ہیں بالکل ختم ہوگئیں ،اب جو مچھلیاں اس جھیل میں ہیں،ان میں سندھی حرگو، گندن، لوھر، سنگاڑا، پھندملی، موراکا اور کڑوا وغیرہ شامل ہیں۔ اس وقت مچھر جھیل مچھلیوں کی افزائش کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

اس جھیل سے لاکھوں من مچھلیاں ہر سال پکڑی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس جھیل میں کنول کافی مقدار میں پیدا ہوتا ہے۔ لوگ کنول کے بیجوں کلیوں اور اس کی جڑوں کو بطور سبزی پکا کر کھاتے ہیں، جہاں ہری بھری گھاس اچھا موسم اور قدرتی جھیل ہو ،وہاں پرندوں کا دور دراز علاقوں سے آنا ایک فطری بات ہے۔ سردیوں کے موسم میں منچھر جھیل ہر قسم کے پرندوں سے بھر جاتی ہے ۔پرندے عارضی طور پر مختلف ممالک سے ہر سال یہاں آتے ہیں، اکثر یہاں سائبریا اور اس قسم کے ٹھنڈے ممالک سے پرندے منچھر جھیل میں آتے ہیں۔ اس جھیل میں آنے والے پرندوں کی متعدد اقسام ہوتی ہیں، مثلاً ہنس لاکو جانی، راج ہنس، آڑی (آری جل مرغی) نیگری ( نیل سر) کا نیرو (چونچ بزا) ڈگوش ( چھوٹی بطخ) کنگھا ( لنگور) چنچلوں ( چکیکلو بطخ) گنگ مرغیاں اور مختلف بطخیں وغیرہ شامل ہیں ۔اس کے علاوہ منچھر جھیل میں سندھی ہنس بھی کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں یہ ہنس تین طرح کے ہوتے ہیں؛ ایک بھورے رنگ کے ہنس دوسرے سفید منہ والے اور تیسرے کلغی والے ہنس، کہا جاتا ہے کہ یہ ایک نایاب نسل ہے، جو اس جھیل میں پائی جاتی ہے۔ آج کل تو ان پرندوں کو رائفل یا بندوق سے مارا جاتا ہے، لیکن اس سے پہلے میر بحر یعنی زندہ اپنے ہاتھوں سے پکڑتے تھے۔

موسم سرما میں منچھر جھیل میں پانی کی سطح کافی کم رہتی ہے اور دور دور تک خشک سالی ہوتی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میر بحروں کے یہ خاندان مختلف غذائی اجناس کی کاشت کرتے ہیں۔ یہاں غذائی اجناس میں گندم، جوار، جو، سرسوں،کپاس اور چاول وغیرہ شامل ہیں میر بحر حضرات انہیں نہ صرف اپنی ضروریات کے لیے استعمال کرتے ہیں بلکہ قریبی منڈیوں میں فروخت کرکے اپنی ضروریات زندگی پوری کرتے ہیں۔ منچھر جھیل کو سیاحت کا مرکز بنا جاسکتا ہے، یہاں کے عوام کا عرصہ دراز سے مطالبہ ہے کہ منچھر پر ایک ڈیم بنایا جائے تاکہ جو ھی تحصیل اور سہیونا کی لاکھوں ایکڑ زمین کاشت ہوسکے۔

شیخ نوید اسلم

 (پاکستان کی سیر گاہیں)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s