ہوشیار انٹرنیٹ پورا جاسوس ہے

کیا آپ جانتے ہیں ہمارے زندگیوں کے لازمی جز کمپیوٹر اور اس کے بہت سے آلات آپ کی لاعلمی میں ہر ممکنہ کوشش میں سرگرداں ہیں کہ ٓآپ کی شخصی معلومات اورحرکات و سکنات کچھ نامعلوم ذرائع کو فراہم کررہے ہیں ۔ اسے سنگین الفاظ میں بیان کیا جائے تو یہ تمام آلات اصل میں کسی اور کے آلہ کار ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ نے انکو اپنی خون پسینے کی کمائی سے خرید ا ہوا ہے۔ انٹرنیٹ پر شخصی جاسوسی کا جال پورے عالم کے لیے ایک درد سر بنا ہوا ہے اور فی الحال اسکے تدارک کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ سمارٹ فون اور سمارٹ ٹیبلٹس کی مقبولیت اور فنی ترقی کے پیش نظر یہ جاسوسی اب بہت بڑے پیمانے پراور بہت آسانی سے ممکن ہوگئی ہے ۔

انٹرنیٹ صنعت کاری میں جہاں نت نئے کاروباری قوالب بنے ہیں وہیں ایک یہ قالب شخصی جاسوی یا نگرانی بھی شامل ہے۔ کئی بڑی کمپنیاں اس دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرنے میں تمام اخلاقی حدود کودن دھاڑے روند رہی ہیں۔ یہ تمام باتیں جو مذکورہ بالا ہیں نئی نہیں ہیں ہم سے بہت سے لوگ اس سے واقف ہیں۔ ان دنوں جس نئی تکنیک کا استعمال کیا جا رہا ہے اس کو سن کر ایک عام انسا نی ذہن دنگ رہ جائے گا۔ بین آلاتی برتاؤ ایک نیا جنون ہے اس میکدے میں جہاں لوگوں کونت نئی اقسام کے خمار کا عادی بنا کر ان کی ہوش مندی اور بیہوشی کا خوب فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ بین آلاتی برتائو میں جس تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے اس میں ٹیلی ویژن، کمپوٹر، سمارٹ فون اور سمارٹ ٹیبلٹس سے بصری شعاعوں کا اخراج کیا جاتا ہے جو انسانی سماعت کے دائرے سے خارج ہوتی ہے جسکی مدد سے مختلف آلات ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوگر کوکیز کے ذریعے سے معلومات کی ترسیل کرتے ہیں۔

اس کو ایک مثال سے اچھی طرح واضح کیا سکتا ہے۔ مثلا جب آپ ٹیلی ویژن پر اپنے پسندیدہ پروگرام کے دوران آنے والے اشتہارات کے دوران کسی اشتہار کو دیکھ کر اپنے سمارٹ فون پر اس اشتہار میں پیش کیے گئے مصنوعات کو تلاش کریں تو ٹیلی ویژن سے خارج ہونے والی شعاعیوں آپ کے سمارٹ فون سے ہم آہنگ ہوکر تلاش کے مقصد سے کھولے گئے براوزر میں موجود کوکیز کی مدد سے یہ معلومات کی ترسیل کرتی ہیں۔ ابھی یہ تکنیک پوری طرح پختہ نہیں ہوئی لیکن بہت سی کمپینیاں اس دوڑ میں شامل ہیں کہ ان معلومات کو کس طرح یکجا کیا جائے تاکہ صارفین کی نفسیات اور دلچسپوں پر مکمل گرفت رکھی جائے اور ان معلومات کو دیگر تجاری دنیا کو فروخت کیا جائے۔ جو ان معلومات کے ذریعے بیش بہا فائدے اٹھا سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ بھی بہت سارے دل لگی اور تفریحی سوفٹ ویرپروگرام اس کھیل میں ملوث ہیں۔ فیس بک ، واٹس اپ ، گوگل جیسے کمپنیاں اس کاروبار میں اعلانیہ اور نمایاں طور پر حصہ لیتی ہیں۔

ملک محی الدین، ریاض

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s