ٹرمپ ہاریں یا جیتیں، نقصان تو ہو چکا

آٹھ نومبر کو چاہے جو نتیجہ نکلے، ایک بات یقینی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی نامزدگی امریکی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ ہے جس کی بازگشت سالہا سال تک سنائی دیتی رہے گی۔ اگر یہ کہا جائے تو بےجا نہیں ہو گا کہ ٹرمپ کی صدارتی مہم نے امریکہ کا سیاسی اور سماجی نقشہ تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ سیاسی میدان میں دیکھیں تو ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالفین اور مداحوں دونوں کی کوئی کمی نہیں اور دونوں ایک جیسے پرجوش اور سرگرم ہیں۔ ایک طرف ایسے لوگ ہیں جو انھیں امریکہ کے لیے ‘باعث شرم’ قرار دے رہے ہیں، دوسری جانب ٹرمپ کے کروڑوں حامی سمجھتے ہیں کہ وہ امریکہ کو پھر سے عظیم طاقت بنانے کی ‘آخری امید’ ہیں۔

ان دونوں انتہاؤں پر موجود دھڑوں میں ایک بات مشترک ہے۔ دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ امریکی صدارتی انتخابات میں آج تک ٹرمپ جیسا کوئی امیدوار نہیں آیا۔ ٹرمپ نے تجارت، امیگریشن، بین الاقوامی معاہدوں، اسلحے، جنگ اور روس امریکہ تعلقات کے بارے میں نہ صرف وسیع تر امریکی روایات بلکہ خود اپنی ہی جماعت رپبلکن پارٹی کی پالیسیوں سے انحراف کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں کبھی اتنے سینیئر رہنماؤں نے اپنی ہی جماعت کے امیدوار کی اس قدر کھلم کھلا مخالفت نہیں کی جس قدر رپبلکن ڈونلڈ ٹرمپ کی کر رہے ہیں۔

امریکی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور الزامات لگانے میں کسی دوسرے ملک سے کم نہیں رہیں، لیکن کم از کم کسی نے نظام پر انگلی نہیں اٹھائی تھی۔ ٹرمپ نے سیاسی اور عدالتی نظام، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ میڈیا تک کو بدعنوان قرار دے کر اپنی راہ الگ نکالی ہے۔ واشنگٹن میں مقیم صحافی اور تجزیہ کار واجد علی سید کہتے ہیں کہ ‘بات یہیں نہیں رکے گی، کیوں کہ جو تباہی ہونا تھی وہ پہلے ہی ہو چکی ہے۔’ انھوں نے کہا کہ ٹرمپ نے نسل پرستانہ، زینوفوبیا (اجنبیوں سے نفرت) پر مبنی، اسلامو فوبیا پر مبنی، افریقی امریکیوں کے خلاف، میکسیکنز کے خلاف، حتیٰ کہ نظام کے خلاف جو بیانات دیے ہیں اب وہ ہاریں یا جیتیں، اب اس سے فرق نہیں پڑے گا، کیوں کہ لوگ مشتعل ہو چکے ہیں۔’

امریکی جمہوریت کی روایت رہی ہے کہ ہارنے والا امیدوار نتائج کا اعلان ہوتے ہی تقریر کر کے اپنے فاتح حریف کو مبارک باد دیتا ہے۔ لیکن ٹرمپ نے پہلے ہی سے عندیہ دے دیا ہے کہ ممکن ہے وہ اپنی شکست ماننے سے انکار کر دیں۔ لیکن اگر انھوں نے ایسا کیا تو ان کا اگلا لائحۂ عمل کیا ہو گا؟ کیا وہ عدالت میں جائیں گے یا پھر اپنے کروڑوں حامیوں کو اکسانے والا کوئی بیان دے دیں گے؟ ہلیری کلنٹن کو سیاہ فام امریکیوں کے ساتھ مسلمانوں کی بھی حمایت حاصل ہے. واجد کہتے ہیں کہ ‘خطرہ لگ رہا ہے کہ کہیں لوگ ان کے ہارنے کی صورت میں سڑکوں پر نہ آ جائیں۔ انھوں نے لوگوں کے اندر نفرت پیدا کر دی ہے اور یہ ابھی دیکھنا ہے کہ اسے کیسے ختم کیا جا سکے گا۔’

انتہاپسندانہ تشدد کے تحقیق کار جوناتھن مورگن اپنی ویب سائٹ پر لکھتے ہیں کہ ‘جب ڈونلڈ ٹرمپ لوگوں سے کہتے ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہو گی تو وہ ان پر یقین کرتے ہیں۔’ مورگن نے سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے دھاندلی کے الزامات پر مبنی پوسٹس کی حمایت کرنے والے سینکڑوں ایسے افراد کی نشاندہی کی ہے جو مختلف مسلح گروپوں سے وابستہ ہیں۔ ایک ایسے ہی شخص نے فیس بک پر لکھا:’ہلیری امریکہ کو مسلمانوں سے بھرنا چاہتی ہیں۔ اگر وہ جیت گئیں تو پھر وہ انقلاب کا وقت ہو گا۔ باتیں بہت ہو گئیں، بلاگوں میں سختی دکھانے کا وقت گزر گیا، اب اصل زندگی میں سخت ہونے کا وقت ہے۔’امریکی ادارے ایس پی ایل سی لا سینٹر کی ایک رپورٹ میں ٹرمپ کی تقاریر و بیانات کا طلبہ پر اثرات کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ فیس بک، انسٹاگرام اور سنیپ چیٹ کے اس دور میں وہ امریکی نوجوان جو سیاست سے بڑی حد تک بیگانہ رہتے تھے، اب دو تہائی سے زیادہ اساتذہ کے طلبہ نے تشویش ظاہر کی ہے کہ اگر ٹرمپ صدر بن گئے تو ان کا اور ان کے خاندانوں کا کیا بنے گا۔ ان طلبہ کی اکثریت کا تعلق سیاہ فام برادری سے یا پھر مہاجرین کے خاندانوں سے ہے۔

امریکہ کے سیاہ فام میں ٹرمپ کے منتخب ہونے کی صورت میں خدشات ہیں اسی سروے کے مطابق سیاہ فام طلبہ کی بڑی تعداد کو خدشہ ہے کہ کہیں انھیں واپس افریقہ نہ بھیج دیا جائے، حالانکہ ان کے خاندان امریکہ کی آزادی سے پہلے وہاں آئے تھے۔ آج سے دو ہفتے قبل تک ہلیری کلنٹن کو ٹرمپ پر واضح برتری حاصل تھی، لیکن پہلے ایف بی آئی کی جانب سے کلنٹن کے خلاف ای میلز کیس کھولنے اور پھر اسے یکایک بند کر دینے سے کنفیوژن کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ اب بھی بیشتر مبصرین کا یہی خیال ہے کہ کلنٹن ہی جیتیں گی، لیکن ان کی جیت اب اس قدر یقینی نہیں رہی جتنی چند روز قبل دکھائی دے رہی تھی۔ اور اگر وہ آٹھ نومبر کو فاتح ٹھہرتی ہیں تب بھی بعد از انتخابات حالات کے سامنے سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔

اگر ٹرمپ ہار کی صورت میں انتخابات کے نتائج ماننے سے انکار کر دیں تو کیا ہو گا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ عمران خان کی طرح دھاندلی کا نعرہ لگا کر لوگوں کو اکٹھا کر کے دھرنا دے بیٹھیں؟ ٹرمپ اس سے پہلے ایک تقریر میں اشارہ دے چکے ہیں کہ اسلحے کے حامی کلنٹن کا راستہ روک سکتے ہیں۔ کلنٹن مہم نے الزام لگایا تھا کہ وہ لوگوں کو تشدد پر اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ واجد کہتے ہیں کہ چونکہ امریکہ میں ادارے بہت مضبوط ہیں اس لیے اس بات کا امکان تو نہیں کہ بڑے پیمانے پر ہنگامے ہوں اور فوج بلانی پڑ جائے، لیکن یہ ضرور ممکن ہے کہ ٹرمپ کی شکست کی صورت میں مختلف علاقوں میں مظاہرے ہوں، خاص طور پر نیویارک میں جو دونوں امیدواروں کا گڑھ ہے۔ اگر نیویارک کی مسافروں سے کھچا کھچ بھری سب میں ٹرمپ کے کسی حامی نے فقرہ کس دیا، یا پھر شکاگو کے ڈاؤن ٹاؤن میں سیاہ فاموں کی تنظیم ‘بلیک لائیوز میٹر’ کے ایک کارکن نے ٹرمپ کے کسی ووٹر کو طعنہ دے دیا تو اس سے چنگاری پھوٹ سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ امریکی سیاست اور تاریخ دونوں کا ایک اور نیا موڑ ہو گا۔

ظفر سید

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s