عارف والا : ضلع پاکپتن کا قصبہ اور تحصیل

ضلع پاکپتن کا قصبہ اور تحصیل۔ لاہو ر کے جنوب مشرق کی طرف ۲۱۰کلومیٹر اور ساہیوال سے ۴۵ کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے ستلج اور بیاس کے درمیانی علاقے میں واقع ہے۔ دریائے ستلج یہاں سے ۳۳ کلومیٹر جنوب کی طرف بہتا ہے۔ یہ علاقہ نیلی بار میں شامل ہے اور یہاں ہر طرف بے آباد زمینیں اور گھنے جنگل ہوا کرتے تھے۔ انگریزی عہد میں اس علاقے کی آباد کاری کے لئے آبپاشی کے منصوبے شروع کئے گئے اور مختلف مقامات سے نہریں نکالی گئیں اور علاقے کی زرعی ترقی کے لئے مختلف قصبے اور منڈیا ں قائم کی گئیں۔ عارفوالا بھی اسی نئی آبادکاری کے نتیجے میں وجود میں آ یا۔ انیسویں صدی کے آغاز تک عارفوالہ ایک چھوٹا سا گائوں تھا،جو چک نمبر EB/۶۱ کہلاتا تھا۔ بعدازاں یہ عارف والا کے نام سے مشہور ہوا کیونکہ یہاں کی زمینیں عارف نامی زمیندار کی ملکیت تھیں۔ یہ چاہ عارف والا کہلاتا تھا۔

اس وقت یہ کبیر ٹبی روڈ پر واقع تھا۔ ۱۹۰۸ء میں پنجاب کے ڈپٹی گورنرہر برٹ نے عارفوالہ کے نئے شہر کی بنیاد رکھی۔ مختلف علاقوں سے لوگ لا کر یہاں آباد کئے گئے۔ ۱۹۲۶ء میں ریلوے لائن بچھی اور ریلوے سٹیشن قائم ہوا۔ مکانات اور دکانیں تعمیر ہوئیں اور اسی دوران غلہ منڈی قائم ہوئی۔ انگریزوں نے یہاں ڈسپنسری، مڈل سکول شفا خانہ حیوانات ، تھانہ، عوامی سرائے اور افسران کے لئے ریسٹ ہائوس تعمیر کیے۔ ۱۹۳۱ء میں اس کی آبادی ۳۲۰۱ افراد تھی ۔ پہلے پہل اسے نوٹیفائیڈ ایریا قرار دیا گیا ،پھر ٹائون کمیٹی اور میونسپل کمیٹی کا درجہ حاصل ہوا۔ آج کل یہ شہر چار یونین کونسلوں پر مشتمل ہے جبکہ ۱۹۸۷ء سے تحصیل کا درجہ حاصل ہے۔ پہلے یہ ضلع ساہیوال میں شامل تھا ،پھر ۱۹۹۵ء میں پاکپتن کو ضلع ساہیوال سے الگ کر کے نئے ضلع کی حیثیت دی گئی، تو تحصیل عارفوالا کو پاکپتن کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ عارفوالا پولٹری کی صنعت کی وجہ سے مشہور ہے۔ مکئی، چاول اور کپاس علاقے کی اہم فصلیں ہیں جبکہ یہاں متعدد آئل، کاٹن اور رائس ملز موجود ہیں۔ یہاں کا خربوزہ بھی بڑا مشہور رہا ہے، جو دُور دُور تک فروخت ہوتا تھا۔

اس کی آبادی ۱۹۷۲ء میں ۲۸۱۷۱، ۱۹۸۱ء میں ۴۳۶۵۴اور ۱۹۹۸ء کی مردم شماری کے مطابق ۷۴۱۷۴نفوس پر مشتمل تھی۔ ۲۰۰۵ء میں اس کی آبادی ۹۵۷۱۴ نفوس تھی۔ اب اس کی آبادی ایک لاکھ دس ہزار کے لگ بھگ ہے۔ عارف والا علمی و ادبی لحاظ سے بڑا مردم خیز خطہ ہے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد یہاں ’’بزمِ ادب‘‘ کے نام سے ایک تنظیم قائم ہوئی ،جس کے کرتا دھرتا اور روحِ رواں قاضی عبدالرحمن، صلاح الدین غازی اور ظفر علی ناصر تھے۔ کل پاکستان سطح کے مشاعروں کے علاوہ اس تنظیم کے ہفتہ وار اجلاس ٹائون ہال میں منعقد ہوئے۔ ۱۹۷۰ء کے اوائل میں یہاں کے نوجوانوں نے ایک اور تنظیم ’’مجلس فکرِ اقبال‘‘ کے نام سے قائم کی، جس کے بانیان رشید احمد طاہر، قاضی ظفراقبال، محمود فریدی اور غلام رسول اظہرؔ تھے۔ ایک عشرے تک یہ مجلس یہاں کے نوجوانوں کے لئے شعر و ادب کا ماحول فراہم کرتی رہی۔ ازاں بعد ’’بزمِ فکر و سخن‘‘ کے نام سے بھی ایک ادبی تنظیم قائم ہوئی۔ تنویر نقی، غضنفر عباس، قاضی حبیب

الرحمن، سرفراز حسین اور یونس متین وغیرہ اس میں پیش پیش تھے۔

اسد سلیم شیخ

(کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s